آدمی اور بھکاری
ایک آدمی ہر ماہ ایک بھکاری کو 1000 ریال دیا کرتا تھا۔
وہ ایک سال تک مسلسل اسی طرح اسے 1000 ریال دیتا رہا۔
ایک دن اس نے بھکاری کو صرف 750 ریال دیے۔
بھکاری کو یہ بات کچھ عجیب لگی، لیکن اس نے اپنے دل میں کہا:
"750 ریال بھی نہ ملنے سے تو بہتر ہیں۔"
اور وہ وہاں سے چلا گیا۔
اگلے مہینے آدمی نے اسے صرف 500 ریال دیے۔
بھکاری کو بہت حیرت ہوئی اور اس نے آدمی سے کہا:
"آپ مجھے پہلے 1000 ریال دیا کرتے تھے، پھر کم کرکے 750 ریال کر دیے اور اب صرف 500 ریال دے رہے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا میں اس کی وجہ جان سکتا ہوں؟"
آدمی نے جواب دیا:
"پہلے میرے تمام بچے چھوٹے تھے اور میرے حالات بھی اچھے تھے، اس لیے میں تمہیں 1000 ریال دیا کرتا تھا۔
پھر میری بیٹی بڑی ہوئی اور یونیورسٹی میں داخل ہوگئی۔ یونیورسٹی کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، اس لیے میں نے تمہیں 750 ریال دینا شروع کر دیے۔
اب میرا دوسرا بیٹا بھی یونیورسٹی میں داخل ہوگیا ہے اور اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں، اس لیے میں نے تمہیں 500 ریال دیے ہیں۔"
بھکاری نے پوچھا:
"آپ کے کتنے بچے ہیں؟"
آدمی نے کہا:
"چار۔"
بھکاری بولا:
"تو ان شاء اللہ، آپ انہیں سب کو میری ذمہ داری پر یونیورسٹی میں پڑھائیں گے؟" 😂
سبق
کبھی کبھی آپ کی طرف سے کیا گیا احسان اور بھلائی دوسرے لوگ اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں، اسے آپ کی سخاوت نہیں سمجھتے۔
سردار جی صرف دس جماعت پاس تھے اور سارے گاؤں میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے شمار ھوتے تھے ۔ ایک دن شوق اٹھا اور دماغ میں سمائی کے لندن کی سیر تفریح کرنے جانا چاہیئے چنانچہ ویزہ لیکر سردارنی کیساتھ لندن پہنچ گئے اور ایک ھوٹل میں قیام کیا۔--
ویٹر کمرے میں آیا اور سردارنی سے پوچھا:--
(Medam !! do you need any service)
سردارنی نے سردار جی کی طرف دیکھا اور کہا:--
اسے انگریزی میں جواب دیں اور چائے منگوائیں
اب سردار جی ویٹر سے بولے: --
Most respectfuly I beg to say that I am ill & cannot come to school, therefore .kindly grant me Tea for today،،
ویٹر انکی بات سمجھ گیا اور چائے لینے چلا گیا اب تو سردارنی بڑی متاثر ھوئی اور سردار جی سے بولی: --
" تھواڈی انگریزی تے وڈی چنگی اے "
سردار جی مونچھوں کو تاؤ دیکر بولے:--
" اجے توں میری پانی واسطے
""""""""""٫٫٫٫٫٫""""""""'''''(Thirsty Crow)"""'
والی انگریزی سنی وی نئی اے آگے چل کے او وی سناواں گا"""
🤣😂🤗
محمد علی کی جانب سے شیئر کیا گیا واقعہ
ایک میراثی زندگی میں پہلی بار مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے چلا گیا۔
باتھ روم سے طہارت کر کے نکلا تو مولوی صاحب باہر کھڑے تھے۔
مولوی صاحب نے کہا او میراثی! نماز کے آداب ہوتے ہیں۔
پہلے طہارت ہوتی ہے اور اس کے بھی آداب ہوتے ہیں۔
جب بندہ باتھ روم میں داخل ہونے لگتا ہے تو اسے کھانسنا چاہئے پھر الٹا پاؤں رکھنا چاہیے۔
اس کے بعد کافی دیر طہارت کے لئے بیٹھنا چاہئے
ایک تو ہے کہ گیا اور فوراًِ ہی باہر نکل آیا
میراثی کو بہت برا لگا مگر بولا کہ مولوی صاحب غلطی ہو گئی،آئندہ خیال رکھوں گا۔
میراثی اگلے دن مسجد میں وقت سے پہلے پہنچ گیا اور انتظار کرنے لگا کہ کب مولوی ٹوائلٹ میں جائے
جیسے ہی مولوی صاحب طہارت کے لئے جانے لگے تو میراثی بھی ساتھ والے ٹوائلٹ میں گھس گیا
مولوی صاحب نے سوچا کہ ابھی کل ہی تو میں نے میراثی کی بےعزتی کی ہے۔اب اگر میں میراثی سے پہلے نکلا تو اس نے مجھے ذلیل کر دینا ہے۔
مولوی کھانسا تو میراثی بھی کھانسا۔
مولوی بیٹھا رہا،میراثی بھی بیٹھا رہا۔
اذان مغرب ہو گئی،نمازی سمجھے کہ مولانا کہیں مصروف ہیں،اس لئے نماز بھی شروع کر دی۔
عشاء کی اذان ہو گئی،نماز بھی ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد میراثی کا بیٹا آیا،آواز لگائی۔
باپ نے جواب دیا تو بولا ابا گھر آ۔ روٹی کھانے بھی نہیں آیا،اب گاۓ کا دودھ نکالنے کے لیے تو آ جا۔
باپ نے کہا پتر تو گھر جا ماں کو کہنا کہ دودھ نکال لے۔
بہنوں کا خیال رکھنا،اپنی پڑھائی پر دھیان دینا اور جب بہنیں بڑی ہو جائیں تو اچھے رشتے دیکھ کر ان کی شادی کر دینا۔
یہ پیغام لے کر میراثی کا بیٹا واپس چلا گیا۔
کچھ دیر بعد مولوی کا بیٹا باپ کو ڈھونڈتے مسجد آ پہنچا
بیٹے نے آواز دی تو مولوی نے جواب دیا۔
بیٹے نے کہا ابا تو ساری رات گھر نہیں آیا،اماں راہ دیکھتی رہ گئی۔اب مجھے بھیجا کہ تمھیں ڈھونڈ کر لاؤں۔
ابا گھر کب آؤ گے ؟
مولوی نے روہانسی سی آواز میں کہا پتر ماں کو بولنا کہ اک حرامی کے ساتھ واسطہ پڑ گیا ہے،اس لۓ میری راہ تکنا چھوڑ دے اور اب دوسری شادی کر لے
ایک کسان نے اپنے دس کے دس بچوں کو ایک قطار میں کھڑا کیا ہوا تھا۔
ایک کسان نے اپنے دس کے دس بچوں کو ایک قطار میں کھڑا کیا ہوا تھا۔
اور ان سے تفتیش ہورہی تھی کہ " بتاؤ چھت پر رکھے ڈرم کو کس نے دھکا دے کر سیڑھیوں سے نیچے گرایا ؟ "
کسی بچے نے کوئی جواب نہ دیا۔
کسان نے پھر زور دے کے پوچھا۔" ڈرم کو کس نے دھکا دے کر سیڑھیوں سے نیچے گرایا تھا؟"
ایک بار پھر کسی نے جواب نہ دیا۔
کسان نے کہا۔ " ٹھیک ہے ۔ میں ایک کہانی سناتا ہوں ۔ ایک تھا بادشاہ اور ایک تھا اس کا بیٹا شہزادہ۔ ایک دن شہزادے نے کلہاڑے سے بادشاہ کا پسندیدہ انار کا درخت کاٹ دیا۔ بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے سب سے پوچھا کہ درخت کس نے کاٹا ؟۔ شہزادے نے سچ بولا کہ اس نے درخت کاٹا۔ بادشاہ اس کے سچ بولنے پر خوش ہوا اور اس کو کوئی سزا نہ دی۔ اور اس کو معاف کردیا۔ اب بتاؤ کہ ڈرم کو دھکا کس نے دیا تھا؟ "
یہ سن کر سب سے چھوٹا بیٹا بول پڑا کہ ڈرم کو اس نے دھکا دیا تھا۔
کسان نے آگے بڑھ کر بیٹے کو دو تین تھپڑ لگا دیے ۔ ننھا سا معصوم بیٹا رونے لگ گیا اور اپنے سرخ انار جیسے گال سہلاتا ہوا بولا ۔ " شہزادہ سچ بولا ، اس کو سزا نہیں ۔ میں سچ بولا تو مجھے سزا کیوں؟ "
کسان نے جواب دیا۔" جس وقت شہزادے نے درخت کاٹا تھا بادشاہ درخت کے اندر موجود نہیں تھا"😁😁😁😁
جب آپ ایک شادی شدہ شخص سے محبت کررہی ہیں تو وفاداری کو پہلے ہی مائینس کردیں کیونکہ جو شخص آج آپ کے پہلو میں بیٹھ کر اپنی بیوی کو دھوکا دے دے رہا ہے تو سوچیں آپ اسکی زندگی میں کہاں پر ہیں؟؟ جو حقیقت نظر ارہی ہو وہ آنکھیں بند کرلینے سے بدل نہیں سکتی۔
ٹریفک سگنل کو توڑنے پر پر ایک خاتون کا چالان ہوگیا۔
کورٹ میں پیشی کے وقت معلوم ہوا کہ وہ ٹیچر ہیں۔
جج صاحب اپنی کرسی سے مسکراتے ہوئے کھڑے ہوگئے۔
اور کہا ، میڈم میں نے سالوں انتظار کیا کہ کوئی ٹیچر، میری کورٹ میں پیش ہوں۔اب شاباش، آپ اس کونے والی بینچ پر بیٹھ کر 500 بار لکھیں کہ "آئندہ میں کبھی ٹریفک سگنل کی سرخ بتی عبور نہیں کروں گی"۔😁😁
بیوی نے خاوند سے کہا ۔ آپ اپنے دوست کی بیوی کے جنازے پر کیوں نہیں جارہے
اس نے آپ کو خاص طور پر بلایا ہے آپ اس کے جنازے پر ضرور جائیں ۔
خاوند نے کہا۔ میں نہیں جاؤں گا ۔
’’ارے کیوں آپ کا اتنا گہرا دوست ہے کیا یہ اچھا لگتا ہے ‘‘۔
خاوند نے کہا ۔ وہ مجھے اپنی چوتھی بیوی کے جنازے پر بلارہا ہے اور میں نے اسے آج تک نہیں بلایا
😂
سائنسی تحقیق کا آغاز 1600 عیسوی میں ہوا، جب برطانوی سائنسدان ولیم گلبرٹ (William Gilbert) نے اپنی کتاب
De Magnete
شائع کی
انہوں نے ہی پہلی بار یہ ثابت کیا کہ زمین بذات خود ایک بہت بڑا مقناطیس ہے
2✍️
یہ ایک چھوٹا پرندہ ہے جس کی کال فریکوئنسی 432Hz ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ آواز سیروٹونن اور خوشی کے دیگر ہارمونز کے اخراج میں مدد کر سکتی ہے، اور بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے میں قدرتی اثر رکھتی ہے.
رکشہ والے کی لڑکی نے سلور میڈل جیتا۔۔
رکشہ والے کا بیٹا C.A بن گیا۔۔
رکشہ والے کی بیٹی نے 99% مارکس حاصل کئیے
خبریں پڑھ پڑھ کر بچے ضد کر رہے ہیں کہ
" ابو آپ بھی رکشہ چلائیں۔۔۔"
😏🤦♂️
اگر انسان خاندانی ہوگا تو وہ شرمندہ ہوگا تمہارے ساتھ کچھ غلط کر کے ورنہ گندی نسلوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ تمہارے ساتھ غلط کر کے بھی اکڑ میں ہی گھومتے رہتے ہیں
سنا ہے کے سعودیہ کے زیادہ تر شیخ حضرات تین یا چاربیویاں اکٹھی ایک ساتھ رکھتے ہیں؟🤔
ان ہی کا ایک مزیدار قصہ آپکی نظر👇😜
سعودیہ میں مقیم ایک مصری خاتون کہتی ہیں:
“میں ہسپتال میں تھی کہ اچانک مجھے چکر آنے لگے اور محسوس ہوا کہ میں زمین پر گر پڑوں گی۔
اتنے میں ایک نقاب پوش سعودی خاتون، میرے پاس آئیں،
مجھے سہارا دیا اور اپنے پاس بٹھا لیا، پھر میرے لیے جوس بھی لے آئیں۔
وہ غالباً ساتویں مہینے کی حاملہ تھیں، اور ان کے ساتھ ایک اور خاتون بھی تھیں جو نویں مہینے کی حاملہ معلوم ہوتی تھیں۔
میں نے پوچھا:
‘کیا یہ آپ کی بہن ہیں؟’
انہوں نے جواب دیا:
‘نہیں، یہ میرے شوہر کی دوسری بیوی ہیں!’
میں نے حیرت سے کہا:
‘آپ کی سوکن؟!’
وہ ہنس پڑیں۔
میں نے کہا:
‘ماشاء اللہ! آپ دونوں حاملہ بھی ہیں اور اکٹھی چیک اپ کے لیے بھی آئی ہیں؟’
انہوں نے کہا:
‘نہیں، ہم تو اپنے شوہر کی تیسری بیوی کی عیادت کے لیے آئے ہیں، کیونکہ آج ہی ان کے ہاں ولادت ہوئی ہے!’
میں نے کہا:
‘ارے بہن! اللہ کی قسم، اگر تم مجھے بے ہوش ہی پڑا رہنے دیتیں تو زیادہ بہتر تھا!’😬🙄🤣
اگر امریکا میں ایک وقت میں ایک شادی والا قانون نہ ہوتا تو یہاں لوگوں نے آٹھ آٹھ بیویاں رکھی ہوتیں🙄
جب مرد کے پاس چار شادیوں کا آپشن موجود ھو ، پھر بھی اس کی جنسی ضرورت کے وقت عورت کا بلا عذر شرعی انکار کر دینا ، اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت کا باعث ھو سکتا ھے -
تو عورت جس کے پاس اس مرد کے سوا اور کوئی آپشن بھی نہ ھو اور وہ مرد اس کی جنسی ضرورت سے بخوبی آگاہ بھی ھو پھر بھی اس کی ضرورت کو فرض سمجھ کر پورا کرنے کی بجائے پہلوتہی کرے تو اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کیسے نہ ھو ؟
کیا اللہ صرف مردوں کا ہے اور صرف ان کی ضرورتوں کا ضامن ھے ؟ یہ لوگ اسلام کو بدنام کرتے ھیں اور عورت کو اونٹ سے اتر آنے اور تنور پر لگی روٹیاں چھوڑ کر شوھر کی خدمت کی حدیثیں سناتے ھیں اور عورت کے متعلق بیان کی گئی احادیث کو چھپاتے ہیں تو اصل میں عورت کو اسلام کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرتے ھیں ،
کوئی عورت بھی بری پیدا نہیں ھوتی " کل مولودۤ یولد علی فطرہ " کے مصداق ھر عورت معصوم پیدا ھوتی ھے ، پھر حالات اس کو دوسری ڈگر پر ڈال دیتے ھیں ،،بعض انتہائی دیندار اور مذھبی فکر کی حامل عورتیں شوھروں کے ایسے رویئے کی وجہ سے انتقاماً دوسری طرف نکل جاتی ھیں ، کہتی ہے کہ مجھ میں میری ضرورت بھی اللہ نے پیدا کی ھے اور ایسا شوھر بھی اس نے دیا ھے ،وہ اگر خالق ھے تو میں بھی اسی کی مخلوق ھوں ،
کوئی قسم کھا کر کہتی ھے کہ شوھر کے ایسے رویئے کی وجہ سے اسی کے دوست کے ساتھ لگا کر دکھائے گی ،، بڑی بڑی خوفناک کہانیاں ھیں- سوسائٹی میں بگاڑ کی بہت بڑی وجہ خود مردوں کا رویہ ھے ، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ داڑھیوں کو سنوار کر اور بالوں کا حق ادا کر کے رھا کرو ،یہود نے اس پہلو کی طرف توجہ نہیں دی تھی تو ان کی عورتیں باغی اور فاسق ھو گئ تھیں ،
وھاں تو صرف داڑھی اور سر کے بالوں کا مسئلہ تھا یہاں تو بنیادی مسائل موجود ھیں ،، جو مرد ازدواجی حق ادا کرتا ھے وہ بھی عموماً اپنی ھی ضرورت پوری کرتا ھے اور عورت کا اسے کوئی خیال نہیں ، عورت کو بھڑکا کر سلگتا چھوڑ جاتا ھے اور پھر بھول جاتا ھے ، یہ بارود کے فیتے کو آگ لگا کر چلے جانے والی بات ھے جو سلگتے سلگتے آخر بارود تک پہنچ جائے گی ، اور وہ انفجار ھو گا جو عورت کو فاجر بنا دے گا ،،
اولاد عورت کی مجبوری اور پاؤں کی زنجیر بن جاتی ھے ، جن کی وجہ سے وہ خلع کا آپشن اختیار نہیں کرتی ، پھر عورت کے مزاج میں چڑچڑا پن پیدا ھوتا ھے جو گھر میں فساد کا باعث بنتا ھے چونکہ اولاد بھی اس چڑچڑے پن کا بنیادی سبب نہیں جانتی وہ بھی سمجھتی ھے کہ ھماری ماں کی غلطی ھے ،بریک اپ ھو جائے تب بھی وہ ماں کو قصوروار سمجھتی ھے۔
یوں عورت اولاد کی مجرم بھی بن جاتی ھے ، اور ابا جی ھیرو بن جاتے ھیں عورت شوھر سے اپنی ضرورت کا اظہار کبھی بھی اپنی زبان سے نہیں کرتی بلکہ بعض دفعہ ضرورت کے باجود ناز کا معاملہ کرتی ھے یہ اللہ پاک کی طرف سے لگائی گئ حیاء کی مہر ھے ، لیکن جب عورت منہ سے بول کر اپنی ضرورت کا اظہار کرنے پر مجبور ھو جائے تو سمجھ لینا چاھئے کہ اب وہ مضطر ھو گئ ھے اور ازداجی زندگی کی گاڑی کا ٹائ راڈ ٹوٹ گیا ھے اور گاڑی کسی گہری کھائی میں بھی گر سکتی ھے ،عورت کو اس مقام پر مت لائیں کہ اللہ پاک کے فرمان کے مطابق
'"وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاء إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَن يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِن بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ){33}النور۔
اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور مت کرو حالانکہ وہ پاکباز رھنا چاھتی ھیں ،پھر اگر تم ان کو بدکاری پر مجبور کرو گے تو بے شک اللہ ان کی مجبوری کے بعد غفور اور رحیم ھے ،،
جی جناب اپنی بیویوں کو بدکاری پر مجبور مت کرو حالانکہ انہوں نے تم سے نکاح پاک باز رھنے کے لئے کیا تھا ،، اپنی ضرورت کے وقت تم بھیڑیئے بن جاتے ھو اور کوئی راہ تم چھوڑتے نہیں ھو ،، اور اس کی ضرورت کے وقت تکیہ منہ پہ رکھ لیتے ھو ، تف ھے تمہاری مردانگی پر -
کچھ لوگ یہ سوال کرتے ھیں کہ وہ جو بیرون ملک پردیس میں رھتے ھیں ان کے بارے میں کیا کہیں گے ؟
تو گزارش ھے کہ وہ بیوی کی رضامندی سے مشروط ھے نیز جب دونوں ایک ھی عذاب میں مبتلا ھوتے ھیں تو صبر بھی آ جاتا ھے نیز دور رہ کر گزارا ھو ھی جاتا ھے ، ایک ھی گھر اور چارپائی پر رہ کر دور ھونا برداشت نہیں ھوتا ،،
آپ پر سارے دن کا روزہ اتنا بھاری نہیں ھوتا ،جتنا وہ آدھ گھنٹہ ھوتا ھے جس میں آپ افطاری سامنے رکھ کر بیٹھے ھوتے ھیں ، اور کھانے والی چیزوں کی جگہیں تبدیل کر کر کے وقت گزار رھے ھوتے ھیں
*بہترین زندگی گزارنے کے 15 اصول*
01. دعوت دیر سے ملے = انکار کر دیں
02. دعوت نہ ملے = نہ جائیں
03. بھلا دیا جائے = انہیں بھول جائیں
04. استعمال کیا جائے = حدیں مقرر کریں
05. نظر انداز کیا جائے = رابطے روک دیں
06. دھوکہ ملے = معاف کر کے آگے بڑھیں
07. قدر نہ ہو = دوری اختیار کر لیں
08. توہین ہو = کامیابی سے جواب دیں
09. بے عزتی ہو = وقار سے دور ہو جائیں
10. کم سمجھا جائے = نتائج کو بولنے دیں
11. جھوٹ بولا جائے = الفاظ نہیں، عمل پر یقین کریں
12. قدر نہ کی جائے = اپنی کوشش روک لیں
13. موازنہ ہو = اپنی منفرد اہمیت جانیں
14. تھکاوٹ ہو = اپنی توانائی کی حفاظت کریں
15. آزمائش ہو = مضبوط رہیں، ہار نہ مانیں۔
نکاح کے وقت مولوی صاحب نے لڑکی سے پوچھا کیا یہ لڑکا تمہیں قبول ہے؟
لڑکی غصہ سے کہا۔ اگر قبول نہ ہوتا تو یہ جو اتنی سج دھج کے اتنی دیرسے بیٹھی ہوں تو کیا ایسی ہی بیٹھی ہوں؟ فضول سوال نہ کر اور نکاح پڑھوا
مولوی صاحب لڑکے سے۔بیٹا یہ لڑکی اپنی100 گز لمبی زبان کے ساتھ تمہیں قبول ہے
😎😄