Abdul Rauf was enforcedly disappeared on 29th of May 2026, from his home in Aminabad, Chaghi, during a late-night raid by Pakistani Forces.
Since then his whereabouts are unknown like thousands of other Baloch people.
#EndEnforcedDisappearances#BalochMissingPersonsDay
Last night, Pakistani forces unlawfully entered into the private residence of Enforcedly disappeared Wahid Kambar’s sister, threatened the family & confiscated their home’s essentials in Pullabad, Balochistan.
ہماری شناس بلوچ ہے ہم اپنی سرزمین کے لیے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں جتنا ہمارے اوپر جبر ہوگا اتنا ہم مضبوط ہوں گے قابض ریاست پاکستان نے بلوچستان کے ہزاروں ماؤں کے گھروں کو اجاڑا ہے لیکن ان ماؤں کی حوصلے کو اج تک کم نہیں کر سکی ظلم کی زنجیریں ایک دن ضرور ٹوٹیں گے
Today marks 17 years since the enforced disappearance of Zakir Majeed, a student leader abducted on June 8, 2009, in Mastung, Balochistan. For 17 years, his family has lived without answers while his fate and whereabouts remain unknown.
HRCB stands with Zakir's family and calls for truth, justice, and his immediate recovery.
#ZakirMajeed #EndEnforcedDisappearances #Balochistan
On 8 June, we remember the thousands of Baloch who remain missing and the families who continue to live with uncertainty, grief, and unanswered questions. This documentary sheds light on the human cost of enforced disappearances.
#8thJuneBalochMissingPersonsDay
Today its 135 days of illegal incarceration for my children @ImaanZHazir & @AdvHadiali. For some lucky children of privileged parents @CMShehbaz & judge Asif it's speedy justice. But for Imaan & Hadi it's always been abt vengeance- "teach them a lesson" - never abt justice. But judges shd remember
اللہ الحق ہے!
https://t.co/5VNjMwgD7b
دعا کریں اللہ گلزادی بلوچ اور اس کے ساتھیوں سمیت تمام لاپتہ افراد کو رہائی نصیب فرمائے آمین مگلزادی بلوچ اور ان کے ساتھی آج جیل میں ہیں۔
مگر ان کا سوال جیل کی دیواروں سے بھی اونچا ہے: لاپتہ لوگ واپس آئیں، انصاف ملے۔
#ReleaseGullzadiBaloch
نظریاتی سنگتی نا حساسیت و ارزشت ءِ ہموتان ہرفبو، ہرافک نظریاتی سنگتی نا اصل معنہ، تشریح و معیار آن تیوہ پوہ ءُ، گڑا ہموتم نظریاتی سنگتی نا مہر و مابت، دڑد و تکلیف و احساس ٹی ایلو کل سیالیک مِش ئٹی نظر برور۔
اُستاد ءُ گہرام۔۔🥀
آٹھ جون ہمیں اپنے ان پیاروں کی یاد دلاتی ہے جو قابض پاکستانی عقوبت خانوں میں قید انسانیت سوز اذیتیں سہ رہے ہیں۔
شولان بلوچ، ترجمان- بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
آٹھ جون کو تنظیم کی جانب سے بلوچ مسنگ پرسنز ڈے کے طور پر منسوب کیا ہے جس کا مقصد قابض پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ان بلوچ فرزندوں کو یاد کرنا اور ان کے لیے آواز اٹھانا سمیت بلوچستان میں جاری سنگین انسانی حقوق کے جرائم کو آشکار کرنا ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اب ایک معمول عمل بن چکی ہے جہاں ہر روز بلوچستان بھر میں درجنوں کے حساب سے بلوچوں کو جبری گمشدہ کرکے ان کو ٹارچر سیلوں میں انسانیت سوز اذیتیں دی جاتی ہیں جس میں ہرطبقے کے لوگ طالبعلم، سیاسی کارکنان، صحافی، اساتذہ، کسان، دکاندار، ڈرائیور، کاروباری اشخاص اور عام آدمی سمیت بوڑھے، بچے اور عورتیں شامل ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق صرف سال 2025 میں 1223 لوگ پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار ہوئیں ہیں جن میں 832 اب تک ٹارچر سیلوں میں بند ہیں۔ ان رپورٹوں کے علاوہ کئی کیسز ایسے بھی ہیں جنہیں ریاستی ڈر اور خوف کے سبب خاندانیں ان کی رپورٹ درج نہیں کرواتے ہیں جس سے یہ مسئلہ مزید انسانی بحران اختیار کرچکا ہے۔
جبری گمشدگیاں سنگین جرائم ہیں جن کے روک تھام کے لیے اقوام متحدہ سمیت دیگر انسانی حقوق کے ادارے سرگرم ہیں مگر بلوچستان میں جبری گمشدگیوں پر آواز اٹھانے اور ان جرائم کے خلاف وکالت کرنے کے باوجود متعلقہ ادارے اس انسانیت سوز جرائم کو روکنے میں ناکام دیکھائی دیتے ہیں۔ جس سفاکیت سے قابض پاکستانی ریاست بلوچ قوم کی نسل کشی کررہی اور انسانوں کو جبری گمشدہ کرکے ان کو ٹارچر سیلوں میں قید کرکے ازیتیں دیتی ہے، ان کو جسمانی ٹارچر سمیت ایسے نفسیاتی اذیتوں کا شکار کیا جاتا ہے کہ ان میں کوئی رہا بھی ہوجائے تو وہ اپنی پوری زندگی ٹراما میں گزارتی ہے۔ دنیا میں شائد ہی کہیں ایسے مثال موجود ہوں مگر عالمی اداروں کی منافیقت کی بھی حد ہے کہ ایسے جابر ریاستوں کو روکنے میں اپنی زمہ داری نبھانے میں ناکام ہیں۔
پاکستانی ٹارچر سیلوں میں جتنے بلوچ بچ کے نکلیں ہیں ان کی دل دہلانے والے داستانوں سے ساری بلوچ قوم واقف ہے مگر یہ داستانیں ناں بڑے ��ردے پر دیکھنے کو ملتے ہیں اور ناہی عالمی ادارے ان کی طرف اپنی توجہ مفضول کرتے ہیں۔ مگر زمینی حقائق یہی ہیں کہ ان جرائم جرائم کے سبب بلوچ قوم ٹراما میں زِندگی بسر کررہی ہے اور بلوچستان میں معمول کی زِندگی مکمل طورپر مفلوج بن چکی ہے۔ ہر خاندان ہمیشہ اسی خوف میں رہتا ہے کہ ان کے پیارے گھر واپس آئینگے یا نہیں کیونکہ بلوچ گھروں، یونیورسٹیوں، سفر، کھیتوں، بازاروں سمیت جہاں بھی ہوں خود کو غیرمحفوظ سمجھتے ہیں۔ قابض پاکستانی ریاست بلوچ قومی تحریک سے اتنی خوفزدہ ہے کہ وہ بلوچوں کو اپنے ہی کٹھ پتلی عدالتوں میں بھی پیش کرنے سے ڈرتی ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے یہ ایک حقیقی قومی جدوجہد ہے اور اس جدوجہد میں شامل لوگوں کے خلاف کسی بھی قانونی کاروائی نہیں ہوسکتی اسی لیے وہ بلوچ قومی تحریک کو چھپانے اور اپنی ناجائز قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے جبری گمشدگی کا سہارا لے کر سنگین جرائم میں ملوث ہے۔ مگر بلوچ قوم کبھی بھی قابض کے سامنے سر جھکانا اختیار نہیں کرے گی اور ناہی اپنی مقبوضہ سرزمین کی آزادی کے جدوجہد سے دستبردار ہوگی۔ ہم اپنی قوم کے کسی ایک فرزند کو بھی ایسے بے وارث نہیں چھوڑیں گے کہ وہ ایسے انسانیت سوز اذیتوں کا شکار ہوں اور اس کے خلاف پوری بلوچ قومی متحد ہوکر لڑرہی ہے۔
آٹھ جون کو بلوچستان میں بلوچ مسنگ پرنسز ڈے کے مناسبت سے یاد کی جاتی ہے جسے بی ایس او آزاد نے منسوب کیا ہے، اس دن کو قابض پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ اداروں نے تنظیم کے سابقہ وائس چئیرمین زاکر مجید کو بلوچستان کے علاقے م��تونگ میں جبراْ گمشدہ کیا جو تاحال پاکستانی عقوبت خانوں میں قید ہے۔ اسی دن کے مناسبت سے ہم ان تمام بلوچ فرزندوں کو یاد کرتے ہیں جن کی زندگیاں قابض پاکستانی ریاست نے تباہ کی ہوئی ہے اور ہزاروں خاندانوں کو اذیت میں ڈال کر ان کے پیاروں کو عقوبت خانوں میں قید کیا ہوا ہے۔ یہ دن ہمیں انسانیت اور زندگی کی قدر کی یاد دلاتی ہے اور ہم زندہ قوم کی طرح اپنے لوگوں کے کی بازیابی کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہیں گے۔
https://t.co/W152q4hpIZ
I can bet that if you stand before Zakir’s mother, you won’t be able to meet her gaze. And if you do, you won’t be able to ignore the endless agony and grief within it.
Her eyes carry both a river and a stone.
#EndEnforcedDisappearances#BalochMissingPersonsDay
بعض ریاستی نمائندے اور بلوچستان اسمبلی کے چند اراکین کی جانب سے میرے، میرے ساتھیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے خلاف لگائے گئے حالیہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ بلوچستان میں پرامن سیاسی جدوجہد کو بدنام کرنے کی ایک واضح اور منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ یہ الزامات ایسی فضا پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جہاں سیاسی اختلاف کو جرم اور انسانی حقوق کے مطالبے کو ریاست دشمنی قرار دیا جائے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک عوامی، غیر مسلح اور پرامن پلیٹ فارم ہے جو قیام سے اب تک بلوچ عوام کے بنیادی حقوق، انصاف اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ ہمارے مطالبات واضح ہیں: جبری گمشدگیاں ختم ہوں، ماورائے قانون گرفتاریوں کا خاتمہ ہو، اظہارِ رائے کی آزادی یقینی ہو، بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام کے حق کو تسلیم کیا جائے ،اور بلوچستان کے عوام کو ان کے آئینی اور تاریخی حقوق دیے جائیں۔
بدقسمتی سے ریاستی عناصر ان مطالبات کا جواب دینے کے بجائے جھوٹے الزامات، کردار کشی اور پروپیگنڈے کے ذریعے عوامی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ الزامات نہ صرف میرے اور میرے ساتھیوں کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے ہیں بلکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن جدوجہد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔گزشتہ ایک سال سے بلوچ یکجہتی کمیٹی مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ، سمی بلوچ، لالا وہاب اور دیگر ورکران نے انتہائی مشکل حالات میں بھی تنظیم زمہداریوں کو پورا کیا ، بی وائی سی بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے پامالیوں کے زمہ دارانہ رپورٹنگ کر رہی ہے ،بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ عوام کے نمائندہ تنظیم ہے ، عوامی تحریک کو بزور طاقت کچلنے سے بلوچستان کے عوام کو یہ پیغام دیا گیا ہے اس ریاست میں پر امن جدوجہد کیلئے کوئی جگہ نہیں ، جنگی منافع خوروں کیلئے بلوچ قوم کے زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں ۔
یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے لیے کوئی قابلِ اعتماد شواہد موجود نہیں ہیں۔بلوچستان میں مسلح تنظیموں کے کاروائی کے بعد ریاستی ادارے اپنے نہ اہلی کو چھپانے کے ناکام کوشش میں بی وائی سی کے خلاف ایک نیا جھوٹا پروپیگنڈہ تیار کرتے ہے، اور پھر بلوچ عوام کے وسائل کا استعمال کر کے اس پروپیگنڈے کو پرنٹ اور سوشل میڈیا میں شائع کیا جاتی ہے ، ہم سوال کرتے ہے کہ کیا اس پروپیگنڈے سے آپ بلوچ قوم کے دلوں میں محفوظ ریاستی جبر کے داستانوں کو مٹا سکتے ہے ؟ کیا آپ جبراً پریس کانفرنس کروا کر بلوچ ماں کے دل سے اس کے بیٹے کے وجود کو ختم کر سکتے ہے ؟ بلوچستان میں ریاستی جبر بلوچ قومی شناخت کے جدوجہد میں کے سب سے بڑا catalyst ثابت ہوا ہے یہ تحریک جسے آپ بزور طاقت اور اپنے hard State کے زریعے کچھلنا چاہتے ہے، یہ بلوچ قوم کے خلوص ، قربانی اور اپنے وطن سے بے پناہ محبت کے احساس اور ہمارے شہیدوں کے قربانی کی وجہ سے یہاں تک پہنچا ہے ، ہم اپنے شہیدوں کے قربانی اور اپنے باوقار قوم کے طویل مسافت کو کبھی ضائع نہیں ہونے دینگے ، یہ اس سفر کے شروعات ہے جس کا خواب ہمارے شہیدوں نے دیکھا تھا ، کہ کبھی بلوچ علاقے ، قبیلے، زبان کے تفریق سے بالاتر ہوکر اپنے وسیع تر قومی مفادات کیلئے متحد ہونگے اور جو عوامی سیلاب آپ نی راجی مچی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں دیکھا تھا ، وہی بلوچ قوم کے اجتماعی قومی شعور ہے ،بلوچ عوام آج بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سیاسی موقف کے بھر پور ہمایت کرتی ہے ، جس کی وجہ سے ریاست کی جانب سے ہر وقت ایک نیا پروپیگنڈہ اور نیا بیانیہ بنانے کے کوشش کی جاتی ہے ، مگر ان تمام حربوں کے باوجود بلوچ عوام کے پرامن جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی بلوچ دانشور اور سیاسی کارکن اپنی بنیادی حقوق کے جدوجہد سے پیچھے ہٹیں گے۔
میں انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس منظم بیانیے کے پیچھے موجود حقائق کو بغور دیکھیں اور بلوچستان کی زمینی صورتحال کا آزادانہ جائزہ لیں۔ بلوچ سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور BYC کی پرامن جدوجہد کو جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈے سے بدنام کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہم قبول نہیں کریں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قلم، علم اور پرامن سیاسی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کی گئی، حقیقت اور مزاحمت مزید مضبوط ہوئی۔ میں ایک بار پھر واضح کرتی ہوں کہ یہ الزامات ہمیں نہیں روک سکتے کیونکہ ہماری قومی مزاحمت ہی ہماری زندگی کا مقصد بن چکا ہے اور بلوچ عوام کے حقوق اور انسانی وقار کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل کوئٹہ
3 جون 2026
کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ نیاز محمد کی سربراہی میں 6188ویں روز میں داخل ہوگیا۔
مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنےوالے افراد نے کیمپ کا دورہ کرکے اظہارِ یکجہتی کیا، جبری گمشدگیوں کےخلاف احتجاج ریکارڈ کرایا اور تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
The Measure of Leadership ✨
"The true measure of a leader is not the number of powerful people standing beside them.
It is the number of ordinary people who find hope, courage, and inspiration in their words and actions.
Many see Mahrang Baloch as a symbol of perseverance and advocacy for human rights. Her influence reaches far beyond politics because it is rooted in the experiences of the people she represents."
#MahrangBaloch #HumanRights #Balochistan #PMLNGilgitBaltistan