No one will belive but this is reality.
This is how Pakistani security agencies and forces abducting and disappearing the people of Balochistan.
Thousands of Baloch has been illegally abducted and disappeared by Pakistani agencies and forces from Balochistan.
#StopBalochGenocide
جناب زرداری اور شریف صاحب، میں کبھی نہیں بھولوں گا جب مریم نواز اور فریال ترلپر کو سرِ عام رسوا کیا گیا، تب ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے۔ کیونکہ ہمارے لیے عزت سب سے پہلے ہے، اور عورتوں پر حملہ ہماری آخری حد ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کی عزت پر سیاست سے بالاتر ہو کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن آج میری بیٹیاں سڑکوں پر دوپٹے کے بغیر گھسیٹی جا رہی ہیں، اور آپ نہ کہ خاموش بنے بیٹھے ہیں بلکہ اس گناہ میں برابر شریک ہیں۔ میں یہ کبھی نہیں بھولوں گا — یہ ایک بلوچ کا وعدہ ہے
بیبرگ بلوچ پر ایف آئی آر کوئٹہ سول لائن تھانے کا ہے مگر اسے پہلے بجلی گھر تھانے میں رکھا گیا تھا جو کہ غیر قانونی ہے، پھر کل اسے غیر قانونی طور پر غائب کردیا گیا، آج جب اطلاع ملی کہ وہ کینٹ تھانہ میں ہیں تو اس نے ان کے بھائی اور دوست ضمانت کے پیپر سائن کروانے گئے تو نا صرف انہیں سائن لینے نہیں دیا گیا بلکہ انکے دوست کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
ماہرنگ بلوچ سے بھی ملاقات نہیں کرنے دی جارہی۔ آج بنچگور میں پروٹسٹ پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی ، کوئٹہ میں بائی پاس پر ہونے والی دھرنے کی کی جگہ کو پولیس گھیر لیا تھا جبکہ قمبرانی روڈ پر ہونے والے احتجاج پر ایک مرتبہ پھر فائرنگ کی گئی جس کے باعث ایک نوجوان زخمی ہوگیا۔
یہ ریاست کے جبر کے قصے ہیں سنیے اور مظلوم کے مستقبل کے ردعمل کے لیے تیار رہے
#NoToPakistansTyranny
Pakistan’s security forces once again open Fire in Quetta, Several Critically Injured
In Quetta’s Qambarani Road across Shehbaz Khan Chowk, security forces once again unleashed brutal violence against protesters. Several people have been critically injured as security forces continue their crackdown on peaceful demonstrators. The state’s repression is intensifying, stand with us against this tyranny.
#StopBalochGenocide
After pleading for 3-hours & threatening jail staff that I would go on a hunger strike outside if I wasn’t allowed to meet my sister @MahrangBaloch_ , I was finally permitted to see her but only for a couple of minutes.
My younger sister, Iqra, was not allowed to meet her.
When I met her, Dr. Mahrang looked strong, smiled, and conveyed this message: “Tell my nation to stay strong, continue their peaceful protests and marches for justice.
#ReleaseMahrangBaloch
ڈاکٹر ماہ رنگ اور کارکنان کی گرفتاری اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف کل پورے بلوچستان میں احتجاج کیا جائے گا۔
احتجاج کا سلوگن “No To Oppression, No To Pakistan’s Tyranny” ہوگا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
#StopBalochGenocide#MahrangBaloch
ڈاکٹر ماہ رنگ اور کارکنان کی گرفتاری اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف کل پورے بلوچستان میں احتجاج کیا جائے گا۔
احتجاج کا سلوگن “No To Oppression, No To Pakistan’s Tyranny” ہوگا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
#StopBalochGenocide
PAKISTAN: More than 38 hours since Mahrang Baloch's unlawful detention, she is still being denied access to her lawyers and family. There are also worrying reports of continued arbitrary arrests and detentions across Balochistan province.
Pakistani authorities must immediately release Mahrang Baloch and all others being detained for exercising their right to peaceful protest, and refrain from implicating Baloch activists in frivolous cases to unlawfully prolong their detention.
دھرنا ایک دفع پھر سبوتاژ ہوچکا ہے، پولیس کی جانب سے مسلسل فائرنگ و شیلنگ کی جارہی ہے، دھوے میں کچھ ظاہر نہیں ہورہا کے کتنے لوگ زخمی ہو چکے ہے عام عوام منتشر ہوچکی ہے مگر کچھ نقاب پوش افراد سول کپڑوں میں دکانیں جلا رہے ہیں فائرنگ کر رہے ہے۔
#StopBalochGenocide@amnestysasia
دھرنا ایک دفع پھر سبوتاژ ہوچکا ہے، پولیس کی جانب سے مسلسل فائرنگ و شیلنگ کی جارہی ہے، دھوے میں کچھ ظاہر نہیں ہورہا کے کتنے لوگ زخمی ہو چکے ہے عام عوام منتشر ہوچکی ہے مگر کچھ نقاب پوش افراد سول کپڑوں میں دکانیں جلا رہے ہیں فائرنگ کر رہے ہے
کوئٹہ انتظامیہ نے ہسپتال میں ایمرجنسی نافظ کردی ہے، پولیس کی بھاری نفری بلوچستان یونیورسٹی کی جانب سے ہماری طرف پیش قدمی کر رہی ہے، خدشہ کہ ایک بار پھر سے ہم فائرنگ کی جائے گی، ہم انسانی حقوق کے اداروں سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہے کہ وہ پاکستان کی اس بر بریت کو روکے
کوئٹہ انتظامیہ نے ہسپتال میں ایمرجنسی نافظ کردی ہے، پولیس کی بھاری نفری بلوچستان یونیورسٹی کی جانب سے ہماری طرف پیش قدمی کر رہی ہے، خدشہ کہ ایک بار پھر سے ہم فائرنگ کی جائے گی، ہم انسانی حقوق کے اداروں سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہے کہ وہ پاکستان کی اس بر بریت کو روکے