آج پاکستان ایک ایسے دردناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں کاروبار ٹھپ ہیں، روزگار ختم ہو چکا ہے اور پٹرول و بجلی کی ہوشربا قیمتوں نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ہمارے باصلاحیت نوجوان اعلیٰ ڈگریاں ہاتھوں میں لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جبکہ صرف چار سال قبل عمران خان کے دورِ حکومت میں ملک میں خوشحالی، ترقی اور امید کی فضا قائم تھی۔
عمران خان نے ہمیشہ اس ملک کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل، ان کے روزگار اور عزتِ نفس کی جنگ لڑی ہے اور اسی پاداش میں آج وہ ناانصافی کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
اے پاکستان کے غیور نوجوانو! گھروں میں بیٹھ کر خاموشی سے حالات کا رونا رونا کوئی حل نہیں۔ اپنے حق، بہتر مستقبل اور اپنے قائد کو انصاف دلانے کے لیے خوف کے خول سے باہر نکلیں۔ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا حصہ بنیں اور ملک کو معاشی دلدل سے نکال کر حقیقی آزادی کی منزل تک پہنچانے کے لیے اپنا تاریخی کردار ادا کریں۔
#مزاحمت_ہی_خان_کی_رہائی
مریم نواز کے بیان نے صرف ہندوستان کو خوش کیا ہے!
پاکستانی تو نہ صرف حیران اور مایوس ہیں ۔
مجھے ایسے لگا ہندوستان کی بات ہو رہی ہے کہ ہم نے پاکستان سے دہشتگردی ختم کر لی ہے دیکھو انڈیا تمھارے اندر ابھی بھی دہشتگردی ہے ۔
مریم نواز نے یہ کیوں نہیں کہا کہ میں نے اپنے صوبے سے دہشتگردی ختم کر دی ہے آؤ میں تمھاری مدد کروں پختونخواہ سندھ بلوچستان سے دہشتگردی ختم کرنے میں ۔ لیکن نہیں سیاسی انتشار دھڑوں میں بانٹنا ضروری ہے۔
میں مریم نواز کا نہ انٹرویو دیکھتا ہوں نہ اسکی کوئی تقریر سنتاہوں یہ میری ذہانت کی توہین ہے ۔
یہ اسطرح کی بے تکی باتیں کہ چارپائی کے نیچے گھس جانا۔
کیا تم نے نہیں دیکھا جب اسکو گولیاں لگیں اور وہ ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو بتا رہا ہے کہ میں ٹھیک ہوں مجھے شوکت خانم لے چلو ۔ آپ میں سے کوئی ہوتا تو آپ نے کہنا تھا ہیلی کاپٹر اتارو ائیر ایمبولینس منگاؤ اور ہمیں لندن لے جاؤ
وہ ذہینی طور پر اتنا مضبوط ہے کہ اتنے مقدموں کے بعد کوئی اور ہوتا تو اسکا ہارٹ فیل ہو جاتا۔ وہ روزے میں کھجور ایسے کھاتا ہے جیسے یہی مکمل زندگی ہے۔
وہ صوبے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں، آج ایک مینڈیٹ چور جعلی وزیرِ اعلیٰ انہیں دہشت گردی کا سرچشمہ قرار دے رہی ہے۔ یہ نفرت اور صوبائیت کی سیاست اور ملک دشمن پروپیگنڈا ہے۔
ہر پاکستانی اس نفرت انگیز سوچ کو مسترد کرتا ہے!
پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں جاری پرامن سیاسی و عوامی رابطہ مہم کے دوران پی ٹی آئی قافلے کو حیدرآباد سے کراچی جانے سے روکنے، راستے بند کرنے اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پیپلز پارٹی کی کھلی سیاسی منافقت اور خوف کی علامت قرار دیا ہے۔
ایک طرف بلاول بھٹو زرداری سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے سندھ دورے کا خیرمقدم کرتے ہیں، دوسری جانب انہی کے زیرِ اثر سندھ حکومت پولیس کے ذریعے راستے بند کروا کر پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی واقعی جمہوریت اور سیاسی آزادی پر یقین رکھتی ہے تو پھر پی ٹی آئی کے پرامن سیاسی قافلے سے اتنا خوف کیوں؟
سندھ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ راستے بند کرنے سے عوام کے دلوں میں اٹھنے والی آواز بند نہیں کی جا سکتی۔ پولیس کی نفری، رکاوٹیں اور گرفتاریاں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور سندھ کے عوام کو اپنے سیاسی حق کے استعمال سے نہیں روک سکتیں۔
پی ٹی آئی قیادت نے واضح کیا کہ سندھ کے عوام کسی جاگیردارانہ یا خاندانی سیاست کے غلام نہیں۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کی سیاسی جماعت کے رہنماؤں کا استقبال کریں، اپنے مسائل بیان کریں اور اپنی سیاسی رائے کا اظہار کریں۔
بلاول بھٹو کو ٹوئٹ پر خیرمقدم کے بجائے سندھ حکومت کو عملی طور پر سیاسی آزادی یقینی بنانے کا حکم دینا چاہیے۔ اگر خیرمقدم صرف ٹوئٹر تک محدود ہو اور زمین پر پولیس کارکنوں کو گرفتار کرے تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ سیاسی شعبدہ بازی ہے۔
پی ٹی آئی مطالبہ کرتی ہے کہ حیدرآباد، کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں گرفتار کیے گئے تمام سیاسی کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے، راستے کھولے جائیں اور پی ٹی آئی کی پرامن سیاسی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
سندھ کے عوام اپنا فیصلہ خود کریں گے؛ نہ راستوں کی بندش انہیں روکے گی، نہ گرفتاریوں کا خوف۔ عوامی طاقت کو انتظامی ہتھکنڈوں سے شکست نہیں دی جا سکتی۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
𝐅𝐨𝐫𝐦𝐞𝐫 𝐏𝐌 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐫𝐞𝐦𝐚𝐢𝐧𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐢𝐥𝐲 𝐝𝐞𝐭𝐚𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐟𝐨𝐫 1126 𝐝𝐚𝐲𝐬; 𝐬𝐨𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭, 𝐢𝐧𝐜𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐢𝐜𝐚𝐝𝐨, 𝐯𝐢𝐬𝐢𝐨𝐧 𝐥𝐨𝐬𝐬 𝐢𝐧 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐞𝐲𝐞, 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐫𝐢𝐨𝐫𝐚𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐡𝐞𝐚𝐥𝐭𝐡 𝐜𝐨𝐧𝐜𝐞𝐫𝐧𝐬, 𝐥𝐢𝐟𝐞 𝐚𝐭 𝐫𝐢𝐬𝐤.
“𝐈𝐟 𝐚𝐧𝐲𝐭𝐡𝐢𝐧𝐠 𝐡𝐚𝐩𝐩𝐞𝐧𝐬 𝐭𝐨 𝐦𝐞 𝐢𝐧 𝐣𝐚𝐢𝐥, 𝐀𝐬𝐢𝐦 𝐌𝐮𝐧𝐢𝐫 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐛𝐞 𝐫𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐢𝐛𝐥𝐞.”
- 𝑰𝒎𝒓𝒂𝒏 𝑲𝒉𝒂𝒏
♦️Asim Munir’s military dictatorship regime has Imran Khan illegally incarcerated under conditions which violate United Nations’ Nelson Mandela rules:
Extended periods of complete isolation with no contact with family, lawyers or personal physicians, solitary confinement in a ‘death cell’, dirty water, suspect food, unsanitary conditions, no sunlight, no electricity, no medical aid, no books, no rights as per law♦️
🔺𝐑𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 𝐛𝐲 𝐔𝐧𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐍𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐇𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐑𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐂𝐨𝐮𝐧𝐜𝐢𝐥 @UN_HRC 𝐢𝐧 𝐉𝐮𝐧𝐞 𝟐𝟎𝟐𝟒:
“𝐓𝐡𝐞 𝐝𝐞𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐥𝐢𝐛𝐞𝐫𝐭𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐀𝐡𝐦𝐚𝐝 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐍𝐢𝐚𝐳𝐢… 𝐢𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐲 and falls within categories I, II and III.
The Working Group concludes that 𝐡𝐢𝐬 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐡𝐚𝐝 𝐧𝐨 𝐥𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐛𝐚𝐬𝐢𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐚𝐩𝐩𝐞𝐚𝐫𝐬 𝐭𝐨 𝐡𝐚𝐯𝐞 𝐛𝐞𝐞𝐧 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐧𝐝𝐞𝐝 𝐭𝐨 𝐝𝐢𝐬𝐪𝐮𝐚𝐥𝐢𝐟𝐲 𝐡𝐢𝐦 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐫𝐮𝐧𝐧𝐢𝐧𝐠 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐩𝐨𝐥𝐢𝐭𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐨𝐟𝐟𝐢𝐜𝐞.
…Government of Pakistan to take the steps 𝐧𝐞𝐜𝐞𝐬𝐬𝐚𝐫𝐲 𝐭𝐨 𝐫𝐞𝐦𝐞𝐝𝐲 𝐭𝐡𝐞 𝐬𝐢𝐭𝐮𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐌𝐫. 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐰𝐢𝐭𝐡𝐨𝐮𝐭 𝐝𝐞𝐥𝐚𝐲 and bring it into conformity with the relevant international norms…
…𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐌𝐫. 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐢𝐦𝐦𝐞𝐝𝐢𝐚𝐭𝐞𝐥𝐲 and accord him an enforceable 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐭𝐨 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐞𝐧𝐬𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐚𝐧𝐝 𝐨𝐭𝐡𝐞𝐫 𝐫𝐞𝐩𝐚𝐫𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬, 𝐢𝐧 𝐚𝐜𝐜𝐨𝐫𝐝𝐚𝐧𝐜𝐞 𝐰𝐢𝐭𝐡 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐥𝐚𝐰.”
𝑳𝒊𝒏𝒌: https://t.co/NsiJ7oHLIU
🔺𝐒𝐭𝐚𝐭𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐛𝐲 𝐀𝐦𝐧𝐞𝐬𝐭𝐲 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 @amnesty 𝐢𝐧 𝐒𝐞𝐩𝐭𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝟐𝟎𝟐𝟒:
“A year on from Imran Khan’s conviction and sentencing, Amnesty International has found 𝐬𝐞𝐯𝐞𝐫𝐚𝐥 𝐟𝐚𝐢𝐫 𝐭𝐫𝐢𝐚𝐥 𝐯𝐢𝐨𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐡𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐬𝐭𝐚𝐧𝐝𝐚𝐫𝐝𝐬 𝐰𝐡𝐢𝐜𝐡 𝐡𝐚𝐯𝐞 𝐫𝐞𝐬𝐮𝐥𝐭𝐞𝐝 𝐢𝐧 𝐡𝐢𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐲 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧, 𝐝𝐞𝐧𝐲𝐢𝐧𝐠 𝐡𝐢𝐬 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐭𝐨 𝐥𝐢𝐛𝐞𝐫𝐭𝐲.
We have noted a pattern of 𝐰𝐞𝐚𝐩𝐨𝐧𝐢𝐳𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐥𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐬𝐲𝐬𝐭𝐞𝐦 𝐭𝐨 𝐤𝐞𝐞𝐩 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐚𝐧𝐝 𝐚𝐰𝐚𝐲 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐚𝐥𝐥 𝐩𝐨𝐥𝐢𝐭𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐚𝐜𝐭𝐢𝐯𝐢𝐭𝐲…
…𝐢𝐦𝐦𝐞𝐝𝐢𝐚𝐭𝐞𝐥𝐲 𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 from arbitrary pre-trial detention.”
𝑳𝒊𝒏𝒌: https://t.co/jUnbKDeb4k
🔺𝐏𝐫𝐞𝐬𝐬 𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐛𝐲 𝐔𝐍 𝐒𝐩𝐞𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐑𝐚𝐩𝐩𝐨𝐫𝐭𝐞𝐮𝐫 𝐨𝐧 𝐭𝐨𝐫𝐭𝐮𝐫𝐞 @UN_SPExperts 𝐢𝐧 𝐃𝐞𝐜𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝟐𝟎𝟐𝟓:
“…Imran Khan…held for excessive periods in solitary confinement, 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐟𝐨𝐫 𝟐𝟑 𝐡𝐨𝐮𝐫𝐬 𝐚 𝐝𝐚𝐲 𝐢𝐧 𝐡𝐢𝐬 𝐜𝐞𝐥𝐥…”
“…𝐩𝐫𝐨𝐥𝐨𝐧𝐠𝐞𝐝 𝐨𝐫 𝐢𝐧𝐝𝐞𝐟𝐢𝐧𝐢𝐭𝐞 𝐬𝐨𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐢𝐬 𝐩𝐫𝐨𝐡𝐢𝐛𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐡𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐥𝐚𝐰 – and when it extends longer than 15 days, it constitutes a 𝐟𝐨𝐫𝐦 𝐨𝐟 𝐩𝐬𝐲𝐜𝐡𝐨𝐥𝐨𝐠𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐭𝐨𝐫𝐭𝐮𝐫𝐞.”
“𝐊𝐡𝐚𝐧’𝐬 𝐬𝐨𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐬𝐡𝐨𝐮𝐥𝐝 𝐛𝐞 𝐥𝐢𝐟𝐭𝐞𝐝 𝐰𝐢𝐭𝐡𝐨𝐮𝐭 𝐝𝐞𝐥𝐚𝐲.”
“…Khan is 𝐧𝐨𝐭 𝐩𝐞𝐫𝐦𝐢𝐭𝐭𝐞𝐝 𝐨𝐮𝐭𝐝𝐨𝐨𝐫 𝐚𝐜𝐭𝐢𝐯𝐢𝐭𝐲 or interaction with other detainees and is 𝐮𝐧𝐚𝐛𝐥𝐞 𝐭𝐨 𝐣𝐨𝐢𝐧 𝐜𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐚𝐥 𝐩𝐫𝐚𝐲𝐞𝐫𝐬.”
“…Khan is held in a 𝐬𝐦𝐚𝐥𝐥 𝐜𝐞𝐥𝐥 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝐥𝐚𝐜𝐤𝐬 𝐧𝐚𝐭𝐮𝐫𝐚𝐥 𝐥𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐚𝐧𝐝 𝐚𝐝𝐞𝐪𝐮𝐚𝐭𝐞 𝐯𝐞𝐧𝐭𝐢𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧. 𝐓𝐞𝐦𝐩𝐞𝐫𝐚𝐭𝐮𝐫𝐞𝐬 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭𝐞𝐝𝐥𝐲 𝐛𝐞𝐜𝐨𝐦𝐞 𝐞𝐱𝐭𝐫𝐞𝐦𝐞 in both winter and summer… 𝐟𝐨𝐮𝐥 𝐨𝐝𝐨𝐮𝐫𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐢𝐧𝐬𝐞𝐜𝐭 𝐢𝐧𝐟𝐞𝐬𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬.”
𝑳𝒊𝒏𝒌: https://t.co/Zu2Tz1EO3T
#FreeImranKhan
محسن نقوی صاحب،
آج آپ کو عوام کو اپنی بات بتانے کیلئے عمران خان کا سہارا لینا پڑا۔ کہاں گئی عمران خان کے نام اور ان کی تصویر پر غیر ضروری اور ناجائز پابندیاں؟
بےشک عزت اور ذلت صرف اللّه کے ہاتھ میں ہے۔