پاکستان کو سعودی دفاعی معاہدے پر نظرثانی کرتے ہوئے یہ ترمیم کریں چاہیے دفاعی تعاون صرف اسوقت (فعال) ہوگا جب غیر مسلم ممالک کی طرف سے سعودیہ پر حملہ کیا جائے۔اگر خدانخواستہ مسلم ممالک آپس میں لڑائی کریں، تو اس صورت میں یہ معاہدہ مکمل طور پر غیر فعال (Inactive) رہنا چاہیے
امریکہ کی طرف سے حملے یقینی ہیں جو بڑی جنگ کا پیش خیمہ تو نہیںہونگے ، لیکن امریکہ کو دنیا کے سامنے یہ کہنے کا موقع فراہم کریں کہ اس نے فیصلہ کن کارروائی کی ہے امریکہ کے لیے یہ معاملہ عسکری کے ساتھ سیاسی بقا فیس سیونگ کے لیے مجبوری بن چکا ہے، ایران پر ایک حملہ ناگزیر معلوم ہوتا ہے
پہلے نیتن یاہو سے تو جیت لو، ایران سے مذاکرات بعد کی بات ہے! ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے "مذاکرات" میں جیت صرف صیہونی طاقتوں کی ہوئی، جبکہ امریکی عوام کے حصے میں صرف نا کامی آئی۔ امریکی خارجہ پالیسی یرغمال بن چکی ہے۔
سیاست کا تماشہ دیکھیے: امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اہل تب ہوتا جب وہ نیتن یاہو کی گرفت سے آزاد ہوتا۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے گٹھ جوڑ نے ثابت کر دیا کہ صیہونی مفادات امریکی مفادات پر حاوی ہیں۔ اصل شکست امریکی عوام کی ہوئی ہے جن کے وسائل کسی اور کی جنگ کی نذر ہو رہے ہیں۔
اگر امریکن مذاکرات میں نیتن یاہو کے صہیونی مفادات کی بجائے امریکن عوام کے مفادات سامنے رکھتا تو مذاکرات ضرور کامیاب ہوتے اب امریکن عوام خود ٹرمپ حکومت سے حساب لیگی ایران حق اور نظریے پر کھڑا جسے انشاءاللہ کبھی شکست نہیں ہوگی
مذاکرات کے ایک طرف اہرانی جو اپنے وطن کی مٹی، اپنے نظریے اور اپنے شہدا کے خون کا سودا نہ کرنے نکلے ہیں، اور دوسرے امریکی جو عالمی امن کی آڑ میں صرف گریٹر اسرائیل کے خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش میں ہیں۔ ایرانی وفد کی ترجیح عوام اور وطن ہے، جبکہ امریکہ کا محور صرف صہیونی مفادات!
ہم نے 29 مارچ کو روز نیوز کے پروگرام Experit opinion میں بڑا واضح کہا تھا کہ پاکستان کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی ایسا ملک ہی نہیں جو امریکہ کی ایران سے جان چھڑائے فیس سیونگ" (Face Saving) دلوائے
اگر دعا کیلئے غیروں کی اجازت درکار ہو، تو وہ آزادی نہیں، "خوش فہمی" ہے۔ لیکن حق کا سورج طلوع ہو کر رہے گا، مگر تاریخ ان کی بزدلی کوفراموش نہیں کرے گی۔ مسلم حکمرانوں کی بزدلی کا عالم یہ ہے کہ وہ ایران لبننان فلسطین کی فتح ا امریکہ اسرائیل کی شکست کی دعا کرنے سے بھی ڈرتے ہیں
یہ جنگ تو ایران نے ہی جیتنی ہے اور گھٹنے امریکہ اسرائیل نے ہی ٹیکنے ہیں امریکہ جتنی جلدی ہوسکے سرنڈر کر دیے کیونکہ ایران ایک نظریہ ہے اور نظریے کو کبھی شکست نہیں ہوتی
ٹرمپ پاک بھارت جھڑپوں میں گرنے طیاروں کی ہر بار تعداد بڑھا دیتا ہے لیکن واضح نہیں بتاتا کہ کس ملک نے کس ملک کے طیارے گرائے ہیں ہمیں خطرہ ہے کہ جیسے ٹرمپ نے پاکستان پر ٹیرف 19 اور بھارت پر 18 فیضد لگایا ہوا ہے کہیں طیاروں کو بھی اسی تناسب سے دونوں کے حصے میں نہ ڈال دے
"Trump's 'Board of Peace' is essentially a 'Board of Protection' for Netanyahu and a 'Board of War' for Gaza. It is designed to safeguard the oppressor while suffocating the oppressed."
امریکہ ایران روس چیں اور افغانستان سے دوری اختیار کروانا چاہتا ہےاور اسرائیل کو تسلیم کروانا چاہتا ہے یاد رکھیں مسلم حکمران اپنی بادشاہتیں جعلی حکومتیں کرپشن اور منی لانڈرنگ بچانےاور سرکاری نوکر اپنی ایکسٹینشن کی خاطر ابراہیم کارڈز معاہدےپر دستخط کرکے اسرائیل کو تسیلم کریں گے ،
رجیم چینج کروا کر خالص کرپٹ امریکہ نواز حکومت لانے کے بڑے پانچ ایجنڈے تھے اور ہیں ، چین روس، ایران سے دوری اسرائیل اور بھارت کی جی حضوری ، یہ ڈیمانڈ تو دنیا کے بادشاہ جعلئ حکومتوں کے کرپٹ حکمران اور یا ایکسٹینشن لینے والے سرکاری ملازم ہی پوری کر سکتے ہیں
امریکہ نے ڈونلڈ لو سے ایک سائفر لکھوا کر اپنے پاکستان میں رجیم چینج کروانی جس کے 5 امپورٹڈ ایجنڈا تھے،، چین روس، ایران سے دوری اسرائیل اور بھارت کی جی حضوری یہ کہاں تک ہوتی ہے ا بات پوری ، کیونکہ کچھ بادشاہت، کچھ حکومت کچھ کو کرپشن اور کچھ کو نوکری بچانے کی ہے مجبوری
جدھر سے گزرو دھواں بچھا دو،*جہاں بھی پہنچو دھمال کر دو*تمھیں سیاست نے حق دیا ہے *ہری زمینوں کو لال کر دو*اپیل بھی تم،دلیل بھی تم،<گواہ بھی تم،وکیل بھی تم*جسے بھی چاہو حرام کہہ دو،*جسے چاہو حلال کر دو!'
ایک طرف اسرائیل فلسطین جنگ عروج پر اس دوران پاکستان میں پٹرول کا 40 روپے فی لیٹرسستا ہونا اور اس IMF کا جو دس روپے کی سبسڈے سے روک دے یہاں بیان تک نہ دے کیا واقع ہی بین الاقوامی منڈیوں میں ان دنوں اتنی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے روس یوکرائن جنگ میں تو اشیاء مہنگی ہوئی تھیں