ایسے افعال بلوچ روایت کے بالکل منافی ہیںضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی سطح پر اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے،متاثرہ خاندانوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور آگاہی کے ذریعے معصوم زندگیوں کو محفوظ رکھا جائے
تحریر ۔ ثمن بلوچ دختر بلوچستان
#相葉リミックス#YASIRIANSRISEWITHYASIR
دستہ کھڑا کیا جا چکا ہے، جسے " کریمہ ارمڈ اسالٹ ڈویژن" جیسے ناموں سے تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
بلوچ قوم کو بیداری کی ضرورت
بلوچستان کا روایتی معاشرہ ہمیشہ سے خواتین کے احترام اور چادر و چار دیواری کے تقدس کے لیے جانا جاتا ہے۔ خودمختاری کے نعروں کی آڑ میں8/8
سامنے آیا ہے، جس کا تعلق کالعدم تنظیم کے کارندے *حاجی گلفراز* سے ہے۔ ماجیدہ کے ذریعے سادہ لوح خواتین کو ورغلا کر اس گروہ کے لڑکوں سے جوڑا جاتا ہے اور پھر ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ اب یہ معاملہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ متاثرہ خواتین کا باقاعدہ ایک خواتین کا 7/7
خواتین کو دباؤ میں لا کر مزید بچیوں کو اس جال میں لانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جن میں عالیہ دوختر پھولین سکنہ (گیبن)، ماہین دوختر اعجاز سکنہ (گیبن)، مریم دوختر سلیم سکنہ (کلاگ) اور نگینہ سکنہ (کلاگ) شامل ہیں۔
اسی طرح ملک آباد کی رہائشی *ماجدہ زوجہ ماجد* کا نام بھی 6/6
اقبال ولد سخی داد سکنہ (کلاتُک)
کمال ولد غازی، عدنان ولد علی سکنہ (گیبن)
یوسف ولد شوکت، جگو ولد ناصر، یوسف ولد محمد علی، اور فراز ولد حسین سکنہ (ڈابُک)
مراد جان ولد اسماعیل، شعیب ولد شامیر، اور یاسر ولد جاوید* سکنہ (اللہ آباد)
اس المیے کا دردناک پہلو یہ ہے کہ بلیک میل شدہ6/6
انہیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا—جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انکار کرنے والی خواتین کو سفاکی سے خاموش کرایا جا رہا ہے۔
*ملوث افراد اور خواتین کا بطور آلہ استعمال*
مقامی اطلاعات کے مطابق اس غیر اخلاقی کھیل میں تربت اور ملحقہ علاقوں کے کچھ سرگرم افراد کے نام سامنے آئے ہیں:
5/6
مبینہ انکار پر قتل: ماہ گل کا المیہ*
بلیک میلنگ کا یہ سلسلہ اب صرف ہراسانی تک محدود نہیں رہا۔ *تربت میں دو بچوں کی ماں ماہ گل* کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد کے ذریعے تنظیم میں شمولیت کے لیے مجبور کیا گیا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق، جب انہوں نے انکار کیا تو4/6
جاتا ہے۔ بعد ازاں، جدید ذرائع اور برقی مواصلات کا سہارا لے کر ان کی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز محفوظ کر لی جاتی ہیں۔ اس مواد کی بنیاد پر انہیں پہاڑوں اور دور دراز علاقوں میں بلا کر ان کی مجبوریوں ک�� ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور اپنے سفاکانہ عزائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہیں۔
3/6
بلوچستان لبریشن فرنٹ—ایک طرف قومی حقوق کا دعویٰ کرتی ہیں، تو دوسری طرف خواتین اور کمسن بچیوں کی بلیک میلنگ اور جنسی استحصال کا کام تیزی سے جاری ہیں۔
فتنہ الہندوستان کی فریب کا جال اور بلیک میلنگ
تربت کے دیہی علاقوں میں معصوم لڑکیوں کو محبت اور تحفظ کے جھوٹے وعدوں سے دھوکا دیا2/6
حقوق کی آڑ میں استحصال: بلوچستان کی خواتین کا المیہ
بلوچستان کے ضلع کیچ (تربت) اور اس کے گرد و نواح میں آزادی اور خود مختاری کے نعروں کی آڑ میں ایک تشویشناک تضاد سامنے آ رہا ہے۔ خود کو بلوچستان کی آزادی کا علمبردار کہلوانے والی کالعدم تنظیمیں—بالخصوص بلوچستان لبریشن آرمی اور1/6
عوام کی سہولت کے لیے بننے والی سڑکوں کو اکھاڑ رہے ہیں، وہ کسی طور پر بھی بلوچوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ یہ بزدلانہ کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ ان کا مقصد آزادی نہیں، بلکہ بلوچستان کو مستقل اندھیروں اور پسماندگی میں دھکیلنا ہے۔
2/2organization using Sextortion material. When she refused to comply, she was targeted and killed.
This horrific act represents a severe violation of human rights and basic humanity.Authorities must hold those responsible fully accountable.
#JusticeForMahGul#Turbat#HumanRights
Alarming reports from Turbat: Distressing details have emerged regarding the brutal murder of Mah Gul, a mother of two
According to investigative findings confirmed by family sources, the militant group BLF allegedly attempted to blackmail and pressure her into joining their 1/2
Terrorists targeted innocent civilians in Turbat’s main bazaar by carrying out a powerful blast using a motorcycle laden with explosives, leaving 10 Baloch civilians seriously injured. This cowardly act by the terrorists once again proves that their objective is not a war 1/3