عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔
Title: It Is Over
طاقتور بوڑھے مرد اور عورتیں جو اقتدار میں ہیں، ان کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل کو آپ جو کچھ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کچھ بھی نہیں خرید رہی۔ آپ سکولوں اور کالجوں میں جتنے بھی لیکچر اور سیمینارز کا اہتمام کر لیں، patriotism کو فروغ دینے کی کوشش کر لیں، یہ کام نہیں کر رہا۔ patriotism فطری طور پر آتا ہے جب برابر مواقع ہوں، مضبوط انفراسٹرکچر ہو اور موثر نظام موجود ہو۔ جب آپ اپنے لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کریں اور ان کے حقوق یقینی بنائیں تو آپ کو سکولوں کالجوں میں جا کر طلبہ کو یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کریں، وہ ویسے بھی کریں گے۔
نوجوان ذہن، جنریشن زیڈ، الفا، وہ بالکل جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آپ کی مسلسل کوششوں کے باوجود کہ آپ انہیں اپنا patriotism کا نقطہ نظر بیچیں، وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت، جو تھوڑی بہت تعلیم ہمارے پاس باقی ہے اس کی بدولت، آپ کی بہترین کوششوں کے باوجود کہ عوام کو جتنا ہو سکے ان پڑھ رکھا جائے، آپ ناکام ہو گئے۔ آپ ناکام ہو گئے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ کیا سوچیں، وہ خود سوچ رہے ہیں۔ شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز سے کہنے سے ڈرتے ہوں کیونکہ وہ سانس لینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن وہ آپ کے خود ساختہ نیکی اور فضیلت کے نقاب کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ طاقت سے اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن لوگوں کو آپ کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ سیکیورٹی کے بغیر گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، اگر یہ آپ کی عوام میں مقبولیت کے بارے میں نہیں بتاتا تو آپ کو چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
نوجوانوں نے کافی ہو گیا ہے اور کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا ہے کہ وہ طاقتوروں کو چیلنج نہیں کر سکتے، وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ بہت مثالی ہو گا اگر سوچیں کہ وہ کرپشن کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ وہ خاموشی سے نکل جائیں گے اور مڑ کر نہیں دیکھیں گے کیونکہ ان کے دوست جو بولے تھے، خاموش کر دیے گئے۔
لیکن بومرز کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ حکومت کے درمیان بہت بڑا خلیج ہے۔ کوئی مشترکہ بنیاد نہیں۔ جنریشن زیڈ تیز انٹرنیٹ چاہتی ہے، اقتدار والے مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ سستے سمارٹ فونز چاہتی ہے، بومرز ان پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ فری لانسنگ پر پابندیاں نرم چاہتی ہے، بومرز ریگولیشن بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی مشترکہ نکتہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بومرز ہار گئے ہیں۔
آپ جتنی جنگیں چاہیں کروا لیں، جنریشن زیڈ ان پر میمز بنا لے گی۔ مین سٹریم میڈیا کو سینسر کر لیں، جنریشن زیڈ Rumble، YouTube اور Discord جیسے پلیٹ فارمز پر چھلانگ لگا کر اپنی رائے دے گی۔ بومرز، اب آپ خیالات کو سینسر نہیں کر سکتے۔ وہ دن گئے جب آپ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے تھے۔ اب کوئی بے وقوف نہیں بن رہا۔ ہاں، ہمارے پاس لائبریریاں نہیں۔ ہاں، اپارٹمنٹ کرائے پر لینا افورڈ نہیں کر سکتے۔ ہاں، کار خریدنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ آپ کی محنتوں کی بدولت، جو معیشت ہمیں سونپی گئی ہے وہ آپ کے اخلاق سے بھی بدتر ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود ہم چلتے رہتے ہیں، کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس (جتنا میں ان سے نفرت کرتا ہوں) اور ڈبل پیٹی بیف برگرز میں تسلی ڈھونڈتے ہوئے۔ ہم گندے پانیوں میں تیرتے رہتے ہیں۔ ہم آپ کی ٹی وی پر تقریریں نہیں دیکھتے کیونکہ اکثر جو آپ کہتے ہیں وہ ہنسی کا سامان ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمارے پاس سٹینڈ اپ کامیڈی ہے، مین سٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟
وقت بدل رہا ہے اور جتنی جلدی آپ سمجھیں اتنا بہتر۔ لیکن آپ کو پرواہ بھی نہیں۔ آپ کے بچے باہر ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ کے پاس لامحدود طاقت ہے، آپ بہترین کھانے کھاتے اور صاف پانی پیتے ہیں، آپ کو پرواہ کیوں ہو گی؟
تب ہو گی جب آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی آپ کی سن نہیں رہا۔
جانتے ہیں کیوں؟
جنریشن زیڈ نے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں اور Spotify پیڈ ہے، اگر صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی تو آدھے کے پاس جانے کے وسائل ہوں گے، باقی آدھے آپ کو اپنا میوزک سنوائیں گے اور اچھے انداز میں نہیں۔
بومرز، ہم تنگ آ چکے ہیں ہم آپ کا بیانیہ اب نہیں خرید رہے یہ پرانا ہو چکا ہے۔
Author: ZORAIN NIZAMANI
سینیٹر مشتاق احمد 🚨
یہ اتنی بیغیرت حکومت ہے کہ دسمبر کی ٹھنڈی راتوں میں خواتین پر پانی پھینک کر تشدد کیا گیا۔ وہ اپنے بھائی کی رہائی کے جائز مطالبہ کر رہی ہیں