X has shown strong commitment to free speech globally. I request
@elonmusk@X
to ensure that opposition viewpoints in Pakistan are not silenced on this platform, as long as they follow X's rules. Free speech must apply to everyone. #FreeSpeech
پاکستان میں foreigner's کے ساتھ بدترین سلوک!
خاتون کو پہلے گھر میں بند کیا گیا, اسکے بعد اسلام آباد پولیس نے تشدد کیا, رضا ڈار کا معاملہ ختم نہیں ہؤا تھا کہ اب دوسری خاتون کے ساتھ زیادتی!!💔
نوجوان صحافی سید ذیشان عزیز سی سی ڈی اور پنجاب حکومت پر شدید برہم ۔
سی سی ڈی چکوال کی فائرنگ کا شکار ہو کر دم توڑنے والی معصوم بچی ہانیہ کے کیس میں نیا بھیانک اور شرمناک انکشاف کر ڈالا۔ اگر تو یہ سچ ہے تو یہ ظلم عظیم ہے ۔
پاکستان کے معروف صحافی سید ذیشان عزیز کے مطابق چکوال میں پچھلے ماہ 10 جون کو ایک انتہائی دلخراش اور سنگین واقعہ پیش آیا جہاں آسٹریلیا کی شہریت رکھنے والے ایک پاکستانی خاندان پر مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں ہانیہ نامی ایک معصوم بچی موقع پر ہی دم توڑ گئی جبکہ اس کے والد عدیل صاحب اور بھائی گولیوں کا شکار ہو کر شدید زخمی ہوئے۔
سید ذیشان عزیز نے اس واقعے سے جڑے مزید ہولناک حقائق آشکار کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ بچی کے والد نے ڈی پی او کو ایک باقاعدہ درخواست دی ہے جس میں پولیس کی بدنیتی اور سنگین ظلم کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔
عدیل صاحب کا پہلا بڑا اعتراض یہ ہے کہ پولیس نے ملزمان کو بچانے کے لیے مقدمے میں دانستہ طور پر قتل کی سخت دفعہ 302 کے بجائے حادثاتی موت کی معمولی دفعہ 322 لگائی ہے تاکہ قانون کی گرفت سے بچا جا سکے۔
صحافی کی رپورٹ کے مطابق اس کیس کا سب سے خوفناک پہلو وہ رویہ ہے جو ڈی ایچ کیو ہسپتال چکوال میں زخمی خاندان کے ساتھ اختیار کیا گیا۔
عدیل صاحب جب اپنی بیٹی کی لاش اور زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا زخمی بیٹے کو لے کر ہسپتال پہنچے تو وہاں خدمت کاؤنٹر پر موجود کانسٹیبل عتیق نے ان کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کی۔ بعد میں سب انسپکٹر احسن عبداللہ بھی وہاں پہنچ گیا اور ان دونوں اہلکاروں نے مل کر شدید دباؤ ڈالا کہ جب تک عدیل صاحب ایک سادے کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا نہیں لگائیں گے تب تک ان کے مرتے ہوئے بیٹے کو طبی امداد کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے نہیں دیا جائے گا۔
سید ذیشان عزیز بتاتے ہیں کہ بیٹی کی لاش سامنے ہونے اور بیٹے کی زندگی بچانے کی خاطر عدیل صاحب نے انتہائی مجبوری اور ذہنی کرب کی حالت میں اس سادے کاغذ پر اپنے دستخط اور انگوٹھے کا نشان ثبت کر دیے۔
صحافی زیشان عزیز نے انکشاف کیا کہیہ پولیس کی پرانی عادت بن چکی ہے کہ جب بھی وہ کسی کو ماورائے عدالت قتل کرتے ہیں تو لواحقین سے سادے کاغذات یا اسٹامپ پیپر پر انگوٹھے لگوا لیتے ہیں تاکہ بعد میں اپنی مرضی کی تحریر لکھ کر انہیں بلیک میل کیا جا سکے اور وہ عدالت نہ جا سکیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اس ظلم اور قتل و غارت کی پشت پناہی کر رہی ہیں ۔
"گجرات کے جس لڑکے کو فوت ہونے کے بعد باعزت بری کیا گیا جب جج نے اس کو سزا سنائی تھی وہ سٹریچر پر عدالت آیا تھا اور جج نے کہا تھا کہ سٹریچر پر لاؤ ، یہ جج نہ دنیا میں بچیں گے اور نہ اللہ کی عدالت سے بچیں گے جج کو چاہیے اس کے گھر والوں کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگے اور اپنے عہدے سے استعفی دے۔یہ جج انصاف نہیں کررہے ان کو لکھا ہوا حکم آتا اس پر عمل کرتے ان کو اللہ کا کوئی خوف نہیں ہے"۔
نورین خان نیازی
@Noreen_KhanPK
آج ایک عظیم خاتون کی برسی ہے جس کی خاطر شیخ مجیب ڈھاکہ میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا تھا اسی خاتون کو جنرل ایوب نے اپنی فوجی آمریت کو مضبوط کرنے کیلیے غدار اور سیکورٹی رسک قرار دیا تھا اس خاتون کی برسی ہے جس کے متعلق جب اسٹیبلیشمنٹ کے نور نظر بھٹو نےکہا تھا یہ شادی کیوں نہی کرتی تو اس جملے کو سن کر ایک برطانوی صحافی رو پڑا تھا کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس عورت پر الزام لگاتی ہے جسے یہ مادر ملت یعنی قوم کی ماں کہتی ہے، جس روز جنرل ایوب نے جب اسکو دھاندلی سے ہرایا تو اس وقت متحدہ پاکستان بھی ہارگیا .. فاطمہ جناح ملت کے پاسبان کی بہن جیت جاتی توپاکستان واقعی آج ایشین ٹائیگر ہوتا اس دھاندلی کی سزا آج تک پاکستان بھگت رہا ہے،،،
"A decomposing corpse Morally "
Mr Sohail Afridi
Why are you still ELFIE with chair ' when you can't do anything
For The Leader Imran Khan .
@SohailAfridiISF
20 سال پہلے ایک زلزلے نے ہزاروں گھر اُجاڑ دیے… مگر ایک باپ کی امید آج بھی زندہ ہے۔
8 اکتوبر 2005 کی صبح، مظفرآباد کی 10 سالہ معصوم بچی ارفع طارق بھی ہر روز کی طرح اپنا اسکول بیگ اٹھا کر گھر سے نکلی تھی۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ اس کی اپنے گھر والوں سے آخری ملاقات ثابت ہوگی۔
چند ہی لمحوں بعد زمین لرز اٹھی۔ عمارتیں گرنے لگیں، ہر طرف چیخ و پکار، گرد و غبار اور قیامت کا منظر تھا۔
ارفع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول مظفرآباد کی پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی۔
اس کی چند کلاس فیلوز، جو اس سانحے میں زندہ بچ گئیں، آج بھی یہ گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے ارفع کو اسکول کے باہر زخمی حالت میں دیکھا تھا۔ یعنی ارفع ملبے سے زندہ نکل آئی تھی…
لیکن اس کے بعد وہ کہاں گئی؟
یہ سوال آج بھی اس کے والد طارق محمود کی آنکھوں میں آنسو بن کر زندہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انہیں آج بھی اپنی بیٹی کے زندہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ ایک باپ کا دل اب بھی اسی امید کے ساتھ دھڑکتا ہے کہ شاید ایک دن دروازہ کھلے گا، اور برسوں پہلے بچھڑ جانے والی اس کی بیٹی اسے آواز دے گی۔
ارفع کی والدہ منور سلطانہ (بےبی) نے بھی بیٹی کی جدائی کا ہر دن ایک صدی کی طرح گزارا ہے۔ اس کی بہنیں گل افشاں (افشی) اور زنیرہ طارق بھی آج تک اپنی بہن کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
اگر ارفع زندہ ہے تو آج اس کی عمر تقریباً 31 سال ہوگی۔ ممکن ہے اسے اپنا بچپن یاد نہ ہو، اپنا نام بھی یاد نہ ہو، مگر شاید کوئی چہرہ، کوئی یاد، کوئی نشان اسے اس کے اپنے خاندان تک واپس لے آئے۔
میں آپ سب سے ایک درخواست کرتا ہوں۔
اس پوسٹ کو صرف پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
براہِ کرم اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کون جانتا ہے کہ یہ پوسٹ کس کی ٹائم لائن پر پہنچے، کون اسے پہچان لے، یا شاید ارفع خود ہی اسے دیکھ لے۔
ہم نے اللہ کے فضل سے برسوں بعد سینکڑوں بچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کے خاندانوں سے ملتے دیکھا ہے۔ اسی لیے میں آج بھی مایوس نہیں ہیں۔
شاید اگلی خوشخبری ارفع طارق کی ہو۔
اگر آپ کے پاس ارفع طارق کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہوں، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ لگیں، براہِ کرم فوراً رابطہ کریں۔
+923162529829
9 july 2026
#waliullahmaroof #MissingChild #Earthquake2005 #MissingSince2005 #Muzaffarabad
اگر پنجاب کے قوانین میں سابق ممبر صوبائی اسمبلی کو بھی "Blue Passport" دیا جاتا ہے تو یہ کتنا بڑا ظلم ہے- ایک بندہ جس کو عوام نے منتخب نہیں کیا اور نہ عوام چاہتی ہے تو اُسے کس چکر میں "Blue Passport" دیا جاتا ہے؟
ایک شخص جب ممبر نہیں ہے تو وہ کسی سہولت کا حقدار نہیں ہونا چاہیئے
میں کل شادی والے گھر کیوں گیا۔
مجھے پتا چلا بچی کا باپ پریشان ہے ایک زمیندار کی وجہ سے اس نے دو سال پہلے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا جس کو باپ نے انکار کر دیا۔
وجہ وہی 85 سال کا بزرگ 18 سال کی لڑکی سے ہمارے معاشرے میں شادی کرتا ہے تو صرف عیاشی کے لئے کرنا چاہتا ہے ۔ اس نے پیغام بھیجا تھا کے مین دیکھ لونگا شادی کیسے ہوتی ہے۔
پھر شادی ہو بھی گئی اور وہاں چڑیا نے پر نہین مارا۔
۔۔
اس ملاح باپ کی بڑی بیٹی کے ساتھ ایسا ہی حادثہ ہو چکا ہے دو سال پہلے اس پر الگ سے پوسٹ لکھوں گا کے لوگ کیسے درندے ہین غریب انسان کو بیٹی کی بربادی کے بعد بھی کیسے کیسے لوٹنے کے رستے نکال لیتے ہین۔
مین اس شخص کی زندگی کے بہت سارے پہلو سامنے نہین لا رہا ورنہ معاشرہ اپنے گریبان مین جھانکنے کے قابل نہین رہ جائے گا۔
۔۔
دوسری وجہ دلہن کے باپ کا کوئی قریبی رشتے دار موجود حیات نہین ہے ۔ تو ہر انسان ایسے موقع پر بار بار ہمت ہارتا ہے۔
میری موجودگی مین دو بار باپ نے منہ پر کپڑا رکھا اس کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں بار بار۔
پھر مین وہاں 3 لوگ چھوڑ کر ایا۔ ایک واجد کو جس نے دیگوں کا تمام کام ٹینٹ اور تمام گھر سے باہر کے کام سنبھال رکھے تھے۔ جو وڈیو مین بول رہا ہے۔
دوسرا اختر ماچھی اس کے ذمہ کھانا تقسیم کرنا اور روٹی کم نہ ہو جائے وہ سب انتظام تھا۔
پھر وہاں مین بندا جعفر موجود رہا بچی کی رخصتی تک ۔ تاکہ وہاں وہ دھمکی دینے والا کوئی آئے تو میری غیر موجودگی مین وہ خود اس کو سیدھا کرے اس کے دو بندے سائیڈ پر بیٹھے تھے تیار اگر کوئی آئے تو طبعیت فریش کرنے واسطے موقع پر۔
مین بول کر ایا تھا تھانہ کچہری مین دیکھ لوں گا تم لوگوں نے 17 کلومیٹر دور چنیوٹ روڈ تک بارات کو واپس پہنچا کر آنا ہے چاے جو ہو جائے۔
لوگ برے لوگوں سے برا سلوک رکھتے ہین لیکن مین ان سے پیار اس لئے کرتا ہون کے۔ جہاں یہ کسی کی مشکل مین مدد کرتے ہین اور کسی مئن اتنی ہمت نہین ہوتی۔
۔۔
تندور دیگیں اور تنبو کناتین صبح 6 بجے بندے چنگچئ 4 تھین جن پر لوڈ کر کے نکلے تھے ۔ رستے کی وجہ سے 9 بجے کے قریب 17 کلومیٹر کا رستہ طے ہوا جگہ جگہ چنگچی پھنسے ۔ ہر جگہ اردگرد موجود علاقے کے لوگ کام آئے۔
۔۔
ایک چیز کھانے مئن بڑھا دی۔ زردے کی دیگ۔ اس کی وجہ تھی دلہن کےباپ نے مجھ سے صبح سویرے بس اتنا بولا مہر علیانہ میرے جوڑے ہاتھ دیکھ لے کچھ میٹھا بھی کر دو میرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔
مین مجبور ہر گیا تھا اپنے سارے اصول اس ایک شادی کے لئے توڑ دئیے۔
۔۔
باپ نے ہمارا دیا سامان اپنے پاس واحد پڑی چیز جو سیلاب مین بچ گئی تھی 6 سال پرانی پیٹی ۔ مین سامان رکھ کر دے دیا۔
۔۔
کیسا باپ ہے۔
اب بیٹی کے رخصت ہو جانے کے بعد اس بندے کی جھونپڑی میں بس دو چارپائیان چند کھانے پکانے کے برتن 4 چائے والے کپ ایک نلکا پانی والا بچے ہین۔
۔۔
بارات آنے سے کچھ دیر پہلے شدید اندھیری شروع ہو گئی۔ بارات کے لوگ ویگن مین سے اتر کر ساتھ دھکے لگاتے رہے پھر بھی گھر سے ادھا کلومیٹر دور ویگن والا ڈرائیور جواب دے گیا اس سے آگے گاڑی لے جانا ممکن نہین۔
۔۔
پھر آندھی اور طوفان شروع ہوا ۔ کھانا کھانے کو جگہ نہ۔ بچئ نکاح ہوتے ہی لڑکی کو ویگن مین بیٹھا دیا گیا۔
دلہا دلہن نے کھانا وہاں بیٹھ کر کھایا۔
تنبو کناتین گر گئیں تیز بارش اور آندھی سے۔
باقی ماندہ لوگ جو جھونپڑی مین بیٹھے تھے خواتین بھی انہوں نے برستی بارش میں وہاں اوپر شاپر اور ٹینٹ اوپر ڈال کر جیسے تیسے بارش والا وقت نکالا۔
کھانا وہیں کھایا۔
۔۔
8 بجے بارات رخصت ہوئی ۔ کل اندھی اس قدر تیز تھی کے ہم خود کئی بار واپسی پر موٹر سائیکل سے گرتے گرتے بچے ۔ واجد کا رکشہ کی سیٹیں دور جا گرین ۔ شیشے ٹوٹ گئے ۔
اسکا نقصان آج پورا ہو جائے گا۔
۔۔
اس شادی نے باقی 153 شادیاں جو آج تک مین کروا چکا ہون سے بلکل الگ احساسات دئیے۔
گھر پہنچ کر دو نفل ادا کئے جب رخصتی ہو گئی مجھے فون ا گیا۔
نصیب رب لکھتا ہے ہم صرف محنت کر سکتے ہین ۔ نتائج کسی انسان کے ہاتھوں میں نہین ہین۔
۔۔
رخصتی کے وقت سے پہلے دلہن کے پانچ ہزار اس کو پہنچا دئیے اور دلہا کے واجد ہمارے بعد جب بارات آئی تک دے اس نے دلہا کے ہاتھ مین۔
لڑکا بھی ایک مستری کے ساتھ مزدوری کرتا ہے۔
کتنا کماتا ہو گا بس زندگی گزرنی ہے اس بچاروں نے۔
یہ دس ہزار ان کو کم سے کم 15 دن گھر پر رہنے کی ہمت دین گے ساتھ ۔ مزدوری پر جانے تک سہارا رہے گا ان کا۔
روٹی پانی کا۔
۔۔
کھانا بہت اچھا پکا ہوا تھا۔ اور میٹھا مین کھاتا نہیں مجھے شروع سے پسند نہین آج تک مین نے میٹھا دودھ تک نہین پیا تو وہ دوسرے ساتھیوں۔ مبشر اور خان نے بتایا کے اچھا بنا ہوا ہے۔
۔۔
دعا مین یاد رکھئیے گا جو ہمت تھی جو اوقات تھی وہ کیا ہے اس بندے کے واسطے
#SaqibAllyana
دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہونیوالے پولیس اہلکاروں کی لاشیں ایسے پہنچائی جارہی جیسے بوریوں میں ڈالے پر سامان پہنچایا جاتا ہے
یہ ہے خوشحالی اور ترقی کہ لاشوں کو ایمبولینس تک میسر نہیں
اصل منافق وہ ہیں جو علی امین گنڈاپور کی خان صاحب کی رہائی کے حوالے سے ناقص کارکردگی اور بھگوڑے ہونے پر تنقید کرتے تھے لیکن سہیل آفریدی کی ناقص کارکردگی، اڈیالہ جیل کے باہر سے بھگوڑے ہونے پر اور خان صاحب کی رہائی کی تحریک چلانے کے حوالے سے بار بار جھوٹ بولنے کے حوالے سے چپ ہیں۔
یہی سب سے بڑے منافق ہیں کیونکہ ان کو اِدھر سے مفاد مل رہا ہے۔
”ہم پی ٹی آئی آفیشل کا نہیں کہے رہے ،جو لوگ عمران خان کا آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ مینج کر رہے ہیں۔ آپ سب ان سے کہیں کہ عمران خان کا ٹویٹر اکاؤنٹ چلائیں۔ شاید آپ کی سن لیں۔”
@Aleema_KhanPK@ImranKhanPTI#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
بلوچستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے : ڈی جی آئی ایس پی آر
حضور تقصیر معاف ۔ آپ نیوز اینکر نہیں۔
بھارت ذمہ دار ہے تو آپ کا کام بھارت کی مشہوری نہیں اسکے خلاف ایکشن لینا ہے۔
"بھارت بھارت " سن سن کر ہمارے کان پک گئے اور آپکی جوابی کاروائی کی خبر کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے
گزشتہ دنوں ہری پور ہزارہ کی حطار اسٹیٹ میں سوئی گیس کی پائپ لائن پھٹنے سے جانی نقصان ہوئے ۔ خیبرپختونخوا حکومت نے متاثرین کے لیے مالی معاونت کرتے ہوئے تقریباً پانچ کروڑ کی رقم ادا کر دی
سنجیدہ معاملہ
بلوچستان میں دہشتگردی کے 3 واقعات میں 50 شہریوں کی شہادت کے بعد لواحقین نے اپنے پیاروں کی لاشوں پر فورسز کا سیکیورٹی کارڈ کھیلنے پر مزاحمت۔
تم سے نہ ہو پائے گا ہم اپنے جنازے دھرنے میں لیکر جائیں گے اور خود دفنائیں گے
@JimmyVirkk پاکستان کے سرکاری ملازمین خون چوسنے والی جونکیں ہیں جنہوں نے مراعات کے نام پر حرام خوری کی قانون سازی کروائی ہوئی ہے۔
لیکن ان مراعات کے باوجود بھی تنخواہوں سے ایسے گھر اور جائیدادیں نہیں بن سکتیں۔
یہ اسلام آباد کے چک شہزاد کا وہ فارم ہاؤس ہے جسے ایک طاقتور حکمران نے محض اینٹ اور پتھر سے نہیں، بلکہ اپنے اقتدار کے ارمانوں سے تعمیر کروایا تھا۔ یہ جنرل پرویز مشرف کے خوابوں کا وہ تاج محل تھا جہاں وہ اپنی اہلیہ صہبا کے ساتھ ایک شاہانہ ریٹائرڈ زندگی گزارنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن کاتبِ تقدیر کے فیصلے کچھ اور ہی تھے۔
اس محل نما گھر کی دیواریں بم پروف بنائی گئی تھیں، اس میں سوئمنگ پول، وسیع باغات، جاگنگ ٹریک اور قیمتی لکڑی کا ایسا کام تھا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں، حتیٰ کہ یہاں اپنا ٹرانسپورٹ سسٹم بھی موجود تھا۔
یہ ایک گھر نہیں، اپنے آپ میں ایک چھوٹی سی ریاست تھی، مگر قدرت کا کھیل دیکھیے کہ وہاں جنرل مشرف کو چند دن سکون سے رہنا بھی نصیب نہ ہوا۔
(سرائیکی وساخ کے فیس بک پیج سے)
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
انتہائی رنج و غم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان صاحب کے جلسوں کے ڈی جے،حمزہ خان بقضائے الٰہی انتقال کر گئے ہیں۔
میں اور حمزہ لاہور جیل اکھٹے رہے اور ابھی کچھ دن قبل ہائی کورٹ کے باہر بھی ملاقات ہوئی بہت دکھ ہوا حمزہ کی وفات کا سن کر