#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0
The founder father of Pakistan, Quaid e Azam Muhammad Ali Jinnah. We salute him for his pivotal role in creation of Pakistan. 🇵🇰🇵🇰🇵🇰
Long live Pakistan. 🇵🇰🇵🇰🇵🇰
✍️ "The oppression, torture and denial of our election symbol have been extensively documented, but nothing has worked for the military and the powerless civilian leadership acting as its puppets"
From his prison cell, former Pakistani prime minister, @ImranKhanPTI, writes exclusively for The Telegraph👇
https://t.co/vV3mP0rRiE
Remember he was the only one standing between you and America. After his removal from office they sold Pakistan to America!
#ظلم_کا_بدلہ_ووٹ_سے#ووٹ_ڈالو_خان_نکالو
تمام تر ہتکھنڈے اپنا لینے کے بعد منصوبہ سازوں کو اندازہ ہوچکا ہے کہ عوام کا فیصلہ تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ کسی نا کسی شکل میں تحریکِ انصاف کو کھیل کا حصہ رکھنا بھی مجبوری ہے تاکہ دنیا انتخابات کی شفافیت پر زیادہ سوال نہ اٹھائے لیکن لندن پلان کی کامیابی اور بیرونی آقاؤں کے ساتھ کیے وعدوں اور ذاتی مفادات کا تحفظ بھی مطلوب ہے۔ اس لیے بشری بی بی کےذریعے خان صاحب کو درج ذیل شرائط پہنچانے کی کوشش کی گئی؛
۱- مقتدرہ کے معتوب قرار دیے گئے افراد (جن میں میرا نام سرِ فہرست تھا) تحریری معافی مانگیں اور ہمیشہ کے لیے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ ان کے خاندان کے افراد میں سے کسی کو آگے لایا جاسکتا ہے لیکن وہ خود دوبارہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔
۲- عمران خان اگلے تین سال بنی گالہ میں مقید رہیں گے اور پارٹی یا انتخابات جیتنے کی نتیجے میں بننے والی تحریکِ انصاف کی حکومت کو کسی قسم کا کوئ مشورہ سیاسی، یا حکومتی امور سے متعلق نہیں دے سکیں گے۔
۳- عمران خان کو تین نام دیے جائیں گے جن میں سے کسی ایک کو وہ اگلا وزیر اعظم نامزد کردیں گے، اور عوام میں تاثر یہی دیا جائیگا کہ یہ فیصلہ عمران خان کی جانب سے کیا گیا۔ ایک سال تک اِس حکومت کی کارکردگی کو جانچا جائیگا اور اُس کے بعد عمران خان اور تحریک انصاف کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائیگا۔
بشری بی بی کی جانب سے خان صاحب تک اِن میں سے کوئ بھی شرط پہنچانے سے انکار کیا گیا جس کے بعد سے انہیں دباؤ میں لانے کے لیے تمام تر میڈیا اور ریاستی مشینری کا استعمال بروئے کار لایا جارہا ہے۔
میرے پاکستانیو میں جانتا ہوں آپ باشعور ہیں اور ان تینوں شرائط سے مطلوب نتائج کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں! آپ یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان شرائط کو نا ماننے کی صورت میں ان کو کِن نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہونگی اور اُن پر کس رفتار سے عملدرآمد جاری ہے۔
آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اِس وقت خان صاحب اور ان کی اہلیہ اُن کے نرغے میں ہیں۔ اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کا شعور ان کے کسی انتہائ اقدام کے راستے کی اکلوتی رکاوٹ ہے۔حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فی الحال میرا اس سے زیادہ کہنا مناسب نہیں۔ اس وقت ضروری ہے کہ آپ اپنا فوکس ۸ فروری پر رکھیں، اور اپنی آنکھیں اور کان کھلیں رکھیں۔
آپ کا لیڈر اللہ کے بعد آپ کے بھروسے یہ صعوبتیں جھیل رہا ہے۔