یہ سب کچھ وفاق میں ہورہا تھاتو کیاپولیس بےخبرتھی؟ظاہری بات ہےکہ یہ ایک ایک دو روزکاکام تونہیں ہےمہینوں یاسالوں سےیہ دھندہ چل رہاہوگا۔
اسلام آباد ایف آئی اے ٹیم کاایف سیون میں چھاپہ ،چینی باشندوں سمیت پانچ افراد انسانی اعضاءکیس میں گرفتار کر لئے ،چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں تازہ، خشک اور پراسیس شدہ انسانی پلاسنٹا برآمد کرلیا ،پلاسنٹا پشاور راولپنڈی اور لاہور کے اسپتالوں سے جمع کیا جاتا تھا
پراسیس شدہ پلاسنٹا کو بھیڑ کے اعضاء ظاہر کر کے ویتنام سمیت دیگر ممالک میں بھیجتے تھے،پراسیس شدہ پلاسنٹا ادویات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا تھا،برآمد شدہ نمونے طبی معائنے کیلئے پمز ہسپتال بھجوا دیےگئے،ویلڈن ایف آئی اےٹیم۔
@ICT_Police@FIA_Agency
ایک ماں کی فریاد۔۔۔!!
میرا بیٹا فیصل ولد محمد فضل…
جب وہ صرف 15 سال کا تھا، 13 جون 1996 کو اپنے والد کی سختی سے دل برداشتہ ہوکر گھر سے نکلا…
اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
ہم اس وقت کراچی، سول اسپتال کے قریب رینبو سینٹر کے پاس رہتے تھے۔
بیٹا…
تمہارے جانے کے بعد میری زندگی وہیں رک گئی…
میں نے 1996 سے آج تک ایک بھی رات سکون سے نہیں سوئی۔
ہر دن، ہر رات، ہر دعا میں صرف تمہارا نام ہوتا ہے۔
آج بھی…
جب کسی انجان نمبر سے کال آتی ہے…
یا دروازے پر ہلکی سی دستک ہوتی ہے…
میرا دل دھڑک اٹھتا ہے…
کہ شاید میرا فیصل واپس آگیا ہے…
بیٹا…
اگر یہ پیغام تم تک پہنچ جائے تو بس ایک بار لوٹ آؤ…
میں تم سے کوئی سوال نہیں کروں گی…
کوئی شکوہ نہیں ہوگا…
بس تمہیں گلے لگا کر اپنی باقی زندگی گزار لوں گی۔
تمہارے بغیر میری دنیا ویران ہوچکی ہے…
دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل ہے
ایک ماں کے درد کو سمجھیں…
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں…
شاید کسی ایک شیئر سے یہ آواز فیصل تک پہنچ جائے…
کسی بھی اطلاع کے لیے واٹس ایپ کریں:
03162529829
تاریخ: 7 مئی 2026
#WaliullahMaroof
رات کے اوقات میں جھنگ سے گوجرہ انٹرچینج کی جانب سفر کرنے والے ہوشیار رہیں۔
گزشتہ دنوں رات کے وقت کھوئی اڈا کے قریب اس کار کی ونڈ اسکرین پر پرانا سڑا ہوا کالا انجن آئل پھینک کر روکنے کی کوشش کی گئی۔
کار ڈرائیور نے نہ ہی اس دوران گاڑی کو روکا اور نہ ہی کار کے وائیپر چلائے اور بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا
اس لئے رات کو ایسی سڑکوں پر سفر کرنے والے محتاط رہیں گاڑی کے شیشے بند رکھیں اور مشکوک حالات میں گاڑی نہ روکیں
🔦🔦🔦🔦🔦🔦
7 سال بعد جب ریپ کرنے والے نے مسکرا کر پوچھا بیٹی کیسی ہے تو ماں نے انصاف خود کر دیا
1998 میں اسپین کے شہر الیکانتے میں ایک 13 سالہ لڑکی کو اغوا کر کے چاقو کی نوک پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا زیادتی کرنے والا 63 سالہ انتونیو کوسمے کو 9 سال قید کی سزا سنائی گئی
7 سال بعد 2005 میں متاثرہ لڑکی کی ماں ماریا ڈیل کارمین گارسیا ایک بس اسٹاپ پر انتظار کر رہی تھی جب اس نے ایک آدمی کو اپنی طرف آتے دیکھا
تمہاری بیٹی کیسی ہے؟ اس آدمی نے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا
یہ اس کی بیٹی کا ریپسٹ تھا
انتونیو دن کے لیے رہائی پر باہر آیا ہوا تھا
جو کچھ ابھی ہوا اس پر غصے سے بھری ماریا قریبی دکان کی طرف بھاگی 1.5 لیٹر پیٹرول خریدا اور اس بار میں چلی گئی جہاں انتونیو ابھی داخل ہوا تھا
اس نے انتونیو کو سر سے پاؤں تک پیٹرول میں بھگو دیا اسے آگ لگا دی اور پیچھے کھڑے ہو کر سکون سے دیکھتی رہی جب اس کی بیٹی کا ریپسٹ اس کی آنکھوں کے سامنے جل کر مر گیا
ماریا کو انتقام کے اس عمل پر 9.5 سال قید کی سزا سنائی گئی لیکن 5.5 سال کی سزا کاٹنے کے بعد اسے 2018 میں رہا کر دیا گیا
آج وہ اپنی بیٹی سے دوبارہ ملنے کے بعد اسپین میں آزاد زندگی گزار رہی ہے
🚨پنجاب پولیس اور حکومت کی وحشیانہ درندگیلاہور کے تھانہ ڈیفنس میں ایک نوجوان کو تھانے میں لٹکا کر، اس کی بہن کے سامنے بے رحمانہ تشدد کیا گیا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں، بلکہ پنجاب پولیس اور موجودہ حکومت کی منظم درندگی کا ایک اور ثبوت ہے۔جہاں قانون کی حفاظت کا دعویٰ کرنے والے اہلکار خود ہی انسانیت کا قاتل بن جائیں، وہاں ریاست کی بنیاد ہی ڈگمگا جاتی ہے۔ بہن کے سامنے بھائی کو لٹکا کر مارنا، یہ درندگی نہیں تو کیا ہے
عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں جب مشال خان کو مار دیا گیا اور اسکی لاش کو اسکے گاؤں لایا گیا تو مساجد سے اعلانات ہوئے کہ مشال خان کا جنازہ کوئی نہیں پڑھائے گا نا ہی کوئی اس میں شرکت کرے گا کیونکہ وہ کا*فر ہے، مرتد ہے ۔ خوف اور ڈر کا ایک ماحول تھا ۔ لوگ خوف کے مارے گھروں میں دبکے ہوئے تھے اور مشال کی تدفین اور جنازے کیلئے چند ایک مٹھی بھر افراد ہی حاضر ہوسکے ۔ شنید تھی کہ مشتعل ہجوم مشال کے گھر پر حملہ کرکے اسکی مسخ شدہ لاش کو اور مسخ کرے گا ۔
ایسے میں جب شیرین یار یوسفزئی کو پتہ چلا تو کئی کلومیٹر دور واقع اپنے گاؤں سے وہ اپنی AK-47 بندوق سر عام کندھے پر رکھ کر مشال کے گاؤں آیا اور اسکے گھر والوں کو تسلی دی کہ آپکو کچھ نہیں ہونے دونگا، مشال خان کی نماز جنازہ بھی ہوگی اور باعزت تدفین بھی کی جائے گی ۔
پھر وہیں کھڑے ہوکر انہوں نے کچھ لڑکوں کو مشال کے گھر کے پہرے پر کھڑا کیا کہ کہیں کوئی گھر کی طرف آ نا جائے اور خود اپنی بندوق سمیت کھڑے ہوکر مشال خان کی نماز جنازہ اپنی نگرانی میں پڑھوائی ۔ ان صاحب کو بھی سلام ہے جنہوں نے ایسے ماحول میں آگے بڑھ کر مشال کی نماز جنازہ کی امامت کا رسک لیا ۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ کوئی صاحب تھے، جنکا نام ابھی یاد نہیں آرہا ۔
شیرین یار یوسفزئی سے بعد میں پوچھا گیا کہ آپکا تعلق تو خدائی خدمت گاروں کی تحریک سے ہے جو عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں، آپ کو اپنے نظریات کے خلاف جاکر اسلحہ کیوں اٹھانا پڑا ۔ شیرین یار لالا بولے کہ جو خوف، ڈر اور وحشت کا ماحول بنا دیا گیا تھا اسکا مقابلہ میں قلم اور کتاب سے نہیں کرسکتا تھا، اُس دن اگر مشال کو نماز جنازہ کے بغیر دفنا دیا جاتا تو انسانیت کا جنازہ نکل جاتا اور انسانیت کا جنازہ نا نکلے اس لئے مجھے اس دن اسلحہ اٹھانا پڑا ۔
شیرین یار یوسفزئی پرسوں گزر گئے ۔
خدا مغفرت کرے آمین ثم آمین یا رب العالمین
#پبلک_آگاہی_میسیج
ڈاکٹر گپتا کا کہناھےکہ
کینسر کوئی خطرناک مرض نہیں کینسر سےمرنا
انسان کیلئےشرم کا مقام ہے
وہ کیا حفاظتی اقدامات ہیں جنہیں اپنانےسے انسان کینسر سے محفوظ رہنے سکتاھے
129سیکنڈ کی ویڈیو کلپ ضرور ملاحظہ کیجیے
اپنے دوستوں اور عزیزوں کو بھی سینڈ کر دیجیے
خدارا 💔😢
شادی کے بعد اپنی بیٹیوں کو اکیلا مت چھوڑیں۔ آپ نے ان کا نکاح کیا ھے انہیں بیچا نہیں ھے ۔ اپنی بیٹی کو یقین دلائے کہ اگر یہ انسان جس سے تمہاری شادی کر رہے ہیں وہ کبھی اگر انسان سے جانور بنے تو والدین کے دل اور گھر کے دروازے تمہارے لئے ہمیشہ کھلے ہیں تم کبھی بھی واپس اپنے والدین کی پناہ میں آسکتی ھو۔
مرئی ھوئی بیٹی سے طلاق یافتہ مگر زندہ بیٹی ہر طرح سے نعمت ھے 🙏🏻😢💔💔
اگر والدین حیات نہیں تو بھائی سائبان بنیں مگر ان کو اکیلا مت چھوڑیں تاکہ پھر زندگی بھر پچھتانا نہ پڑے
رب الکریم ہر بیٹی، بہن کے نیک نصیب کرے
آمین ثمہ آمین 🙏🏻♥️
بلاسفیمی کھا گئی جوان کیسے کیسے۔
ظفر بھٹی کو 2012 میں توہینِ مذہب کے ایک جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ وہ اڈیالہ جیل میں قید رہے۔ دورانِ قید، نچلی عدالت نے انہیں سزائے موت، یعنی پھانسی، کا حکم سنایا۔ بعد میں ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور اکتوبر 2025 میں ان کی رہائی کا حکم دیا۔ یوں وہ 13 سال تک قید کی سختیاں جھیلنے کے بعد آزاد ہوئے۔ لیکن آزادی کے صرف دو دن بعد دل کی تکلیف کے باعث ان کا انتقال ہو گیا۔
13 سال کی قید، ایک جھوٹا مقدمہ، ایک کالعدم سزا، اور پھر رہائی کے فوراً بعد موت، یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ پورے نظام کے سوالوں کا نوحہ ہے۔ ایسے مقدمات اور سزائیں جب برسوں بعد غلط ثابت ہوں تو پیچھے صرف تباہ شدہ زندگیاں، اجڑے خاندان اور خاموش قبریں رہ جاتی ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر صرف ایک عدالتی خامی نہیں، انسانی سانحہ بن جاتی ہے۔ ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں بے گناہ لوگ برسوں جیلوں میں نہ سڑیں، اور جہاں جھوٹے مقدمات کا بوجھ عام شہری کی جان تک نہ پہنچے۔
سال 1992 کی بات ہے۔
منڈی بہاؤ الدین کے گاؤں چک شیر محمد کے چھوٹے سے ٹرین اسٹیشن پر چھ سات سالہ بچہ محمد سلیم ٹرین سے اترا اور اپنوں سے بچھڑ گیا۔
چند روز تک گاؤں والوں نے لاوارث گھومتا پھرتا دیکھ کر اسے گاوں والوں نے روکا اور پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا گم شدہ بچہ ہے۔
گاؤں کے ایک نیک دل انسان نے اپنے گھر ٹھہرایا اور محمد سلیم کے ورثاء کی تلاش شروع کی۔ اعلانات کروائے اخبارات میں اشتہار چلوائے جو آج تک محفوظ ہیں۔ہر طرح سے کوشش کی لیکن ورثاء کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
جنہوں نے اپنے پاس ٹھہرایا تھا ا لنہوں نے اپنا بیٹا بناکر رکھا،اور آج تک انکے پاس موجود ہے۔اب محمد سلیم بڑا ہوچکا ہے۔
ہمارا کام دیکھ کر ہم سے انکا رابطہ کیا ہے اور اپنوں کو ڈھونڈا چاہتے ہیں۔
اس وقت جو تفصیلات انکو یاد تھیں کچھ اس طرح سے بتائیں:
نام محمد سلیم،والد کا نام منیر، والدہ کا نام زاہدہ۔
ایک بھائی تھا جسکا نام محمد آصف اور بہن کا نام ثمینہ تھا۔
علاقے کا نام دروغہ والا/دروگہ والا کچھ اس طرح سے یاد ہے۔
گھر میں پنجابی بولتے تھے۔گھر ذاتی تھا۔
گھر کے قریب اینٹوں کا بھٹہ تھا والد اس بٹھے میں یا تو کام کرتے تھے یا مالک تھے یہ معلوم نہیں۔
بٹھے کے قریب ایک نہر بھی تھی۔
اسکے علاوہ انکو کچھ یاد نہیں۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ محمد سلیم کو اپنوں سے ملانے میں ہماری مدد کریں،اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں،آپکا ایک شئیر کسی گھرانے کو انکا لخت جگر لوٹانے کا باعث بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں
+923162529829
29 Dec 2025
#waliullahmaroof