سریاب روڈ پر جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ معصوم شہریوں کی لاشیں سڑک پر انصاف کی منتظر ہیں، مگر ریاستی جبر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ عوام اور انسانی حقوق کے کارکنان سےگزارش ہے. اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں
#StopBalochGenocide@hrw@UN@AsadAToor
آج اگرمعصوم بلوچ بچوں کوگولیاں مار کر شہیدکیاگیاہے،تو سوچو، کل کواگرتم احتجاج کروگے،تو کیاتمہاری لاشیں بھی یوں ہی گریں گی؟ آج پرامن مظاہرین پر حملے ہو رہے ہیں، کل کو اگر تمہیں بولنے کی ضرورت پڑی، تو کیا تمہاری زبان بھی چھین لی جائے گی؟تو کی کیا یہ تمہاری ازادی پر بھی حملہ نہیں؟
ؔ ریاستِ پاکستان نے پُرامن مظاہرین پر بلا تفریق فائرنگ کر کے قیامت برپا کر دی ہے۔ کوئٹہ کے عوام اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں،شہیدوں کے لاشوں کے ہمراہ سریاب میں دھرنا دیا جارہا ہے ،عوام سریاب دھرنے میں جلد ازُ جلد پہنچے ،جبکہ سول اسپتال میں خون کی اشد ضرورت ہے۔
#StopBalochGenocide
جبری گمشدگیاں صرف لاپتہ افرادکانہیں ہماری اجتماعی یادداشت اورضمیرکابھی امتحان ہیں۔جواد،ابرار کو2 ماہ ہوگئے،علی اصغر، بلال، ضیاالرحمن، فضل الرحمن کو 1 ماہ،ناصرجان جسے2015 میں اٹھایاگیا2025میں پھر لاپتہ ہے۔دس سال بعد بھی سوال وہی ہےیہ لوگ جا کہاں رہے ہیں؟
#ReleaseQambraniBrothers
جبری گمشدہ قمبرانی خاندان کے افراد جواد ، ابرار ، علی اصغر ، ضیاالرحمن ، فضل الرحمن اور ناصر جان کی بازیابی کیلیےسوشل میڈیا کیمپین کامنعقد کرے گی، #ReleaseQambraniBrothers کے نام سےسوشل میڈیا ٹرینڈ شام آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک ہوگی، شرکت کرکے جبری گمشدہ افراد کی آواز بنیں
جبری گمشدہ قمبرانی خاندان کے افراد جواد ، ابرار ، علی اصغر ، ضیاالرحمن ، فضل الرحمن اور ناصر جان کی بازیابی کیلیےسوشل میڈیا کیمپین کامنعقد کرے گی، #ReleaseQambraniBrothers کے نام سےسوشل میڈیا ٹرینڈ شام آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک ہوگی، شرکت کرکے جبری گمشدہ افراد کی آواز بنیں۔
یہ کیساقانون ہےجورات کی تاریکی میں دروازےتوڑکر معزز شہریوں کو غائب کر دیتا ہے؟ میرے چچا ناصر قمبرانی کو دوسری بار جبری لاپتہ کر دیا گیا! نہ الزام، نہ مقدمہ، نہ صفائی کا حق! یاد رہے،پہلے ہی میرے بھائی جواد، کزن ابرار، اور اصغر، بلال، ضیاء، فضل قمبرانی لاپتہ ہیں۔ یہ ظلم کب رکے گا؟
میرے بھائی جواد قمبرانی کو 17 جنوری 2025 کو سیون شریف دربار سے جبراً لاپتہ کر دیا گیا۔ اس سے قبل 12 جولائی 2024 کو بھی کوئٹہ پولیس نے بلا جواز لاپتہ کیا تھا۔ گزشتہ تین دنوں سے جواد کی کوئی اطلاع نہیں مل رہی، جس سے ہمارا خاندان شدید پریشانی کا شکار ہے۔
چند دن پہلے میرے بھائی جواد قمبرانی اور کزن ابرار قمبرانی کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ جواد کو اس سے پہلے بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ ہم شدید تکلیف اور کرب سے گزر رہے ہیں۔ جواد اور ابرار سمیت تمام بلوچ مسنگ پرسنز کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
#ReleaseQambraniBrothers
جواد بلوچ اور اکبر بلوچ کے کچھ دوستوں کو بازیاب کردیا مگر یہ دونوں ابھی تک پولیس کی گرفت میں ہےاور ان پہ بدترین تشدود کیا جارہا ہے
#ReleaseJawabBaloch#ReleaseAkbarBaloch
ہمین پتا تھا کے بلوچستان مین جو فارم 47 کا عمل تھا اسکے پیچھے نہتے بے گناہ بلوچوں کی خون ریزی کا تماشا شامل ہے اور تم جسے لوگ بلوچ سماج مین گندے داغ سے بھی بدتر کی حیثیت رکھتے ہو شرم کا مقام ہے تمارے لیے کے تم نے بلوچ ماوں بہنوں پر ریاستی لشکر کشی کا اپنا گھٹیا جواز پیش کیا
عبدالطیف کی جبری گمشدگی کیخلاف لواحقین کا مستونگ لکپاس کےمقام پراحتجاج جاری۔
سب لوگوں سےدرخواست ہےہےعبدلطیف کےخاندان کاساتھ دیں اور احتجاج میں شریک ہوکر جبریگمشدگی و بلوچ نسل کشی کیخلاف اپنااہم کرداراداکریں۔
مزاہمت اپنی قومی بقاہ شناخت ،اپنی ماوں بہنوں کے پیاروں کی بازیابی کیلئے
#مستونگ
بلوچستان میں اپنے پیاروں کیلئے احتجاج روز کا معمول بن گیا ہے عید ہو یا کوئی اور مذہبی تہوار ہو بلوچ اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے سڑکوں پر احتجاج کرتے رہتے ہیں
#EndEnforcedDisappearances