🌹وعدے نبھا رہے ہیں 🌹
🌹نیا پاکستان بنا رہے ہیں 🌹
ماشاءالله قاضی بھائی آپ کی اور عوامی رابطہ کمیٹی کی یہ دن رات کی کوشش کی بدولت اور جناب اسد عمر صاحب کی عوام سے محبت ہے ۔ جو اسلام آباد کی 50 سال کی بدحالی کو ختم کررہے ہیں۔
@Asad_Umar@ImranKhanPTI@AliMughal666@AliAwanPTI
Richard Grenell a Global Ambassador A Global Force.
Thank you @realDonaldTrump for investing your trust in Ric, trust me he will bring more good to this world. @RichardGrenell
رجیم چینج آپریشن کی رات کچھ معتبر چہروں پر خوف کے گھمبیر سائے تھے۔ کچھ دیر قبل کی میٹنگ میں ہوئے فیصلے پر آنے والی کال کا حکم حاوی ہوچکا تھا۔ وزیر اعظم کو سرینڈر پر آمادہ کیا جارہا تھا۔ آئین، قانون کی پاسداری کے گذشتہ دعوی اتنے ہی حقیقت تھے جتنا کے ۷۷ سال سے اعلی جاہ کا غیر سیاسی ہونے کا بیان۔ اگلی شام عوام سڑکوں پر آگئی، عقابی روح پھر بیدار ہوگئی۔ ۲۵ مئی تک چہروں کے رنگ کھلتے بکھرتے ہی رہے۔ عمران خان کا حکم آتا شہر کے شہر سڑکوں پر ہوتے۔ پھر یوں ہوا کے ۲۵ مئی کا مارچ ۲۶ مئی کی صبح ختم ہوگیا، سیاہ سائے پھر منڈلانے لگے۔ آگے سر پر ضمنی انتخابات بھی تھے۔ آقاؤں نے پورا زور لگایا، ان کی کوششوں پر یقین محکم رکھنے والوں کے تجزیے بھی ان کی فتح کا اعلان کر رہے تھے۔ عوامی طاقت اور بہتر حکمتِ عملی سے ہم نے اپنا مینڈیٹ محفوظ کرلیا تو بجھے چہروں پر پھر چراغ روشن ہوگئے مگر اگست میں ڈاکٹر شہباز گل کی گرفتاری کے حالات اور ان پر ہونے والے بہیمانہ تشدد کی خبروں نے پھر یہ شمعیں معدوم کردیں۔ پارٹی کے کچھ خیرخواہوں نے ہمیں بھی گِل سے دور رہنے کی تنبیہہ کی تو دوسری جانب اپنے اور غیروں نے مل کر اُس کے ڈبل ایجنٹ ہونے کا بیانیہ بنانا شروع کردیا۔ باوجود ان سب بیانیوں کے ناصرف خان صاحب شہباز گِل کی تیمارداری کے لیے ہسپتال آئے بلکہ ان کے لیے ریلی بھی منعقد کی۔ خیر کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں، یہ اتار چڑھاؤ چلتا رہا۔ کبھی ہمارا پلڑا بھاری تو کبھی مدمقابل کا داؤ چل جاتا، ایسے ہی بنی گالہ کیمپ سے نکلتے ہوئے کچھ ”سرگرم“ رہنماؤں نے گھیر لیا، پوچھا کیا لگ رہا ہے؟ موسم کچھ بدلا بدلا سا نہیں ہے؟ میں نے کہا اپنی میٹنگز کا احوال بتانا چاہ رہے ہیں یا مستقبل کا حال جاننا مقصود ہے؟ کہا تمہارا اندازہ کیا ہے؟ میں نے کہا ٹرک کی بتی کے پیچھے مت لگو۔ نا ان کی گیدڑ بھبکیوں سے ناامید ہو، نا ان کی چکنی چپڑی باتوں سے کوئی امید باندھو۔ ان کی کیلکولیشن کے مطابق مستقبل کے منظرنامے میں عمران خان نہیں ہے۔ چہرے پھر لٹک گئے۔ کہا مگر عمران خان ان کی کیلکولیشنز کا محتاج نہیں ہے۔
پوچھنا تو بہت کچھ چاہتے تھے کہ ان کی خدائی پر ایمان کچھ اپنوں کو بھی کم نہ تھا مگر پوچھا فقط اتنا کہ کیسے؟
(اور اس کیسے کا جواب وہ جواب ہے جو میں آج بھی خود کو دیتا ہوں جب مجھے اپنا آپ بے بس محسوس ہونے لگتا ہے۔)
”جس شخص نے دنیاوی طاقتوں کو للکار کر اللہ کے پیغمبر (ص) سے محبت کا اقرار کیا۔ جس نے نبیوں کی سرزمین بیت المقدس کا مقدمہ لڑا۔ جو کشمیر سے لے کر افغانستان تک ہر مظلوم مسلمان کی آواز بنا۔ جس نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کے بیانیے کو نیست و نابود کیا۔ جو اپنی قوم کی اس وقت ڈھال بنا جب بیرونی ہر طاقت ان کے خون کی پیاسی اور اندرونی ہر طاقت ان کی قیمت لگانے کو تیار تھی۔ جس نے اللہ کے بندوں کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ان کی فلاح کو مقدم رکھا۔ ان کے وقار کی حفاظت کی۔اللہ ہی اس کی مدد کرے گا۔ اللہ اس کی مدد اس لیے کرے گا کہ اس نے ہر قدم پر صرف اللہ سے مدد مانگی ہے۔ اللہ اس کی مدد اس لیے کرے گا کہ اس نے یہ لڑائی صرف اور صرف اس کی خدائی کے بھروسے مول لی ہے اور اللہ اپنی کبریائی میں کوئی شراکت نہیں قبول کرتا۔ ہاں یہ لڑائی آسان نہیں ہونی، گِل آخری نہیں جس نے یہ سب سہا اوروں کو بھی سہنا ہوگا۔ جسم پہ جبر بھی اور روح پر زخم بھی!
میں آخری نہیں جس کے سر کی قیمت لگی اوروں کی بھی لگے گی۔ سب کا سب داؤ پہ لگے گا۔مگر سب سے کھٹن یہ سفر عمران خان کے لیے ہوگا کیونکہ ہم، ہم سفر سہی مگر اصل میں تو صراط مستقیم کا متلاشی وہ ہے اور صراط مستقیم پہ چلنا سہل کب رہا ہے؟
اب اس کو تو اپنی خواہش کی قیمت معلوم ہے، جس جس کو ساتھ چلنے کی خواہش ہے جگرا بڑا رکھے“۔
آپ سمجھ رہے ہوں گے یہ کہہ کر میں خود کو اور آپ کو ذمہ داری سے مبرا کررہا ہوں۔ میں ایسا نہیں کررہا۔ میں اپنے جواب میں سوال چھوڑ رہا ہوں اور جان کر چھوڑ رہا ہوں کیونکہ کچھ دن سے اندازہ ہورہا ہے کہ کم لکھے کو زیادہ پڑھنے کا ہنر سیکھنا آپ کے لیے بھی اب ضروری ہے۔
کل بروز جمعہ 11 اکتوبر عمران خان کی رہائی عدلیہ کی آزادی اور جمہوری نظام کی بحالی کے لئیے ملتان گھنٹہ گھر چوک پے پرامن احتجاج کیا جائے گا۔ میری درخواست ہے پاکستان تحریک انصاف کے لیڈران اور کارکنان اور بلعموم عوم اس احتجاج میں بھرپور شرکت کریں کیونکہ یہ بات عمران خان کی نہیں میری اور آپکی آنے والی نسلوں کی ہے۔
اس وقت ڈی چوک پہ شدید کریک ڈاؤن جاری ہے نہتے شہریوں پر سیدھے فائر مارے جا رہے ہیں اسلام آباد پولیس اور رینجرز پورے اسلام آباد اور ڈی چوک پر پھیلی ہوئی ہے
”میں اِسوقت اسلام آباد کی غیور عوام سے مُخاطب ہوں، آئین و قانون ہمیں پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ اگر آپ مُلک مین جاری زیادتیوں کے خلاف نہیں نکلیں گے تو کوفہ کسی جگہ کا نہیں، فلسفے کا نام ہے۔ عمران خان پہلے خود قربانی دے رہا ہے، آپ سے بعد میں مانگ رہا ہے۔ نکلیں پاکستان کیلئے اور یہاں آئے ہوئے مہمان مظاہرین کو کھانا، پانی فراہم کریں۔“
تنویر قاضی جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی اسلام آباد ریجن
#چلو_چلو_ڈی_چوک_چلو
مری روڈ راولپنڈی
مری روڈ پر آئی ایس ایف کے شاہینوں کا راج، صدر آئی ایس ایف اسلام آباد @Amjad_ISF کے ہمراہ کارکنان پولیس کی شیلنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے نعرےبازی کر رہے ہیں۔۔
#خان_کی_پُکار_پر_لبیک
آئین ترامیم کے لیے ووٹنگ ملتوی ہونے سے پی ٹی آئی کو وقت مل گیا ہے، اسے چاہیے کہ عدالتوں سے کل ہی پٹیشنز کے ذریعے پارلیمنٹ کے نامکمل ہونے اور اراکین کی کے غائب کیے جانے کا معاملہ اٹھائے
#NationalAssembly
@SHABAZGIL آئین ترامیم کے لیے ووٹنگ ملتوی ہونے سے پی ٹی آئی کو وقت مل گیا ہے، اسے چاہیے کہ عدالتوں سے کل ہی پٹیشنز کے ذریعے پارلیمنٹ کے نامکمل ہونے اور اراکین کی کے غائب کیے جانے کا معاملہ اٹھائے
@SHABAZGIL آئین ترامیم کے لیے ووٹنگ ملتوی ہونے سے پی ٹی آئی کو وقت مل گیا ہے، اسے چاہیے کہ عدالتوں سے کل ہی پٹیشنز کے ذریعے پارلیمنٹ کے نامکمل ہونے اور اراکین کی کے غائب کیے جانے کا معاملہ اٹھائے
@SHABAZGIL آئین ترامیم کے لیے ووٹنگ ملتوی ہونے سے پی ٹی آئی کو وقت مل گیا ہے، اسے چاہیے کہ عدالتوں سے کل ہی پٹیشنز کے ذریعے پارلیمنٹ کے نامکمل ہونے اور اراکین کی کے غائب کیے جانے کا معاملہ اٹھائے
@SHABAZGIL آئین ترامیم کے لیے ووٹنگ ملتوی ہونے سے پی ٹی آئی کو وقت مل گیا ہے، اسے چاہیے کہ عدالتوں سے کل ہی پٹیشنز کے ذریعے پارلیمنٹ کے نامکمل ہونے اور اراکین کی کے غائب کیے جانے کا معاملہ اٹھائے
I feel I am stuck in an old film where the baraat is not entering the house as the groom’s parents have now made their list of demands for jahez. Much tension on both sides while a group of extras is dancing blithely