آج جب بلوچ مرد و زن ریاستی جبر سے بیزار ہوکر مزاحمت کی شکل میں کھڑے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ انہیں اس مقام تک کون لایا؟ کیا ریاست خود اس کا سبب نہیں؟ کیا تشدد اور نظراندازی نہیں ہے؟ اگر بلوچ کو محض بلوچ ہی نہیں بلکہ ایک انسان سمجھا جاتا، تو شاید یہ مزاحمت اس قدر شدید نہ ہوتی۔
آج جب بلوچ مرد و زن ریاستی جبر سے بیزار ہوکر مزاحمت کی شکل میں کھڑے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ انہیں اس مقام تک کون لایا؟ کیا ریاست خود اس کا سبب نہیں؟ کیا تشدد اور نظراندازی نہیں ہے؟ اگر بلوچ کو محض بلوچ ہی نہیں بلکہ ایک انسان سمجھا جاتا، تو شاید یہ مزاحمت اس قدر شدید نہ ہوتی۔
#BalochFightForHumanRights
میں نئے تعلقات بنانے سے ڈرتا ہوں لیکن میں ایسے ہر شخص سے خاموش محبت کرتا ہوں، جو مولویوں کے بہکاوے میں نہیں آتے، حسن پرست ہیں، خود اپنی تعریف نہیں کرتے، کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتے، موسیقی اور رقص سے محبت کرتے ہیں اور کتابیں پڑھتے ہیں۔
@MaidahMuhammad بنگلادیش جب پاکستان سے ٹوٹ رہا تھا تو فوجیاں شراب اور عورتوں میں غرق ترق تھیں اب بلوچستان بھی ہاتوں سے نکل چکا ہے ابھی انکا حال 1970 جیسا ہے۔
@KiyyaBaloch@Sarawaan1 بلوچستان کی جنگ اب عام بلوچ کے ہاتھوں میں ہیں اور وہ عام بلوچ پڑھا لکھا باشعور بلوچ ہے وہ ناں کسی سردار کو مانتے ہیں ناں کسی دو نمبر ملا کو وہ اب اتنا لائق ہے کہ اپنے علاقوں میں اپنے لوگوں کے درمیان رہ کر یہ جنگ لڑ رہا ہیں۔