In Balochistan they teach cruelty: torture, killings, fake encounters. Families live with the smell of blood and the silence of officials. Calling the dead “militants” won’t hide what was done. We demand accountability. #StopBalochGenocide
During our student days, Abdul Haq was my closest friend & political guide. We stood together through many struggles, working day & night for our nation.
He was always on the front line, never hesitating to raise his voice for justice and the rights of his people. His family has already endured great suffering. His brother, Ramzan Baloch, a political activist, was abducted from Balochistan on 25 July 2010 and is still believed to be in custody.
Babu was not only a close friend but also someone who shaped my political understanding and inspired me throughout my journey. His courage and principles will always be remembered. He also served as the president of Baloch Students Organization Azad (@BSO__AZAD )Shaal Zone.
Today, his loss is a deep personal tragedy. May his memory live on.
Abdul Haq was abducted by the Pakistani military in Gwadar in February, after which he was subjected to enforced disappearance.
Today, his body, along with three others, bearing visible signs of torture, was recovered from the Panwan area of Jiwani District, Gwadar.
He was killed in custody, and his body was dumped. 💔
The tragic extrajudicial killing of a Baloch teacher, Abdul Haq Baloch along with other persons from Gwadar highlights escalating humanitarian crisis in Balochistan. Civilian are being targeted and executed on daily basis, the cruelty and violence has vanished the humanity.
On July 2, 2026, Sohail Rasool Baksh and Hamza Aziz were forcibly disappeared from their home in Mand Gawak by Pakistani forces.
Pakistani authorities have refused to provide any information regarding their whereabouts, legal status, or condition. The families report being left in distress and uncertainty following the abduction. Paank demands their immediate release.
#EndEnforcedDisappearances
The arbitrary detention of Syed Bibi Baloch, a member of the Baloch Yakjehti Committee, is another manifestation of the state’s continuing repression of peaceful political activism in Balochistan. Detaining political activists without lawful justification to prevent them from exercising their fundamental rights reflects a pattern of state action aimed at suppressing dissent and silencing demands for justice.
On Tuesday night, Counter Terrorism Department personnel entered her home in Turbat and took her into custody without presenting a judicial warrant or any legal grounds for her detention. Detaining individuals to prevent peaceful assembly is an arbitrary deprivation of liberty and a violation of the rights to freedom of expression, association, and peaceful assembly.
“This pain cannot be expressed. But we are trying to stay strong because Mahrang taught us bravery. She taught us courage, and we will not let her down.”
I shared my comments with @TheContrapuntal on my sister Dr. Mahrang Baloch’s life imprisonment and the unfair trials targeting her and other Baloch Yakjehti Committee leaders.
Please read this detailed reportage by @HazaranRahim and @sommulbaloch.
https://t.co/Eu26uKMBar
Before being sentenced to life imprisonment, Dr. Mahrang Baloch spoke from solitary confinement about resistance, human rights, and the future of Balochistan.
Read her recent interview:
https://t.co/MGAEDucLU9
انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا سنانا بنیادی انسانی حقوق،انصاف کے عالمی اصولوں اور آئینی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے،جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
بلوچ وومن فورم
بی ڈبلیو ایف کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے پرامن سیاسی کارکنان، انسانی حقوق کے کارکنان اور اختلافِ رائے رکھنے والے آوازوں کو مختلف نوعیت کے جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات میں الجھا کر پابندِ سلاسل کیا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ اور دیگر سیاسی کارکنان کے خلاف جاری فیس لیس ٹرائل اور اس کے نتیجے میں سنائی جانے والی سزائیں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست بلوچ عوام کی پرامن اور جمہوری آوازوں کو برداشت کرنے کے بجائے انہیں خاموش کرانے کے لیے مختلف حربے استعمال کررہی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ سیاسی اختلاف اور اپنی حقوق کے لیے آواز اٹھانا کوئی جرم نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ پرامن سیاسی کارکنان کو انتقام کا نشانہ بنانا انہیں طویل عرصے تک قید و بند میں رکھنا اور شفاف عدالتی کارروائی کے تقاضوں سے انحراف کرنا نہ صرف انصاف کے اصولوں کی نفی ہے بلکہ بلوچستان میں پہلے سے موجود سیاسی بے چینی اور عدم اعتماد میں مزید اضافہ کرنے کا سبب بنے گا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنان کے خلاف سنائے گئے فیصلوں پر فوری نظرِ ثانی کی جائے، انہیں انصاف کے تقاضوں کے مطابق شفاف عدالتی کارروائی کا حق فراہم کیا جائے، اور بلوچستان میں سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے مسائل کے حل کے لیے جمہوری اور سیاسی راستہ اختیار کیا جائے۔
آخر میں ہم انسانی حقوق کی قومی و بین الاقوام�� تنظیموں، وکلا برادری، سول سوسائٹی اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ سیاسی کارکنان کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی آواز بلند کریں اور ہمارا ساتھ دیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ اور صغبت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا پاکستان کی بلوچ قوم کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔
اس فیصلے سے مزاحمت اور جدوجہد کی تاریخی مرحلے کا آغاز ہوگا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
جس طرح ریاست پاکستان پنتالیس سال قبل حمید بلوچ کو بغیر ٹھوس ثبوت اور شواہد کے پھانسی پر چڑھایا گیا، اور وہ مقدمہ آج تک وہ فیصلہ ریاست پاکستان کے پیشانی پر سیاہ داغ ہے۔ اسی ��رح یہ مقدمہ بھی جج مبین، ان کے حواریوں، ان کے سرپرستوں، پیپلز پارٹی کی ڈیتھ اسکواڈ حکومت،محکمہ داخلہ ��ور اس پورے عدالتی بندوبست سمیت پورے ریاست کی پیشانی پر ایک ایسا داغ بن کر رہے گا جسے تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔
اس کیس میں کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ اگر ایک بھی قابلِ قبول ثبوت موجود ہوتا تو کم از کم یہ کہا جا سکتا تھا کہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس ایک کیس پر دو الگ الگ ایف آئی آر موجود ہے، مگر جہاں ایک بھی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، جہاں شواہد مشکوک ہیں، جہاں ایف آئی آرز خود ایک دوسرے سے متصادم ہیں، وہاں عمر قید کی سزا سنانا انصاف نہیں بلکہ جبر ہے، اور یہ جبر بھی معمولی نہیں بلکہ کھلا ریاستی و عدالتی جبر ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی ایف سی اہلکار ایک ایف آئی آر کے مطابق 27 جولائی کو مر جائے اور دوسری ایف آئی آر کے مطابق 29جولائی کو بھی مرے؟ ایک انسان دو بار کیسے مر سکتا ہے؟ جب مقدمے کی بنیاد ہی اس قدر متضاد، مشکوک اور غیر معتبر ہو تو اس بنیاد پر عوامی رہنماؤں کو عمر قید دینا قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کا جنازہ ہے۔
اس جھوٹے فیصلے کو عوامی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ آج طاقت کے بل بوتے پر قانون کو توڑا مروڑا جا رہا ہے۔ آج طاقت کے بل بوتے پر عوامی رہنماؤں کو سزا دی جا رہی ہے۔ آج طاقت کے بل بوتے پر بلوچ نسل کشی جارہی ہے، اورعوام خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگرتاریخ خاموش نہیں ہوگی یہ سب تاریخ میں لکھا جائے گا کیونکہ تاریخ طاقتور نہیں لکھتے، تاریخ عوام لکھتے ہیں۔
ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ بندوقیں عوام کے ہاتھوں میں نہیں تھیں، بندوقیں ایف سی کے کارندوں کے ہاتھوں میں تھیں۔ ۔راجی مُچی کے دوران چار بلوچ شہید کیے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوئے، ایک شخص کے سر میں گولی ماری گئی اور وہ آج تک معذوری اور اذیت کی ز��دگی گزار رہا ہے۔ مگر ان شہیدوں، زخمیوں اور معذوروں کے لیے کسی کو سزا نہیں ملی۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے لوگوں کے گھروں میں لوٹ مار کی، جنہوں نے عوامی اجتماع کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی کو سزا نہیں ملی۔
لیکن ایک ایسے ایف سی اہلکار کے قتل کے نام پر، جس کے بارے میں ایف آئی آرز خود متضاد ہیں،جس کے بارے میں شواہد مشکوک ہیں، پرامن عوامی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ یہی اس نظام کا اصل چہرہ ہے۔ یہی وہ انصاف ہے جو بلوچستان کو دیا جاتا ہے۔ قاتل آزاد ہیں، مظلوم قید ہیں۔ بندوق والے محفوظ ہیں، خالی ہاتھ عوام مجرم بنا دیے گئے ہیں۔
یہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ صبغت اللہ بلوچ کا مقدمہ نہیں۔ یہ بلوچستان کی عوامی سیاست، عوامی مزاحمت، لاپتہ افراد کے خاندانوں کی فریاد، اور بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کا مقدمہ ہے۔ اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان میں پرامن رہنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے، سوال پوچھنا بھی جرم ہے، اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھانا بھی جرم ہے، اور ریاستی جبر کو بے نقاب کرنا بھی جرم ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری جدوجہد جمہوری ہے، سیاسی ہے، تاریخی ہے، اور حق پر مبنی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی، اپنی عزت، اپنی زمین، اپنے لاپتہ افراد، اپنے شہیدوں اور اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہماری نسل کشی کرے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہمارے پرامن اجتماعات کو گولیوں سے جواب دے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ جھوٹے مقدمات کے ذریعے ہماری قیادت کو قید کرے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ جیلیں اس تحریک کو نہیں روک سکتیں۔ سزائیں اس شعور کو ختم نہیں کر سکتیں۔ جھوٹے مقدمات عوامی حقیقت کو دفن نہیں کر سکتے۔ آج وہ طاقت کے نشے میں فیصلے لکھ رہے ہیں، مگر کل تاریخ ان فیصلوں کا حساب لکھے گی۔
ہم حق پر کھڑے ہیں۔ وہ ظلم پر کھڑے ہیں۔ ہم سچ کے ساتھ ہیں۔ وہ جھوٹ، بندوق اور جبر کے ساتھ ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کے قاتلوں، اپنے شہیدوں کے ذمہ داروں، اور اس جابرانہ نظام کے چہروں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔
آج کا فیصلہ آخری فیصلہ نہیں ہے۔ آخری فیصلہ عدالتوں کے بند کمروں میں نہیں ہوگا۔ آخری فیصلہ عوام کی تاریخ کرے گی۔
Outrageous! Sentencing a peaceful activist to life imprisonment for advocating against enforced disappearances sends a chilling message: even peaceful activism will not be tolerated by a hard state. If peaceful dissent is criminalized, what alternatives are people left with?
ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید سنانا دراصل نوجوانوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ یہاں پرامن جدوجہد کی کوئی گنجائش نہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ عطاء اللہ مینگل، خیربخش مری، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کو سزائیں ملیں اور وقت نے فیصلہ کیا کہ کون درست تھا اور کون غلط۔
The govt claims to hear the peaceful voices, but the reality differs on the ground. Fozia Baloch is struggling to safely recover his forcibly disappeared brother Dadshah Baloch, but being threatened to stay silent. Treating the peaceful voices violently suffers the people more.
Journalist Sahar Baloch @Saherb1 raises important concerns about the faceless trial of BYC leaders, questioning a process conducted away from public scrutiny. Fair trials require transparency, accountability, and open access.
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ایک طرف صوبے کے نوجوانوں کو آکسفورڈ اور کیمبرج سے پی ایچ ڈی کروانے کے خواب دکھاتے ہیں جبکہ دوسری جانب اسی تعلیم یافتہ طبقے کے خلاف منفی اور اشتعال انگیز بیانیہ تشکیل دیتے نظر آتے ہیں۔ ماضی میں بھی بلوچستان اسمبلی کے فلور پر ان کے بیانات نے بلوچ شعراء اور دانشوروں کے خلاف ماحول کو خطرناک بنایا، جس کے بعد بلوچ شاعر غمخوار حیات کو نشانہ بنایا گیا۔ اب ایک بار پھر وہ بلوچ تعلیم یافتہ طبقے، اسکالرز اور پی ایچ ڈی ہولڈرز کے خلاف منفی فضا کو ہوا دیتے نظر آتے ہیں۔
اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ موجودہ حکومت ایک غیر سیاسی اور غیر جمہوری طرزِ عمل کی نمائندہ ہے، جسے عوامی مینڈیٹ کے بجائے طاقت کے ذریعے صوبے پر مسلط کیا گیا ہے۔ ان کی سیاست کا محور عوامی خدمت نہیں بلکہ مفادات اور طاقت کے توازن کا تحفظ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ انہیں اپنا سیاسی وجود صرف بدامنی اور تصادم کی فضا میں ہی ممکن نظر آتا ہے۔
اگر بلوچستان میں حقیقی جمہوری نظام موجود ہوتا، اگر یہاں جنگ، جبر اور خوف کی سیاست نہ ہوتی، تو یہی عناصر نہ عوامی حمایت حاصل کر پاتے اور نہ ہی کسی سیاسی یا انتظامی منصب تک پہنچ سکتے۔ ان کی تمام تر توانائیاں اس بات پر صرف ہو رہی ہیں کہ جمہوری جدوجہد کے دروازے بند کیے جائیں، نوجوان نسل کو سیاسی شعور اور تعلیم سے دور رکھا جائے، میرٹ کو کمزور کر کے اداروں کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے، اور صوبے کے وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے اقتدار کے تسلسل پر خرچ کیا جائے۔
جنگی منافع خوروں اور حقیقی قومی قیادت کے درمیان فرق بھی یہی ہے۔ جو لوگ خود کو بلوچستان کا خیرخواہ کہتے ہیں، وہی تعلیم یافتہ، باشعور اور تنقیدی آوازوں کے خلاف محاذ کھولتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت اب بھی پوشیدہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے کو دیوار سے لگانے کا مطلب پورے سماج کے فکری مستقبل کو نشانہ بنانا ہے؟
اب یہ بات مزید مبہم نہیں رہنی چاہیے کہ اگر کسی بلوچ اسکالر، شاعر، استاد یا دانشور کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری انہی طاقتور حلقوں پر عائد ہوگی جو مسلسل باشعور آوازوں کو خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ حکومت سے سوال کرنا، تنقید کرنا اور احتساب کا مطالبہ کرنا دانشور طبقے کا بنیادی حق اور فکری ذمہ داری ہے۔
@PPP_Org@MediaCellPPP@BBhuttoZardari@FarhatullahB
The enforced disappearances of any citizen is never justified by any laws and regulations, this alarming trend has brought Baloch society into a state of crisis and chaos. This trend must be stopped immediately.
#ReleaseKambeerBaloch#SaveBalochStudents