کہا کرتا تھا
خان میرے ووٹ سے جیتے گا
مالکِ کائنات کو بات پسند آئی ہو گی اسی لیے تو الیکشن ڈے سے بہت پہلے بغیر بیلٹ پیپر کے بغیر پولنگ بُوتھ کے سب سے پہلا اور حتمی ووٹ اسی سے کاسٹ کروایا
کسی کی جرأت نہیں خون میں رنگے اس ووٹ پر کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض کرے
#ظل_شاہ_شھید
جن ہزاروں لوگوں پر مقدمات کا جنید اکبر نے بتایا ان پر مقدمات ختم کرنے کے بدلے بجٹ سرپلس رکھتے
ڈرون حملوں اور تیراہ جیسے آپریشنز پر پابندی کے عوض بجٹ میں سرپلس رکھتے
عمر چیمہ ، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری جیسے بزرگوں کی رہائی کے عوض سرپلس رکھتے
عمران خان سے ملاقاتوں اور علاج کے بدلے بجٹ میں سرپلس رکھا جاتا
سہیل آفریدی اور اسکے حواریوں نے اپنی حکومت کے بدلے بجٹ میں سرپلس رکھ دیا۔
دنیا بھر میں سیاسی قوت رکھنے والے لوگ بارگیننگ کرتے ہیں۔ جن کے پاس دینے کے لیے کچھ ہوتا ہے، وہ لین دین کے ذریعے اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ حاصل بھی کرتے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، کشمیریوں کو ہی دیکھ لیں۔ گزشتہ سال احتجاج کیا تو بدلے میں ایف آئی آرز ختم کروائیں، گرفتار کارکن رہا کروائے، سستی بجلی حاصل کی اور اپنے ترقیاتی مطالبات بھی منوا لیے۔
ادھر ہمارے وزیرِ اعلیٰ صاحب سرپلس بجٹ دینے پر تلے ہوئے ہیں، مگر بدلے میں نہ عمران خان کی ملاقاتیں بحال کروا پا رہے ہیں اور نہ ہی ان کے لیے بہتر طبی سہولیات حاصل کر پا رہے ہیں۔
نہ بارگیننگ کرنا آتی ہے، نہ حکومت
تین میٹر لمبائی
دو سو کلو وزن
کا پھلترو رکھنے والے بلیو وہیل نے بھی معذرت کر لی ہے
@pakistanwalli کے بھوسڑے کی خارش مٹانے سے
اب ایلون مسک سے بات کرنی پڑے گی اگر سپیس ایکس کا کوئی ریٹائرڈ راکٹ مل سکے تو😇
اکہتر کی تقریبِ پتلون اتروائی سے ہم نے بہت سیکھا ہے
اب ہمیں کبھی بھی کسی بھی جنگ کے بعد پتلونیں نہیں اتارنی پڑیں گی
ہم نے سپاہ کے لیے ایسی جنگی پتلون سلوا لی ہیں جس میں پچھواڑہ پہلے سے ہی عیاں (ایکسپوزڈ) ہو گا
عاصم منیر کی پالیسیاں ایک دن پاکستان توڑ دیں گی۔ جی اعوذ باللہ پڑھیں یا نعوذ باللہ اس سے قبل ایک اور شوقیہ فیلڈ مارشل ملک توڑنے کا سبب بن چکا ہے۔ مرض کی نشاندہی غداری نہیں۔
جنرل یحیٰ خان نے مجھے مرنے سے پہلے کال کر کے بتایا تھا کہ پاک فوج 1970 کی طرح صاف شفاف الیکشن کروانے والی غلطی دوبارہ نہیں کرے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج کو کھلے آسمان تلے پتلون اتروانے اور تشریف پر ڈنڈے کھانے کا کوئی شوق نہیں۔
حامد میر کی ڈائری سے
@Vesimeer@Cr1ckit@muqaddasbabar کوشر مغربی ملکوں کے حلال سے ذیادہ حلال ہے۔ یہودی جانور کو ذبح سے پہلے کرنٹ یا گولی نہیں مارنے دیتے۔ جبکہ مسلمان سٹن اور گولی وجے کو حلال کہہ کر کھاتے ہیں
آپ کے ہگنے موتنے کی مقدار پر بھی ٹیکس لگے گا ، آپ کی بچے پیدا کرنے کی رفتار پر بھی ٹیکس لگے گا۔ جب تک فوج آپ کے بے رحم ردعمل سے خوفزدہ ہوکر آئین ، قانون ، انصاف کی پناہ نہیں لے گی تب تک آپ کے حالات بہتر ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ موجودہ آئین ، اخلاقیات ، یا اللہ کے نام پر اٹھائے گئے حلف کی انہیں کوئی پرواہ نہیں۔
آپ کو بے غیرت، بزدل ، بے حس کہنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں۔ میں آپ ہم سب ایک ہی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، مجبور اور کمزور کلاس ، بے شعور اور منتشر کلاس۔لیکن اس وقت دنیا کا کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں جسے فوجی جرنیل چلا رہے ہوں اور وہ ترقی یافتہ بھی قرار پاتا ہو۔ آپ کی اکثریت کو یہ احساس ہوچکا۔بس ردعمل دینا باقی ہے۔
وہ بھی آئے گا اور ضرور آئے گا۔ آپ کو گھروں سے ، جھونپڑیوں سے ، شہروں اور دیہات سے ، بازاروں اور دفاتر سے نکلنا ہے۔ آپ نے ٹڈی دل کی طرح نکلنا ہے۔ آپ نے سونامی کی لہروں جیسے نکلنا ہے آپ نے پتھر کا جگر چیر کے نکلنا ہے۔ پاک فوج نے بہت سارے ناممکنات کو ممکن بنایا ہے۔ انہونیاں ہوتی چلی گئی ہیں۔ ایک انہونی بچی ہے ، یہ بھی ہوجائے گا۔
ماچھی پرستوں کی نئی کہانی سن لیں
اخے
ان مذاکرات سے جنرل عاصم منیر کی عالمی حمایت میں بہت اضافہ ہوگیا ہے لہذا پی ٹی آئی کو چاہیے کہ مزاحمت کی پالیسی ترک کر دے
بھائی یہ رجیم چینج ہوئی ہی غیر ملکی ایما پہ تھی ، جنرل باجوہ ہو یا جنرل عاصم ، پہلے دن سے ہی انکا سارا دارومدار غیر ملکی حمایت پہ تھا عوامی حمایت تو ایک لحظے کے لیے بھی نہین ملی۔
اور اسی بات کا ہی تو سارا جھگڑا ہے کہ پاکستان پہ حکومت پاکستانی عوام کے نمائندے نے کرنی ہے یا غیر ملکی نمائندے نے ؟
اگر اسی اصول پہ ہی سرنڈر کر دیں تو برطانوی غلامی بری تھی کیا ؟ وہ بلکہ زیادہ بہتر تھی عوام کو آج کی نسبت حقوق بھی زیادہ حاصل تھے اور خوش حال بھی تھے اور انصاف بھی ملتا تھا !
عمیر فاروق
دنیا کے سبھی اہم اخبارات ، دانشور اور حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے مذاکرات میں کتے کی نشاندہی کررہے ہیں۔
پس ثابت ہوا مذاکرات کامیاب کرنے ہیں تو کتے کو مذاکرات میں سے نکالنا ہوگا۔
عمران خان کے پسندیدہ پیغامات پر عمل کرنا اور ناپسندیدہ کو غیر واضح کہہ کر مکر جانا مائنس عمران خان ہے۔ اس صریح بدمعاشی پر ایک سوراخ میں سے ہاتھ ڈال کر دوسرے سے باہر نکال دینا یوتھیوں پر فرض ہے۔