اینٹی کرپشن راولپنڈی کرپشن کا گڑھ،چار سال کی طویل انکوائری کے بعد درج کئے جانے والے پرچے کو چار مہینے سے پہلے کرپٹ تفتیشی افسر نے ٹرانسفر ہونے سے قبل ڈراپ کردیا، مافیا گٹھ جوڑ
@SZChatthaPSP@ace_punjab @CMShahbez
اس ظلم کا نوٹس لیں
@ia_rajpoot @AsifSha83720622 @CMPUNJABSMT
@DCRawalpindi ایک پٹواری نے ریکارڈ و چارج پرائیویٹ منشی کے حوالے کیا اس نے ورلڈ ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 468 انتقالات ایک تاریخ میں درج کرلئے،آدھا گاؤں ایک تاریخ میں خاندان دوستوں کے نام خرید بھی لیا پھر بیچ بھی دیا، زندہ شخص کی وراثت درج کرلی، مردہ شخص کی وراثت کے ساتھ رقبہ اپنے خاندان کے نام
راولپنڈی
چکلالہ کینٹ بورڈ کی حدود میں تجاوزات کے خلاف متوقع آپریشن کی اطلاع قبل از وقت لیک ہونے کے باعث تجاوزات مافیا اور ریڑھی بان سڑکوں سے غائب ہو گئے، جس کے بعد ڈھیری ٹاہلی نوری روڈ مکمل طور پر صاف اور آمدورفت کے لیے بحال ہو گیا،
ذرائع کے مطابق چکلالہ انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اندر سے ہی کسی مخبر نے کارروائی کی اطلاع تجاوزات مافیا تک پہنچا دی،اطلاع ملتے ہی ریڑھی بان اور غیر قانونی تجاوزات قائم کرنے والے افراد کارروائی سے قبل ہی اپنا سامان سمیٹ کر موقع سے فرار ہو کر گلیوں میں گھس گئے,
مقامی رہائشیوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ تجاوزات ختم ہونے سے روڈ پر ٹریفک کی روانی بہتر ہوئی ہے اور پیدل چلنے والوں کو بھی سہولت میسر آئی ہے, تاہم، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کی جائے جو آپریشن سے قبل معلومات فراہم کرتے ہیں، اور مطالبہ کرتے ہیں علاقے میں مستقل بنیادوں پر تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔
صرف ہمارے موضع ڈہولیال تحصیل ضلع راولپنڈی میں تعینات منشی عدیل نے دبئی میں پراپرٹی بنا لی ہے ساتھ ملوث ڈیلران امریکہ یاترا پر ہیں، تحصیلدار پٹواری و دیگران انچارج اراضی ریکارڈ سنٹر کا تو اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا
حکومت کا بہت اچھا اقدام ہے خاص کر ریونیو کے محکمہ کا احتساب بہت ضروری ہوچکا تھا میرا مشورہ ہے کہ پٹواریوں خاص کر پنجاب کے وہ موضع جات جو ابھی تک آنلائن نہیں ہوئے وہاں تعینات پٹواریوں سے تمام ریونیو ریکارڈ ضبط کرکے ان کے اثاثے چیک کیے جائیں سب سے زیادہ مال انہوں نے ہی بنایا ہے۔
@Tahir_BhattiPML@CMComplaintCell@SaimaFarooq اللہ کرے یہ سب ہو کیونکہ ان لوگوں نے خاندان کے خاندان تباہ کردئیے ہیں اور لوٹ مار کے مال سے عیاشیاں کررہے ہیں جب کہ متاثرین ایک ایک کرکےسفر آخرت پر روانہ ہو کراللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہورہے ہیں انصاف کی راہ تکتے تکتے
@hinaparvezbutt میں راولپنڈی کے ایک بڑےبین الاضلاعی نیٹ ورک جو اربوں کھربوں روپے کی کرپشن جعلسازی اور عوام الناس سے فراڈ میں ملوث ہیں کے خلاف مدعی ہوں اور اینٹی کرپشن کی FIRs سمیت ٹھوس ثبوت رکھتا ہوں جو کہ ثابت شدہ ہیں۔
عملہ محکمہ مال اراضی ریکارڈ سنٹر روات ودیگر پرائیویٹ فراڈی اس گینگ کا حصہ ہی
@MaryamNSharif یہ نیٹ ورک کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن جعلسازی فراڈ دھوکہ دہی میں ملوث ہیں
ملزمان میں منشی عدیل،الیاس پٹواری نائب تحصیلدار ملک جاوید،فراڈی ڈیلران علی اکثر، ماسٹر خالد جنہوں نے اپنی آمدنی سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ اثاثے بنا لئے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہر فورم پر پیسے دیکر فارغ
@MaryamNSharif پچھلے دس سال سے کرپشن کنگ نائب تحصیلدار جسے مبینہ طور پر سابق مشیرِ احتساب کی سرپرستی حاصل رہی،بہت جلد بازی میں اسسٹنٹ کمشنربن گیا،جعلسازوں نوسربازوں پر مشتمل نیٹ ورک چلا رہا ہے، زندوں کے وراثت انتقال، مردوں کے وراثت اندراج اور ریکارڈ درستگی پر اراضی ہڑپ، کروڑوں کے جعلی انتقالات
دس سالوں سےلینڈ مافیا ہم پر مسلط ہے نوسرباز منشی عدیل جعلی پٹواری بن کر الیاس پٹواری و دیگران کی سرپرستی میں کروڑوں اربوں روپے کے فراڈ جعلسازی دھوکہ دہی میں ملوث ہیں، لوگوں کی جدی زمینیں ہتھیانے اور جعلی انتقال بنا کر کروڑوں روپے ٹھگ رہے ہیں متاثرین انصاف کی راہ تکتے سفر آخرت پر
@ia_rajpoot سالوں سے یہی آرڈر ہوتے آرہے ہیں
کسی ذہین دماغ کو یہ خیال نہیں آیا کہ سکولوں کالجز کے ٹائم کو دفتری اوقات سے اچھا گھنٹہ پہلے یا لیٹ کردے تاکہ لوگ خواری سے بچ جائیں مزید فیول کی بچت ہو
@ia_rajpoot آپ نے ایک دن میں ایک ریوینیو سٹیٹ ڈہولیال کے468 انتقال اندراج کرکے تصدیق کرانے محکمہ مال پاکستان و دنیا بھرکے سابقہ موجودہ اور آئندہ ریکارڈ توڑنے والے باصلاحیت پٹواری و منشی و دیگر بارے کچھ نہیں لکھا کبھی، جنہیں ایک باصلاحیت لائق تفتیشی افسر نے بے گناہ قرار دے دیا۔
ہزارے کی اس اماں کو آج سے پچاس سال قبل کراچی لیاری سے اغ*واء کیا گیا تھا
انکو گھر میں پیار سے ڈوڈو کہہ کر پکارتے تھے،والد کا نام کالو خان مشہور تھا۔
اماں بتاتی ہے کہ انکی عمر دس سال تھی کراچی کے علاقے لیاری میں ایک گندے نالے پر انکا گھر تھا۔ چاکیواڑہ کا نام انکو یاد ہے۔
انکے گھر میں حمیدہ نامی ایک خاتون آئی اپنے ساتھ چاول لائی تھی۔ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ میری بھابھی برتن دھونے میں مصروف تھی۔ خاتون چاول لائی میں نے کھائے، پھر مجھے اس نے کہا چلو بیٹا کھڈا مارکیٹ تمہارے ابو کی دوکان پر چلتے ہیں! میں ساتھ ساتھ گئی تو دو گلیوں بعد مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا اور میں چاول کھانے کے بعد سے نیم بےہوش تھی۔
مجھے کراچی سے گھنٹوں دور لیکر گئے۔میں دن رات روتی تھی کہ گھر جاونگی وہ مجھے مارتے ڈراتے اور راتوں کو سلانے کے لئے دو دو نیند کی گولیاں کھلاتے۔ دس سال تک مجھے انہوں نے اپنے پاس رکھا مجھ سے دریا/سمندر کنارے مزدوری کروائے۔ میں کراچی میں تھی لیکن ہمارا اصل علاقہ ہزارہ ہے۔
میں مچھلی اور جھینگے کی بدبو میں بالکل برداشت نہیں کرسکتی تھی لیکن مجھ سے زبردستی انکی صفائی کام کرواتے تھے۔
دس سال بعد مجھے کسی اور جگہ بیچ دیا گیا۔پھر میری شادی ہوئی اور آج تک اپنوں کو یاد کرکے روتی رہتی ہوں۔
ڈوڈو نے اپنے والد کا نام نام کالو خان سے مشہور بتایا،والدہ گلاب جان،تین بھائی امین،شفیع اور جاوید تھے۔
ایک بہن تھی جسکو پیار سے جانے بولتے تھے۔
والد کالو خان کھڈا مارکیٹ میں مٹھائی کی ایک دوکان میں کام کرتے تھے۔مٹھائیوں کا کام جانتے تھے۔ مٹھائی کی دوکان ذاتی تھی یا کسی اور کی یاد نہیں۔
شاید انکا گھر چاکیواڑہ میں تھا۔
اماں کہتی ہے کہ ہم جب کراچی آرہے تھے تو مجھے یاد ہے ہزارے میں ہمارا گاؤں تھا۔(ہری پور کا نام بھی اماں نے لیا)۔ہم اپنے گھر سے پیدل چل کر بیڑ/ نامی ایک علاقے میں آتے تھے۔یہاں ہوٹل میں کھانا کھاکر بس میں کراچی کے لئے بیٹھ جاتے۔ بیڑ علاقے میں اماں کو لکڑی کا ایک پل یاد ہے۔ وہ پل ہم نے گوگل سے نکال کر دکھایا تو اماں کی آواز بند ہوگئی اور چہرے پر موبائل کی روشنی سے آنسوؤں کی لڑی چمکتی نظر آئی۔
کراچی چاکیواڑہ یا اطراف میں نالے پر اگر رہائش تھی تو وہ تمام گھر شاید سرکار نے خالی کروادئیے ہیں۔بیڑ میں انکا خاندان ملنا ممکن ہے۔
ماموں کا نام علی الزمان تھا اور ان کے بیٹوں کے نام فرمان،زعفران ہیں۔
چچا کا نام خانو تھا۔ خانو کے بیٹے کا نام عظیم اور مسکین ہے۔
بھانجے کا نام نواز، مشتاق اور ریاض۔۔
لیاری میں نالے کے پاس انکی پھوپھی بھی رہتی تھی۔جنکا نام زرینہ تھا۔ زرینہ کے دو بیٹے تھے ممتاز اور سلیم۔ ممتاز چونے کے کھلونے بناکر کھڈا مارکیٹ میں بیچتا تھا۔
اماں کو جب بیڑ میں لکڑی کا پل موبائل میں دکھایا تو بیٹے سے کہنے لگی یہ تصویر اپنے موبائل میں رکھو میں صبح شام دیکھتی رہونگی میرے دل تو سکون ملتا رہےگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا ماں جی کو اپنوں سے ملانے میں ہمارا ساتھ دیں۔انکے گاؤں یا کراچی سے ضرور انکا خاندان مل سکتا ہے۔آپ کا ایک شئیر آپکو بےشمار دعاؤں کا حقدار بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
21 june 2026
#waliullahmaroof
جس معاشرے میں انصآف نہیں ملتا, وہ معاشرے تباہ ہوجاتے ہے!!
مقتول بابر شاہ کا والد غریب بائیکیا رائیڈر انصاف کیلئے میدانِ محشر کا منتظر۔
عدالت سے قاتل کی رہائی کے بعد قاتل نے مجھے دیت دینے کی پیشکش کی۔ مجھے دیت نہیں قصاص (جان کے بدلے جان) چاہئے۔
نو جون 2022ء چٹو دی گلی میں میرے بیٹے سید بابر شاہ کو ظالمانہ طریقے سے قتل کرکے زندہ جلا دیا گیا۔
چار سال تک عدالتوں کے چکر لگاتا رہا۔ شام کو تاریخ پر تاریخ دے دی جاتی۔
میرے ساتھ انصاف کرنے کی بجائے آخر کار میرے بیٹے کے قاتل کو باعزت بری کر دیا گیا