بانی و چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عید کے بعد تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا تھا۔پختونخواہ کے وہ نوجوان جو ایک سال بنی گالا اور زمان پارک کیمپ میں رہے اور ہر اہم ایکٹیویٹی کے موقع پر تمام تر جبر و فسطائیت کا مقابلہ کرتے ہوئے قافلوں کے لئے رستہ کلئیر کرتے ہیں انشاءاللہ ۶ اپریل کو ان جانثاران عمران خان کنوینشن کا انعقاد ہوگا۔
۱۱ اپریل کو سوات؛ اپنے حلقے کے گرینڈ جرگے سے دو نکاتی ایجنڈے؛ عمران خان، بشری بی بی سمیت قیادت و کارکنان کی رہائی اور امن کی بحالی پر تفصیلی بات کروں گا۔تحریک انصاف کے ہر احتجاج میں شامل نوجوان اور قافلے لانے والو کو بھی تیاری کا کہہ دیا ہے جیسے ہی جامع پلان سامنے آئے گا آپ کو عمل درآمد ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔
کراچی اور سندھ کے نوجوانو کو پارٹی سے مشاورت کے بعد ایک ہفتے میں پلان دینے کی ہدایت کی تھی، کل ان کا تفصیلی لائحہ عمل بھی موصول ہوجائیگا۔
بلوچستان کے تمام ساتھی پرامن احتجاج کرنے والے بلوچ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کو احتجاجی مارچ کا استقبال کرنے کی ہدایت جاری ہوچکی ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت بھی بلوچستان مارچ میں شریک ہوئی، عمران خان کے نظریے اور ہدایات کے مطابق قیادت اور کارکن انشاءاللہ ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے رہینگے۔
پنجاب جس طرح ۲۳ مارچ کو نکلا تھا اس سے واضح ہے کہ پنجاب کے کارکنان تیار ہیں اور خواتین جس طرح متحرک ہوکر ان کو لیڈ کر رہی ہیں ان کا یہ کردار مثالی اور قابلِ فخر ہے۔ نارتھ پنجاب کے نوجوانو کو فلیش پروٹیسٹ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے تحریک کے اگلے مرحلے کی تیاری پر فوکس رکھنے کا کہا ہے۔نارتھ پنجاب کے نوجوانو کے ساتھ تفصیلی لائحہ عمل طے شدہ پروگرام کے مطابق جمعے کو شئیر نہیں ہوسکا انشاءاللہ جلد اس پر بھی پیش رفت ہوگی۔
امن تحریک کے لئے بھی انشاءاللہ اگلے ہفتے پختونخواہ کے تمام قبیلوں کا جرگہ بلایا جائے گا۔میں نے امن تحریک کے تمام ساتھیوں کی مشاورت سے تحریک کے آغاز سے قبل جرگہ اس لئے بلایا کہ میں دو دفعہ کال دے چکا ہوں اور ہزاروں لوگ بھی نکلے، لیکن تحریک کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ بار بار کال کا انتظار کرنے کے بجائے گراونڈ پر موجود تمام قبیلے ذمہ داری لیتے ہوئے لیڈ کریں اسلئے فیصلہ یہی ہوا کہ جرگے میں ہی پورا لائحہ عمل واضح کر کے اسی دن سے تحریک کا آغاز ہو۔
انشاءاللہ
عمران خان کی سکیورٹی ہٹانے کے بعد گنڈا پور برادرز انکی فیملی اور بچوں تک پر کیسز بنا دیئے گئے۔ تاکہ وہ حفاظتی اقدامات کی بجائے اپنے معاملات میں الجھے رہیں۔ ایک شخص کی مخالفت میں پورے ملک سے دشمنی اچھی نہیں۔
عمران خان پر گولیاں چلیں ، رجیم چینج ہوا ،بشریٰ بیگم کی کردار کشی ہوئی ،اعظم سواتی ، ارشد شریف ،اس سب پرانکے منہ سے لفظ تک نہ نکلا۔آج جب ناچنے والیوں پر بات آئی تو یہ ناچوں کا ٹولا آ گیا ہمیں اخلاقیات سکھانے ، انکی مثال نیوٹرل جانور جیسی ہے خود کی دُم پر پاوں آئے تبھی بھونکنا ہے