معید پیرزادہ صاحب تو ہمیشہ سے فرمائشی وی لاگز کرتے ہیں ، ہمیں تو پہلے سے معلوم تھا اب سب کو پتہ چل گیا ہے ، ایک زمانے میں یہ سینئر صحافی ہوّا کرتے تھے جن کو صحافت کے یہ آداب بھی نہیں پتہ کہ بغیر تحقیق کیے کچھ بھی بول دینا صحافت نہیں ، تھوڑی سی تحقیق بھی کر لیا کرے ، اگر میرا نام لے کر آپ کو ویوز ملتے ہیں اور اس پر ڈالر ملتے ہیں تو اللّٰہ آپ کے رزق کو مزید فروغ دے ۔ میں نے خان صاحب کی کسی بھی بہن کے پیچھے کوئی بھی بات نہیں کی ہے نا ہی مجھے ضرورت ہے ، کوئی اور بیانیہ بنائے ،میں نے صرف یہ کہا ہے کہ اس وقت ہر حال میں خان صاحب کی بہنوں میں سے کسی بھی بہن کی خان صاحب سے ملاقات ہونی چائیے ، اگر ایک ملاقات کی بھی آفر ہے تو بھی اویل کرنا چاہیے ، باقی خان صاحب پر چھوڑ دے ، ان کا جا کہ بتا دے کہ ہمیں اخری مرتبہ ملنے دیا گیا ہے سارے فیصلے وہ خود کر لینگے اور آگے کا بھی بتا دیںگے ۔ یہ وقت ضد کا نہیں مصلحت کا ہے اور ہمیں ہر حال میں خان صاحب سے ملاقات چاہیے کہ ہمیں پتہ چال سکے کے وہ کس حال میں ہے ، اور نورین نیازی صاحبہ سے قابل اعتبار کون ہوسکتا ہے ۔ ویسے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ خان صاحب سے جب سے ملاقات کی باتیں شروع ہوئی ہے ایک دم بہت سے لوگوں کو تکلیف کیوں شروع ہوگی ہے ؟ کون ہے جو نہیں چاہتا کہ خان صاحب اور بی بی صاحبہ سے ملاقات نا ہو ؟
میں اسپیس میں موجود ہوں۔
آئیے، آج میری بات بھی سن لیجیے۔
مجھے آپ کو وہ کہانی سنانی ہے جو پردے کے پیچھے چل رہی ہے۔
پی ٹی آئی میں کون کیا کر رہا ہے؟
کس کے کہنے پر کر رہا ہے؟
کون نظریے پر کھڑا ہے اور کون اشاروں پر چل رہا ہے؟
آج میری پارٹی سے بے دخلی کو پورا ایک سال ہو چکا ہے۔
ایک سال — جس میں بہت کچھ دیکھا، بہت کچھ سہا، اور بہت کچھ سمجھا۔
میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ میری بات پورے صبر اور دیانت سے سنیں۔
میں نام بھی لوں گا، کردار بھی بتاؤں گا، اور وہ حقائق بھی سامنے رکھوں گا جنہیں دبانے کی کوشش کی گئی۔
میری بے دخلی کوئی اصولی اختلاف کی سزا نہیں تھی، بلکہ سچ بولنے کی قیمت تھی۔
میں نے سوال اٹھائے — تو مجھے مسئلہ قرار دے دیا گیا۔
میں نے احتساب مانگا — تو مجھے غدار کہا گیا۔
میں نے کارکنوں کے حق کی بات کی — تو میرے خلاف مہم چلائی گئی۔
لیکن آج ایک سال بعد، میں پہلے سے زیادہ واضح ہوں۔
نہ میں نے نظریہ چھوڑا، نہ میں نے عمران خان کا ساتھ چھوڑا، نہ میں نے سچ کہنا چھوڑا۔
میں یہ بھی واضح کر دوں:
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی کو نکال دینے سے تاریخ بدل جاتی ہے، وہ غلط فہمی میں ہیں۔
کردار کو عہدے سے نہیں ناپا جاتا، بلکہ قربانی سے ناپا جاتا ہے۔
آج کی اسپیس میں میں صرف اپنا دفاع نہیں کروں گا،
بلکہ یہ بھی بتاؤں گا کہ پارٹی کے اندر اصل فیصلے کہاں ہوتے ہیں،
کس کے اشارے پر سوشل میڈیا حرکت میں آتا ہے،
اور کیوں اختلاف رائے کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔
اگر آپ سچ سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو رکیں۔
اگر صرف نعرے لگانے آئے ہیں تو دروازہ کھلا ہے۔
آج ایک سال بعد میں پورے اعتماد سے کہتا ہوں:
“مجھے نکالا گیا، مگر میں جھکا نہیں۔
مجھے بدنام کیا گیا، مگر میں بکا نہیں۔”
آئیے، میری کہانی سنیں —
اور پھر فیصلہ خود کریں کہ کون نظریے پر کھڑا ہے اور کون مفاد پر۔