پاکستانی ٹی وی چینلز پر ملازمین کا استحصال اور جگاڑ سسٹم
جیونیوز پر جو کچھ ہوا ، اس کا ایک خاص پس منظر ہے ۔۔ بدقسمتی سے پاکستان کے نیوز چینلز جس طریقے سے چلائے جارہے ہیں اس طریقے کو ''جگاڑ" کہتے ہیں ۔۔ جگاڑ پر چلنے والے بیشترچینلز کا زیادہ تر عملہ انتہائی کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہے ۔۔ سالانہ چھٹیاں، اوور ٹائم ، بونس ، جاب سکیورٹی ، ہیلتھ یا لائف انشورنس کا کوئی سسٹم نہیں ۔۔۔ ساتھ ہی انہی چینلز میں کچھ اینکرز خوب مال بھی بنارہے ہیں ۔۔ کچھ چینلز پر تو 3 ، 4 بڑے اینکرز کی تنخواہ اتنی ہے کہ وہ باقی تمام عملے کی تنخواہ ملا کر بھی اتنی نہیں بنتی ۔۔ نیوز رومز کا یہ معمول ہے کہ چوری چکاری کرکے کہیں سے بھی فوٹیج اٹھاتے ہیں ، متعلقہ ادارے کو کریڈٹ دئیے بغیر چلادیتے ہیں ، طاقتور حلقوں کی جانب سے آنے والی خبر میں اگر کوئی املا یا گرائمر کی غلطی ہے ، وہ بھی اسی طرح چلادی جاتی ہے ۔۔۔ ہر چینل کی یونیورسل آڈیٹوریل پالیسی ہے کہ جو اشتہار دے رہا ہے ، اس کی تعریفیں کرو، اس کی کوئی غلطی بھی نظرآئے تو آنکھیں بند کرلو ۔ ماضی میں ان چینلز میں کام کرنے والے کئی باصلاحیت افراد انہیں وجوہات کی بنا پر چینلز کی نوکری چھوڑ چکے ، پیچھے بچ جانے والے بھی چھوڑنا چاہتے ہیں مگر کوئی رستہ نہیں مل رہا ۔۔۔۔ ایسی صورتحال میں کون سی کوالٹی پروڈیوس ہوسکتی ہے؟
#pakistanitv
#pakmedia
In my column I argue that there is essentially no difference between Islamic and conventional banking. Both charge you fixed interest without risk-sharing. Arabic names for loan products doesn’t make you Islamic. https://t.co/2TjpM0k2UG
جناب مرزا شھزاد اکبر صاحب !
امید ھے آپ خیریت سے ھونگے
محترمی ! میں کسی بھی عوامی نمائیندے کو جیل میں ڈالنے یا اسکے کسی بھی علاقے میں جانے پر پابندی لگانے کو یکسر غلط سمجھتا ھوں اور آپکے ایک ساتھی کی علاقہ بدری کی مذمت اپنے فیس بک آفیشل پیج پر پہلے ھی کر چکا ھوں ،
برا نہ مانیں تو عرض کروں کہ مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کا طعنہ دینے کا حق کم از کم آپکو بالکل بھی حاصل نہیں کہ یہ آپ ھی کے لگاۓ ھوۓ کانٹے دار پودے ھیں جو اب درخت بن گئے ھیں اور کڑوا پھل اب آپکو بھی کھانا پڑ رھا ھے ،کاش ایسا نہ ھوتا
آپکو یاد ھو گا کہ میں اور میرا بھائ طویل عرصہ تک ناحق آپکے قیدی رھے ھیں ، لیکن کوئ بات نہیں وقت گزر گیا ، وقت کا ظالم پہیہ رواں رھتا ھے ، ھم اپنی غلطیوں اور تجربات سے سیکھنے کو تیار نہیں ۔
میں اللّٰہ کریم کا شکر گزار ھوں کہ کبھی کسی مارشل لائ یا ھائ برڈ بندوبست کا بینیفشری نہیں بنا نہ ھی ایسا کوئ ارادہ ھے ،
میں الحمد للّٰہ اپنی حد تک ایک جمہوری کارکن ھوں اور اپنے اس رویے کی قیمت ھمیشہ ادا کرتا رھا ھوں ،
اللّٰہ کی امان ۔۔ سعد رفیق
گوجرانوالہ میں میٹرو بس کا غیرضروری منصوبہ منسوخ کریں، کنٹریکٹر کو 1 ارب بھی دینا پڑے تو دیں، مقروض قوم کا 99 ارب روپیہ بچائیں۔ سابق MNA ڈاکٹر نثار احمد چیمہ
https://t.co/tGQb4opKQw
کیس اپڈیٹ!
ڈی پی او صاحب نے ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ کو چاند رات کو میرے کیس کی تفتیش خود کرنے کا حکم دیا آج ایس پی آفس بلوایا گیا جو میرے گھر سے دو گھنٹے دور ہے وہاں پہنچی تو نہ ایس پی صاحب موجود تھے نہ میرے مجرمان ۔ دو گھنٹے بیٹھ کر بےبسی سے واپسی کی راہ لی اور پھر دو گھنٹے کا سفر کر کے گھر آ گئی
چاند رات تھانے میں گزر گئی عید کی چھٹیاں ضمانت کیلئے عدالت میں دھکے کھاتے گزر گئیں اور آج عید کا چوتھا دن پھر تھانے کی ذلت کی نذر ہو گیا یوں میں نے بقر عید منائی
مجرمان سے مار کھانے ، ہراساں ہونے ، حق پر ہونے کے تمام ثبوت ہونے کے بعد تھانوں کی یہ ذلت خدا کسی شریف بیٹی کے نصیب میں نہ لکھے آمین
ایک وکیل کی تحریر 👇🏼
”ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ کمال ہوتا ہے۔ رٹ پٹیشن کے فیصلے میں لکھتے ہیں کہ پولیس کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں۔ جیسے پولیس کو پہلے علم نہیں ہوتا کہ انھیں قانون کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔
ہماری رائے میں دانستہ غلط کام کرنے والے سرکاری افسروں پر ذاتی حیثیت میں جرمانہ یا ہرجانہ یا کوئی اور سزا لاگو کرنے کے رواج کو فروغ دیے بغیر ایسے فیصلوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہزاروں لاکھوں زیادتیوں میں سے کوئی کوئی معاملہ عدالتوں تک پہنچتا ہے ان میں بھی پولیس کو ہومیوپیتھک قسم کی سرزنش کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
لیکن یہ سب محض ہماری خواہش ہے۔ ورنہ قانون پر عملدرآمد کی اگر عدلیہ میں سکت ہوتی تو سب سے پہلے ماورائے عدالت ہلاکتوں کو روکا جاتا۔ یا آئین کی ٹانگیں وغیرہ توڑنے والوں کو روکا جاتا-
مطلب مملکت خداد داد تو ایسے ہی چلے گی جیسے چلانے والے چلائیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم خاموش رہیں ورنہ پیکا کا مقدمہ تو بن ہی سکتا ہے۔ اور چارہ گروں کے پاس زیادہ موثر نسخے اور علاج بھی دستیاب ہیں۔
آپ کو اپنا ملک یا نظام پسند نہیں تو اپنے پسندیدہ ملک چلے جائیں- ویزہ نہیں ملتا؟ تو پھر ڈنکی لگا کر شہادت کا چانس لیں-“
میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔ باقی آپ اندازہ لگا سکتے ھیں ۔ یہ حال ھے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ھو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ھو اسکی سفارش پہ بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ عام صارف کا کیا حال ھو گا۔ رقم کی باقاعدہ ادائیگی ھوئ ھے ۔ لیسکو رسید سے انکاری ھے
اور پھر تعلیم کے نام پر میڈم نے خوفناک دھندہ سٹارٹ کر دیا۔ لاہور کو ایک نہر دو برابر حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ اور نہر کے ایک طرف بیکن ہاوس کے کوئی برانچ نہیں ہے۔ کیونکہ وہاں ان کو اچھے کلاینٹ بچے نہیں ملتے۔
میں نے کیمٹیاں ڈال کر اپنی پہلی انویسٹمنٹ حاصل کی لیکن مجھے سرمایا نہیں چاہئے تھا کیونکہ اسکول بنانے کے لئے گھر میری نانی نے دے دیا تھا لیکن جب بیکن ہاؤس اسکول شروع کیا تھا تب میں نے اپنی فیملی سے ادھار لیا تھا: نسرین قصوری، چیئر پرسن بیکن ہاؤس
@MunizaeJahangir
مریم نواز کی سخت ہدایات کے باوجود لاہور میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ پہلے سڑک بنتی ہے پھر گٹر بنانے والے جگہ جگہ سے سڑک اکھاڑ دیتے ہیں۔ اور پھر اس طرح کے گٹر بنا دیئے جاتے ہیں۔ آوٹ فال روڈ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔
ھمیں کسی سے کوئ بدلہ لینا ھے نا انتقام ۔۔
لگ بھگ پانچ دھائیوں پر محیط سیاسی کیرئیر کے دوران طلبا سیاست سے لیکر قومی سیاست تک ان گنت سیاسی حریف سامنے آۓ ، ھزاروں واقفان ِ حال جانتے ھیں کہ شدید اختلاف کے باوجود کسی سے میرا تعلق کبھی خراب نہیں ھوا بلکہ دو طرفہ احترام کا رشتہ برقرار رھا ۔۔!!
نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی میں دائر شدہ مقدمہ میرا ذاتی نہیں ھے بلکہ بلاتفریق جماعت یا گروہ بندی ھر اس شخص کا مقدمہ ھے جسے بدنیتی اور سازش کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کا نشانہ بنایا جاتا ھے ۔۔۔اسے کہیں رُکنا چاھئیے ۔۔
از راہ کرم میرے نام ، میرے خاندان کے نام یا میرے کسی مینیجر کے نام کانسٹیٹیوشن ون – اپارٹمنٹس میں سرمایہ کاری یا کسی ملکیت کا ثبوت پیش کریں ، اپنی جان چھڑائیں ورنہ قانون کا سامنا کریں
زھر آلود جھوٹے الزامات لگانے والوں کیخلاف کاروائ جاری رھے گی ، بہتان تراشی کرنے والے بہت سے اکاؤنٹس شناخت ھو چکے ھیں ، نتیجہ جلد سامنے آنا شروع ھو جائیگا
ان اکاؤنٹ ھولڈرز کے اکاؤنٹس کی تحقیق سے ثابت ھو چکا ھے کہ ان سے غلطی نہیں ھوئ بلکہ یہ عادی مجرم ھیں ، ویوز ، پیسوں اور اپنے مالکان کے حکم پر معروف لوگوں کی پگڑیاں اچھال کر انھیں گندہ کرنا انکا دھندہ ھے ۔۔۔
یہ تنقید یا اختلاف راۓ نہیں بلکہ کردار کشی کی منظم بیہودہ مہم اور بہتان تراشی ھے !!
بہت جلد انکے خلاف ان شا اللّٰہ پنجاب ڈیفیمیشن قانون کے تحت بھی قانونی چارہ جوئ کا آغاز ھونے جا رھا ھے ۔
ریحام بڑے ایمان والی عورت ہے اور ایمان والے ایمان والوں کو پہچان لیتے ہیں۔ عمران خان
ایمان والی کی گواہی اب اس ایمان والے کے فالوورز کو سمجھ نہیں آرہی۔
Imaan wali wrote on her book about IK magar youthiyay woh nahee maantay 😂
موجودہ سیاسی رہنماؤں میں خواجہ سعد رفیق صاحب دلیر، نڈر اور صاف ستھری بات کرنے والے ہیں۔ جیتتے بھی کھلے دل سے ہیں اور ہارتے بھی کھلے دل سے ہیں۔ آپ انکی کردار کشی بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے کر رہے ہیں۔
@KhSaad_Rafique
ہنسنا منع ہے 😂
خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ کانسٹیٹیوشن ایونیو میں میرا کوئی ذاتی فلیٹ نہیں اور نہ ہی میرے پاس اتنی مالی استطاعت ہے کہ میں وہاں آٹھ ارب کےفلیٹس خرید سکوں۔
چند ماہ قبل مجھے معلوم ہوا کہ میرے نام، دستخط اور شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے وہاں آٹھ فلیٹس میرے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔میں نے ٹاور مالکان کو متعدد بار مطلع کیا کہ یہ فلیٹس میرے نام سے ہٹا دیے جائیں، مگر ان کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
کل رات مجھے معلوم ہوا کہ یہ تمام فلیٹس میرے سوشل میڈیا مینیجر نے میرے نام پر خریدے تھے اور بینک نے بھی میرے علم کے بغیر ادائیگیاں منتقل کر دی تھیں۔
مقصود چپڑاسی کے بعد پیشِ خدمت ہے سوشل میڈیا مینیجر 😂
رحمان گارڈن میں بہت سے ایشوز ہیں اور اب یہ بدمعاشی بھی۔۔۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا اور نہ ہی پارلیمنٹ میں بیٹھا پراپرٹی مافیا اس پر کوئی قانون بننے دے گا
یہ افسوسناک واقعہ لاہور رحمان گارڈن فیز2 میں پیش آیا۔
یہاں سوال یہ ھےکیا ان کالونیز کی سیکورٹی کو اتنے اختیارات حاصل ہوتے ہیں کہ بزرگ شہریوں کیساتھ گالم گلوج کریں انہیں ماریں پیٹیں۔ اس بندے کی جوان بچیاں چیخ رہی ہیں لیکن یہ سیکورٹی والےتو سن نہیں رھے کسی کی، ۔ انہیں یہ حق کس نے دیا؟
وزیراعظم @CMShehbaz کی توجہ کے لیے:
اسلام آباد کے جمز میں مرد و خواتین کی مشترکہ ایکسرسائز سے اخلاقی و معاشرتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ متعلقہ حکام فوری طور پر خواتین اور مردوں کے لیے علیحدہ اوقات مقرر کریں اور اس پر سختی سے عمل کروائیں۔
@dcislamabad