وزیر موصوف کو پی ایچ ڈی سے نفرت ہے۔
وزیر اعظم/وزیر اعلی پنجابیوں کو مزدور بنا رہی۔کسانوں سے تعیلم چھین لی۔
استاد کو ٹوٹی/پنکھا چور بنا دیا۔ دو کروڑ پنجابی بچہ سکول سے باہر۔مہنگی تعیلم۔
پنجاب کے بچے سائنسدان/انجینئر بننے کی بجائے نیشاپومی بن رئے۔
@RanaSikandarH
رانا صاحب یہ دیکھیں۔یہ بھی منسٹر رھے۔ہمیشہ آنرایبل ٹیچر کہہ کر پکارتے تھے۔وہ اج بھی ٹیچرز کے دلوں میں بستے ہیں۔محکمہ میں ڈجیٹلائزیشن کی بنیاد رکھی۔
ٹیچرز ان کے خلاف ٹرینڈز بھی چلاتے تھے اپنے حق کے لئے لیکن مجال ھے جو کبھی کسی کو جھڑکا بھی ہو۔
اقتدار عارضی ھے منسٹر
99% ٹیچرز جس جس سکولز میں ورک کر رہے ہیں اپنے پیسے یا کمیونٹی کے عطیات سے سکول کے بچوں کی ضروریات پوری کر رہے ہیں. امسال الحمد اللہ کمیونٹی کے تعاون سے ایک نرسری روم تیار کروایا ہے..
جب آپ ایماندار ہوں اور ورک کریں تب ہی کمیونٹی بھی سپورٹ کرتی ہے
مجھے یاد ہے جب مراد راس صاحب نے کہا تھا کہ ٹیچر کو بلانے سے پہلے اور آفیشل لیٹرز میں بھی مخاطب کرتے ہوئے آنرایبل ٹیچرز لکھا جائے گا۔وہ خود بھی اس بات پہ عمل کرتے تھے۔
@MuradRaasMR
کسی استاد نے جرم کیا ہے تو محکمانہ ایکشن لیں آپ محکمے کے وزیر ہیں کوئی اپوزیشن لیڈر نہیں کہ یوں تقریریں کریں، آپ کے پاس عہدہ اختیار ہیں ایکشن لیں۔ میں اعداد و شمار کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ اس وقت پنجاب حکومت جو نان سیلری بجٹ سکولز کو دے رہی ہے اس بجٹ میں سکول نہیں چل سکتے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سرکاری سکولز اور اساتذہ کو ناکام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ پرائیوٹ شعبہ اچھا نظر آئے۔ وزیر تعلیم کو پیف پارٹنر سکولز میں جعلی انرولمنٹ کے حوالے سے بھی بتانا چاہیے۔
تعجب ہے! جب سکول کی دیوار گر جائے تو استاد اپنی جیب سے مرمت کرائے، پانی نہ ہو تو انتظام کرے، بچے نہ ہوں تو گھر گھر جا کر داخلے کرے۔ لیکن جیسے ہی سکول آباد ہو، وہ کسی اور کے حوالے کر دیا جائے، اور استاد کے حصے میں تعریف نہیں بلکہ تہمت آئے۔ یہ انصاف نہیں، محنت کی صریح بےقدری ہے۔