عمران خان تو ختم شد نہیں ہوا :
مگر اس چکر میں عدلیہ ختم، میڈیا ختم، اسمبلیاں ختم ، تجارت ختم، معشیت ختم ، زراعت ختم، امن ختم ، استحکام ختم ، کرکٹ ختم ، ��اکی ، ختم ، نوکریاں ختم، آزادی ختم اور سب سے بڑھ کر فوج کا وقار ختم عوام کا پیار ختم
#عمران_خان_استقامت_کا_استعارہ
"ایک تھا مورسی ' ایک ہے خان " (عمران خان اور محمد مورسی کے کیس میں مماثلت پر ایک تحقیقی کالم کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ، مظلوم اور تماشائی )
عمران خان کی بہنوں نے کل جو پریس کانفرنس کی اس کا سب سے تشویش ناک پہلو ان سے عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ "یہ جیل میں مجھے مصر کے محمد مورسی کی طرح ذہنی اور طبی ٹارچر کر رہے ہیں ' اور ان کا ارادہ اسی کی طرح مجھے مارنے کا ہے "
یہ جملہ پڑھ کر ہر پاکستانی کو تاریخ میں پیچھے جانا چاہیے یہ جاننے کیلئے محمد مورسی کون تھے - ان کے ساتھ مصر کے جرنل سسی نے کیا کیا تھا اور ان میں اور عمران خان کے کیسیز اور جیل میں کیا مماثلت ہے جس کی بنا پر عمرا�� خان کو ایسا بیان دینا پڑا- یاد رکھیں - عمران خان تاریخ کے بہت گہرے ریسرچر ہیں - اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو کچھ تو ہوگا جو بہت ملتا جلتا ہوگا - میں نے یہاں وہ تحقیق پوائنٹس میں لکھی ہے جو آپ کو یہ بتآئیگی کہ ہر دور میں ایک جرنل سسی رہا ہے جو ایک مورسی کو اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ بناتا رہا ہے -
محمد مورسی کون تھے؟
محمد مورسی پیشے کے لحاظ سے ایک انجنئیر تھے جنہوں نے امریکہ میں کیلی فورنیا سے ماسٹرز کی اور بہت عرصہ وہاں یونیورسٹی میں پروفیسر رہے - 2000 میں وہ مصر واپس آکر سیاسی جماعت "اخوان المسلمین " سے وابستہ ہوگیے -
2011 میں مصر کے بادشاہ حسنی مبارک کے خلاف ایک انقلاب شروع ہوا جس کو "عرب سپرنگ " بھی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مصر م��ں ساٹھ سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور پہلی دفعہ جمہوری انتخابات ہویے جن میں اخوان المسلمین بہت نمایا رہی - "اخوان المسلمین " کو مصر کی یوتھ کی بہت حمایت ہسایل تھی ��ور اسی یوتھ کی "اپریل 6 موومنٹ " نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے میں بہت اہم کردار ادا کیا - اس کے بعد مصر میں صدارتی انتخابات ہویے جن میں جیت کر جولائی 2012 کو محمد مورسی مصر کے پہلے جمہوری صدر بنے - لیکن ایک سال بعد ہی 2013 میں مصر کے آرمی چیف جرنل عبد الفتح سیسی نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جولائی 2013 کو ملک میں مارشل لا لگادیا جو ایک ہائبرڈ فارم میں آج تک وہاں موجود ہے - حکومت گرانے کے بعد مورسی کو جیل میں ڈالدیا گیا - ان کی جماعت اخوان المسلمین پر سیاسی کیسوں اور گرفتاریوں کے پہاڑ توڑے گیے - جیل میں مورسی کے ساتھ غیر انسانی رویوں اور سیاسی کیسوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو جون 2019 میں تب ختم ہوا جب ایک کورٹ سماعت کے دوران مورسی بیہوش ہو کر گرے اور جہاں فانی سے کوچ کر گیے اور رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر دفنایے گیے -
اب آتا ہوں ان نکات کی طرف جو عمران خان اور مورسی کے معاملے میں ایک جیسے ہیں :
1 . ملٹری کی مداخلت :
. مورسی اور عمران خان دونوں جمہوری ��ہنما تھے جن کو بعد میں ملٹری سے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے حکومت چھوڑنی پڑی- مورسی کی طرح عمران خان کے بھی ملٹری اسٹبلیشمنٹ سے تعلقات حکومت کے دو سال میں ہی خراب ہونا شروع ہوگیے تھے - مورسی کو ڈائریکٹ آرمی مارشل لا کے ذریے نکالا گیا اور عمران خان کو ایک آرمی سپورٹڈ عدم اعتماد کے ذریے حکومت سے بے دخل کیا گیا (جس کی گواہی مولانہ فضل ارحمن سمیت بہت سے سیاسی رہنما کھل عام دے چکے ہیں )-
2 . سیاسی کیسیز اور عدالتی اعتاب:
مورسی کے خلاف انتقام کیلئے عدلیہ کا استعمال کیا گیا - ان کے خلاف درجنوں کیس درج ہویے جن میں ایک میں ان کو بیس سال سزا ہوئی - ایک کیس میں ان کو سزاے موت دی گ��ی جو بعد میں کالعدم ہوگئی -
عمران خان کے خلاف بھی عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا - ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان پر سو سے زائد کیس کیے گیے جن میں ان کو کل 33 سال کی سزا دی گئی -
3 . انٹرنیشنل مذمت :
مورسی کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ نے یہ قرار دیا کہ ان کے کیس سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھے - یو این کے ورکنگ گروپ "UN Working Group on Arbitrary Detention نے 2013 میں مورسی کی سزا کو "Arbitrary " قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا -
عمران خان کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ کے اسی ورکنگ گروپ " Group on Arbitrary Detention " نے 2024 میں یہ قرار دیا کہ عمران خان کا ٹرائل انفیئر اور ان کی قید "Arbitrary " ہے اور ان کو فورا رہا کیا جائے -
4 . سیاسی جماعت کا گھیراؤ :
مورسی کی قید کے بعد ان کی جماعت "اخوان المسلمین " کو ملٹری اور عدالتی اعتاب کا نشانہ بنایا گیا - ہزاروں کارکن گرفتار ہویے - ملٹری کورٹ ٹرائل ہویے - 2014 میں اقوام متحدہ نے ایک کیس میں 529 قید کارکنوں کو ایک ہی ٹرائل میں سزا دینے پر شدید احتجاج کیا کہ یہ ٹرائل انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے ان فیئر تھے -
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ بھی ایسآ ہی سلوک کیا گیا - نو مئی اور 26 نومبر کو بنیاد بنا کر ہزاروں کارکن قید کیے گیے - ان کے ملٹری کورٹس میں "ماس ملٹری ٹرائل" ہویے جن کے بارے میں "انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹ" نے یہ قرار دیا کہ وہ ان فیئر اور عالمی سٹینڈرڈ کے منافی تھے -
5 . قید تنہائ: (solitary confinement )
قید کے دوران مورسی کو بہت برے حالات میں رکھا گیا - ان کو قید تنہائ (solitary confinement ) کا سامنا کرنا پڑا - ان کا جیل کا کمرہ بہت تنگ تھا جہاں بستر کا بھی مناسب انتظام نہی تھا -
عمران خان کے معاملے میں ان کے جیل کی تصویر سب دیکھ چکے ہیں - انتہائی چھوٹا کمرہ جس میں جو باتھ روم ساتھ ہے اس کی دیوار تک چھت سے متصل نہیں ہے - ان کو پچھلے نو ماہ تک اپنی بہنوں ، وکیلوں سے ملنے نہی دیا گیا ' بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی - یہاں تک کہ بقول عظمی خان کل ان کو یہ بھی اندازہ نہی تھا کہ یہ کونسا مہینہ چل رہا ہے -
6 . میڈیکل غفلت اور ذاتی ڈاکٹروں تک عدم رسائی :
مورسی کو قید میں میڈیکل کی سہولتوں سے محروم رکھا گیا تھا - یہاں تک لکھا جاتا ہے کہ مورسی کو شوگر کے علاج کیلئے کبھی انسولین لگائی جاتی اور کبھی نہ لگائی جاتی جس سے ان کی شوگر اس قدر بگڑگئی تھی کہ وہ ہائی شوگر کی وجہ سے بیہوش " (diabetic coma ) ہوجاتے تھے - اس غفلت کی وجہ سے مورسی کی بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی جس کو "diabetic retinopathy " کہا جاتا ہے - مورسی اپنے علاج کیلئے بار بار انڈیپنڈینٹ ڈاکٹروں کا مطالبہ کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان کے معاملے میں میڈیکل سہولتوں کا احوال زیادہ مختلف نہیں ہے - عمران خان کی ��یک آنکھ بلڈ کلاٹ کی وجہ سے اپنی بینائی کافی حد تک کھو چکی ہے (Central Retinal Vein Occlusion) - ان کو ہسپتال لیجانے کے عدالتی احکامات کا بھی جو تماشا لگایا گیا وہ سب کے سامنے ہے - جس طرح وہ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جس طرح اس مطالبے کی دھجیاں اڑائ گئی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے -
7 -ناروا رویے کی شکایت اور خدشے کا اظہار :
اس پورے معاملے میں جو سب سے زیادہ تشویشناک similarity ہے وہ یہ ہے کہ مورسی عدالتوں میں اپنی پیشیوں کے دوران اپنے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے فقدان کا بار بار ذکر کرتے تھے اور خود کو مار دیے جانے کے خدشے کا اظ��ار کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں - ججز سے ان کی بات چیت کبھی کسی کے سامنے نہیں آنے دی گئی کیوں کہ ان کی تمام سماعتیں جیل کے اندر ہوتی رہی ہیں - لیکن جب جب وہ اپنے خاندان سے ملے انہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا اور کل انہوں نے نام لیکر مورسی جیسے سلوک کی شکایت کی -
8 . ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ:
یہ بھی ایک اتفاق ہی ہوگا کہ مورسی کو سزا دینے والے جرنل سیسی آج کل امریکہ کے بہت فیوریٹ ہیں - حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو "پاوورفل فرینڈ " قرار دیا - عمران خان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کے ذمے دار پاکستانی آرمی چیف بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے "فیوریٹ فیلڈ مارشل " ہیں اور اب تک پینتیس دفعہ ان کی تعریف کر چکے ہیں -
جون 2019 میں جب مورسی ایک سماعت کے دوران جج کے سامنے اپنا بیان دے رہے تھے ' وہ بے ہوش ہو کر گرے اور کبھی دوبارہ نہی اٹھے - ان کی موت کو طبعی موت قرار دیا گیا - ہیومین رائٹس کمیشن نے ان کی موت کو سالوں تک کیے جانے والے solitary کنفاینمنٹ ' میڈیکل غفلت ' خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی کا نتیجہ قرار دیا - مصر کی حکومت نے اس موت کی تفتیش کیلئے ایک بورڈ بنایا جس کی رپورٹ آج تک سامنے نہی آئ-
یہ سب نکتے اس لئے اس تفصیل سے لکھے گیے کہ ہسٹری میں کچھ بھی نیا نہی ہوتا - چہرے اور نام بدلتے ہیں ' فاعل اور مفعول بدلتے ہیں پر رویے اور انتقام نہی بدلتے کہ ہر دور میں ایک جرنل سیسی ہوتا ہے' ایک مورسی ہوتا ہے اور ایک مصر کے عوام ہوتے ہیں -
کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ' مظلوم اور تماشائی ..اور شاید مصر اور ہم پاکستان کے عوام تیسری ذات ہیں ..!
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj @ImranRiazKhan @agentjay2009 @SabeeKazmi786 @soulful7867
"ایک تھا مورسی ' ایک ہے خان " (عمران خان اور محمد مورسی کے کیس میں مماثلت پر ایک تحقیقی کالم کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ، مظلوم اور تماشائی )
عمران خان کی بہنوں نے کل جو پریس کانفرنس کی اس کا سب سے تشویش ناک پہلو ان سے عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ "یہ جیل میں مجھے مصر کے محمد مورسی کی طرح ذہنی اور طبی ٹارچر کر رہے ہیں ' اور ان کا ارادہ اسی کی طرح مجھے مارنے کا ہے "
یہ جملہ پڑھ کر ہر پاکستانی کو تاریخ میں پیچھے جانا چاہیے یہ جاننے کیلئے محمد مورسی کون تھے - ان کے ساتھ مصر کے جرنل سسی نے کیا کیا تھا اور ان میں اور عمران خان کے کیسیز اور جیل میں کیا مماثلت ہے جس کی بنا پر عمرا�� خان کو ایسا بیان دینا پڑا- یاد رکھیں - عمران خان تاریخ کے بہت گہرے ریسرچر ہیں - اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو کچھ تو ہوگا جو بہت ملتا جلتا ہوگا - میں نے یہاں وہ تحقیق پوائنٹس میں لکھی ہے جو آپ کو یہ بتآئیگی کہ ہر دور میں ایک جرنل سسی رہا ہے جو ایک مورسی کو اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ بناتا رہا ہے -
محمد مورسی کون تھے؟
محمد مورسی پیشے کے لحاظ سے ایک انجنئیر تھے جنہوں نے امریکہ میں کیلی فورنیا سے ماسٹرز کی اور بہت عرصہ وہاں یونیورسٹی میں پروفیسر رہے - 2000 میں وہ مصر واپس آکر سیاسی جماعت "اخوان المسلمین " سے وابستہ ہوگیے -
2011 میں مصر کے بادشاہ حسنی مبارک کے خلاف ایک انقلاب شروع ہوا جس کو "عرب سپرنگ " بھی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مصر م��ں ساٹھ سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور پہلی دفعہ جمہوری انتخابات ہویے جن میں اخوان المسلمین بہت نمایا رہی - "اخوان المسلمین " کو مصر کی یوتھ کی بہت حمایت ہسایل تھی ��ور اسی یوتھ کی "اپریل 6 موومنٹ " نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے میں بہت اہم کردار ادا کیا - اس کے بعد مصر میں صدارتی انتخابات ہویے جن میں جیت کر جولائی 2012 کو محمد مورسی مصر کے پہلے جمہوری صدر بنے - لیکن ایک سال بعد ہی 2013 میں مصر کے آرمی چیف جرنل عبد الفتح سیسی نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جولائی 2013 کو ملک میں مارشل لا لگادیا جو ایک ہائبرڈ فارم میں آج تک وہاں موجود ہے - حکومت گرانے کے بعد مورسی کو جیل میں ڈالدیا گیا - ان کی جماعت اخوان المسلمین پر سیاسی کیسوں اور گرفتاریوں کے پہاڑ توڑے گیے - جیل میں مورسی کے ساتھ غیر انسانی رویوں اور سیاسی کیسوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو جون 2019 میں تب ختم ہوا جب ایک کورٹ سماعت کے دوران مورسی بیہوش ہو کر گرے اور جہاں فانی سے کوچ کر گیے اور رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر دفنایے گیے -
اب آتا ہوں ان نکات کی طرف جو عمران خان اور مورسی کے معاملے میں ایک جیسے ہیں :
1 . ملٹری کی مداخلت :
. مورسی اور عمران خان دونوں جمہوری ��ہنما تھے جن کو بعد میں ملٹری سے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے حکومت چھوڑنی پڑی- مورسی کی طرح عمران خان کے بھی ملٹری اسٹبلیشمنٹ سے تعلقات حکومت کے دو سال میں ہی خراب ہونا شروع ہوگیے تھے - مورسی کو ڈائریکٹ آرمی مارشل لا کے ذریے نکالا گیا اور عمران خان کو ایک آرمی سپورٹڈ عدم اعتماد کے ذریے حکومت سے بے دخل کیا گیا (جس کی گواہی مولانہ فضل ارحمن سمیت بہت سے سیاسی رہنما کھل عام دے چکے ہیں )-
2 . سیاسی کیسیز اور عدالتی اعتاب:
مورسی کے خلاف انتقام کیلئے عدلیہ کا استعمال کیا گیا - ان کے خلاف درجنوں کیس درج ہویے جن میں ایک میں ان کو بیس سال سزا ہوئی - ایک کیس میں ان کو سزاے موت دی گ��ی جو بعد میں کالعدم ہوگئی -
عمران خان کے خلاف بھی عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا - ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان پر سو سے زائد کیس کیے گیے جن میں ان کو کل 33 سال کی سزا دی گئی -
3 . انٹرنیشنل مذمت :
مورسی کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ نے یہ قرار دیا کہ ان کے کیس سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھے - یو این کے ورکنگ گروپ "UN Working Group on Arbitrary Detention نے 2013 میں مورسی کی سزا کو "Arbitrary " قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا -
عمران خان کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ کے اسی ورکنگ گروپ " Group on Arbitrary Detention " نے 2024 میں یہ قرار دیا کہ عمران خان کا ٹرائل انفیئر اور ان کی قید "Arbitrary " ہے اور ان کو فورا رہا کیا جائے -
4 . سیاسی جماعت کا گھیراؤ :
مورسی کی قید کے بعد ان کی جماعت "اخوان المسلمین " کو ملٹری اور عدالتی اعتاب کا نشانہ بنایا گیا - ہزاروں کارکن گرفتار ہویے - ملٹری کورٹ ٹرائل ہویے - 2014 میں اقوام متحدہ نے ایک کیس میں 529 قید کارکنوں کو ایک ہی ٹرائل میں سزا دینے پر شدید احتجاج کیا کہ یہ ٹرائل انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے ان فیئر تھے -
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ بھی ایسآ ہی سلوک کیا گیا - نو مئی اور 26 نومبر کو بنیاد بنا کر ہزاروں کارکن قید کیے گیے - ان کے ملٹری کورٹس میں "ماس ملٹری ٹرائل" ہویے جن کے بارے میں "انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹ" نے یہ قرار دیا کہ وہ ان فیئر اور عالمی سٹینڈرڈ کے منافی تھے -
5 . قید تنہائ: (solitary confinement )
قید کے دوران مورسی کو بہت برے حالات میں رکھا گیا - ان کو قید تنہائ (solitary confinement ) کا سامنا کرنا پڑا - ان کا جیل کا کمرہ بہت تنگ تھا جہاں بستر کا بھی مناسب انتظام نہی تھا -
عمران خان کے معاملے میں ان کے جیل کی تصویر سب دیکھ چکے ہیں - انتہائی چھوٹا کمرہ جس میں جو باتھ روم ساتھ ہے اس کی دیوار تک چھت سے متصل نہیں ہے - ان کو پچھلے نو ماہ تک اپنی بہنوں ، وکیلوں سے ملنے نہی دیا گیا ' بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی - یہاں تک کہ بقول عظمی خان کل ان کو یہ بھی اندازہ نہی تھا کہ یہ کونسا مہینہ چل رہا ہے -
6 . میڈیکل غفلت اور ذاتی ڈاکٹروں تک عدم رسائی :
مورسی کو قید میں میڈیکل کی سہولتوں سے محروم رکھا گیا تھا - یہاں تک لکھا جاتا ہے کہ مورسی کو شوگر کے علاج کیلئے کبھی انسولین لگائی جاتی اور کبھی نہ لگائی جاتی جس سے ان کی شوگر اس قدر بگڑگئی تھی کہ وہ ہائی شوگر کی وجہ سے بیہوش " (diabetic coma ) ہوجاتے تھے - اس غفلت کی وجہ سے مورسی کی بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی جس کو "diabetic retinopathy " کہا جاتا ہے - مورسی اپنے علاج کیلئے بار بار انڈیپنڈینٹ ڈاکٹروں کا مطالبہ کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان کے معاملے میں میڈیکل سہولتوں کا احوال زیادہ مختلف نہیں ہے - عمران خان کی ��یک آنکھ بلڈ کلاٹ کی وجہ سے اپنی بینائی کافی حد تک کھو چکی ہے (Central Retinal Vein Occlusion) - ان کو ہسپتال لیجانے کے عدالتی احکامات کا بھی جو تماشا لگایا گیا وہ سب کے سامنے ہے - جس طرح وہ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جس طرح اس مطالبے کی دھجیاں اڑائ گئی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے -
7 -ناروا رویے کی شکایت اور خدشے کا اظہار :
اس پورے معاملے میں جو سب سے زیادہ تشویشناک similarity ہے وہ یہ ہے کہ مورسی عدالتوں میں اپنی پیشیوں کے دوران اپنے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے فقدان کا بار بار ذکر کرتے تھے اور خود کو مار دیے جانے کے خدشے کا اظ��ار کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں - ججز سے ان کی بات چیت کبھی کسی کے سامنے نہیں آنے دی گئی کیوں کہ ان کی تمام سماعتیں جیل کے اندر ہوتی رہی ہیں - لیکن جب جب وہ اپنے خاندان سے ملے انہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا اور کل انہوں نے نام لیکر مورسی جیسے سلوک کی شکایت کی -
8 . ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ:
یہ بھی ایک اتفاق ہی ہوگا کہ مورسی کو سزا دینے والے جرنل سیسی آج کل امریکہ کے بہت فیوریٹ ہیں - حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو "پاوورفل فرینڈ " قرار دیا - عمران خان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کے ذمے دار پاکستانی آرمی چیف بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے "فیوریٹ فیلڈ مارشل " ہیں اور اب تک پینتیس دفعہ ان کی تعریف کر چکے ہیں -
جون 2019 میں جب مورسی ایک سماعت کے دوران جج کے سامنے اپنا بیان دے رہے تھے ' وہ بے ہوش ہو کر گرے اور کبھی دوبارہ نہی اٹھے - ان کی موت کو طبعی موت قرار دیا گیا - ہیومین رائٹس کمیشن نے ان کی موت کو سالوں تک کیے جانے والے solitary کنفاینمنٹ ' میڈیکل غفلت ' خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی کا نتیجہ قرار دیا - مصر کی حکومت نے اس موت کی تفتیش کیلئے ایک بورڈ بنایا جس کی رپورٹ آج تک سامنے نہی آئ-
یہ سب نکتے اس لئے اس تفصیل سے لکھے گیے کہ ہسٹری میں کچھ بھی نیا نہی ہوتا - چہرے اور نام بدلتے ہیں ' فاعل اور مفعول بدلتے ہیں پر رویے اور انتقام نہی بدلتے کہ ہر دور میں ایک جرنل سیسی ہوتا ہے' ایک مورسی ہوتا ہے اور ایک مصر کے عوام ہوتے ہیں -
کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ' مظلوم اور تماشائی ..اور شاید مصر اور ہم پاکستان کے عوام تیسری ذات ہیں ..!
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj @ImranRiazKhan @agentjay2009 @SabeeKazmi786 @soulful7867
"ایک تھا مورسی ' ایک ہے خان " (عمران خان اور محمد مورسی کے کیس میں مماثلت پر ایک تحقیقی کالم کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ، مظلوم اور تماشائی )
عمران خان کی بہنوں نے کل جو پریس کانفرنس کی اس کا سب سے تشویش ناک پہلو ان سے عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ "یہ جیل میں مجھے مصر کے محمد مورسی کی طرح ذہنی اور طبی ٹارچر کر رہے ہیں ' اور ان کا ارادہ اسی کی طرح مجھے مارنے کا ہے "
یہ جملہ پڑھ کر ہر پاکستانی کو تاریخ میں پیچھے جانا چاہیے یہ جاننے کیلئے محمد مورسی کون تھے - ان کے ساتھ مصر کے جرنل سسی نے کیا کیا تھا اور ان میں اور عمران خان کے کیسیز اور جیل میں کیا مماثلت ہے جس کی بنا پر عمرا�� خان کو ایسا بیان دینا پڑا- یاد رکھیں - عمران خان تاریخ کے بہت گہرے ریسرچر ہیں - اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو کچھ تو ہوگا جو بہت ملتا جلتا ہوگا - میں نے یہاں وہ تحقیق پوائنٹس میں لکھی ہے جو آپ کو یہ بتآئیگی کہ ہر دور میں ایک جرنل سسی رہا ہے جو ایک مورسی کو اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ بناتا رہا ہے -
محمد مورسی کون تھے؟
محمد مورسی پیشے کے لحاظ سے ایک انجنئیر تھے جنہوں نے امریکہ میں کیلی فورنیا سے ماسٹرز کی اور بہت عرصہ وہاں یونیورسٹی میں پروفیسر رہے - 2000 میں وہ مصر واپس آکر سیاسی جماعت "اخوان المسلمین " سے وابستہ ہوگیے -
2011 میں مصر کے بادشاہ حسنی مبارک کے خلاف ایک انقلاب شروع ہوا جس کو "عرب سپرنگ " بھی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مصر م��ں ساٹھ سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور پہلی دفعہ جمہوری انتخابات ہویے جن میں اخوان المسلمین بہت نمایا رہی - "اخوان المسلمین " کو مصر کی یوتھ کی بہت حمایت ہسایل تھی ��ور اسی یوتھ کی "اپریل 6 موومنٹ " نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے میں بہت اہم کردار ادا کیا - اس کے بعد مصر میں صدارتی انتخابات ہویے جن میں جیت کر جولائی 2012 کو محمد مورسی مصر کے پہلے جمہوری صدر بنے - لیکن ایک سال بعد ہی 2013 میں مصر کے آرمی چیف جرنل عبد الفتح سیسی نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جولائی 2013 کو ملک میں مارشل لا لگادیا جو ایک ہائبرڈ فارم میں آج تک وہاں موجود ہے - حکومت گرانے کے بعد مورسی کو جیل میں ڈالدیا گیا - ان کی جماعت اخوان المسلمین پر سیاسی کیسوں اور گرفتاریوں کے پہاڑ توڑے گیے - جیل میں مورسی کے ساتھ غیر انسانی رویوں اور سیاسی کیسوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو جون 2019 میں تب ختم ہوا جب ایک کورٹ سماعت کے دوران مورسی بیہوش ہو کر گرے اور جہاں فانی سے کوچ کر گیے اور رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر دفنایے گیے -
اب آتا ہوں ان نکات کی طرف جو عمران خان اور مورسی کے معاملے میں ایک جیسے ہیں :
1 . ملٹری کی مداخلت :
. مورسی اور عمران خان دونوں جمہوری ��ہنما تھے جن کو بعد میں ملٹری سے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے حکومت چھوڑنی پڑی- مورسی کی طرح عمران خان کے بھی ملٹری اسٹبلیشمنٹ سے تعلقات حکومت کے دو سال میں ہی خراب ہونا شروع ہوگیے تھے - مورسی کو ڈائریکٹ آرمی مارشل لا کے ذریے نکالا گیا اور عمران خان کو ایک آرمی سپورٹڈ عدم اعتماد کے ذریے حکومت سے بے دخل کیا گیا (جس کی گواہی مولانہ فضل ارحمن سمیت بہت سے سیاسی رہنما کھل عام دے چکے ہیں )-
2 . سیاسی کیسیز اور عدالتی اعتاب:
مورسی کے خلاف انتقام کیلئے عدلیہ کا استعمال کیا گیا - ان کے خلاف درجنوں کیس درج ہویے جن میں ایک میں ان کو بیس سال سزا ہوئی - ایک کیس میں ان کو سزاے موت دی گ��ی جو بعد میں کالعدم ہوگئی -
عمران خان کے خلاف بھی عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا - ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان پر سو سے زائد کیس کیے گیے جن میں ان کو کل 33 سال کی سزا دی گئی -
3 . انٹرنیشنل مذمت :
مورسی کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ نے یہ قرار دیا کہ ان کے کیس سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھے - یو این کے ورکنگ گروپ "UN Working Group on Arbitrary Detention نے 2013 میں مورسی کی سزا کو "Arbitrary " قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا -
عمران خان کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ کے اسی ورکنگ گروپ " Group on Arbitrary Detention " نے 2024 میں یہ قرار دیا کہ عمران خان کا ٹرائل انفیئر اور ان کی قید "Arbitrary " ہے اور ان کو فورا رہا کیا جائے -
4 . سیاسی جماعت کا گھیراؤ :
مورسی کی قید کے بعد ان کی جماعت "اخوان المسلمین " کو ملٹری اور عدالتی اعتاب کا نشانہ بنایا گیا - ہزاروں کارکن گرفتار ہویے - ملٹری کورٹ ٹرائل ہویے - 2014 میں اقوام متحدہ نے ایک کیس میں 529 قید کارکنوں کو ایک ہی ٹرائل میں سزا دینے پر شدید احتجاج کیا کہ یہ ٹرائل انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے ان فیئر تھے -
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ بھی ایسآ ہی سلوک کیا گیا - نو مئی اور 26 نومبر کو بنیاد بنا کر ہزاروں کارکن قید کیے گیے - ان کے ملٹری کورٹس میں "ماس ملٹری ٹرائل" ہویے جن کے بارے میں "انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹ" نے یہ قرار دیا کہ وہ ان فیئر اور عالمی سٹینڈرڈ کے منافی تھے -
5 . قید تنہائ: (solitary confinement )
قید کے دوران مورسی کو بہت برے حالات میں رکھا گیا - ان کو قید تنہائ (solitary confinement ) کا سامنا کرنا پڑا - ان کا جیل کا کمرہ بہت تنگ تھا جہاں بستر کا بھی مناسب انتظام نہی تھا -
عمران خان کے معاملے میں ان کے جیل کی تصویر سب دیکھ چکے ہیں - انتہائی چھوٹا کمرہ جس میں جو باتھ روم ساتھ ہے اس کی دیوار تک چھت سے متصل نہیں ہے - ان کو پچھلے نو ماہ تک اپنی بہنوں ، وکیلوں سے ملنے نہی دیا گیا ' بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی - یہاں تک کہ بقول عظمی خان کل ان کو یہ بھی اندازہ نہی تھا کہ یہ کونسا مہینہ چل رہا ہے -
6 . میڈیکل غفلت اور ذاتی ڈاکٹروں تک عدم رسائی :
مورسی کو قید میں میڈیکل کی سہولتوں سے محروم رکھا گیا تھا - یہاں تک لکھا جاتا ہے کہ مورسی کو شوگر کے علاج کیلئے کبھی انسولین لگائی جاتی اور کبھی نہ لگائی جاتی جس سے ان کی شوگر اس قدر بگڑگئی تھی کہ وہ ہائی شوگر کی وجہ سے بیہوش " (diabetic coma ) ہوجاتے تھے - اس غفلت کی وجہ سے مورسی کی بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی جس کو "diabetic retinopathy " کہا جاتا ہے - مورسی اپنے علاج کیلئے بار بار انڈیپنڈینٹ ڈاکٹروں کا مطالبہ کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان کے معاملے میں میڈیکل سہولتوں کا احوال زیادہ مختلف نہیں ہے - عمران خان کی ��یک آنکھ بلڈ کلاٹ کی وجہ سے اپنی بینائی کافی حد تک کھو چکی ہے (Central Retinal Vein Occlusion) - ان کو ہسپتال لیجانے کے عدالتی احکامات کا بھی جو تماشا لگایا گیا وہ سب کے سامنے ہے - جس طرح وہ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جس طرح اس مطالبے کی دھجیاں اڑائ گئی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے -
7 -ناروا رویے کی شکایت اور خدشے کا اظہار :
اس پورے معاملے میں جو سب سے زیادہ تشویشناک similarity ہے وہ یہ ہے کہ مورسی عدالتوں میں اپنی پیشیوں کے دوران اپنے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے فقدان کا بار بار ذکر کرتے تھے اور خود کو مار دیے جانے کے خدشے کا اظ��ار کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں - ججز سے ان کی بات چیت کبھی کسی کے سامنے نہیں آنے دی گئی کیوں کہ ان کی تمام سماعتیں جیل کے اندر ہوتی رہی ہیں - لیکن جب جب وہ اپنے خاندان سے ملے انہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا اور کل انہوں نے نام لیکر مورسی جیسے سلوک کی شکایت کی -
8 . ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ:
یہ بھی ایک اتفاق ہی ہوگا کہ مورسی کو سزا دینے والے جرنل سیسی آج کل امریکہ کے بہت فیوریٹ ہیں - حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو "پاوورفل فرینڈ " قرار دیا - عمران خان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کے ذمے دار پاکستانی آرمی چیف بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے "فیوریٹ فیلڈ مارشل " ہیں اور اب تک پینتیس دفعہ ان کی تعریف کر چکے ہیں -
جون 2019 میں جب مورسی ایک سماعت کے دوران جج کے سامنے اپنا بیان دے رہے تھے ' وہ بے ہوش ہو کر گرے اور کبھی دوبارہ نہی اٹھے - ان کی موت کو طبعی موت قرار دیا گیا - ہیومین رائٹس کمیشن نے ان کی موت کو سالوں تک کیے جانے والے solitary کنفاینمنٹ ' میڈیکل غفلت ' خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی کا نتیجہ قرار دیا - مصر کی حکومت نے اس موت کی تفتیش کیلئے ایک بورڈ بنایا جس کی رپورٹ آج تک سامنے نہی آئ-
یہ سب نکتے اس لئے اس تفصیل سے لکھے گیے کہ ہسٹری میں کچھ بھی نیا نہی ہوتا - چہرے اور نام بدلتے ہیں ' فاعل اور مفعول بدلتے ہیں پر رویے اور انتقام نہی بدلتے کہ ہر دور میں ایک جرنل سیسی ہوتا ہے' ایک مورسی ہوتا ہے اور ایک مصر کے عوام ہوتے ہیں -
کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ' مظلوم اور تماشائی ..اور شاید مصر اور ہم پاکستان کے عوام تیسری ذات ہیں ..!
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj @ImranRiazKhan @agentjay2009 @SabeeKazmi786 @soulful7867
"ایک تھا مورسی ' ایک ہے خان " (عمران خان اور محمد مورسی کے کیس میں مماثلت پر ایک تحقیقی کالم کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ، مظلوم اور تماشائی )
عمران خان کی بہنوں نے کل جو پریس کانفرنس کی اس کا سب سے تشویش ناک پہلو ان سے عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ "یہ جیل میں مجھے مصر کے محمد مورسی کی طرح ذہنی اور طبی ٹارچر کر رہے ہیں ' اور ان کا ارادہ اسی کی طرح مجھے مارنے کا ہے "
یہ جملہ پڑھ کر ہر پاکستانی کو تاریخ میں پیچھے جانا چاہیے یہ جاننے کیلئے محمد مورسی کون تھے - ان کے ساتھ مصر کے جرنل سسی نے کیا کیا تھا اور ان میں اور عمران خان کے کیسیز اور جیل میں کیا مماثلت ہے جس کی بنا پر عمرا�� خان کو ایسا بیان دینا پڑا- یاد رکھیں - عمران خان تاریخ کے بہت گہرے ریسرچر ہیں - اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو کچھ تو ہوگا جو بہت ملتا جلتا ہوگا - میں نے یہاں وہ تحقیق پوائنٹس میں لکھی ہے جو آپ کو یہ بتآئیگی کہ ہر دور میں ایک جرنل سسی رہا ہے جو ایک مورسی کو اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ بناتا رہا ہے -
محمد مورسی کون تھے؟
محمد مورسی پیشے کے لحاظ سے ایک انجنئیر تھے جنہوں نے امریکہ میں کیلی فورنیا سے ماسٹرز کی اور بہت عرصہ وہاں یونیورسٹی میں پروفیسر رہے - 2000 میں وہ مصر واپس آکر سیاسی جماعت "اخوان المسلمین " سے وابستہ ہوگیے -
2011 میں مصر کے بادشاہ حسنی مبارک کے خلاف ایک انقلاب شروع ہوا جس کو "عرب سپرنگ " بھی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مصر م��ں ساٹھ سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور پہلی دفعہ جمہوری انتخابات ہویے جن میں اخوان المسلمین بہت نمایا رہی - "اخوان المسلمین " کو مصر کی یوتھ کی بہت حمایت ہسایل تھی ��ور اسی یوتھ کی "اپریل 6 موومنٹ " نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے میں بہت اہم کردار ادا کیا - اس کے بعد مصر میں صدارتی انتخابات ہویے جن میں جیت کر جولائی 2012 کو محمد مورسی مصر کے پہلے جمہوری صدر بنے - لیکن ایک سال بعد ہی 2013 میں مصر کے آرمی چیف جرنل عبد الفتح سیسی نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جولائی 2013 کو ملک میں مارشل لا لگادیا جو ایک ہائبرڈ فارم میں آج تک وہاں موجود ہے - حکومت گرانے کے بعد مورسی کو جیل میں ڈالدیا گیا - ان کی جماعت اخوان المسلمین پر سیاسی کیسوں اور گرفتاریوں کے پہاڑ توڑے گیے - جیل میں مورسی کے ساتھ غیر انسانی رویوں اور سیاسی کیسوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو جون 2019 میں تب ختم ہوا جب ایک کورٹ سماعت کے دوران مورسی بیہوش ہو کر گرے اور جہاں فانی سے کوچ کر گیے اور رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر دفنایے گیے -
اب آتا ہوں ان نکات کی طرف جو عمران خان اور مورسی کے معاملے میں ایک جیسے ہیں :
1 . ملٹری کی مداخلت :
. مورسی اور عمران خان دونوں جمہوری ��ہنما تھے جن کو بعد میں ملٹری سے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے حکومت چھوڑنی پڑی- مورسی کی طرح عمران خان کے بھی ملٹری اسٹبلیشمنٹ سے تعلقات حکومت کے دو سال میں ہی خراب ہونا شروع ہوگیے تھے - مورسی کو ڈائریکٹ آرمی مارشل لا کے ذریے نکالا گیا اور عمران خان کو ایک آرمی سپورٹڈ عدم اعتماد کے ذریے حکومت سے بے دخل کیا گیا (جس کی گواہی مولانہ فضل ارحمن سمیت بہت سے سیاسی رہنما کھل عام دے چکے ہیں )-
2 . سیاسی کیسیز اور عدالتی اعتاب:
مورسی کے خلاف انتقام کیلئے عدلیہ کا استعمال کیا گیا - ان کے خلاف درجنوں کیس درج ہویے جن میں ایک میں ان کو بیس سال سزا ہوئی - ایک کیس میں ان کو سزاے موت دی گ��ی جو بعد میں کالعدم ہوگئی -
عمران خان کے خلاف بھی عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا - ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان پر سو سے زائد کیس کیے گیے جن میں ان کو کل 33 سال کی سزا دی گئی -
3 . انٹرنیشنل مذمت :
مورسی کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ نے یہ قرار دیا کہ ان کے کیس سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھے - یو این کے ورکنگ گروپ "UN Working Group on Arbitrary Detention نے 2013 میں مورسی کی سزا کو "Arbitrary " قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا -
عمران خان کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ کے اسی ورکنگ گروپ " Group on Arbitrary Detention " نے 2024 میں یہ قرار دیا کہ عمران خان کا ٹرائل انفیئر اور ان کی قید "Arbitrary " ہے اور ان کو فورا رہا کیا جائے -
4 . سیاسی جماعت کا گھیراؤ :
مورسی کی قید کے بعد ان کی جماعت "اخوان المسلمین " کو ملٹری اور عدالتی اعتاب کا نشانہ بنایا گیا - ہزاروں کارکن گرفتار ہویے - ملٹری کورٹ ٹرائل ہویے - 2014 میں اقوام متحدہ نے ایک کیس میں 529 قید کارکنوں کو ایک ہی ٹرائل میں سزا دینے پر شدید احتجاج کیا کہ یہ ٹرائل انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے ان فیئر تھے -
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ بھی ایسآ ہی سلوک کیا گیا - نو مئی اور 26 نومبر کو بنیاد بنا کر ہزاروں کارکن قید کیے گیے - ان کے ملٹری کورٹس میں "ماس ملٹری ٹرائل" ہویے جن کے بارے میں "انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹ" نے یہ قرار دیا کہ وہ ان فیئر اور عالمی سٹینڈرڈ کے منافی تھے -
5 . قید تنہائ: (solitary confinement )
قید کے دوران مورسی کو بہت برے حالات میں رکھا گیا - ان کو قید تنہائ (solitary confinement ) کا سامنا کرنا پڑا - ان کا جیل کا کمرہ بہت تنگ تھا جہاں بستر کا بھی مناسب انتظام نہی تھا -
عمران خان کے معاملے میں ان کے جیل کی تصویر سب دیکھ چکے ہیں - انتہائی چھوٹا کمرہ جس میں جو باتھ روم ساتھ ہے اس کی دیوار تک چھت سے متصل نہیں ہے - ان کو پچھلے نو ماہ تک اپنی بہنوں ، وکیلوں سے ملنے نہی دیا گیا ' بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی - یہاں تک کہ بقول عظمی خان کل ان کو یہ بھی اندازہ نہی تھا کہ یہ کونسا مہینہ چل رہا ہے -
6 . میڈیکل غفلت اور ذاتی ڈاکٹروں تک عدم رسائی :
مورسی کو قید میں میڈیکل کی سہولتوں سے محروم رکھا گیا تھا - یہاں تک لکھا جاتا ہے کہ مورسی کو شوگر کے علاج کیلئے کبھی انسولین لگائی جاتی اور کبھی نہ لگائی جاتی جس سے ان کی شوگر اس قدر بگڑگئی تھی کہ وہ ہائی شوگر کی وجہ سے بیہوش " (diabetic coma ) ہوجاتے تھے - اس غفلت کی وجہ سے مورسی کی بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی جس کو "diabetic retinopathy " کہا جاتا ہے - مورسی اپنے علاج کیلئے بار بار انڈیپنڈینٹ ڈاکٹروں کا مطالبہ کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان کے معاملے میں میڈیکل سہولتوں کا احوال زیادہ مختلف نہیں ہے - عمران خان کی ��یک آنکھ بلڈ کلاٹ کی وجہ سے اپنی بینائی کافی حد تک کھو چکی ہے (Central Retinal Vein Occlusion) - ان کو ہسپتال لیجانے کے عدالتی احکامات کا بھی جو تماشا لگایا گیا وہ سب کے سامنے ہے - جس طرح وہ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جس طرح اس مطالبے کی دھجیاں اڑائ گئی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے -
7 -ناروا رویے کی شکایت اور خدشے کا اظہار :
اس پورے معاملے میں جو سب سے زیادہ تشویشناک similarity ہے وہ یہ ہے کہ مورسی عدالتوں میں اپنی پیشیوں کے دوران اپنے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے فقدان کا بار بار ذکر کرتے تھے اور خود کو مار دیے جانے کے خدشے کا اظ��ار کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں - ججز سے ان کی بات چیت کبھی کسی کے سامنے نہیں آنے دی گئی کیوں کہ ان کی تمام سماعتیں جیل کے اندر ہوتی رہی ہیں - لیکن جب جب وہ اپنے خاندان سے ملے انہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا اور کل انہوں نے نام لیکر مورسی جیسے سلوک کی شکایت کی -
8 . ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ:
یہ بھی ایک اتفاق ہی ہوگا کہ مورسی کو سزا دینے والے جرنل سیسی آج کل امریکہ کے بہت فیوریٹ ہیں - حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو "پاوورفل فرینڈ " قرار دیا - عمران خان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کے ذمے دار پاکستانی آرمی چیف بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے "فیوریٹ فیلڈ مارشل " ہیں اور اب تک پینتیس دفعہ ان کی تعریف کر چکے ہیں -
جون 2019 میں جب مورسی ایک سماعت کے دوران جج کے سامنے اپنا بیان دے رہے تھے ' وہ بے ہوش ہو کر گرے اور کبھی دوبارہ نہی اٹھے - ان کی موت کو طبعی موت قرار دیا گیا - ہیومین رائٹس کمیشن نے ان کی موت کو سالوں تک کیے جانے والے solitary کنفاینمنٹ ' میڈیکل غفلت ' خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی کا نتیجہ قرار دیا - مصر کی حکومت نے اس موت کی تفتیش کیلئے ایک بورڈ بنایا جس کی رپورٹ آج تک سامنے نہی آئ-
یہ سب نکتے اس لئے اس تفصیل سے لکھے گیے کہ ہسٹری میں کچھ بھی نیا نہی ہوتا - چہرے اور نام بدلتے ہیں ' فاعل اور مفعول بدلتے ہیں پر رویے اور انتقام نہی بدلتے کہ ہر دور میں ایک جرنل سیسی ہوتا ہے' ایک مورسی ہوتا ہے اور ایک مصر کے عوام ہوتے ہیں -
کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ' مظلوم اور تماشائی ..اور شاید مصر اور ہم پاکستان کے عوام تیسری ذات ہیں ..!
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj @ImranRiazKhan @agentjay2009 @SabeeKazmi786 @soulful7867
"ایک تھا مورسی ' ایک ہے خان " (عمران خان اور محمد مورسی کے کیس میں مماثلت پر ایک تحقیقی کالم کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ، مظلوم اور تماشائی )
عمران خان کی بہنوں نے کل جو پریس کانفرنس کی اس کا سب سے تشویش ناک پہلو ان سے عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ "یہ جیل میں مجھے مصر کے محمد مورسی کی طرح ذہنی اور طبی ٹارچر کر رہے ہیں ' اور ان کا ارادہ اسی کی طرح مجھے مارنے کا ہے "
یہ جملہ پڑھ کر ہر پاکستانی کو تاریخ میں پیچھے جانا چاہیے یہ جاننے کیلئے محمد مورسی کون تھے - ان کے ساتھ مصر کے جرنل سسی نے کیا کیا تھا اور ان میں اور عمران خان کے کیسیز اور جیل میں کیا مماثلت ہے جس کی بنا پر عمرا�� خان کو ایسا بیان دینا پڑا- یاد رکھیں - عمران خان تاریخ کے بہت گہرے ریسرچر ہیں - اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو کچھ تو ہوگا جو بہت ملتا جلتا ہوگا - میں نے یہاں وہ تحقیق پوائنٹس میں لکھی ہے جو آپ کو یہ بتآئیگی کہ ہر دور میں ایک جرنل سسی رہا ہے جو ایک مورسی کو اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ بناتا رہا ہے -
محمد مورسی کون تھے؟
محمد مورسی پیشے کے لحاظ سے ایک انجنئیر تھے جنہوں نے امریکہ میں کیلی فورنیا سے ماسٹرز کی اور بہت عرصہ وہاں یونیورسٹی میں پروفیسر رہے - 2000 میں وہ مصر واپس آکر سیاسی جماعت "اخوان المسلمین " سے وابستہ ہوگیے -
2011 میں مصر کے بادشاہ حسنی مبارک کے خلاف ایک انقلاب شروع ہوا جس کو "عرب سپرنگ " بھی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مصر م��ں ساٹھ سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور پہلی دفعہ جمہوری انتخابات ہویے جن میں اخوان المسلمین بہت نمایا رہی - "اخوان المسلمین " کو مصر کی یوتھ کی بہت حمایت ہسایل تھی ��ور اسی یوتھ کی "اپریل 6 موومنٹ " نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے میں بہت اہم کردار ادا کیا - اس کے بعد مصر میں صدارتی انتخابات ہویے جن میں جیت کر جولائی 2012 کو محمد مورسی مصر کے پہلے جمہوری صدر بنے - لیکن ایک سال بعد ہی 2013 میں مصر کے آرمی چیف جرنل عبد الفتح سیسی نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جولائی 2013 کو ملک میں مارشل لا لگادیا جو ایک ہائبرڈ فارم میں آج تک وہاں موجود ہے - حکومت گرانے کے بعد مورسی کو جیل میں ڈالدیا گیا - ان کی جماعت اخوان المسلمین پر سیاسی کیسوں اور گرفتاریوں کے پہاڑ توڑے گیے - جیل میں مورسی کے ساتھ غیر انسانی رویوں اور سیاسی کیسوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو جون 2019 میں تب ختم ہوا جب ایک کورٹ سماعت کے دوران مورسی بیہوش ہو کر گرے اور جہاں فانی سے کوچ کر گیے اور رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر دفنایے گیے -
اب آتا ہوں ان نکات کی طرف جو عمران خان اور مورسی کے معاملے میں ایک جیسے ہیں :
1 . ملٹری کی مداخلت :
. مورسی اور عمران خان دونوں جمہوری ��ہنما تھے جن کو بعد میں ملٹری سے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے حکومت چھوڑنی پڑی- مورسی کی طرح عمران خان کے بھی ملٹری اسٹبلیشمنٹ سے تعلقات حکومت کے دو سال میں ہی خراب ہونا شروع ہوگیے تھے - مورسی کو ڈائریکٹ آرمی مارشل لا کے ذریے نکالا گیا اور عمران خان کو ایک آرمی سپورٹڈ عدم اعتماد کے ذریے حکومت سے بے دخل کیا گیا (جس کی گواہی مولانہ فضل ارحمن سمیت بہت سے سیاسی رہنما کھل عام دے چکے ہیں )-
2 . سیاسی کیسیز اور عدالتی اعتاب:
مورسی کے خلاف انتقام کیلئے عدلیہ کا استعمال کیا گیا - ان کے خلاف درجنوں کیس درج ہویے جن میں ایک میں ان کو بیس سال سزا ہوئی - ایک کیس میں ان کو سزاے موت دی گ��ی جو بعد میں کالعدم ہوگئی -
عمران خان کے خلاف بھی عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا - ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان پر سو سے زائد کیس کیے گیے جن میں ان کو کل 33 سال کی سزا دی گئی -
3 . انٹرنیشنل مذمت :
مورسی کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ نے یہ قرار دیا کہ ان کے کیس سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھے - یو این کے ورکنگ گروپ "UN Working Group on Arbitrary Detention نے 2013 میں مورسی کی سزا کو "Arbitrary " قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا -
عمران خان کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ کے اسی ورکنگ گروپ " Group on Arbitrary Detention " نے 2024 میں یہ قرار دیا کہ عمران خان کا ٹرائل انفیئر اور ان کی قید "Arbitrary " ہے اور ان کو فورا رہا کیا جائے -
4 . سیاسی جماعت کا گھیراؤ :
مورسی کی قید کے بعد ان کی جماعت "اخوان المسلمین " کو ملٹری اور عدالتی اعتاب کا نشانہ بنایا گیا - ہزاروں کارکن گرفتار ہویے - ملٹری کورٹ ٹرائل ہویے - 2014 میں اقوام متحدہ نے ایک کیس میں 529 قید کارکنوں کو ایک ہی ٹرائل میں سزا دینے پر شدید احتجاج کیا کہ یہ ٹرائل انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے ان فیئر تھے -
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ بھی ایسآ ہی سلوک کیا گیا - نو مئی اور 26 نومبر کو بنیاد بنا کر ہزاروں کارکن قید کیے گیے - ان کے ملٹری کورٹس میں "ماس ملٹری ٹرائل" ہویے جن کے بارے میں "انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹ" نے یہ قرار دیا کہ وہ ان فیئر اور عالمی سٹینڈرڈ کے منافی تھے -
5 . قید تنہائ: (solitary confinement )
قید کے دوران مورسی کو بہت برے حالات میں رکھا گیا - ان کو قید تنہائ (solitary confinement ) کا سامنا کرنا پڑا - ان کا جیل کا کمرہ بہت تنگ تھا جہاں بستر کا بھی مناسب انتظام نہی تھا -
عمران خان کے معاملے میں ان کے جیل کی تصویر سب دیکھ چکے ہیں - انتہائی چھوٹا کمرہ جس میں جو باتھ روم ساتھ ہے اس کی دیوار تک چھت سے متصل نہیں ہے - ان کو پچھلے نو ماہ تک اپنی بہنوں ، وکیلوں سے ملنے نہی دیا گیا ' بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی - یہاں تک کہ بقول عظمی خان کل ان کو یہ بھی اندازہ نہی تھا کہ یہ کونسا مہینہ چل رہا ہے -
6 . میڈیکل غفلت اور ذاتی ڈاکٹروں تک عدم رسائی :
مورسی کو قید میں میڈیکل کی سہولتوں سے محروم رکھا گیا تھا - یہاں تک لکھا جاتا ہے کہ مورسی کو شوگر کے علاج کیلئے کبھی انسولین لگائی جاتی اور کبھی نہ لگائی جاتی جس سے ان کی شوگر اس قدر بگڑگئی تھی کہ وہ ہائی شوگر کی وجہ سے بیہوش " (diabetic coma ) ہوجاتے تھے - اس غفلت کی وجہ سے مورسی کی بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی جس کو "diabetic retinopathy " کہا جاتا ہے - مورسی اپنے علاج کیلئے بار بار انڈیپنڈینٹ ڈاکٹروں کا مطالبہ کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان کے معاملے میں میڈیکل سہولتوں کا احوال زیادہ مختلف نہیں ہے - عمران خان کی ��یک آنکھ بلڈ کلاٹ کی وجہ سے اپنی بینائی کافی حد تک کھو چکی ہے (Central Retinal Vein Occlusion) - ان کو ہسپتال لیجانے کے عدالتی احکامات کا بھی جو تماشا لگایا گیا وہ سب کے سامنے ہے - جس طرح وہ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جس طرح اس مطالبے کی دھجیاں اڑائ گئی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے -
7 -ناروا رویے کی شکایت اور خدشے کا اظہار :
اس پورے معاملے میں جو سب سے زیادہ تشویشناک similarity ہے وہ یہ ہے کہ مورسی عدالتوں میں اپنی پیشیوں کے دوران اپنے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے فقدان کا بار بار ذکر کرتے تھے اور خود کو مار دیے جانے کے خدشے کا اظ��ار کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں - ججز سے ان کی بات چیت کبھی کسی کے سامنے نہیں آنے دی گئی کیوں کہ ان کی تمام سماعتیں جیل کے اندر ہوتی رہی ہیں - لیکن جب جب وہ اپنے خاندان سے ملے انہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا اور کل انہوں نے نام لیکر مورسی جیسے سلوک کی شکایت کی -
8 . ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ:
یہ بھی ایک اتفاق ہی ہوگا کہ مورسی کو سزا دینے والے جرنل سیسی آج کل امریکہ کے بہت فیوریٹ ہیں - حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو "پاوورفل فرینڈ " قرار دیا - عمران خان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کے ذمے دار پاکستانی آرمی چیف بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے "فیوریٹ فیلڈ مارشل " ہیں اور اب تک پینتیس دفعہ ان کی تعریف کر چکے ہیں -
جون 2019 میں جب مورسی ایک سماعت کے دوران جج کے سامنے اپنا بیان دے رہے تھے ' وہ بے ہوش ہو کر گرے اور کبھی دوبارہ نہی اٹھے - ان کی موت کو طبعی موت قرار دیا گیا - ہیومین رائٹس کمیشن نے ان کی موت کو سالوں تک کیے جانے والے solitary کنفاینمنٹ ' میڈیکل غفلت ' خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی کا نتیجہ قرار دیا - مصر کی حکومت نے اس موت کی تفتیش کیلئے ایک بورڈ بنایا جس کی رپورٹ آج تک سامنے نہی آئ-
یہ سب نکتے اس لئے اس تفصیل سے لکھے گیے کہ ہسٹری میں کچھ بھی نیا نہی ہوتا - چہرے اور نام بدلتے ہیں ' فاعل اور مفعول بدلتے ہیں پر رویے اور انتقام نہی بدلتے کہ ہر دور میں ایک جرنل سیسی ہوتا ہے' ایک مورسی ہوتا ہے اور ایک مصر کے عوام ہوتے ہیں -
کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ' مظلوم اور تماشائی ..اور شاید مصر اور ہم پاکستان کے عوام تیسری ذات ہیں ..!
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj @ImranRiazKhan @agentjay2009 @SabeeKazmi786 @soulful7867
"ایک تھا مورسی ' ایک ہے خان " (عمران خان اور محمد مورسی کے کیس میں مماثلت پر ایک تحقیقی کالم کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ، مظلوم اور تماشائی )
عمران خان کی بہنوں نے کل جو پریس کانفرنس کی اس کا سب سے تشویش ناک پہلو ان سے عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ "یہ جیل میں مجھے مصر کے محمد مورسی کی طرح ذہنی اور طبی ٹارچر کر رہے ہیں ' اور ان کا ارادہ اسی کی طرح مجھے مارنے کا ہے "
یہ جملہ پڑھ کر ہر پاکستانی کو تاریخ میں پیچھے جانا چاہیے یہ جاننے کیلئے محمد مورسی کون تھے - ان کے ساتھ مصر کے جرنل سسی نے کیا کیا تھا اور ان میں اور عمران خان کے کیسیز اور جیل میں کیا مماثلت ہے جس کی بنا پر عمرا�� خان کو ایسا بیان دینا پڑا- یاد رکھیں - عمران خان تاریخ کے بہت گہرے ریسرچر ہیں - اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو کچھ تو ہوگا جو بہت ملتا جلتا ہوگا - میں نے یہاں وہ تحقیق پوائنٹس میں لکھی ہے جو آپ کو یہ بتآئیگی کہ ہر دور میں ایک جرنل سسی رہا ہے جو ایک مورسی کو اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ بناتا رہا ہے -
محمد مورسی کون تھے؟
محمد مورسی پیشے کے لحاظ سے ایک انجنئیر تھے جنہوں نے امریکہ میں کیلی فورنیا سے ماسٹرز کی اور بہت عرصہ وہاں یونیورسٹی میں پروفیسر رہے - 2000 میں وہ مصر واپس آکر سیاسی جماعت "اخوان المسلمین " سے وابستہ ہوگیے -
2011 میں مصر کے بادشاہ حسنی مبارک کے خلاف ایک انقلاب شروع ہوا جس کو "عرب سپرنگ " بھی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مصر م��ں ساٹھ سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور پہلی دفعہ جمہوری انتخابات ہویے جن میں اخوان المسلمین بہت نمایا رہی - "اخوان المسلمین " کو مصر کی یوتھ کی بہت حمایت ہسایل تھی ��ور اسی یوتھ کی "اپریل 6 موومنٹ " نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے میں بہت اہم کردار ادا کیا - اس کے بعد مصر میں صدارتی انتخابات ہویے جن میں جیت کر جولائی 2012 کو محمد مورسی مصر کے پہلے جمہوری صدر بنے - لیکن ایک سال بعد ہی 2013 میں مصر کے آرمی چیف جرنل عبد الفتح سیسی نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جولائی 2013 کو ملک میں مارشل لا لگادیا جو ایک ہائبرڈ فارم میں آج تک وہاں موجود ہے - حکومت گرانے کے بعد مورسی کو جیل میں ڈالدیا گیا - ان کی جماعت اخوان المسلمین پر سیاسی کیسوں اور گرفتاریوں کے پہاڑ توڑے گیے - جیل میں مورسی کے ساتھ غیر انسانی رویوں اور سیاسی کیسوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو جون 2019 میں تب ختم ہوا جب ایک کورٹ سماعت کے دوران مورسی بیہوش ہو کر گرے اور جہاں فانی سے کوچ کر گیے اور رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر دفنایے گیے -
اب آتا ہوں ان نکات کی طرف جو عمران خان اور مورسی کے معاملے میں ایک جیسے ہیں :
1 . ملٹری کی مداخلت :
. مورسی اور عمران خان دونوں جمہوری ��ہنما تھے جن کو بعد میں ملٹری سے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے حکومت چھوڑنی پڑی- مورسی کی طرح عمران خان کے بھی ملٹری اسٹبلیشمنٹ سے تعلقات حکومت کے دو سال میں ہی خراب ہونا شروع ہوگیے تھے - مورسی کو ڈائریکٹ آرمی مارشل لا کے ذریے نکالا گیا اور عمران خان کو ایک آرمی سپورٹڈ عدم اعتماد کے ذریے حکومت سے بے دخل کیا گیا (جس کی گواہی مولانہ فضل ارحمن سمیت بہت سے سیاسی رہنما کھل عام دے چکے ہیں )-
2 . سیاسی کیسیز اور عدالتی اعتاب:
مورسی کے خلاف انتقام کیلئے عدلیہ کا استعمال کیا گیا - ان کے خلاف درجنوں کیس درج ہویے جن میں ایک میں ان کو بیس سال سزا ہوئی - ایک کیس میں ان کو سزاے موت دی گ��ی جو بعد میں کالعدم ہوگئی -
عمران خان کے خلاف بھی عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا - ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان پر سو سے زائد کیس کیے گیے جن میں ان کو کل 33 سال کی سزا دی گئی -
3 . انٹرنیشنل مذمت :
مورسی کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ نے یہ قرار دیا کہ ان کے کیس سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھے - یو این کے ورکنگ گروپ "UN Working Group on Arbitrary Detention نے 2013 میں مورسی کی سزا کو "Arbitrary " قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا -
عمران خان کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ کے اسی ورکنگ گروپ " Group on Arbitrary Detention " نے 2024 میں یہ قرار دیا کہ عمران خان کا ٹرائل انفیئر اور ان کی قید "Arbitrary " ہے اور ان کو فورا رہا کیا جائے -
4 . سیاسی جماعت کا گھیراؤ :
مورسی کی قید کے بعد ان کی جماعت "اخوان المسلمین " کو ملٹری اور عدالتی اعتاب کا نشانہ بنایا گیا - ہزاروں کارکن گرفتار ہویے - ملٹری کورٹ ٹرائل ہویے - 2014 میں اقوام متحدہ نے ایک کیس میں 529 قید کارکنوں کو ایک ہی ٹرائل میں سزا دینے پر شدید احتجاج کیا کہ یہ ٹرائل انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے ان فیئر تھے -
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ بھی ایسآ ہی سلوک کیا گیا - نو مئی اور 26 نومبر کو بنیاد بنا کر ہزاروں کارکن قید کیے گیے - ان کے ملٹری کورٹس میں "ماس ملٹری ٹرائل" ہویے جن کے بارے میں "انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹ" نے یہ قرار دیا کہ وہ ان فیئر اور عالمی سٹینڈرڈ کے منافی تھے -
5 . قید تنہائ: (solitary confinement )
قید کے دوران مورسی کو بہت برے حالات میں رکھا گیا - ان کو قید تنہائ (solitary confinement ) کا سامنا کرنا پڑا - ان کا جیل کا کمرہ بہت تنگ تھا جہاں بستر کا بھی مناسب انتظام نہی تھا -
عمران خان کے معاملے میں ان کے جیل کی تصویر سب دیکھ چکے ہیں - انتہائی چھوٹا کمرہ جس میں جو باتھ روم ساتھ ہے اس کی دیوار تک چھت سے متصل نہیں ہے - ان کو پچھلے نو ماہ تک اپنی بہنوں ، وکیلوں سے ملنے نہی دیا گیا ' بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی - یہاں تک کہ بقول عظمی خان کل ان کو یہ بھی اندازہ نہی تھا کہ یہ کونسا مہینہ چل رہا ہے -
6 . میڈیکل غفلت اور ذاتی ڈاکٹروں تک عدم رسائی :
مورسی کو قید میں میڈیکل کی سہولتوں سے محروم رکھا گیا تھا - یہاں تک لکھا جاتا ہے کہ مورسی کو شوگر کے علاج کیلئے کبھی انسولین لگائی جاتی اور کبھی نہ لگائی جاتی جس سے ان کی شوگر اس قدر بگڑگئی تھی کہ وہ ہائی شوگر کی وجہ سے بیہوش " (diabetic coma ) ہوجاتے تھے - اس غفلت کی وجہ سے مورسی کی بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی جس کو "diabetic retinopathy " کہا جاتا ہے - مورسی اپنے علاج کیلئے بار بار انڈیپنڈینٹ ڈاکٹروں کا مطالبہ کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان کے معاملے میں میڈیکل سہولتوں کا احوال زیادہ مختلف نہیں ہے - عمران خان کی ��یک آنکھ بلڈ کلاٹ کی وجہ سے اپنی بینائی کافی حد تک کھو چکی ہے (Central Retinal Vein Occlusion) - ان کو ہسپتال لیجانے کے عدالتی احکامات کا بھی جو تماشا لگایا گیا وہ سب کے سامنے ہے - جس طرح وہ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جس طرح اس مطالبے کی دھجیاں اڑائ گئی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے -
7 -ناروا رویے کی شکایت اور خدشے کا اظہار :
اس پورے معاملے میں جو سب سے زیادہ تشویشناک similarity ہے وہ یہ ہے کہ مورسی عدالتوں میں اپنی پیشیوں کے دوران اپنے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے فقدان کا بار بار ذکر کرتے تھے اور خود کو مار دیے جانے کے خدشے کا اظ��ار کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں - ججز سے ان کی بات چیت کبھی کسی کے سامنے نہیں آنے دی گئی کیوں کہ ان کی تمام سماعتیں جیل کے اندر ہوتی رہی ہیں - لیکن جب جب وہ اپنے خاندان سے ملے انہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا اور کل انہوں نے نام لیکر مورسی جیسے سلوک کی شکایت کی -
8 . ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ:
یہ بھی ایک اتفاق ہی ہوگا کہ مورسی کو سزا دینے والے جرنل سیسی آج کل امریکہ کے بہت فیوریٹ ہیں - حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو "پاوورفل فرینڈ " قرار دیا - عمران خان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کے ذمے دار پاکستانی آرمی چیف بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے "فیوریٹ فیلڈ مارشل " ہیں اور اب تک پینتیس دفعہ ان کی تعریف کر چکے ہیں -
جون 2019 میں جب مورسی ایک سماعت کے دوران جج کے سامنے اپنا بیان دے رہے تھے ' وہ بے ہوش ہو کر گرے اور کبھی دوبارہ نہی اٹھے - ان کی موت کو طبعی موت قرار دیا گیا - ہیومین رائٹس کمیشن نے ان کی موت کو سالوں تک کیے جانے والے solitary کنفاینمنٹ ' میڈیکل غفلت ' خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی کا نتیجہ قرار دیا - مصر کی حکومت نے اس موت کی تفتیش کیلئے ایک بورڈ بنایا جس کی رپورٹ آج تک سامنے نہی آئ-
یہ سب نکتے اس لئے اس تفصیل سے لکھے گیے کہ ہسٹری میں کچھ بھی نیا نہی ہوتا - چہرے اور نام بدلتے ہیں ' فاعل اور مفعول بدلتے ہیں پر رویے اور انتقام نہی بدلتے کہ ہر دور میں ایک جرنل سیسی ہوتا ہے' ایک مورسی ہوتا ہے اور ایک مصر کے عوام ہوتے ہیں -
کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ' مظلوم اور تماشائی ..اور شاید مصر اور ہم پاکستان کے عوام تیسری ذات ہیں ..!
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj @ImranRiazKhan @agentjay2009 @SabeeKazmi786 @soulful7867
"ایک تھا مورسی ' ایک ہے خان " (عمران خان اور محمد مورسی کے کیس میں مماثلت پر ایک تحقیقی کالم کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ، مظلوم اور تماشائی )
عمران خان کی بہنوں نے کل جو پریس کانفرنس کی اس کا سب سے تشویش ناک پہلو ان سے عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ "یہ جیل میں مجھے مصر کے محمد مورسی کی طرح ذہنی اور طبی ٹارچر کر رہے ہیں ' اور ان کا ارادہ اسی کی طرح مجھے مارنے کا ہے "
یہ جملہ پڑھ کر ہر پاکستانی کو تاریخ میں پیچھے جانا چاہیے یہ جاننے کیلئے محمد مورسی کون تھے - ان کے ساتھ مصر کے جرنل سسی نے کیا کیا تھا اور ان میں اور عمران خان کے کیسیز اور جیل میں کیا مماثلت ہے جس کی بنا پر عمرا�� خان کو ایسا بیان دینا پڑا- یاد رکھیں - عمران خان تاریخ کے بہت گہرے ریسرچر ہیں - اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو کچھ تو ہوگا جو بہت ملتا جلتا ہوگا - میں نے یہاں وہ تحقیق پوائنٹس میں لکھی ہے جو آپ کو یہ بتآئیگی کہ ہر دور میں ایک جرنل سسی رہا ہے جو ایک مورسی کو اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ بناتا رہا ہے -
محمد مورسی کون تھے؟
محمد مورسی پیشے کے لحاظ سے ایک انجنئیر تھے جنہوں نے امریکہ میں کیلی فورنیا سے ماسٹرز کی اور بہت عرصہ وہاں یونیورسٹی میں پروفیسر رہے - 2000 میں وہ مصر واپس آکر سیاسی جماعت "اخوان المسلمین " سے وابستہ ہوگیے -
2011 میں مصر کے بادشاہ حسنی مبارک کے خلاف ایک انقلاب شروع ہوا جس کو "عرب سپرنگ " بھی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مصر م��ں ساٹھ سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور پہلی دفعہ جمہوری انتخابات ہویے جن میں اخوان المسلمین بہت نمایا رہی - "اخوان المسلمین " کو مصر کی یوتھ کی بہت حمایت ہسایل تھی ��ور اسی یوتھ کی "اپریل 6 موومنٹ " نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے میں بہت اہم کردار ادا کیا - اس کے بعد مصر میں صدارتی انتخابات ہویے جن میں جیت کر جولائی 2012 کو محمد مورسی مصر کے پہلے جمہوری صدر بنے - لیکن ایک سال بعد ہی 2013 میں مصر کے آرمی چیف جرنل عبد الفتح سیسی نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جولائی 2013 کو ملک میں مارشل لا لگادیا جو ایک ہائبرڈ فارم میں آج تک وہاں موجود ہے - حکومت گرانے کے بعد مورسی کو جیل میں ڈالدیا گیا - ان کی جماعت اخوان المسلمین پر سیاسی کیسوں اور گرفتاریوں کے پہاڑ توڑے گیے - جیل میں مورسی کے ساتھ غیر انسانی رویوں اور سیاسی کیسوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو جون 2019 میں تب ختم ہوا جب ایک کورٹ سماعت کے دوران مورسی بیہوش ہو کر گرے اور جہاں فانی سے کوچ کر گیے اور رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر دفنایے گیے -
اب آتا ہوں ان نکات کی طرف جو عمران خان اور مورسی کے معاملے میں ایک جیسے ہیں :
1 . ملٹری کی مداخلت :
. مورسی اور عمران خان دونوں جمہوری ��ہنما تھے جن کو بعد میں ملٹری سے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے حکومت چھوڑنی پڑی- مورسی کی طرح عمران خان کے بھی ملٹری اسٹبلیشمنٹ سے تعلقات حکومت کے دو سال میں ہی خراب ہونا شروع ہوگیے تھے - مورسی کو ڈائریکٹ آرمی مارشل لا کے ذریے نکالا گیا اور عمران خان کو ایک آرمی سپورٹڈ عدم اعتماد کے ذریے حکومت سے بے دخل کیا گیا (جس کی گواہی مولانہ فضل ارحمن سمیت بہت سے سیاسی رہنما کھل عام دے چکے ہیں )-
2 . سیاسی کیسیز اور عدالتی اعتاب:
مورسی کے خلاف انتقام کیلئے عدلیہ کا استعمال کیا گیا - ان کے خلاف درجنوں کیس درج ہویے جن میں ایک میں ان کو بیس سال سزا ہوئی - ایک کیس میں ان کو سزاے موت دی گ��ی جو بعد میں کالعدم ہوگئی -
عمران خان کے خلاف بھی عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا - ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان پر سو سے زائد کیس کیے گیے جن میں ان کو کل 33 سال کی سزا دی گئی -
3 . انٹرنیشنل مذمت :
مورسی کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ نے یہ قرار دیا کہ ان کے کیس سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھے - یو این کے ورکنگ گروپ "UN Working Group on Arbitrary Detention نے 2013 میں مورسی کی سزا کو "Arbitrary " قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا -
عمران خان کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ کے اسی ورکنگ گروپ " Group on Arbitrary Detention " نے 2024 میں یہ قرار دیا کہ عمران خان کا ٹرائل انفیئر اور ان کی قید "Arbitrary " ہے اور ان کو فورا رہا کیا جائے -
4 . سیاسی جماعت کا گھیراؤ :
مورسی کی قید کے بعد ان کی جماعت "اخوان المسلمین " کو ملٹری اور عدالتی اعتاب کا نشانہ بنایا گیا - ہزاروں کارکن گرفتار ہویے - ملٹری کورٹ ٹرائل ہویے - 2014 میں اقوام متحدہ نے ایک کیس میں 529 قید کارکنوں کو ایک ہی ٹرائل میں سزا دینے پر شدید احتجاج کیا کہ یہ ٹرائل انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے ان فیئر تھے -
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ بھی ایسآ ہی سلوک کیا گیا - نو مئی اور 26 نومبر کو بنیاد بنا کر ہزاروں کارکن قید کیے گیے - ان کے ملٹری کورٹس میں "ماس ملٹری ٹرائل" ہویے جن کے بارے میں "انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹ" نے یہ قرار دیا کہ وہ ان فیئر اور عالمی سٹینڈرڈ کے منافی تھے -
5 . قید تنہائ: (solitary confinement )
قید کے دوران مورسی کو بہت برے حالات میں رکھا گیا - ان کو قید تنہائ (solitary confinement ) کا سامنا کرنا پڑا - ان کا جیل کا کمرہ بہت تنگ تھا جہاں بستر کا بھی مناسب انتظام نہی تھا -
عمران خان کے معاملے میں ان کے جیل کی تصویر سب دیکھ چکے ہیں - انتہائی چھوٹا کمرہ جس میں جو باتھ روم ساتھ ہے اس کی دیوار تک چھت سے متصل نہیں ہے - ان کو پچھلے نو ماہ تک اپنی بہنوں ، وکیلوں سے ملنے نہی دیا گیا ' بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی - یہاں تک کہ بقول عظمی خان کل ان کو یہ بھی اندازہ نہی تھا کہ یہ کونسا مہینہ چل رہا ہے -
6 . میڈیکل غفلت اور ذاتی ڈاکٹروں تک عدم رسائی :
مورسی کو قید میں میڈیکل کی سہولتوں سے محروم رکھا گیا تھا - یہاں تک لکھا جاتا ہے کہ مورسی کو شوگر کے علاج کیلئے کبھی انسولین لگائی جاتی اور کبھی نہ لگائی جاتی جس سے ان کی شوگر اس قدر بگڑگئی تھی کہ وہ ہائی شوگر کی وجہ سے بیہوش " (diabetic coma ) ہوجاتے تھے - اس غفلت کی وجہ سے مورسی کی بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی جس کو "diabetic retinopathy " کہا جاتا ہے - مورسی اپنے علاج کیلئے بار بار انڈیپنڈینٹ ڈاکٹروں کا مطالبہ کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان کے معاملے میں میڈیکل سہولتوں کا احوال زیادہ مختلف نہیں ہے - عمران خان کی ��یک آنکھ بلڈ کلاٹ کی وجہ سے اپنی بینائی کافی حد تک کھو چکی ہے (Central Retinal Vein Occlusion) - ان کو ہسپتال لیجانے کے عدالتی احکامات کا بھی جو تماشا لگایا گیا وہ سب کے سامنے ہے - جس طرح وہ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جس طرح اس مطالبے کی دھجیاں اڑائ گئی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے -
7 -ناروا رویے کی شکایت اور خدشے کا اظہار :
اس پورے معاملے میں جو سب سے زیادہ تشویشناک similarity ہے وہ یہ ہے کہ مورسی عدالتوں میں اپنی پیشیوں کے دوران اپنے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے فقدان کا بار بار ذکر کرتے تھے اور خود کو مار دیے جانے کے خدشے کا اظ��ار کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں - ججز سے ان کی بات چیت کبھی کسی کے سامنے نہیں آنے دی گئی کیوں کہ ان کی تمام سماعتیں جیل کے اندر ہوتی رہی ہیں - لیکن جب جب وہ اپنے خاندان سے ملے انہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا اور کل انہوں نے نام لیکر مورسی جیسے سلوک کی شکایت کی -
8 . ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ:
یہ بھی ایک اتفاق ہی ہوگا کہ مورسی کو سزا دینے والے جرنل سیسی آج کل امریکہ کے بہت فیوریٹ ہیں - حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو "پاوورفل فرینڈ " قرار دیا - عمران خان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کے ذمے دار پاکستانی آرمی چیف بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے "فیوریٹ فیلڈ مارشل " ہیں اور اب تک پینتیس دفعہ ان کی تعریف کر چکے ہیں -
جون 2019 میں جب مورسی ایک سماعت کے دوران جج کے سامنے اپنا بیان دے رہے تھے ' وہ بے ہوش ہو کر گرے اور کبھی دوبارہ نہی اٹھے - ان کی موت کو طبعی موت قرار دیا گیا - ہیومین رائٹس کمیشن نے ان کی موت کو سالوں تک کیے جانے والے solitary کنفاینمنٹ ' میڈیکل غفلت ' خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی کا نتیجہ قرار دیا - مصر کی حکومت نے اس موت کی تفتیش کیلئے ایک بورڈ بنایا جس کی رپورٹ آج تک سامنے نہی آئ-
یہ سب نکتے اس لئے اس تفصیل سے لکھے گیے کہ ہسٹری میں کچھ بھی نیا نہی ہوتا - چہرے اور نام بدلتے ہیں ' فاعل اور مفعول بدلتے ہیں پر رویے اور انتقام نہی بدلتے کہ ہر دور میں ایک جرنل سیسی ہوتا ہے' ایک مورسی ہوتا ہے اور ایک مصر کے عوام ہوتے ہیں -
کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ' مظلوم اور تماشائی ..اور شاید مصر اور ہم پاکستان کے عوام تیسری ذات ہیں ..!
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj @ImranRiazKhan @agentjay2009 @SabeeKazmi786 @soulful7867
"ایک تھا مورسی ' ایک ہے خان " (عمران خان اور محمد مورسی کے کیس میں مماثلت پر ایک تحقیقی کالم کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ، مظلوم اور تماشائی )
عمران خان کی بہنوں نے کل جو پریس کانفرنس کی اس کا سب سے تشویش ناک پہلو ان سے عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ "یہ جیل میں مجھے مصر کے محمد مورسی کی طرح ذہنی اور طبی ٹارچر کر رہے ہیں ' اور ان کا ارادہ اسی کی طرح مجھے مارنے کا ہے "
یہ جملہ پڑھ کر ہر پاکستانی کو تاریخ میں پیچھے جانا چاہیے یہ جاننے کیلئے محمد مورسی کون تھے - ان کے ساتھ مصر کے جرنل سسی نے کیا کیا تھا اور ان میں اور عمران خان کے کیسیز اور جیل میں کیا مماثلت ہے جس کی بنا پر عمرا�� خان کو ایسا بیان دینا پڑا- یاد رکھیں - عمران خان تاریخ کے بہت گہرے ریسرچر ہیں - اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو کچھ تو ہوگا جو بہت ملتا جلتا ہوگا - میں نے یہاں وہ تحقیق پوائنٹس میں لکھی ہے جو آپ کو یہ بتآئیگی کہ ہر دور میں ایک جرنل سسی رہا ہے جو ایک مورسی کو اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ بناتا رہا ہے -
محمد مورسی کون تھے؟
محمد مورسی پیشے کے لحاظ سے ایک انجنئیر تھے جنہوں نے امریکہ میں کیلی فورنیا سے ماسٹرز کی اور بہت عرصہ وہاں یونیورسٹی میں پروفیسر رہے - 2000 میں وہ مصر واپس آکر سیاسی جماعت "اخوان المسلمین " سے وابستہ ہوگیے -
2011 میں مصر کے بادشاہ حسنی مبارک کے خلاف ایک انقلاب شروع ہوا جس کو "عرب سپرنگ " بھی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مصر م��ں ساٹھ سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور پہلی دفعہ جمہوری انتخابات ہویے جن میں اخوان المسلمین بہت نمایا رہی - "اخوان المسلمین " کو مصر کی یوتھ کی بہت حمایت ہسایل تھی ��ور اسی یوتھ کی "اپریل 6 موومنٹ " نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے میں بہت اہم کردار ادا کیا - اس کے بعد مصر میں صدارتی انتخابات ہویے جن میں جیت کر جولائی 2012 کو محمد مورسی مصر کے پہلے جمہوری صدر بنے - لیکن ایک سال بعد ہی 2013 میں مصر کے آرمی چیف جرنل عبد الفتح سیسی نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جولائی 2013 کو ملک میں مارشل لا لگادیا جو ایک ہائبرڈ فارم میں آج تک وہاں موجود ہے - حکومت گرانے کے بعد مورسی کو جیل میں ڈالدیا گیا - ان کی جماعت اخوان المسلمین پر سیاسی کیسوں اور گرفتاریوں کے پہاڑ توڑے گیے - جیل میں مورسی کے ساتھ غیر انسانی رویوں اور سیاسی کیسوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو جون 2019 میں تب ختم ہوا جب ایک کورٹ سماعت کے دوران مورسی بیہوش ہو کر گرے اور جہاں فانی سے کوچ کر گیے اور رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر دفنایے گیے -
اب آتا ہوں ان نکات کی طرف جو عمران خان اور مورسی کے معاملے میں ایک جیسے ہیں :
1 . ملٹری کی مداخلت :
. مورسی اور عمران خان دونوں جمہوری ��ہنما تھے جن کو بعد میں ملٹری سے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے حکومت چھوڑنی پڑی- مورسی کی طرح عمران خان کے بھی ملٹری اسٹبلیشمنٹ سے تعلقات حکومت کے دو سال میں ہی خراب ہونا شروع ہوگیے تھے - مورسی کو ڈائریکٹ آرمی مارشل لا کے ذریے نکالا گیا اور عمران خان کو ایک آرمی سپورٹڈ عدم اعتماد کے ذریے حکومت سے بے دخل کیا گیا (جس کی گواہی مولانہ فضل ارحمن سمیت بہت سے سیاسی رہنما کھل عام دے چکے ہیں )-
2 . سیاسی کیسیز اور عدالتی اعتاب:
مورسی کے خلاف انتقام کیلئے عدلیہ کا استعمال کیا گیا - ان کے خلاف درجنوں کیس درج ہویے جن میں ایک میں ان کو بیس سال سزا ہوئی - ایک کیس میں ان کو سزاے موت دی گ��ی جو بعد میں کالعدم ہوگئی -
عمران خان کے خلاف بھی عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا - ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان پر سو سے زائد کیس کیے گیے جن میں ان کو کل 33 سال کی سزا دی گئی -
3 . انٹرنیشنل مذمت :
مورسی کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ نے یہ قرار دیا کہ ان کے کیس سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھے - یو این کے ورکنگ گروپ "UN Working Group on Arbitrary Detention نے 2013 میں مورسی کی سزا کو "Arbitrary " قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا -
عمران خان کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ کے اسی ورکنگ گروپ " Group on Arbitrary Detention " نے 2024 میں یہ قرار دیا کہ عمران خان کا ٹرائل انفیئر اور ان کی قید "Arbitrary " ہے اور ان کو فورا رہا کیا جائے -
4 . سیاسی جماعت کا گھیراؤ :
مورسی کی قید کے بعد ان کی جماعت "اخوان المسلمین " کو ملٹری اور عدالتی اعتاب کا نشانہ بنایا گیا - ہزاروں کارکن گرفتار ہویے - ملٹری کورٹ ٹرائل ہویے - 2014 میں اقوام متحدہ نے ایک کیس میں 529 قید کارکنوں کو ایک ہی ٹرائل میں سزا دینے پر شدید احتجاج کیا کہ یہ ٹرائل انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے ان فیئر تھے -
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ بھی ایسآ ہی سلوک کیا گیا - نو مئی اور 26 نومبر کو بنیاد بنا کر ہزاروں کارکن قید کیے گیے - ان کے ملٹری کورٹس میں "ماس ملٹری ٹرائل" ہویے جن کے بارے میں "انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹ" نے یہ قرار دیا کہ وہ ان فیئر اور عالمی سٹینڈرڈ کے منافی تھے -
5 . قید تنہائ: (solitary confinement )
قید کے دوران مورسی کو بہت برے حالات میں رکھا گیا - ان کو قید تنہائ (solitary confinement ) کا سامنا کرنا پڑا - ان کا جیل کا کمرہ بہت تنگ تھا جہاں بستر کا بھی مناسب انتظام نہی تھا -
عمران خان کے معاملے میں ان کے جیل کی تصویر سب دیکھ چکے ہیں - انتہائی چھوٹا کمرہ جس میں جو باتھ روم ساتھ ہے اس کی دیوار تک چھت سے متصل نہیں ہے - ان کو پچھلے نو ماہ تک اپنی بہنوں ، وکیلوں سے ملنے نہی دیا گیا ' بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی - یہاں تک کہ بقول عظمی خان کل ان کو یہ بھی اندازہ نہی تھا کہ یہ کونسا مہینہ چل رہا ہے -
6 . میڈیکل غفلت اور ذاتی ڈاکٹروں تک عدم رسائی :
مورسی کو قید میں میڈیکل کی سہولتوں سے محروم رکھا گیا تھا - یہاں تک لکھا جاتا ہے کہ مورسی کو شوگر کے علاج کیلئے کبھی انسولین لگائی جاتی اور کبھی نہ لگائی جاتی جس سے ان کی شوگر اس قدر بگڑگئی تھی کہ وہ ہائی شوگر کی وجہ سے بیہوش " (diabetic coma ) ہوجاتے تھے - اس غفلت کی وجہ سے مورسی کی بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی جس کو "diabetic retinopathy " کہا جاتا ہے - مورسی اپنے علاج کیلئے بار بار انڈیپنڈینٹ ڈاکٹروں کا مطالبہ کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان کے معاملے میں میڈیکل سہولتوں کا احوال زیادہ مختلف نہیں ہے - عمران خان کی ��یک آنکھ بلڈ کلاٹ کی وجہ سے اپنی بینائی کافی حد تک کھو چکی ہے (Central Retinal Vein Occlusion) - ان کو ہسپتال لیجانے کے عدالتی احکامات کا بھی جو تماشا لگایا گیا وہ سب کے سامنے ہے - جس طرح وہ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جس طرح اس مطالبے کی دھجیاں اڑائ گئی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے -
7 -ناروا رویے کی شکایت اور خدشے کا اظہار :
اس پورے معاملے میں جو سب سے زیادہ تشویشناک similarity ہے وہ یہ ہے کہ مورسی عدالتوں میں اپنی پیشیوں کے دوران اپنے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے فقدان کا بار بار ذکر کرتے تھے اور خود کو مار دیے جانے کے خدشے کا اظ��ار کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں - ججز سے ان کی بات چیت کبھی کسی کے سامنے نہیں آنے دی گئی کیوں کہ ان کی تمام سماعتیں جیل کے اندر ہوتی رہی ہیں - لیکن جب جب وہ اپنے خاندان سے ملے انہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا اور کل انہوں نے نام لیکر مورسی جیسے سلوک کی شکایت کی -
8 . ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ:
یہ بھی ایک اتفاق ہی ہوگا کہ مورسی کو سزا دینے والے جرنل سیسی آج کل امریکہ کے بہت فیوریٹ ہیں - حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو "پاوورفل فرینڈ " قرار دیا - عمران خان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کے ذمے دار پاکستانی آرمی چیف بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے "فیوریٹ فیلڈ مارشل " ہیں اور اب تک پینتیس دفعہ ان کی تعریف کر چکے ہیں -
جون 2019 میں جب مورسی ایک سماعت کے دوران جج کے سامنے اپنا بیان دے رہے تھے ' وہ بے ہوش ہو کر گرے اور کبھی دوبارہ نہی اٹھے - ان کی موت کو طبعی موت قرار دیا گیا - ہیومین رائٹس کمیشن نے ان کی موت کو سالوں تک کیے جانے والے solitary کنفاینمنٹ ' میڈیکل غفلت ' خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی کا نتیجہ قرار دیا - مصر کی حکومت نے اس موت کی تفتیش کیلئے ایک بورڈ بنایا جس کی رپورٹ آج تک سامنے نہی آئ-
یہ سب نکتے اس لئے اس تفصیل سے لکھے گیے کہ ہسٹری میں کچھ بھی نیا نہی ہوتا - چہرے اور نام بدلتے ہیں ' فاعل اور مفعول بدلتے ہیں پر رویے اور انتقام نہی بدلتے کہ ہر دور میں ایک جرنل سیسی ہوتا ہے' ایک مورسی ہوتا ہے اور ایک مصر کے عوام ہوتے ہیں -
کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ' مظلوم اور تماشائی ..اور شاید مصر اور ہم پاکستان کے عوام تیسری ذات ہیں ..!
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj @ImranRiazKhan @agentjay2009 @SabeeKazmi786 @soulful7867
"ایک تھا مورسی ' ایک ہے خان " (عمران خان اور محمد مورسی کے کیس میں مماثلت پر ایک تحقیقی کالم کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ، مظلوم اور تماشائی )
عمران خان کی بہنوں نے کل جو پریس کانفرنس کی اس کا سب سے تشویش ناک پہلو ان سے عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ "یہ جیل میں مجھے مصر کے محمد مورسی کی طرح ذہنی اور طبی ٹارچر کر رہے ہیں ' اور ان کا ارادہ اسی کی طرح مجھے مارنے کا ہے "
یہ جملہ پڑھ کر ہر پاکستانی کو تاریخ میں پیچھے جانا چاہیے یہ جاننے کیلئے محمد مورسی کون تھے - ان کے ساتھ مصر کے جرنل سسی نے کیا کیا تھا اور ان میں اور عمران خان کے کیسیز اور جیل میں کیا مماثلت ہے جس کی بنا پر عمرا�� خان کو ایسا بیان دینا پڑا- یاد رکھیں - عمران خان تاریخ کے بہت گہرے ریسرچر ہیں - اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو کچھ تو ہوگا جو بہت ملتا جلتا ہوگا - میں نے یہاں وہ تحقیق پوائنٹس میں لکھی ہے جو آپ کو یہ بتآئیگی کہ ہر دور میں ایک جرنل سسی رہا ہے جو ایک مورسی کو اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ بناتا رہا ہے -
محمد مورسی کون تھے؟
محمد مورسی پیشے کے لحاظ سے ایک انجنئیر تھے جنہوں نے امریکہ میں کیلی فورنیا سے ماسٹرز کی اور بہت عرصہ وہاں یونیورسٹی میں پروفیسر رہے - 2000 میں وہ مصر واپس آکر سیاسی جماعت "اخوان المسلمین " سے وابستہ ہوگیے -
2011 میں مصر کے بادشاہ حسنی مبارک کے خلاف ایک انقلاب شروع ہوا جس کو "عرب سپرنگ " بھی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مصر م��ں ساٹھ سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور پہلی دفعہ جمہوری انتخابات ہویے جن میں اخوان المسلمین بہت نمایا رہی - "اخوان المسلمین " کو مصر کی یوتھ کی بہت حمایت ہسایل تھی ��ور اسی یوتھ کی "اپریل 6 موومنٹ " نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے میں بہت اہم کردار ادا کیا - اس کے بعد مصر میں صدارتی انتخابات ہویے جن میں جیت کر جولائی 2012 کو محمد مورسی مصر کے پہلے جمہوری صدر بنے - لیکن ایک سال بعد ہی 2013 میں مصر کے آرمی چیف جرنل عبد الفتح سیسی نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جولائی 2013 کو ملک میں مارشل لا لگادیا جو ایک ہائبرڈ فارم میں آج تک وہاں موجود ہے - حکومت گرانے کے بعد مورسی کو جیل میں ڈالدیا گیا - ان کی جماعت اخوان المسلمین پر سیاسی کیسوں اور گرفتاریوں کے پہاڑ توڑے گیے - جیل میں مورسی کے ساتھ غیر انسانی رویوں اور سیاسی کیسوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو جون 2019 میں تب ختم ہوا جب ایک کورٹ سماعت کے دوران مورسی بیہوش ہو کر گرے اور جہاں فانی سے کوچ کر گیے اور رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر دفنایے گیے -
اب آتا ہوں ان نکات کی طرف جو عمران خان اور مورسی کے معاملے میں ایک جیسے ہیں :
1 . ملٹری کی مداخلت :
. مورسی اور عمران خان دونوں جمہوری ��ہنما تھے جن کو بعد میں ملٹری سے تعلقات میں خرابی کی وجہ سے حکومت چھوڑنی پڑی- مورسی کی طرح عمران خان کے بھی ملٹری اسٹبلیشمنٹ سے تعلقات حکومت کے دو سال میں ہی خراب ہونا شروع ہوگیے تھے - مورسی کو ڈائریکٹ آرمی مارشل لا کے ذریے نکالا گیا اور عمران خان کو ایک آرمی سپورٹڈ عدم اعتماد کے ذریے حکومت سے بے دخل کیا گیا (جس کی گواہی مولانہ فضل ارحمن سمیت بہت سے سیاسی رہنما کھل عام دے چکے ہیں )-
2 . سیاسی کیسیز اور عدالتی اعتاب:
مورسی کے خلاف انتقام کیلئے عدلیہ کا استعمال کیا گیا - ان کے خلاف درجنوں کیس درج ہویے جن میں ایک میں ان کو بیس سال سزا ہوئی - ایک کیس میں ان کو سزاے موت دی گ��ی جو بعد میں کالعدم ہوگئی -
عمران خان کے خلاف بھی عدلیہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا - ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان پر سو سے زائد کیس کیے گیے جن میں ان کو کل 33 سال کی سزا دی گئی -
3 . انٹرنیشنل مذمت :
مورسی کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ نے یہ قرار دیا کہ ان کے کیس سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھے - یو این کے ورکنگ گروپ "UN Working Group on Arbitrary Detention نے 2013 میں مورسی کی سزا کو "Arbitrary " قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا -
عمران خان کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ کے اسی ورکنگ گروپ " Group on Arbitrary Detention " نے 2024 میں یہ قرار دیا کہ عمران خان کا ٹرائل انفیئر اور ان کی قید "Arbitrary " ہے اور ان کو فورا رہا کیا جائے -
4 . سیاسی جماعت کا گھیراؤ :
مورسی کی قید کے بعد ان کی جماعت "اخوان المسلمین " کو ملٹری اور عدالتی اعتاب کا نشانہ بنایا گیا - ہزاروں کارکن گرفتار ہویے - ملٹری کورٹ ٹرائل ہویے - 2014 میں اقوام متحدہ نے ایک کیس میں 529 قید کارکنوں کو ایک ہی ٹرائل میں سزا دینے پر شدید احتجاج کیا کہ یہ ٹرائل انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے ان فیئر تھے -
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ بھی ایسآ ہی سلوک کیا گیا - نو مئی اور 26 نومبر کو بنیاد بنا کر ہزاروں کارکن قید کیے گیے - ان کے ملٹری کورٹس میں "ماس ملٹری ٹرائل" ہویے جن کے بارے میں "انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹ" نے یہ قرار دیا کہ وہ ان فیئر اور عالمی سٹینڈرڈ کے منافی تھے -
5 . قید تنہائ: (solitary confinement )
قید کے دوران مورسی کو بہت برے حالات میں رکھا گیا - ان کو قید تنہائ (solitary confinement ) کا سامنا کرنا پڑا - ان کا جیل کا کمرہ بہت تنگ تھا جہاں بستر کا بھی مناسب انتظام نہی تھا -
عمران خان کے معاملے میں ان کے جیل کی تصویر سب دیکھ چکے ہیں - انتہائی چھوٹا کمرہ جس میں جو باتھ روم ساتھ ہے اس کی دیوار تک چھت سے متصل نہیں ہے - ان کو پچھلے نو ماہ تک اپنی بہنوں ، وکیلوں سے ملنے نہی دیا گیا ' بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی - یہاں تک کہ بقول عظمی خان کل ان کو یہ بھی اندازہ نہی تھا کہ یہ کونسا مہینہ چل رہا ہے -
6 . میڈیکل غفلت اور ذاتی ڈاکٹروں تک عدم رسائی :
مورسی کو قید میں میڈیکل کی سہولتوں سے محروم رکھا گیا تھا - یہاں تک لکھا جاتا ہے کہ مورسی کو شوگر کے علاج کیلئے کبھی انسولین لگائی جاتی اور کبھی نہ لگائی جاتی جس سے ان کی شوگر اس قدر بگڑگئی تھی کہ وہ ہائی شوگر کی وجہ سے بیہوش " (diabetic coma ) ہوجاتے تھے - اس غفلت کی وجہ سے مورسی کی بائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی تھی جس کو "diabetic retinopathy " کہا جاتا ہے - مورسی اپنے علاج کیلئے بار بار انڈیپنڈینٹ ڈاکٹروں کا مطالبہ کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان کے معاملے میں میڈیکل سہولتوں کا احوال زیادہ مختلف نہیں ہے - عمران خان کی ��یک آنکھ بلڈ کلاٹ کی وجہ سے اپنی بینائی کافی حد تک کھو چکی ہے (Central Retinal Vein Occlusion) - ان کو ہسپتال لیجانے کے عدالتی احکامات کا بھی جو تماشا لگایا گیا وہ سب کے سامنے ہے - جس طرح وہ اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جس طرح اس مطالبے کی دھجیاں اڑائ گئی ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے -
7 -ناروا رویے کی شکایت اور خدشے کا اظہار :
اس پورے معاملے میں جو سب سے زیادہ تشویشناک similarity ہے وہ یہ ہے کہ مورسی عدالتوں میں اپنی پیشیوں کے دوران اپنے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے فقدان کا بار بار ذکر کرتے تھے اور خود کو مار دیے جانے کے خدشے کا اظ��ار کرتے تھے جس کو اگنور کیا گیا -
عمران خان بھی اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں - ججز سے ان کی بات چیت کبھی کسی کے سامنے نہیں آنے دی گئی کیوں کہ ان کی تمام سماعتیں جیل کے اندر ہوتی رہی ہیں - لیکن جب جب وہ اپنے خاندان سے ملے انہوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا اور کل انہوں نے نام لیکر مورسی جیسے سلوک کی شکایت کی -
8 . ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ:
یہ بھی ایک اتفاق ہی ہوگا کہ مورسی کو سزا دینے والے جرنل سیسی آج کل امریکہ کے بہت فیوریٹ ہیں - حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو "پاوورفل فرینڈ " قرار دیا - عمران خان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کے ذمے دار پاکستانی آرمی چیف بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے "فیوریٹ فیلڈ مارشل " ہیں اور اب تک پینتیس دفعہ ان کی تعریف کر چکے ہیں -
جون 2019 میں جب مورسی ایک سماعت کے دوران جج کے سامنے اپنا بیان دے رہے تھے ' وہ بے ہوش ہو کر گرے اور کبھی دوبارہ نہی اٹھے - ان کی موت کو طبعی موت قرار دیا گیا - ہیومین رائٹس کمیشن نے ان کی موت کو سالوں تک کیے جانے والے solitary کنفاینمنٹ ' میڈیکل غفلت ' خاندان سے ملاقاتوں پر پابندی کا نتیجہ قرار دیا - مصر کی حکومت نے اس موت کی تفتیش کیلئے ایک بورڈ بنایا جس کی رپورٹ آج تک سامنے نہی آئ-
یہ سب نکتے اس لئے اس تفصیل سے لکھے گیے کہ ہسٹری میں کچھ بھی نیا نہی ہوتا - چہرے اور نام بدلتے ہیں ' فاعل اور مفعول بدلتے ہیں پر رویے اور انتقام نہی بدلتے کہ ہر دور میں ایک جرنل سیسی ہوتا ہے' ایک مورسی ہوتا ہے اور ایک مصر کے عوام ہوتے ہیں -
کیوں کہ دنیا میں تین ہی ذاتیں ہیں - ظالم ' مظلوم اور تماشائی ..اور شاید مصر اور ہم پاکستان کے عوام تیسری ذات ہیں ..!
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj @ImranRiazKhan @agentjay2009 @SabeeKazmi786 @soulful7867