پاکستان میں ہر سال فوجی جوان، پولیس اہلکار، سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اور عام شہری شہید ہوتے ہیں۔ ان تمام افراد نے ملک کے لیے اپنی جانوں اور مالی وسائل کی صورت میں قربانیاں دی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے دہشت گردی میں کمی لائی جائے،
دو قومی نظریہ کی واضح مثال ایک طرف خیبرپختونخوا پولیس کو رو رہی ہے کیونکہ
انکو قتل کیا جارہا اور دوسری طرف پنجاب پولیس جو خوشی سے ناچ رہے بس اتنا بتانا تھا😭
کیا آرمی چیف بنوں میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے جنازے میں گیا؟
کیا پختونخواہ پولیس کو بھی پاک فوج کی طرح تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ ملا تھا؟
جو مراعات اور سہولیات فوج میں دی جاتی ہیں وہ پولیس کو کیوں میسر نہیں؟
پاک فوج کے غلط فیصلوں کا خمیازہ پختونخواہ پولیس اور پاکستان کے عوام کیوں بھگت رہے ہیں؟
ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لیے آئی ایم ایف کا وفد آ رہا ہے۔ جنگ کے بہانے آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہو رہی ہیں۔ غلامی کا پھندا عوام کے گلے میں ڈال دیا گیا ہے۔ پیٹرول بھی 'قسطوں' کی ادائیگی کے لیے مہنگا ہو رہا ہے جو سفید پوش طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ اس سب کے دوران آرمی چیف عاصم منیر کی ترجیح اس کا نیا گلف اسٹریم جہاز رہا۔ قوم نے اپنے خون سے اس کی قیمت ادا کی۔
حکومت دن رات کفایت شعاری کے درس دے رہی ہے، جبکہ مریم نواز کی ترجیح بھی اُن کا جہاز رہا۔ یہ معیشت کا نمونہ تہہ ہوا ہے!
پاکستان میں بنیان المرصوص کو منانے والے اس حادثے پر کیسے چپ رہ سکتے ہیں؟ کل رات بنوں میں کے پی پولیس کے 29 جوان شہید ہوئے ۔ شرم کا مقام ہے۔ شرم کرو بے غیرتوں ۔