اس ملک کی تعمیر کی بنیاد 1948 میں بلوچوں کے خون سے رکھی گئی اور آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے چاہے کوئی سی بھی حکومت ہو جمہوری یا غیر جمہوری، آئینی یا غیر آئینی انھیں تو صرف بلوچوں کا خون اور وساحل پر قبضہ چاہئے
Do they look like militants? They are innocent children. What is their sin? Will killing children ever bring peace?
Is this Palestine? Is this Kashmir? No. It's Balochistan.
I wish children didn’t die.
I wish they would be temporarily elevated
to the skies until the war ends.
Then they would return home safe,
and when their parents would ask them,
where are you? They would say,
we were playing in the clouds.
#BalochistanBleed#SurabMassacre
#StopBalochGenocide
I’m pleased to share that three renowned and highly respected international human rights organizations, the Human Rights Foundation (@HRF), @freedomhouse, and @Hindus4HR, have filed a petition with the UN Working Group on Arbitrary Detention (WGAD) on behalf of my incarcerated sister, the renowned Baloch human rights defender Dr. Mahrang Baloch, who is serving a life sentence in Pakistan.
#ReleaseMahrangBaloch
https://t.co/hphUIZL9B7
The pain of families searching for their missing loved ones, especially their children, should never be overlooked. Every reported disappearance deserves a timely, transparent, and impartial investigation. Protecting the life, dignity, and rights of every citizen is a fundamental responsibility of the state.
For families waiting for answers, every day of uncertainty is deeply painful. We stand with all those seeking truth, accountability, and the safe return of their loved ones.
#SaveBalochWomen #HumanRights #EndEnforcedDisappearances #ReleaseAllMissingPersons
We call upon all human rights activists, international organizations, and people from other walks of life to support us in securing the safe release of Asif Baloch, protecting a student, and safeguarding the future of a nation.
#ReleaseAsifBaloch#SaveBalochStudents
Danial Nasir, son of Abdul Nasir, a resident of Naseerabad and a graduate of Governance and Public Policy from the National University of Modern Languages (Islamabad), Danial Nasir has been forcibly disappeared near NCCI Hospital in Karachi on 16 February. He had gone to Karachi for the purpose of his treatment.
5 months and 10 days have passed However, to date, his arrest has not been made public, nor has he been produced before the court, which constitutes a complete violation of human rights.
In human society, students who seek to quench their thirst for knowledge across various disciplines turn to major educational institutions so that, by acquiring quality education, they may prove themselves to be valuable contributors to a progressive and developed society but they
have consistently been the prime targets of the state’s repressive policies harassed, abducted, silenced, and disappeared without due process.
The enforced disappearance of Baloch students remains a deeply troubling and unlawful practice that continues to cause immense suffering to families and communities across Balochistan.
These actions violate fundamental human rights, including the right to liberty, security of person, and due process under both Pakistani law and international human rights standards.
The continued disappearance of students must be condemned, and the authorities are obligated to ensure transparency, accountability, and the immediate production of all missing persons before competent courts in accordance with the law.
#ReleaseDanialNasir
#SaveBalochStudents
آج مستونگ میں ہونے والے مسلح حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ صاحب اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت کی خبر سن کر شدید دکھ ہوئی۔
مجھے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات، خصوصاً ان کی ضمانت کی درخواستوں میں، متعدد بار مستونگ میں حکیم صاحب کی عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا۔ ان کی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی تھیں جو میں نہیں لکھ پائی لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دراصل کیسے انسان اور کیسے جج تھے۔
میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ عبدالحکیم کاکڑ ایک نہایت دیانت دار، اصول پسند اور باوقار جج تھے۔ وہ اکثر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات کی قانونی نوعیت پر مجھ سے کھل کر بات کیا کرتے تھے۔ کئی بار انہوں نے مجھ سے کہا کہ حالات چاہے جس نہج پر بھی ہوں، میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے اعلیٰ تقاضوں کی پاسداری نظر آئے گی۔
ان کی یہ باتیں ان سیاسی گھٹن زدہ حالات میں میرے لیے ہمیشہ امید کی ایک کرن ہوا کرتی تھیں، اور بعد میں ان کے فیصلوں نے بھی ان کے ان الفاظ کو سچ ثابت کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گلزادی بلوچ کو تین مقدمات میں ضمانت دی، جبکہ بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دیا۔ ان کے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
تربت میں اپنی تعیناتی کے دوران بھی انہوں نے اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں سبغت اللہ شاہ جی کی ضمانت منظور کی اور ایک بار پھر دباؤ کے بجائے قانون کی بالادستی کو ترجیح دی۔
مجھے آج بھی مستونگ کی ایک پیشی یاد ہے جب محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ایک کم عمر لڑکے کو مختلف الزامات کے تحت عدالت میں پیش کر رہا تھا۔ حکیم صاحب نے اس بچے سے پوچھا، “تمہیں کب گرفتار کیا گیا تھا؟” بچے نے جواب دیا، “کل۔” اس پر حکیم صاحب نے سی ٹی ڈی کے انچارج کی طرف دیکھ کر کہا، “اس بچے کے چہرے کو دیکھو، ایسا لگتا ہے جیسے اس نے برسوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔ اور تم لوگوں نے اسے اس قدر ڈرایا اور دھمکایا ہے کہ اب وہ تمہاری ہر بات میں ہاں ملا رہا ہے۔” پھر انہوں نے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں سے کہا، “اللہ سے ڈرو۔”
آج جب ان کی شہادت کی خبر دیکھی تو دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ صرف ایک انسان کو نہیں مارا گیا، بلکہ انصاف پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ حکیم صاحب قانون کی حکمرانی، انصاف، آئینی حقوق اور عوام کے وقار پر یقین رکھتے تھے
میں جج عبدالحکیم کاکڑ کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں اس غم کی گھڑی میں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
معزز شہید عبدالحکیم کاکڑ صاحب، بلوچستان کے عوام آپ کو ہمیشہ آپ کی دیانت، اصول پسندی اور انصاف کے ساتھ مضبوط وابستگی کے لیے یاد رکھیں گے۔
آپ کے اصول اور آپ کی جرأت اُن لوگوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے جو انصاف اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔
#Pakistan: UN experts condemn life sentence against Baloch #humanrights defender Dr. Mahrang Baloch as grave injustice. “These convictions risk silencing independent voices in #Balochistan and further shrinking civic space.”
https://t.co/0F2GhgyJDY
History shows that when the world pays attention together, it becomes harder for abuse of power to stay invisible.
This is the time to stand together against injustice!!
Conviction of the BYC leader Dr. Mahrang Baloch & her colleagues for life shuts the doors for peaceful political solution. It’s a colonial & myopic policy that prefers violence over peace. The ones who insisted on talks with Taliban in Afg are rejecting negotiations with Baloch.
The life sentences given to @MahrangBaloch_ & other BYC leaders after a faceless, sham trial in an ATC court are a grave injustice & an attack on peaceful political struggle. Attempts to silence dissent through repression will not resolve grievances,nor will they silence dissent.
Outrageous! Sentencing a peaceful activist to life imprisonment for advocating against enforced disappearances sends a chilling message: even peaceful activism will not be tolerated by a hard state. If peaceful dissent is criminalized, what alternatives are people left with?
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج جسٹس مبین نے آج میری بہن، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، اور ایک اور رہنما صبغت اللہ شاہ جی کو گوادر میں احتجاج کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق ایک نہایت متنازع اور سوالات سے بھرپور مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ مقدمہ خود اپنے بنیادی حقائق کے اعتبار سے مشکوک ہے۔ ایک ہی سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے واقعے پر دو مختلف تاریخوں میں دو الگ الگ ایف آئی آرز درج کی گئیں جو پورے کیس کو سوالیہ نشان بناتی ہیں۔ یہ انصاف نہیں بلکہ قانون کو سیاسی انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ایک واضح مثال ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو پہلے 3MP کے تحت حراست میں لیا گیا، پھر ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے اور بعد ازاں ایک ایسا ٹرائل چلایا گیا جس پر ابتدا ہی سے جانبداری اور تنازع کے سائے منڈلاتے رہے۔ یہ بات ہم پر روزِ اول سے واضح تھی کہ ریاست کا مقصد انصاف فراہم کرنا نہیں بلکہ ماہ رنگ بلوچ کو ہر قیمت پر سزا دینا ہے۔
ماہ رنگ کا جرم کیا ہے؟ نہ انہوں نے تشدد کیا، نہ کسی جرم کا ارتکاب کیا۔ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے لوگوں کی آواز بلند کی، جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کی اور بلوچ عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے کھڑی ہوئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ریاست ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بڑھتی ہوئی قومی اور بین الاقوامی پذیرائی سے خوفزدہ ہو چکی تھی۔ گزشتہ دو برسوں میں انہوں نے بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد ہوئیں، بی بی سی کی 100 بااثر خواتین میں شامل کی گئیں اور ٹائم میگزین سمیت دنیا کے معتبر اداروں کی توجہ حاصل کی۔ ایک ایسی آواز جو عالمی سطح پر سنی جانے لگی، ریاست کے لیے ناقابلِ برداشت بنتی گئی۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گرفتاریاں، نظر بندیاں اور سزائیں ماہ رنگ بلوچ کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ وہ پہلے سے زیادہ ثابت قدم، باحوصلہ اور اپنے مقصد کے ساتھ کھڑی ہیں۔ جب ہم نے اس جدوجہد کا راستہ چنا تھا تو ہمیں اس کی قیمت کا بخوبی اندازہ تھا۔ ہم جانتے تھے کہ ہم ایک طاقتور نظام کے سامنے کھڑے ہیں، جو سزا دے سکتا ہے، قید کر سکتا ہے، مار سکتا ہے، اغوا کرسکتا ہے مگر ہمارے نظریے، ہمارے حوصلے اور ہمارے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔
میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ثابت قدم رہے، منظم رہے اور مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دے۔ یہ وقت گھبرانے کا نہیں بلکہ مزید استقامت، اتحاد اور مزاحمت کا ہے۔ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ سزاؤں اور جبر کے ذریعے ایک تحریک کو خاموش کیا جا سکتا ہے تو وہ تاریخ کے سبق کو فراموش کر رہی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اُن خواتین اور رہنماؤں کی روایت کا تسلسل ہیں جنہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ قید ان کے جسم کو محدود کر سکتی ہے لیکن ان کے نظریے اور آواز کو نہیں۔
I strongly condemn the harsh prison sentence to Mahrang Baloch and other activists. Their only crime was to protest peacefully. Our State will never learn #IStandWithMahrangBaloch
HRCP deplores the conviction of @MahrangBaloch_ and other members of the BYC. Regrettably, the state has continued its policy of dealing with advocacy for fundamental rights in the same way as it deals with militancy, leading to executive and judicial decisions that are lopsided and prejudiced. We demand a review of the ATC's decision at the earliest and the initiation of a political dialogue in Balochistan.
آج جیل میں ہمارے دھرنے کا آٹھواں دن ہے۔ اس دھرنے میں بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ شامل ہیں۔ جیل کے اندر یہ ہمارا پانچواں دھرنا ہے، تاہم یہ پہلا دھرنا ہے جو 192 گھنٹوں سے جاری ہے۔
13 جون کو جب ہمیں پیشی کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں لے جایا گیا تو وہاں ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ہم نے فوری طور پر احتجاج کیا اور اپنے بیرکوں میں واپس جانے سے انکار کر دیا۔ تب سے ہم جیل کے احاطے میں اپنا پرامن دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس دھرنے نے ہماری مزاحمتی جدوجہد کی بے شمار یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ سردی ہو یا گرمی، ریاستی تشدد ہو یا پابندیاں، ہم نے ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے۔ وہ تمام چہرے، جو جبری گمشدگیوں، قتل و جبر اور مسلسل ریاستی تشدد کے باوجود ثابت قدم رہے، آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں۔ ہم نے اماں حوری، لمہ زرگل ، ادی مہر جان اور ان تمام ماؤں کو یاد کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کی جدائی کے باوجود ہمت اور استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
اسی طرح راجی مچی اور 22 مارچ کوئٹہ دھرنے کے وہ تمام مناظر بھی ہمارے سامنے آگئے، جب پرامن مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔ یہ تمام یادیں محض ماضی کے واقعات نہیں بلکہ ہماری اجتماعی مزاحمتی یادداشت کا حصہ ہیں۔ یہی یادداشتیں ہماری اصل وراثت ہیں، ایک ایسی وراثت جسے کوئی ریاست، کوئی جبر اور کوئی قید ہم سے چھین نہیں سکتی۔
ہمارے دھرنے کے دو بنیادی مطالبات ہیں: اول، ہمارے مقدمات کی سماعت اوپن کورٹ میں کی جائے؛ دوم، انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی مبین کا تبادلہ کیا جائے۔
ہمیں ابتدا میں 3MPO کے تحت حراست میں لیا گیا، اس کے بعد اٹھہتر دن تک ریمانڈ پر رکھا گیا۔ 11 اکتوبر سے ہمارے جیل ٹرائل کا آغاز ہوا، اور اب 12 جون کو چیف سیکریٹری کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ہمارے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایسے حالات میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا اب بھی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں قانون جمہوری اصولوں کے مطابق چل رہا ہے؟ کیا بلوچ کو واقعی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے؟ جب مقدمات کی شفاف سماعت کے بجائے ایسے طریقہ کار اختیار کیے جائیں جو ملزمان اور ان کے وکلاء کو مزید محدود کر دیں، تو انصاف کی فراہمی کے دعوے اپنی معنی کھو دیتے ہیں۔انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں حالیہ ترامیم نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی تبدیلیوں کے تحت محض شک کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو طویل مدت تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ انہی قوانین کے تحت نام نہاد انٹرنمنٹ یا ڈیٹنشن مراکز میں میرے کزن سیف اللہ سمیت سینکڑوں بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو قید رکھا گیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ قانون کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے یا ریاستی طاقت کو مزید وسعت دینا؟
ہمارے مقدمات کے دوران عدالتی عمل کے کئی ایسے پہلو سامنے آئے جنہوں نے ہمارے خدشات کو مزید گہرا کیا۔ ایک پیشی کے دوران بلوچستان کے پراسیکیوٹر جنرل خود کمرۂ عدالت میں موجود تھے اور جج پر زور دے رہے تھے کہ مقدمات کو تیزی سے چلایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے تاکہ جلد از جلد فیصلے سنائے جا سکیں۔ اس موقع پر جج نے انہیں جواب دیا کہ مقدمات کا فیصلہ ان کے نہیں بلکہ ریاست کے ہاتھ میں ہے۔
اس سے قبل انہی نوعیت کے متعدد مقدمات میں ہمیں ضمانتیں دی جا چکی تھیں، مگر 16 نومبر کو جج محمد علی مبین نے مختلف مقدمات میں ہماری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ایک ہی مقدمے میں میری ضمانت منظور کی گئی جبکہ اسی مقدمے میں بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔ اس طرح تمام کیسیز پر میریٹ پر فیصلہ کرنے کے بجائے ضمانت کے کیسیز کو بیلینس کیا گیا جس سے ہمیں قید بھی رکھا جاسکے اور عدالت کے غیر منصفانہ کاروائی پر پردہ بھی ڈالا جاہیں ۔دورانِ سماعت ہمیں بارہا کہا گیا کہ ’’جا کر اپنا مسئلہ کہیں اور حل کریں، میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ ہمارا جواب ہمیشہ یہی تھا کہ آپ کے سامنے قانون موجود ہے، آپ قانون اور انصاف کے مطابق فیصلہ کریں۔