@PTAofficialpk@Ufone اس طریقہ واردات کی روک تھام ضروری ہے، صارف کی اجازت کے بغیر کسی قسم کی سروس کی سبسکرپشن نہیں ہونی چاہیئے، OTP بھیجنے والا @Ufone ، اشتہار یوفون کی کسی ایپلیکیشن کا جو خودکار OTP fetch کر کے صارف کے اکاؤنٹ سے پیسے کاٹ رہی، ہر صارف کو روز 1 بار یہ چونا لگا تو پیسہ کتنا بنا؟
@PTAofficialpk
موبائیل سروسز پرووائیڈرز کے اس نئے طریقہ واردات کے خلاف کوئی کاروائی؟
@Ufone زبردستی مختلف ایپلیکیشن کو اپنے صارفین کے سر تھونپ رہا ہے، گیم کھیلنے کے دوران اشتہار جس پر نہ کوئی کلک کیا گیا نہ OTP دیا گیا مگر اب تک 3 مختلف سبسکرپشن کی مد میں پیسے کٹ گئے
@MohUmair87 اس فیک شپمنٹ والی کاروائی میں فراڈیا سیلر، کوریئر اور بائیر تینوں کو چونا لگاتا ہے۔ کسی بھی رائیڈر کو روک کر اپنے فرضی پارسل کا پوچھتا ہے وقت لگواتا ہے اور موبائیل فرنٹ پاکٹ میں رکھ کر رائیڈر کی شیٹ کی تصاویر لے لیتا ہے اور پھر اس طرف رخ کرتا ہے جہاں رائیڈر سب سے آخر میں پہنچ سکے
سردار لطیف کھوسہ نے آج تفصیلی دلائل دیے عدالت کو بتایا گیا کہ چوہدری اعتزاز حسن کے وکالت نامے پر دستخط کرانے میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ملاقات نہیں کرائی جارہی چوہدری اعتزاز احسن جیسے سینئر قانون دان کو بھی اپنے موکل عمران خان سے ملنے نہیں دیا جارہا
ایک جج صاحب نے بتایا کہ کل وہ دستیاب نہیں ہیں اس لیے سماعت پرسوں ہوگی ایڈووکیٹ جنرل کو حکم دیا کہ اعتزاز احسن کے وکالت نامے پر دستخط کروائیں
لیکن ایک ہی ٹکر تمام ٹی وی چینلز سوشل میڈیا پر چل رہا ہے کہ “ وکیل کی تیاری نہیں تھی اس لیے سماعت ملتوی ہو گئی عدالت تو آج ہی رہا کرنا چاہتی تھی وکیل نہیں چاہتے،کروڑوں فیس لے لی حالانکہ نہ چوہدری اعتزاز نے فیس لی ہے نہ ہی کھوسہ صاحب نے ۔۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی آنکھ ضائع کرنے علاج نہ کرانے اور سلمان صفدر کی رپورٹ سے توجہ ہٹانے کیلیئے یہ بیانیہ چھوڑا گیا ہے کیا عمران خان کو قید تنہائی میں وکیلوں نے رکھا ہوا ہے کیا جھوٹے مقدموں میں ظالمانہ سزائیں وکیلوں نے سنائی ہیں؟ کیا عمران خان کی آنکھ وکیلوں نے ضائع کی ہے؟
یہ لیں بے آئینی کا ایک اور دھماکہ!
نیب قانون میں نئی ترمیم سینیٹ سے منظور کر لی گئی ہے، جس کے بعد عمران خان کے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل اور نیب کے توشہ خانہ کیس میں حتمی اپیل اب سپریم کورٹ نہیں سنے گی بلکہ اسے وفاقی آئینی عدالت میں لے جایا جائے گا۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اس عدالت میں مکمل شواہد کا ازسرِنو جائزہ بھی نہیں لیا جائے گا۔ اپیل صرف اس محدود نکتے پر سنی جائے گی کہ آیا ٹرائل کے دوران کسی آئینی حق کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔
یوں بظاہر انصاف کے دروازے کھلے رکھنے کا تاثر دیا جا رہا ہے، مگر حقیقت میں اپیل کے دائرۂ کار کو اس قدر محدود کر دیا گیا ہے کہ مقدمے کے میرٹ پر نظرِ ثانی کا راستہ تقریباً بند ہو جائے گا۔
یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر سپریم کورٹ کو ہی حتمی اپیل سننے سے باہر کر دیا جائے تو پھر ملک کے عدالتی نظام کی ساخت اور توازن کا کیا بنے گا؟
🔴 "امریکی فوجیوں کو بتایا گیا ایران جنگ ‘آرماگیڈن’ اور حضرت عیسیٰؑ کی واپسی کے لیے ہے"
"ایڈووکیسی گروپ کے مطابق، فوج کی ہر شاخ میں 30 سے زائد تنصیبات پر کمانڈرز اسی نوعیت کے پیغامات دے رہے ہیں"
امریکی صحافی جوناتھن لارسن کا تہلکہ خیز دعویٰ:
"ایک جنگی یونٹ کے کمانڈر نے پیر کے دن ایک بریفنگ میں نان کمیشنڈ افسران کو بتایا کہ ایران کی جنگ “خدا کے منصوبے” کا حصہ ہے، اور یہ کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو “حضرت عیسیٰؑ نے منتخب کیا ہے تاکہ ایران میں اشارتی آگ جلائیں، آرماگیڈن کا سبب بنیں اور زمین پر ان کی واپسی کی علامت بنیں” — یہ بات ایک نان کمیشنڈ افسر کی شکایت میں درج ہے۔
ہفتہ کی صبح سے پیر کی رات تک ملٹری ریلیجس فریڈم فاؤنڈیشن کے پاس فوج کی ہر شاخ میں کمانڈرز کے بارے میں ایک سو دس سے زائد اسی طرح کی شکایات درج ہو چکی تھیں۔
اس تنظیم کے مطابق یہ شکایات چالیس سے زیادہ یونٹس سے آئیں، جو کم از کم تیس فوجی تنصیبات میں پھیلے ہوئے تھے۔
تنظیم نے بتایا کہ وہ شکایت کنندگان کی شناخت گمنام رکھ رہی ہے تاکہ محکمۂ دفاع کی جانب سے انتقامی کارروائی سے بچایا جا سکے۔ پینٹاگون نے میرے تبصرے کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔
⸻
ایک شکایت کنندہ: “ہم کسی بھی وقت بھیجے جا سکتے ہیں”
ایک شکایت کنندہ نے خود کو ایک یونٹ کا نان کمیشنڈ افسر بتایا جو فی الحال ایران کے جنگی علاقے سے باہر ہے مگر تیار معاونت کی حالت میں ہے، یعنی کسی بھی وقت وہاں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
اس افسر نے کہا کہ وہ مسیحی ہے اور اس نے تنظیم کو پندرہ فوجیوں کی طرف سے برقی خط لکھا، جن میں کم از کم گیارہ مسیحی، ایک مسلمان اور ایک یہودی شامل تھے۔
اس افسر نے لکھا کہ ان کے کمانڈر نے کہا کہ اپنے فوجیوں کو بتائیں کہ یہ سب خدا کے الٰہی منصوبے کا حصہ ہے اور اس نے کتابِ مکاشفہ سے متعدد حوالہ جات دے کر آرماگیڈن اور حضرت عیسیٰؑ کی قریب الوقوع واپسی کی بات کی۔
“ایوینجیلیکل عیسائیت” کی سرپرستی کا الزام
رپورٹ کے مطابق وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوج کے اعلیٰ درجوں میں ایوینجیلیکل عیسائیت کو مضبوط کیا ہے اور پینٹاگون میں ماہانہ دعائیہ اجتماعات منعقد کروائے جا رہے ہیں۔
گزشتہ سال پینٹاگون نے مجھے تصدیق کی تھی کہ ہیگستھ وائٹ ہاؤس میں ایک ہفتہ وار بائبل مطالعہ نشست میں شرکت کرتے ہیں۔ اس کی قیادت ایک واعظ کرتا ہے جو کہتا ہے کہ خدا امریکہ کو اسرائیل کی حمایت کا حکم دیتا ہے۔
پیر کے روز نان کمیشنڈ افسر کے برقی خط میں کہا گیا کہ کمانڈر کے ریمارکس حوصلہ اور یونٹ کی یکجہتی کو تباہ کرتے ہیں اور اس حلف کی خلاف ورزی ہیں جو ہم نے آئین کی حمایت کے لیے اٹھایا تھا۔
⸻
تنظیم کے سربراہ مائیکی وائن اسٹائن کا بیان
اس تنظیم کے صدر اور بانی مائیکی وائن اسٹائن (امریکی فضائیہ کے سابق رکن اور ریگن وائٹ ہاؤس کے سابق اہلکار) نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد تنظیم شکایات سے سیلاب کی طرح بھر گئی ہے۔
ان کے مطابق ان کالز میں ایک مشترک بات ہے:
تنظیم کے کلائنٹس بتاتے ہیں کہ ان کے کمانڈرز اس نئی بائبلی طور پر جائز جنگ کو بنیاد پرست مسیحی آخری زمانے کے قریب آنے کی واضح نشانی سمجھ رہے ہیں، جیسا کہ نئے عہد نامے کی کتابِ مکاشفہ میں بیان ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے کمانڈرز اس بات سے خوش ہیں کہ یہ جنگ کتنی خونریز ہوگی کیونکہ ان کے مطابق یہ سب قیامت کے مسیحی نظریے کے مطابق پورا ہونا چاہیے۔
انہوں نے امریکی فوجی انصاف کے ضابطے کے تحت ان پابندیوں کا حوالہ دیا جو فوجی تربیت یا پیغام رسانی میں مذہبی عقائد کو مسلط کرنے سے روکتی ہیں۔
انہوں نے کہا:
“جو فوجی اہلکار اپنے ماتحتوں پر اپنی خون آلود مسیحی قوم پرستانہ خواہشات مسلط کر کے اس تازہ ترین، کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملے کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں، انہیں فوری اور سخت سزا دی جانی چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے ساتھ جب بھی حالات بگڑتے ہیں تو اسی طرح کے آخری زمانے کے مذہبی نظریات سے متعلق شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں۔
⸻
ماضی کی مثالیں
۷ اکتوبر ۲۰۲۳ کے حماس حملے کے بعد اس تنظیم نے اطلاع دی کہ ایک فضائیہ کمانڈر نے بریفنگ میں کہا:
“اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کی پیش گوئی کتابِ مکاشفہ اور انجیل میں پہلے سے موجود ہے اور کوئی اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔”
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کے حملوں کے بعد صدر جارج ڈبلیو بش نے دہشت گردی کے خلاف امریکی صلیبی مہم کا حوالہ دیا تھا جس سے مسیحی صلیبیوں اور مسلمانوں کی تاریخی جنگوں کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
فرانس کے وزیر خارجہ ہوبر ویدرین نے کہا تھا:
“اس بہت بڑے جال اور ہولناک جال میں پھنسنے سے بچنا چاہیے” جو القاعدہ نے ان حملوں کے ذریعے بچھایا تھا۔
بعد میں بش نے “صلیبی مہم” کی اصطلاح استعمال کرنا چھوڑ دی۔
⸻
“اب پردہ داری بھی ختم”
رپورٹ کے مطابق اگرچہ مسیحی قوم پرستی کئی دہائیوں سے فوج میں کسی نہ کسی حد تک موجود رہی ہے مگر ہیگستھ نے اب اس کے خلاف سرکاری سطح پر عدم برداشت کا دکھاوا بھی ختم کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے بھی خود کو مسیحی برتری کا علمبردار دکھایا اور اسے حکومت کے مختلف حصوں میں مضبوط کیا۔
گزشتہ سال اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد واعظ رالف ڈرولنجر نے دو ہفتے تک اسرائیل کی حمایت پر لیکچرز دیے جو وائٹ ہاؤس کے کابینہ اراکین اور کانگریس کے اراکین تک پہنچائے گئے جبکہ اسی دوران اسرائیل امریکہ کی شمولیت کے لیے لابنگ بھی کر رہا تھا۔
⸻
دعائیہ نشستیں اور تبلیغ
رپورٹ کے مطابق ہیگستھ نے ماہانہ دعائیہ نشستیں بھی شروع کیں جن میں حال ہی میں دائیں بازو کے مسیحی قوم پرست ڈگ ولسن کو شامل کیا گیا۔
انہوں نے اپنے ذاتی حلقے کے مزید واعظ بھی بلائے اور اجتماعات کو بین المذاہب بنانے کی کوششیں مسترد کر دیں۔
ہیگستھ خود بھی ان نشستوں میں بولتے ہیں اور اپنے مذہبی عقائد کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ان کے حوالے سے بیان کیا گیا:
“یہ وہی مقام ہے جہاں ہمیں ایک قوم کے طور پر ہونا چاہیے — دعا میں، جھکے ہوئے گھٹنوں کے ساتھ، اپنے رب اور نجات دہندہ حضرت عیسیٰ مسیح کی عنایت کو تسلیم کرتے ہوئے۔”
⸻
آگے کیا ہوگا؟
رپورٹ کے مطابق ماضی میں یہ تنظیم پینٹاگون سے ایسے مذہبی اثرات کو روکنے میں کامیاب رہی ہے، مگر ٹرمپ انتظامیہ فوجی ضوابط اور قانون کے بارے میں کھلے عام بے اعتنائی دکھاتی ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایران کی جنگ کی مکمل مسیحی رنگ آمیزی کے خلاف پینٹاگون کے اندر یا باہر سے کس طرح مزاحمت سامنے آتی ہے۔"
#iran #iranisraelconflict
اللہ الحق ہے!
#May9th_FalseFlag
عمران خان کی جان بہت قیمتی ہے- بوگس کیس سارے ختم ہونے چاہئے اور مکمل رہائی کے بعد فوری طور پر شفاء ہسپتال اسلام آباد شفٹ ہونا بہت ضروری ہے!
#MedicalUrgencyForImranKhan
آج پورے اڑھائی سال بعد بالآخر عمران خان کی 6 مقدمات میں ضمانت منظور ہوئی۔
آرڈر میں ٹرائل کورٹ جج نے لکھا ہے کہ 9 مئی مقدمات میں استغاثہ عمران خان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی۔
ایسا کوئی ثبوت ہی آج تک پیش نہیں کیا جا سکا جس سے ثابت ہو کہ عمران خان نے 9 مئی کروایا۔
منیب فاروق، راوی اور ختم شد کی پچھلے اڑھائی سال کی صحافت اور ن لیگ کی سیاست دو لائنوں نے تہس نہس کر کے رکھ دی۔
- "A revenge is COMING. A revenge is coming SOON. They will see what they have done."
- "Imam Khamenei will go down in history as did Imam Ali"
Voice of Press TV's Maryam Azarchehr
علامہ راجا ناصر عباس کیوں سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے؟؟؟
پاکستان اپنا ہاوس ان آرڈر کرے، فوری طور پر افغانستان کے ساتھ جنگ بند کرے،
یکجہتی کا مظاہرہ ہونا چاہیے،ڈائیلاگ کریں، اتحاد کی طرف بڑھیں، ایسا نہ کیا گیا تو بہت خطرناک صورتحال دیکھ رہا ہوں،
پاکستان کے دشمنوں نے پلان کیا کہ پاکستان کے عوام اور افواج کے درمیان فاصلہ ہو، منصوبہ بنایا گیا کہ پاکستان کی فوج سے ایسے کام کروائے جائیں کہ عوام ان سے دور ہو جائیں، اندرونی طور پر فوج کو دہشتگردی اور بیرونی طور پر بارڈرز پر الجھا دیا جائے، اور بڑے تھریٹ سے غافل کردیا جائے، جس اسرائیل اور امریکہ کو ایران کا یورنیم قبول نہیں ،ان کی آنکھوں میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام نہیں کھٹکتا ہوگا؟ دشمن پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرکے کاری وار کرے گا اور ایٹمی پروگرام ہمارے پاس نہیں رہنے دے گا، اس لیے فوری قومی اتحاد کی ضرورت ہے، ہر وہ چیز جو قومی وحدت میں رکاوٹ ہے،اسے دور کرنا چاہیے، انا ، غرور اور تکبر کے خول سے باہر آ جانا چاہیے، میری شیعہ سنی بھائیوں سے اپیل ہے کہ متحد رہیں، کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف متحد ہیں تو کئی اسلامی ممالک بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں،
مودی اور اسرائیل متحد ہیں، امریکہ اور اسرائیل ایک ہیں اور
پاکستانی حکومت اور امریکہ ایک ہیں، کوئی سمجھ نہیں آتی کہ یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ ہمیں پتا ہے آپ کمزور ہیں، آپ اگر کمزور ہیں تو عوام کے پاس آ جاو، ورنہ تباہی و بربادی ہے،
قومی وحدت کی پہلی شرط یہ ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، کیونکہ پاکستان کے نوے فیصد لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں،اگر عمران خان ناحق قید ہے تو نوے فیصد لوگ آپ کے ساتھ کیسے کھڑے ہوں گے؟ آپ پاکستانیوں کا اعتماد کھو چکے ہیں کیونکہ آپ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ساتھ جا کر بیٹھ گئے اور کوئی غیرت مند مسلمان یہ حرکت نہیں کر سکتا، مسلمان تو چھوڑیں، کوئی باضمیر انسان ان درندوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا، اگر آپ چاہتے ہیں کہ عالمی تناظر میں پاکستان کہیں کھڑا ہو تو عمران خان کی رہائی ضروری ہے، علامہ راجا ناصر عباس کی پریس کانفرنس
ایران اسرائیل کو دھو دھو کے مار رہا ہے جھوٹ بول رہے ہیں کہ ایت اللہ علی خمنائی کی تصویر دکھائی گئی ہے مردہ حالت کی اگر ایسا ہوتا تو پانچ منٹ میں وہ دنیا کو دکھاتے مگر ایسا نہیں ہے
وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایت اللہ علی خمنائی کہاں پہ ہے تاکہ اس کو ٹارگٹ کر سکیں اور اسرائیل جو مار کھا رہا ہے اس سے توجہ ہٹ جائے
امریکی اور اسرائیلی میڈیا سپریم لیڈر کے قتل کی خبریں مسلسل پھیلا رہے ہیں۔ لیکن خبر جھوٹی ہے۔
اگرچہ وہ خود 86 سال کی عمر میں شہادت کی تمنا کر چکے ہیں، کمزور جسم کے ساتھ، جزوی طور پر مفلوج ہیں، اور حملوں سے بچ نکلنا ہی اصل کام ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا ہے۔ ان کے بعد کی قیادت اس سے بھی زیادہ سخت گیر ہے۔ایران ٹائمز
لیڈر کو ایسا ہی ہونا چاہیئے، @ImranKhanPTI کو سیاست نہیں ملک بچانا ہے اور ملک کا مستقبل سنوارنا ہے اس لیئے قیدِ ناحق میں ہیں۔ اللّٰہ سب دیکھ رہا ہے، اللّٰہ مسبب الاسباب ہے یقیناً حق پر ڈٹے رہنے والے قیدی کے لیئے جلد ہی کوئی نہ کوئی راستہ بھی بنائے گا۔ ان شاء اللّٰہ آمین
بہت بڑا اعتراف: عمران خان کسی ڈیل کے لیے تیار نہیں، نہ صرف وہ ڈیل کے لیے ہی نہیں بلکہ عمران خان کی جو شرائط ہیں وہ موجودہ حکومت تسلیم نہیں کر سکتی، وہ راستہ نکالنے کے لیے تیار ہی نہیں، رانا ثناء اللہ
“If we wanted revenge, we’d have tightened him up in jail.”
Interior Minister Mohsin Naqvi
Given credible reports of vision loss, this statement is deeply alarming. A senior official openly implying deliberate worsening of custody conditions raises serious concerns about hidden mistreatment.
Public threats on national TV make it legitimate to question humane treatment in prolonged solitary confinement without independent medical oversight, family contact or transparency.
Prolonged solitary is internationally recognised as harmful, especially with pre-existing conditions. Combined with deteriorating eyesight and treatment secrecy, the threat to “tighten” conditions becomes far more sinister.
This is not mere rhetoric; it concerns actual custodial reality.
A state claiming rule of law must prove it through actions, not threats. When power lacks transparency and such insinuations are normalised, the risk of custodial abuse becomes urgent and credible.
#KhanNeedsUrgentTreatment