The Baloch Yakjehti Committee (BYC) strongly condemns the detention of poet and activist Ahmad Farhad under the MPO Ordinance in Azad Jammu and Kashmir. The use of preventive detention laws against writers, activists, and dissenting voices is a blatant attempt to suppress freedom of expression and silence criticism.
BYC believes such actions reflect a broader pattern of intolerance toward dissent and shrinking political space. Arrests, intimidation, and legal pressure cannot silence demands for justice, accountability, and freedom.
We demand the immediate release of Ahmad Farhad and all those detained for peacefully exercising their rights, and urge human rights organizations and democratic forces to speak out against these violations.
ہڑتال کو کامیاب بنانے پر تمام سیاسی و سماجی طبقات کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی 24 جون کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کو بلوچ عوام نے تاریخی انداز میں کامیاب بنا کر ریاست کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ وہ بی وائی سی کی قیادت کے خلاف سنائے گئے غیر منصفانہ، متنازع اور سیاسی انتقام پر مبنی فیصلوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ بلوچستان کے طول و عرض میں عوام، تاجر برادری، سیاسی و سماجی تنظیموں، طلبہ، وکلاء اور مختلف عوامی حلقوں نے ہڑتال کو کامیاب بناکر ثابت کر دیا کہ ریاستی جبر اور انتقامی کارروائیوں کے ذریعے بلوچ عوام کے اجتماعی سیاسی شعور کو نہ دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی مزاحمت کو شکست دی جا سکتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی ان تمام عوامی طبقات، تاجر برادری، سیاسی و سماجی تنظیموں، طلبہ تنظیموں، سیاسی کارکنوں، وکلاء، بار ایسوسی ایشنز، انسانی حقوق کے کارکنوں اور جمہوری قوتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے اس عوامی مزاحمت میں اپنا کردار ادا کیا۔ بلوچ عوام کی یہ یکجہتی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ وہ اپنے سیاسی رہنماؤں، قومی وقار، بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کے مطالبے سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ 24 جون کی شٹر ڈاؤن ہڑتال اس عوامی مزاحمت کا صرف ایک مرحلہ تھا؛ اسیر رہنماؤں کی رہائی، سیاسی انتقام کے خاتمے، انصاف کے حصول اور انسانی و جمہوری حقوق کی بحالی تک ہماری پُرامن مگر غیرمتزلزل مزاحمتی جدوجہد پہلے سے زیادہ قوت، عزم اور عوامی حمایت کے ساتھ جاری رہے گی۔
Hub Chowki Stands Against the Criminalization of Political Dissent
24 June 2026 | Hub Chowki, Balochistan
Some places of Hub Chowki including Lasi road, Shaq Ibrahim Mobile Market, Rind Market have joined the Balochistan-wide shutter-down strike called by the Baloch Yakjehti Committee in response to the life imprisonment sentences imposed on Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch.
Peaceful political activism is increasingly being treated as a crime in Balochistan. The BYC leaders have been detained for more than a year without any evidence. All of a sudden, power-influenced judges and courts conducted day-to-day faceless trials without the consent of the detainees. It shows how the judicial system in Balochistan is used against its people and raises the question of how anyone can trust it.
There is no doubt that this verdict is part of a broader pattern in which legal and judicial mechanisms are used to target political voices who speak about the Baloch genocide and atrocities. Through this peaceful strike, the people of Balochistan reject the decisions of state-influenced judges and demand a fair and transparent trial for the BYC leaders.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders
#BYCShutterDownStrike
You can imprison leaders, silence voices, abduct or kill,but you cannot stop an idea whose time has come. We will never kneel. We will stand, resist, and endure.
#ReleaseBYCLeaders
You can imprison leaders, silence voices, abduct or kill,but you cannot stop an idea whose time has come. We will never kneel. We will stand, resist, and endure.
#ReleaseBYCLeaders
Shutter-Down Strike in Shaal Against the Unfair Life Imprisonment Sentences of Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch
June 24, 2026– Shaal, Balochistan
A complete shutter-down strike is observed across Shaal in response to the life imprisonment sentences handed down to Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch, as well as the prolonged detention of BYC leaders, who have remained imprisoned for the past 15 months and subjected to faceless and unfair trials.
The strike reflected the collective rejection of repression, political victimization, and the misuse of judicial processes. People from different walks of life expressed their solidarity and sent a clear message that Balochistan will continue to stand against injustice and the suppression of democratic voices.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders
𝗦𝗢𝗖𝗜𝗔𝗟 𝗠𝗘𝗗𝗜𝗔 𝗖𝗔𝗠𝗣𝗔𝗜𝗚𝗡
The sentencing of Dr. Mahrang Baloch and Shah Jee Sibghatullah to life imprisonment is a grave injustice and an attack on democratic political activism, human rights advocacy, and peaceful dissent in Balochistan.
We call upon everyone to join a coordinated social media campaign to demand the release of BYC leaders, amplify their voices, and stand in solidarity with all those facing political persecution for their peaceful activism.
Join the campaign by posting on all social media platforms.
🔹 Share facts, statements, videos, and messages of solidarity.
🔹 Raise your voice against the criminalization of peaceful political activism.
🔹 Demand justice, transparency, and the release of political prisoners.
🔹 Tag journalists, human rights organizations, activists, and public representatives.
🔹 Encourage others to participate and keep the issue visible.
The strength of any movement lies in public awareness and collective action. Let us stand together and ensure that these voices are not silenced.
#IStandWithBYCLeaders
#ReleaseBYCLeaders
بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی بلوچ کے خلاف سنائے گئے غیر منصفانہ فیصلوں کے خلاف بدھ کے روز بلوچستان بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتی ہے۔
تمام تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز، طلبہ، سیاسی کارکنوں اور بلوچ قوم سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس احتجاجی ہڑتال میں بھرپور شرکت کرکے ناانصافی کے خلاف اپنی اجتماعی آواز بلند کریں۔
تاریخ: 24 جون 2026
ڈاکٹر ماہ رنگ اور صغبت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا پاکستان کی بلوچ قوم کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔
اس فیصلے سے مزاحمت اور جدوجہد کی تاریخی مرحلے کا آغاز ہوگا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
جس طرح ریاست پاکستان پنتالیس سال قبل حمید بلوچ کو بغیر ٹھوس ثبوت اور شواہد کے پھانسی پر چڑھایا گیا، اور وہ مقدمہ آج تک وہ فیصلہ ریاست پاکستان کے پیشانی پر سیاہ داغ ہے۔ اسی طرح یہ مقدمہ بھی جج مبین، ان کے حواریوں، ان کے سرپرستوں، پیپلز پارٹی کی ڈیتھ اسکواڈ حکومت،محکمہ داخلہ اور اس پورے عدالتی بندوبست سمیت پورے ریاست کی پیشانی پر ایک ایسا داغ بن کر رہے گا جسے تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔
اس کیس میں کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ اگر ایک بھی قابلِ قبول ثبوت موجود ہوتا تو کم از کم یہ کہا جا سکتا تھا کہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس ایک کیس پر دو الگ الگ ایف آئی آر موجود ہے، مگر جہاں ایک بھی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، جہاں شواہد مشکوک ہیں، جہاں ایف آئی آرز خود ایک دوسرے سے متصادم ہیں، وہاں عمر قید کی سزا سنانا انصاف نہیں بلکہ جبر ہے، اور یہ جبر بھی معمولی نہیں بلکہ کھلا ریاستی و عدالتی جبر ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی ایف سی اہلکار ایک ایف آئی آر کے مطابق 27 جولائی کو مر جائے اور دوسری ایف آئی آر کے مطابق 29جولائی کو بھی مرے؟ ایک انسان دو بار کیسے مر سکتا ہے؟ جب مقدمے کی بنیاد ہی اس قدر متضاد، مشکوک اور غیر معتبر ہو تو اس بنیاد پر عوامی رہنماؤں کو عمر قید دینا قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کا جنازہ ہے۔
اس جھوٹے فیصلے کو عوامی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ آج طاقت کے بل بوتے پر قانون کو توڑا مروڑا جا رہا ہے۔ آج طاقت کے بل بوتے پر عوامی رہنماؤں کو سزا دی جا رہی ہے۔ آج طاقت کے بل بوتے پر بلوچ نسل کشی جارہی ہے، اورعوام خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگرتاریخ خاموش نہیں ہوگی یہ سب تاریخ میں لکھا جائے گا کیونکہ تاریخ طاقتور نہیں لکھتے، تاریخ عوام لکھتے ہیں۔
ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ بندوقیں عوام کے ہاتھوں میں نہیں تھیں، بندوقیں ایف سی کے کارندوں کے ہاتھوں میں تھیں۔ ۔راجی مُچی کے دوران چار بلوچ شہید کیے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوئے، ایک شخص کے سر میں گولی ماری گئی اور وہ آج تک معذوری اور اذیت کی زندگی گزار رہا ہے۔ مگر ان شہیدوں، زخمیوں اور معذوروں کے لیے کسی کو سزا نہیں ملی۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے لوگوں کے گھروں میں لوٹ مار کی، جنہوں نے عوامی اجتماع کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی کو سزا نہیں ملی۔
لیکن ایک ایسے ایف سی اہلکار کے قتل کے نام پر، جس کے بارے میں ایف آئی آرز خود متضاد ہیں،جس کے بارے میں شواہد مشکوک ہیں، پرامن عوامی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ یہی اس نظام کا اصل چہرہ ہے۔ یہی وہ انصاف ہے جو بلوچستان کو دیا جاتا ہے۔ قاتل آزاد ہیں، مظلوم قید ہیں۔ بندوق والے محفوظ ہیں، خالی ہاتھ عوام مجرم بنا دیے گئے ہیں۔
یہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ صبغت اللہ بلوچ کا مقدمہ نہیں۔ یہ بلوچستان کی عوامی سیاست، عوامی مزاحمت، لاپتہ افراد کے خاندانوں کی فریاد، اور بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کا مقدمہ ہے۔ اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان میں پرامن رہنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے، سوال پوچھنا بھی جرم ہے، اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھانا بھی جرم ہے، اور ریاستی جبر کو بے نقاب کرنا بھی جرم ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری جدوجہد جمہوری ہے، سیاسی ہے، تاریخی ہے، اور حق پر مبنی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی، اپنی عزت، اپنی زمین، اپنے لاپتہ افراد، اپنے شہیدوں اور اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہماری نسل کشی کرے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہمارے پرامن اجتماعات کو گولیوں سے جواب دے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ جھوٹے مقدمات کے ذریعے ہماری قیادت کو قید کرے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ جیلیں اس تحریک کو نہیں روک سکتیں۔ سزائیں اس شعور کو ختم نہیں کر سکتیں۔ جھوٹے مقدمات عوامی حقیقت کو دفن نہیں کر سکتے۔ آج وہ طاقت کے نشے میں فیصلے لکھ رہے ہیں، مگر کل تاریخ ان فیصلوں کا حساب لکھے گی۔
ہم حق پر کھڑے ہیں۔ وہ ظلم پر کھڑے ہیں۔ ہم سچ کے ساتھ ہیں۔ وہ جھوٹ، بندوق اور جبر کے ساتھ ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کے قاتلوں، اپنے شہیدوں کے ذمہ داروں، اور اس جابرانہ نظام کے چہروں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔
آج کا فیصلہ آخری فیصلہ نہیں ہے۔ آخری فیصلہ عدالتوں کے بند کمروں میں نہیں ہوگا۔ آخری فیصلہ عوام کی تاریخ کرے گی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی اور بالاچ قادر سمیت سیاسی کارکناں کو بغیر فیئر ٹرائل اور قانونی تقاضے پورے کئے عمر قید کی سزا سنانا نہ صرف اس نظام پر سولات کھڑا کرتے ہیں بلکہ یہ انصاف کی بنیادی تقاضوں کی نفی ہے۔ اس پر کُھل کر آواز اُٹھانی چاہئے کہ پُرامن سیاسی کارکناں کو اسطرح بغیر قانونی تقاضے کے ایک سال کے زائد عرصے سے رکھنا، اور پھر اپنی مرزی کی سزا دلوانا قانون کی دھجیاں اُڑانے کی مترادف ہے۔
میں اس کو برابری، سماجی بھلائی، قانون اور انصاف کی نہ صرف برعکس سمجھتا ہوں، بلکہ یہ سمجھتا ہوں کہ اسطرح کے بنی بنائی حربوں سے یہ اُس پُرامن سیاسی نظام کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی ایک کُھلی سازش ہے۔ اس واقعہ نے انصاف کی غیرشفافیت پر اُن شک و شبہات کو حقیقت میں بدل دیا ہے، کہ یہاں قانون، فیئر ٹرائل، اور انصاف صرف نام تک محدود رہی ہے، لیکن میں اب یہ اخذ کرتا ہوں کہ یہ نام تک بھی موجود نہیں۔
یہ انصاف اور قانون کے لئے ایک ساہ دھبہ ہے، اسے دُھلنے کے لئے اس نظام کو صدیاں لگیں گیں، اور بلوچستان میں جُرت مند وکلاء برادری اور بلوچ قوم اس نظام کے خلاف آواز بلند کرے۔ کیونکہ یہ سب کو پتہ ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت باقی اسیران صرف پُرامن سیاسی کارکناں ہیں، انہیں اسطرح کی القابات سے نواز کر سزا دینا سماجی حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
Today marks a dark day for justice in Balochistan. The life sentence handed to @MahrangBaloch_, a peaceful advocate and prominent Baloch voice, raises serious concerns about justice, due process, and fundamental freedoms in Balochistan.
#ReleaseBYCLeaders
The life imprisonment of Mahrang Baloch along with political activists in Balochistan reflects deep concerns over the state of Pakistan’s judicial system and its handling of political dissent. Accountability and fair trial standards remain under serious scrutiny.
BLC Awareness Campaign
The Baloch Students Action Committee, under the banner of the Baloch Literacy Campaign (BLC), held a three-day awareness campaign in Kalat, Balochistan. The campaign was aimed at helping and assisting the Baloch students of Kalat to gain admission to universities on the basis of reserved seats through the Balochistan Directorate of Education.
The team of BSAC Kalat Zone visited different schools and academies to help and encourage the students to submit their documents for admission to different universities in sister provinces for their further studies. The campaign included a one-day admission-awareness session and a two-day help desk, where students from various academies and schools participated and were helped by the BLC team.
We are looking forward to seeing our students get admission to the best universities for their well-rounded educational experiences. We also wish to share that our BLC team in different regions will, indubitably, support and assist the students for their academic success.
Baloch Students Action Committee
END UNFAIR TRIAL OF BYC LEADERS!
Rule of Law, fair trial and justice have become myths in Pakistan. More than 14 months have passed since Dr. Mahrang Baloch and her companions have been kept in jail under baseless accusations and unlawfully detained. Despite the absence of evidence, they have been detained, harassed and mentally tortured in jail.
Against these injustices and violations of the rule of law, Dr. Mahrang Baloch and her companions are protesting inside the jail, where they have organised a “Dharna.” If their demands are not met, they will proceed with a “Token Hunger Strike” inside the jail.
The trials have shifted from prison-based hearings to a virtual court system, where faceless trials are being conducted and the judge and other parties participate remotely, while the State seeks a speedy conclusion of the proceedings.
Their demands are simple and clear:
1) End online and jail trials and restore hearings in open court so that judicial proceedings are transparent and accessible to the public.
2) Replace the current judge, Mobin, as he has been biased towards the state regarding the case from day one. The organisation's leaders have filed a court application for the judge's replacement, which should be heard soon and a new impartial judge should be assigned to hear this case.
3) Suspend the case until the judge's replacement and the commencement of open court proceedings.
We once again request all human rights organisations, journalists, politicians, social and political unions, humanitarians and the Baloch nation to raise their voices against state barbarism and spread awareness about the ongoing injustice and online trial of BYC leaders.
@EUPakistan@KaroblisR@HRCP87@UNinPak@amnestysasia@MunizaeJahangir@TIME@UNHumanRights@BBC100women@AusHCPak@NLinPakistan@MJibranNasir@AsadAToor
#ReleaseBYCLeaders
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
میں کشمیری عوام کے پُرامن مظاہرین پر ہونے والے ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتی ہوں اور ان کی اپنے حقوق، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر عائد کی گئی پابندی محض ایک تنظیم پر پابندی نہیں، بلکہ یہ اظہارِ رائے، سیاسی آزادی اور پاکستان میں آباد محکوم قوموں کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کے خلاف ریاست کے مسلسل جابرانہ رویّے کی عکاسی کرتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کا جواب پابندیوں، گرفتاریوں اور تشدد سے نہیں بلکہ مکالمے، انصاف اور سیاسی عمل کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں عوامی تحریکوں اور جمہوری مطالبات کا جواب اکثر طاقت، جبر اور قدغنوں کی صورت میں دیا گیا ہے۔
آج اس قید خانے کی خاموشی میں میرا دل سب سے پہلے کشمیر کے ان مظاہرین، زخمیوں، سوگوار خاندانوں اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے جو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے اور جنہیں جبر، تشدد اور طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان سے کشمیر تک فاصلے ہزاروں کلومیٹر کے سہی، مگر دکھ ایک جیسے ہیں، زخم ایک جیسے ہیں اور انصاف کی خواہش بھی ایک جیسی ہے۔ میں کشمیری عوام کی استقامت، حوصلے اور جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہوں۔
جیل کی یہ دیواریں بلند ضرور ہیں، مگر اتنی بلند نہیں کہ وہ قوموں کے دکھ، ماؤں کی آہیں اور انصاف کی پکار کو اپنے اندر قید کر سکیں۔ سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی میں بلوچستان، پختونخواہ، سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر سے اٹھنے والی ان آوازوں کو سن سکتی ہوں جو اپنے بنیادی حقوق، عزت، شناخت اور انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ریاستی جبر کا ایک پرانا طریقۂ کار ہے۔ پہلے عوام کی آواز کو نظر انداز کیا جاتا ہے، پھر اسے بدنام کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور آخرکار طاقت کے ذریعے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پُرامن تحریک کو جس ریاستی جبر کا سامنا ہے، وہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں محکوم قوموں کی سیاسی جدوجہد کو بارہا طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات بھی اسی جابرانہ سوچ اور پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پابندیاں، گرفتاریاں اور تشدد قوموں کی یادداشت کو مٹا سکتے ہیں۔ لیکن ظلم کبھی استحکام پیدا نہیں کرتا۔ ظلم صرف زخم پیدا کرتا ہے، اور زخم ایک دن سوال بن جاتے ہیں۔ جب یہی سوال پورے معاشرے کے سوال بن جائیں تو پھر کوئی دیوار، کوئی جیل اور کوئی پابندی ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔
بلوچستان میں جب مائیں اپنے جبری لاپتہ پیاروں کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکلیں تو انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کو، جن کی گمشدگیوں کے بارے میں وہ انصاف مانگ رہی تھیں، دہشت گرد قرار دے کر ان کے درد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ پختونخواہ میں جب عوام نے اپنے حقوق کی بات کی تو ان کی آواز کو دبانے اور بدنام کرنے کی کوشش ہوئی۔ آج کشمیر میں بھی عوامی مطالبات کا جواب طاقت سے دیا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ظلم وقتی طور پر خوف پیدا کر سکتا ہے، خاموشی نہیں۔
عوام جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو انہیں دشمن سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاسی مطالبات کا جواب مکالمے کے بجائے طاقت سے دیا جاتا ہے۔ احتجاج کو جرم اور مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچائی کو قید کیا جا سکتا ہے، اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔
میں ان تمام خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی ہوں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے، جو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، یا جو انصاف کے انتظار میں دروازوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ چاہے وہ بلوچستان کی مائیں ہوں، پختونخواہ کے خاندان ہوں، سندھ اور گلگت بلتستان کے کارکن ہوں یا کشمیر کے مظاہرین، ان کا درد ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔
ہماری جدوجہد نفرت کے لیے نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار، برابری اور قومی حقوق کے لیے ہے۔ ہم اس دن کا خواب دیکھتے ہیں جب کسی ماں کو اپنے لاپتہ بیٹے کی تصویر اٹھا کر سڑکوں پر نہ نکلنا پڑے، جب کسی طالب علم کو اپنے سیاسی نظریات کی قیمت آزادی سے محرومی کی صورت میں نہ چکانی پڑے، جب کسی انسان کو اپنی شناخت اور اپنے حقوق کے مطالبے کی پاداش میں قتل، قید یا لاپتہ نہ کیا جائے، اور جب عوامی مطالبات کا جواب گولی، پابندی اور جبر نہیں بلکہ انصاف، مکالمہ اور جمہوری عمل ہو۔
اگر سچ بولنا جرم ہے تو تاریخ کے ہر باوقار انسان نے یہ جرم کیا ہے۔ اور اگر انصاف کا مطالبہ بغاوت ہے تو یہ بغاوت انسان کے ضمیر سے جنم لیتی ہے، کسی سازش سے نہیں۔
Mehrab is a conscious baloch youth who disclosed the realities and the real living conditions of the baloch society and got disappeared.
#ReleaseMehrabKhalid#SaveBalochStudents
It has been days since NCA Lahore film student Mehrab Khalid was taken from Lahore. His family is in immense distress. Unlawful detentions of young professionals and students must stop. Safe recovery must be ensured immediately!
#ReleaseMehrabKhalid#SaveBalochStudents