@Aadiiroy2 لوگوں کو نتائج سے مطمین کر سکتے ہیں نا کہ تعداد سے۔ جس صوبے کے لوگ اس کے وزیراعلئ سے مطمن ہیں اس کی پالیساں کامیاب ہیں۔ لوگوں کو پہلے اپنے پیٹ سے غرص ہوتا ہے
@KeepsamM بالکل ایک طرف مفت بجلی کے یو نٹس کسانوں کی فلاح کے لیے اقدامات اور دوسری طرف واسا کی گاڑیاں اور بیٹفیکیشن پر بےتحاشہ فنڈ خرچ۔ وہ پاگل ہی ہوگا جس کو سمجھ نھیں ائے گا کہ اس کے لیے کیا بہتر ہے اور ہاں پنجاب حکومت کا گیارہ ارب کا جہاز بھی یاد رکھو۔ ملکو
وزیراعظم شہباز شریف نے متنازعہ ٹیلی کام کے بل پر فوری طور پرگیارہ رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو تین دن میں اس کی متنازعہ شقوں کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
سینٹ یا قومی اسمبلی سے کوئی ایک بھی اپوزیشن ممبر اس کمیٹی کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے یہ حکومتی کمیٹی ہے لہذا اس میں اپوزیشن کے بندے نہیں ڈالے گئے۔
وزیراعظم کی کمیٹی میں وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ بھی شامل ہیں جنہوں نے بل بنایا اور اس کو vet کیا تھا۔ سیکرٹری انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی ضرار ہاشم خان کے علاوہ وفاقی وزیر احد چیمہ بھی اس کمیٹی میں شامل ہیں۔ نواز شریف دور کے سیکرٹری قانون بیرسٹر ظفراللہ بھی کمیٹی کے ممبر ہیں۔
@CMShehbaz@PalwashaKhan18@afnanullahkh@MIshaqDar50@sherryrehman@A_Qadir_Patel@naveedqamarmna@ShazaFK@AzamNazeerTarar@SyedAliZafar1@BarristerGohar