We don't know how you are, but we know this:
The One in whose Name you remain in the custody of the zalim, is with you.
No one can protect you better than Him. Allah Hoo.
Miss you!
#freeimrankhan
🚨اس شخص کا نام جنرل سرفراز ہیں
یہ کویٹہ میں آئی جی ایف سی اور کور کمانڈر بلوچستان رہا ہیں یہ دوران سروس کورکمانڈر ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہوگئے ۔ انہوں نے بطور سروس بلوچستان کے پشتون بلوچ عوام کے ساتھ تمام مسائل ٹیبل پر بیٹھ کر حل کیا اس کے دور میں بلوچستان میں دہشت گردی میں کافی کمی آئی اور اس نے بلوچستان کے غریب عوام کو روزگار فراہم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا تیل سے منسلک تمام غریب عوام کو ریلیف دیا کسی تاجر کو کسی صورت میں نقصان نہیں پہنچا یا حتیٰ کہ ایک بوڑھی عورت کے جوان بیٹے کو ایف سی نے شہید کیا معافی مانگنے کے لیے بوڑی عورت کے گھر تک گیا جب بھی کسی علاقے کا دورہ کرتا بزرگ لوگوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر بات چیت کرتا تھا اگر یہ بہادر شخص زندہ ہوتا تو اج لاوارث بلوچستان کا یہ حالات نہیں ہوتا یہ شخص اربوں روپے کے کرپشن کے بجائے سوکی روٹی کو ترجیح دیتاتھا
۵ اگست تک تحریک کو پیک پر لے جانے اور فیصلہ کن تحریک کے حوالے سے بدھ کے روز میٹنگ بلائی گئی ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس کو اک روزہ ایونٹ کے بجائے ایک فیصلہ کن تحریک کی طرف لے جائیں۔ انشاءاللہ آپ کے لائحہ عمل کے اعلان کے بعد میرے حلقے سمیت پوری قوم اپنے لیڈر کے لیے مزید بہتر انداز سے تیاریاں کرتے ہوئے نظر آئے گی، جس لیڈر کی وجہ سے ان کا امن ممکن ہوا، کسٹم ایکٹ کا خاتمہ ہوا اور زندگی میں خوشحالی آئی اور آج پھر ان پر جبر کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
میٹنگ میں اس نکتے کو بھی سامنے رکھیں کہ پختونخواہ کے جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا میں پہلے ہی میڈ اپ دہشت گردی سے حالات خراب ہوچکے ہیں اور اب مالاکنڈ ریجن میں سوات، دیر، بونیر ،شانگلہ میں وہی بیس بیس بندے جن کو باجوڑ سے سیلاب کے دنوں میں خصوصی روٹ لگا کر منتقل کیا گیا تھا (اس کی تفصیل میں پچھلے سال ٹویٹس اور پھر کتاب میں درج کر چکا ہوں) ان کو یکدم سےمتحرک کر دیا گیا ہے جس کے بعد ہی پچھلے ہفتے جھڑپ اور سی ٹی ڈی ڈرون گرانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ مہینوں نہیں، ہفتوں یا دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے اور اس دفعہ نہ صرف بیانیہ بنا کر دہشت گردی کا ملبہ آپ پر ڈالا جائے گا بلکہ ان لائے ہوئے لوگوں سے نشانہ بنوایا جائیگا۔ پھر سے سن لیجئے “آپ کو نشانے پر رکھا جائیگا”۔ ایسے حالات میں تحریک تو چھوڑیں پی ٹی آئی گھروں تک محدود ہوجائے گی۔ عوام کا نقصان تو ہوگا ہی آپ کو بھی اندازہ ہے کہ اس سے عمران خان کی زندگی مزید کتنے خطرات سے دوچار ہوگی جب ان کا مضبوط قلعہ اور کارکن بھی محصور اور محدود ہوجائے گا۔ میں نے اپنی غیر موجودگی میں جن کو امن کا پرچم حوالے کیا تھا وہ تیار ہیں، آپ یعنی قیادت و اراکین اسمبلی بھی امن پاسون کا انعقاد کریں کیونکہ امن کے دشمنوں کی پالیسیوں کو شکست اسی سے ہوگی۔
تیسرا نکتہ فوج عوام کو لشکر بنانے پر زور دے رہی ہے۔ ماضی میں امن کمیٹیز بنا کر ان کو عسکری سپورٹ دے کر ظلم کی داستانیں رقم کی گئیں۔امن کمیٹیز کی نشاندہی پر لوگوں کو فوج کے حوالے کیا جاتا رہا، گھر گرائے گئے۔ پھر پالیسی بدلی آباد کاری کا فیصلہ ہوا اور واپسی پر انہی امن کمیٹیز سے بدلہ لینے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ٹارگٹ کیلینگز کے واقعات اسی پالیسی کا خمیازہ ہے۔ آج پوری کی پوری قوم کو لشکر بنانے پر لگا کر ان کو لڑنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ جو لشکر کے خلاف ہوتا ہے یا انکار کرتا ہے ان پر چنگیز خان، ہلاکو خان بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ قوم امن پاسون کررہی تھی آپ گولیاں چلا رہے تھے، قوم آپ کو غلط پالیسی بتا رہی تھی، آپ غداری کے تمغے بانٹ رہے تھے دہشت گردی لانا آپ کی خواہش تھی تو قوم کیوں لشکر بنائے؟ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو پھیلایا گیا اب آپ قوم کو بندوق تھما کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہو؟
ڈرون حملوں پر مجرمانہ خاموشی،آپریشن پر خاموشی، ریڈیو پاکستان بلڈنگ، نو مئی کی رپورٹ اور زمہ داران کا تعین نہ کرنا وغیرہ پہلے ہی آپ پر سیاہ دھبہ ہے اب پی ٹی آئی کو صوبے میں کچلنے کے لیے انکے مد مقابل کھڑا کرکے عوام کو مزید اذیت دینے کا ارادہ ہے۔ اس لیے تمام تر تفصیلات کو دیکھتے ہوئے گزارش ہے کہ کل کی بلائی گئی میٹنگ میں ایک دن کا ایونٹ نہیں ایک تحریک کا پلان واضح کیجئے۔ محصور اور محدود ہونے سے قبل فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھیں۔