@enkidureborn اپنی کسی پشینی یوتھیے سے کنفرم کروا لو کہ جلسے میں کن لوگوں نے شرکت کی تھی دوسری بات ڈیرہ سے ہارنے والی بات وہ مادر چود کر رہے ہیں جو خود اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ علی امین فوج کا بندہ ہے اور فوج ہی علی امین کو لیکر آئی
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طاقتور لوگوں نے ان کے ترجمان ادارے سے منسلک یو ٹیوب چینلز اور اپنے تنخواہ داروں کو دو ھدایات سختی سے جاری کی ھیں
۱- مولانا فضل الرحمن صاحب پر جتنا کیچڑ ماضی میں ھماری ھدایات پر ااچھالا گیا تھا اسکو دوبارہ اچھالنے کے عمل کا آغاز کیجئے۔
۲- عمران خان اور سہیل آفریدی کے خلاف کوئ بات نہیں کرنی۔
ایک تقریر کتنی آگ لگا سکتی ھے اسکا اندازہ لگائیے زرا😂
لیکن آپ کے لے پالکوں سے یہ نہ ھوپائے گا ان شاءاللہ۔
@jehangir987@writetofahim تم عمرانڈؤں کا یہی مسئلہ ہیکہ خود کو ایک سیاسی پارٹی نہیں سمجھتے جس دن تم جیسے چوتیوں کی سوچ سیاسی ہوگئی اور ہر پارٹی لیڈر کو عزت دینے لگ گئے اور اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کرنے لگ گئے تو تمھارا لیڈر اسی دن جیل سے باہر آجائیگا
@QaimKhanisays کوئی اتنا بیشرم کیسے ہوسکتا ہے ؟
کیا آپ نہیں جانتے جھبیسویں آئینی ترمیم کے موقع پر پوری ریاست مولانا کے در پر لیٹی ہوئی تھی مولانا کو کیا کچھ آفر کیا جارہا تھا مولانا کو عہدوں کے اصول کی لالچ ہوتی تو مولانا بہت کچھ وصول کرسکتے تھے مگر مولانا نے ہر چیز پرتھوک کر ریاست کو جواب دیا
@QaimKhanisays اخے آپکے ہم مسلک
احسان مانو اس مولانا کا جس نے اپنے مسلک کے لاکھوں لوگوں کو ملک کے آئین کے تابع بنایا ہوا ہے آج مولانا بیچ سے ہٹ جائیں تو آپ سمیت آپکے وہ بڑے جنکی چمچہ گیری میں مولانا کی دستار پرسوال اٹھارہے ہیں اچھے سے جانتے ہیں کہ مولانا ہٹ گئے تو آگے کا منظرکتنا خوفناک ہوگا
@QaimKhanisays مولانا جب حکومتی اور ریاستی کے مخالف ہوئے تو انکی ہر دستار کی تحقیق لازم ہوگئی وگرنہ جب مولانا ہی کے وجہ سے اقتدار کرسی پر بیٹھنے والے انکی اسی دستار کے ہر تار کو چومنا اپنا فرض سمجھتے تھے
واہ کمال کرتے ہو پانڈے جی
عمران خان کی گرفتاری سے اب تک صرف دو بار بظاہر سنجیدہ کوشش ہوئی لیکن دونوں بار ڈی چوک کا رخ کیا گیا ،
دونوں بار لیڈ کرنے والے مخلص نہیں تھے ،
اکتوبر والا ڈی چوک مارچ فیصلہ کن ہو سکتا تھا کیونکہ اس میں گولی اس لئے نہیں چل سکتی تھی کہ اکتوبر میں ہی ایس سی او کانفرنس تھی ، وہ موقع ضائع کر دیا گیا
نومبر میں سانحہ 26 نومبر برپا کردیا گیا ،
اس کے بعد سے ملک بھر میں خوف نے ایسا گھر کیا کہ کوئی بڑی ایکٹیو ٹی نہ ہو سکی ،
تقریبا 32 ماہ بعد سہیل آفریدی ، محمود خان اچکزئی صاحب اور علامہ راجا ناصر عباس صاحب نے جمود توڑا ، لاہور ، کراچی اور کے پی میں بڑی سٹریٹ موومنٹ کی ،
لیکن ان کے جمود توڑنے کے بعد سے پنجاب اور سندھ میں پھر خاموشی ہو گئی کیونکہ وہاں کی تنظیمات اور اراکین اسمبلی و ٹکٹ ہولڈرز نے کوئی بڑی ایکٹیو یا ڈور ٹو ڈور موومنٹ نہیں کی ،
بظاہر عمران خان کی بھی اس وقت حکمت عملی یہی ہے کہ ڈی چوک کے بجائے ملک بھر میں احتجاج ہو ، پاکستان بھر میں دو ڈھائی مقامات سے سڑکوں کو بلاک کیا جائے اور سسٹم کا پہیہ جام کیا جائے لیکن پی ٹی آئی کے ایم این ایز ، ایم پی ایز اور ٹکٹ ہولڈرز کی کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی ۔۔۔۔
@_TaNoLii کسی کتی ماں کی ناجائز اولاد وہ کون بھڑوے لوگ تھے جنہوں نے طالبان کو بنایا جنہیں اپنے ماتھے کا جھومر کہا
ب چ تم لوگ ہر چیز کو اپنی گھٹیا قوم پرستی کے نیچے لے آتے ہو
@UmarCheema1 یہ جاننے کے لیے آپ الیکشن کی رات کو ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے نتائج چیک کریں کہ کونسی پارٹی تھی جو الیکشن کی رات بلوچستان میں 22 سیٹوں کے ساتھ لیڈ کر رہی تھی مزید جاننے کے لیے کرنل ھاشم سے رابطہ کریں کہ الیکشن کی رات انہوں نے کونسی پارٹی کی کتنی نشستیں چھین کر ٹاوٹ کو دیں
بلوچستان پاکستان ہی رہے گا
غوث بخش بزنجو گورنر تھے ، سردار عطا اللہ مینگل وزیراعلی بلوچستان یونیورسٹی کا وائس چانسلر پروفیسر کرار حیسن کو بنایا گیا ۔ بلوچستان یونیورسٹی ابتدائی حالت میں تھی ، نہ ڈھانچہ نہ انتظامیہ نہ پوری فکیلٹیز ۔ گورنر اور وزیر اعلی جو آپس میں سیاسی مخالف تھے اکٹھے وائس چانسلر کا استقبال کرنے گئے ۔ میسج یہ دینا تھا کہ بلوچستان کی تعلیم کے لیے وہ سنجیدہ ہیں ۔ دونوں بلوچستان کے بڑے لوگ تھے ۔
بزنجو کا اس موقع پر یادگار فقرہ تھا کہ
“I am a disposable governor and you are an indisposable teacher”
بلوچستان یونیورسٹی برے حال میں تھی ۔ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کو وی سی بنایا گیا ، ڈاکٹر مالک وزیر اعلی تھے اور محمود خان اچکزئی کے بھائی محمد خان اچکزئی گورنر تھے ۔ دونوں نئے وائس چانلسر کا استقبال کرنے پہنچے ۔ وہ 73 کا بلوچستان تھا ، یہ 2016 کا بلوچستان تھا ۔
سردار عطا اللہ مینگل نے بلوچستان میں اردو کو رابطے اور تعلیم کی زبان بنایا ۔ ان سے یہ جملہ بھی منسوب ہے کہ پاکستان کو کچھ ہوا تو ہم بلوچستان کا نام پاکستان رکھیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
26 اگست 2024 کو نواب اکبر بگٹی شہید کی برسی تھی ۔ 25 اگست کی رات بی ایل اے نے 13 اضلاف میں آپریشن ہیروف کے نام سے مسلح حملے کیے ، 26 اگست کو ایف سی کیمپ لسبیلہ پر ماہل بلوچ عرف زالان کردی اور رضوان بلوچ عرف ھمل نے خود کش حملہ کیا ۔ ماہل بلوچ کو پاکستانی میڈیا نے غلط طور پر ماہل کرد نامی بلوچ لڑکی سے جوڑ دیا ۔ اصل میں زالان کردی وہ پہلی کرد خاتون خود کش تھی جس نے ترک فوج پر حملہ کیا تھا اور بی ایل اے کرد تحریک سے خود کو علامتی انداز میں جوڑ رہی تھی ۔
رضوان بلوچ کی عرفیت ھمل بتائی گئی تھی ۔ ھمل بلوچ تاریخ کا وہ کردار ہے جس نے پرتگیزیوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی اور اس کا مجسمہ خود پرتگیزیوں نے گوا میں لگا رکھا ہے ، ایرانی بھی اس کو ہیرو مانتے ہیں ۔ منگل کو ھمل کو پرتگیزیوں نے گرفتار کیا تھا ، بلوچ ساحلی علاقوں میں منگل کو خواتین آج بھی بال دھونے سے گریز کرتی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب ہیں جبکہ اس تنظیم میں ڈپٹی رحمن گل ہیں ، جنہوں نے نواب بگٹی کی شہادت کے بعد فوج چھوڑ دی تھی ۔
2 فروری 1839 میر محراب خان کا یوم شہادت ہے جو انگریز کے خلاف جنگ کی قیادت کرتے مارے گئے تھے ۔ بی ایل اے نے 31 جنوری کو آپریشن ہیروف ٹو کا آغاز کیا ۔ بلوچستان بھر کے 12 اضلاع میں بیک وقت حملے کیے گئے ، بڑی تعداد میں بی ایل اے کے حملہ آور مارے گئے ہیں
آپریشن کلین اپ جاری ہے ۔ بشیر زیب کی ایک فوٹو جاری کی گئی ہے جس میں وہ طالبان نما حلیے میں موٹر سائکل پر حملے کی قیادت کرتے بتائے گئے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچستان عسکری تحریک فرسٹریشن کا شکار ہے ۔ حیر بیار مری بی ایل اے آزاد کے سرپرست ہیں وہ اسرائیلی سائٹ پر نوکری کی درخواستیں دیتے رہتے ہیں اور گریٹر بلوچستان جس میں افغانستان کے دو صوبے ایرانی بلوچستان اور پاکستان بلوچستان کے علاوہ علاقے شامل ہیں ، یہ سب آزاد کرانے کے مشن پر ہیں جو اصل میں بلوچ کٹواؤ پروگرام ہی لگتا ہے ۔
اٖفغانستان کا باڈر بند ہے ، پاکستان میں ایرانی تیل کا کام بند ہے ، چاہ بہار سے انڈیا دوڑ گیا ہے ، ایران میں پوڈر اسمگلنگ کے خلاف آپریشن ہوئے ہیں ۔ بلوچ عسکری تحریک کو فنڈنگ کے مسائل درپیش ہیں ۔
اب یہ اک تواتر کے ساتھ بنک لوٹنے کی کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ بشیر زیب کی بی ایل اے سی پیک پراجیکٹ کو پورے جذبے سے ٹارگٹ کرتی ہے اور ریکوڈک کا نام لیتے شرماتی ہے ۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم بی ایل ایف نے نوکنڈی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر پہلا خودکش حملہ کیا تھا ۔ نوکنڈری میں ہی ریکوڈک پراجیکٹ کی سائٹ ہے ۔ مکران کے اپنے حلقہ اثر سے بہت باہر جا کر یہ کاروائی کی گئی ۔ اس سے عسکری تنظیموں کے آپسی اختلافات دکھائ دیتے ہیں ۔
اک خلیجی ملک میں بی ایل اے کے لوگ گرفتار ہوئے ہیں ۔ اک دوسرے خلیجی ملک کو پاکستان نے آگے لگا رکھا ہے ، تیسرے ملک میں صدر صاحب بلوچی میڑھ لے کر ہی پہنچے ہوئے تھے کہ کچھ خیال کریں تعلق رابطوں واسطوں اور اچھے وقتوں کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرفراز بگٹی حال ہی میں چیف آف بگٹی بنے ہیں ۔ ان کا تعلق بگٹی قبیلے کی میسوری شاخ سے ہے ۔ بگٹی قبیلے میں نواب کی غیر موجودگی میں میسوری سردار کو جنگ اور ایمرجنسی میں چیف کا درجہ حاصل تھا ۔ یہ سسٹم نواب اکبر بگٹی نے ختم کر دیا تھا ۔
نواب کی شہادت کے بہت بعد ، بگٹی قبیلے کے نواب مخالف وڈیروں کو وزیراعلی ہاؤس بلا کر ان کی حمایت لینے کی کوشش کی گئی ۔ ہوشیار وزیراعلی نے یہ فرمائش کرنے والوں سے کہا کہ انہیں دودھ پتی پلائیں ، کسی اک وڈیرے نے بھی دودھ والی چائے کو ہاتھ نہ لگایا ۔ تب وزیراعلی نے افسر لوگ کو سمجھایا کہ نواب نے بہت عرصہ پہلے دودھ پتی پینے پر بین لگا دیا تھا ۔ آپ اس کے مخالفوں کو یہ پلا نہیں سکے ہیں ۔ باقی حساب خود لگا لیں ۔
سرفراز بگٹی کے وزیر اعلی بننے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سبی اور نصیر آباد ڈویژن میں ہلکی پھلکی عسکری کاروائیاں شروع ہو گئی ہیں ۔
بندہ پوچھے سر جی آپ کو یہ مشورے دیتا کون ہے ، سی ایم سردار نہیں ہے تو بھی اس کی کارکردگی بولے گی اور سردار ہے تو بھی فیصلہ کارکردگی نے ہی کرنا ہے ۔ قبائل کے اندرونی سسٹم رواج روایت میں گھسنے کی ضرورت کیا ہے ۔
یہ ساری کہانی نہیں ہے ، اسے ایک مکمل رخ بھی نہیں کہہ سکتے ،پھر بھی ایک پاکستان دوست نواب بگٹی کی شہادت دیکھیں کیسے کیسے بلوچستان کو متاثر کر رہی ہے ۔
جس نے زندگی کا بڑا حصہ انسانیت کی خدمت میں گزارا، جس کے کینسر اسپتالوں نے لاکھوں کو نئی زندگی دی، آج وہ خود قید میں بنیادی طبی سہولتوں اور ذاتی معالج تک رسائی سے محروم ہے۔ تاریخ جب لکھی جائے گی تو ظالموں کے ظلم کے ساتھ ساتھ ہماری احسان فراموشی کا ذکر بھی ہوگا۔ یہ ایک محسنِ پاکستان کا نہیں، انسانیت کا ماتم ہے۔
@CSMR786@itsshahgold ڈنگر پٹواری پہلے سرچ کرلو کہ مولانا اور انکے پارٹی رہنماوں پر کتنے خودکش حملے ہو چکے انکی پارٹی کے کتنے قائدین شہید ہوچکے صرف باجوڑ جلسے میں سو سے زائد کارکنان شہید ہوئے
تم پٹواری تو یوتھیوں سے بھی اعلی درجے کے چوتیے نکلے
اخے مولانا صاحب کی پارٹی کا ایک بندہ مرا