نادرا کی اہم اور عام فہم سہولیات ایک نظر میں:
8521: گاڑی کی چوری کی تصدیق کے ��یے گاڑی کا چیسز نمبر SMS کریں۔
7000: اپنے نام پر کسی جعلی شناختی کارڈ کے اندراج کی چیکنگ کے لیے شناختی کارڈ نمبر SMS کریں۔
8300: ووٹر لسٹ میں اپنے نام اور پولنگ اسٹیشن کا پتہ لگانے کے لیے شناختی کارڈ نمبر SMS کریں۔
668: آپ کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سمز کی تعداد جاننے کے لیے شناختی کارڈ نمبر SMS کریں۔
9966: اپنے Filer یا Non-Filer ہونے کی تصدیق کے لیے ATL <space> CNIC لکھ کر SMS کریں۔
📲 یہ معلومات اپنے دوستوں اور احباب کے ساتھ ضرور شیئر کریں!
آپشن 3 (سوشل میڈیا/فیس بک/واٹس ایپ کے لیے):
💡 روزمرہ زندگی میں کام آنے والی نادرا کی 5 بہترین سروسز!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ اپنے موبائل فون سے صرف ایک SMS کے ذریعے یہ تمام اہم معلومات حاصل کر سکتے ہیں؟ اس تصویر کو محفوظ کر لیں تاکہ بوقتِ ضرورت کام آ سکے۔
یہ علاج پاکستانی ڈاکٹرز کیوں نہیں بتاتے ؟
پہلی بات کیونکہ پاکستان میں 100 میں سے 50 پرسنٹ ڈاکٹرز سرے سے ھوتے ھی نہیں ھیں اور جو ڈاکٹرز ھوتے ھیں یا تو انکو یہ علاج معلوم ھی نہیں یا وہ یہ علاج اسلیے نہیں بتاتے کیوں۔۔۔
مولوی صاحب: گانا بجانا اور آلاتِ موسیقی حرام ہیں۔
سائل: مولوی صاحب! احادیث میں تو ذکر ملتا ہے کہ ایک شادی کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے خود گانے اور دف بجانے کی تلقین کی۔ (صحیح البخاری: 5162، سنن ابن ماجہ: 1900)
مولوی صاحب: ہاں، شادی کے موقع پر گانا جائز ہے۔ اس کے علاوہ گانا بجانا اور آلاتِ موسیقی حرام ہیں۔
سائل: لیکن احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ عید کے دن بھی رسول اللہ ﷺ نے گانا سنا، جب کچھ بچیاں آپ کے گھر میں دف بجا رہی تھیں۔ (صحیح مسلم: 2063، صحیح البخاری: 2906)
مولوی صاحب: جی ہاں، شادی اور عید کے موقع پر گانا جائز ہے۔ اس کے علاوہ گانا بجانا اور آلاتِ موسیقی حرام ہیں۔
سائل: شادی اور عید کے علاوہ عام دنوں میں بھی ایک لونڈی نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے گایا تھا، بلکہ وہ لونڈی گانے کے لیے اپنے قبیلے میں مشہور تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے خود اسے بلا کر سیدہ عائشہؓ سے فرمایا کہ تم اس کا گانا سنو۔ (سنن الکبریٰ للنسائی: 8911)
اسی طرح احادیث میں یہ بھی ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حبشہ کے لوگوں کا رقص بھی دیکھا اور ان کا گانا بھی سنا۔ (مسند احمد: 12568)
مولوی صاحب: جی ہاں، شادی، عید، لونڈیوں اور غلاموں کا گانا جائز ہے۔ وہ حبش�� کے لوگ بھی غلام تھے، ان کا گانا بھی جائز ہے۔ اس کے علاوہ گانا بجانا اور آلاتِ موسیقی حرام ہیں۔
سائل: مولوی صاحب! آپ بار بار آلاتِ موسیقی کو حرام کہہ رہے ہیں، جبکہ احادیث میں تو گانے کے ساتھ عربوں کے معروف آلۂ موسیقی "دف" بجانے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ (صحیح البخاری: 5162، مسند احمد: 21915)
مولوی صاحب: جی ہاں، شادی اور عید کے موقع پر اور لونڈیوں کا گانا جائز ہے۔ دف بھی جائز ہے۔ اس کے علاوہ گانا بجانا اور آلاتِ موسیقی حرام ہیں۔
سائل: مولوی صاحب! ایک حدیث میں تہبند کا ذکر ہے کہ جو تکبر سے اپنا تہبند لٹکائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔ میں تو تہبند پہ��تا ہی نہیں، اس لیے میرے لیے یہ حکم نہیں ہونا چاہیے؟ (سنن ابوداؤد: 4093)
مولوی صاحب: نہیں نہیں، حدیث میں اگر تہبند کا ذکر آیا ہے تو اس پر قیاس کیا جائے گا۔ شلوار، پینٹ، ٹراؤزر، شیروانی وغیرہ سب اسی حکم میں داخل ہیں۔ آپ کچھ بھی پہنیں، وہ اس میں شامل ہوگا، چاہے اس کا ذکر حدیث میں آیا ہو یا نہ آیا ہو۔
سائل: تو اسی طرح اگر ہم قیاس کر لیں کہ جب اتنے مواقع پر رسول اللہ ﷺ نے گانا سنا ہے، بلکہ ایک شادی پر جب پتا چلا کہ گانے بجانے کا اہتمام نہیں کیا گیا تو آپ ﷺ نے خود گانے کی تلقین بھی فرمائی، اور اسی طرح عربوں میں جو عموماً موسیقی کا آلہ "دف" استعمال ہوتا تھا، اسے بھی آپ ﷺ نے سنا اور اس کی اجازت دی تو پھر باقی مواقع پر بھی گانا جائز ہوگا اور دیگر آلاتِ موسیقی بھی جائز ہوں گے۔
مولوی صاحب: استغفراللہ! یہ قیاس نہیں ہو سکتا۔
سائل: کیوں؟
مولوی صاحب: کیونکہ بعض دوسری روایات میں موسیقی کی ممانعت بھی آئی ہے۔
سائل: جب ایک ہی مسئلے میں مختلف نوعیت کی روایات ہوں تو عقل کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان میں تطبیق کی جائے، جیسے شاعری کے معاملے میں کی جاتی ہے۔ تمام علما شاعری کو جائز مانتے ہیں، ��الانکہ بعض احادیث میں شاعری کی سخت مذمت بھی آئی ہے۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھر لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اسے شعر سے بھرے"۔ (صحیح البخاری: 6154، صحیح مسلم: 5894)
اسی طرح صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا گزرا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شیطان کو روکو"۔ (صحیح مسلم: 5895)
اس شدید مذمت کے باوجود علما کہتے ہیں کہ شاعری جائز ہے اور جن احادیث میں شاعری کی مذمت ہے، ان سے مراد غلط قسم کی شاعری ہے۔
تو یہی بات موسیقی کے بارے میں کیوں نہیں کہی جا سکتی کہ موسیقی اصلاً جائز ہے اور رسول اللہ ﷺ نے خود متعدد مواقع پر اسے سنا ہے اور جن روایات میں اس کی مذمت ہے، ان سے مراد وہ موسیقی ہے جو انسان کو فحاشی یا خدا کی راہ سے غفلت کی طرف لے جائے۔
(اور یہاں قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ موسیقی کی حرمت پر جتنی روایات نقل کی جاتی ہیں، وہ سب کمزور درجے کی ہیں۔ حتیٰ کہ اس حوالے سے جو ایک روایت صحیح بخاری میں آتی ہے، اس پر بھی بعض محدثین نے کلام کیا ہے۔ گویا اس درجے کی کوئی مضبوط نص مو��ود نہیں جو کسی جائز چیز کو حرام قرار دینے کے قابل ہو۔)
مولوی صاحب: نہیں نہیں، امت کا اجماع ہے کہ موسیقی شریعت میں حرام ہے۔ یہاں شاعری والا قیاس اور تطبیق نہیں ہو سکتی۔
سائل: مولوی صاحب! اجماع کیسے ہوگیا، جبکہ تاریخ میں بڑے بڑے علماء اس کے جواز کے قائل رہے ہیں، جیسے امام ابن حزم، امام غزالی، ابو بکر ابن العربی، ابن طاہر المقدسی، عبدالغنی النابلسی، عز الدین بن عبدالسلام، سعید بن المسیب، عطاء بن ابی رباح، محمد بن شهاب الزہری، عامر الشعبی، اور قاضی شریح وغیرہ۔
اس کے علاوہ اہلِ مدینہ کے بارے میں امام شوکانی اور امام ذہبی نے نقل کیا ہے کہ وہ اس کے جواز کے قائل تھے۔ اور ��مام احمد بن حنبل کے استاذ، مدینہ و بغداد کے قاضی و محدث ابراہیم بن سعد الزہری کا واقعہ بھی مشہور ہے کہ بعض عراقیوں کی طرف سے ان پر اعتراض کیا گیا کہ آپ گانا کیوں سنتے ہیں تو انہوں نے قسم کھائی کہ اب میں حدیث بیان کرنے سے پہلے گانا سناؤں گا اور ایک عرصے تک ان کا یہی معمول رہا۔
اس سب کو نظر انداز کر کے اور خاص طور پر رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو پسِ پشت ڈال کر، اپنی پسند کی چند آرا کو "اجماعِ امت" بنا دینا کہاں کا انصاف ہے؟
مولوی صاحب: دیکھیں، آپ خطرناک سوالات کر رہے ہیں۔
سائل: اچھا ایک اور سوال...
مولوی صاحب: جی؟
سائل: جب حدیث میں صرف تہبند کا لفظ آئے تو آپ پوری کپڑوں کی الماری کو اس میں داخل کر لیتے ہیں، لیکن جب حدیث میں دف موجود ہو تو باقی آلات کو اس سے خارج کر دیتے ہیں۔ یہ کون سا اصول ہے؟
مولوی صاحب: تم منکرِ حدیث ہو، نفس کی پیروی کر رہے ہو، حرام کو حلال بنانے کی کوشش کر رہے ہو
سائل: نائس مولوی صاحب! ابھی بھی ہم ہی منکرِ حدیث ہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہمیں ان کا نام بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: علی انہیں میں سے ہیں ، آپ اس جملہ کو تین بار دہرا رہے تھے اور باقی تین: ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں، مجھے اللہ نے ان لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے اس نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے ۔
سنن الترمذی: 3718
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اعتراض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ !
آپ ہمارے سامنے ہر وقت خدیجہ کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں ، اللہ نے آپ کو ان سے بہتر بیگمات عطا کی ہیں
رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا :
"خدیجہ سے بہتر کوئی نہیں ہے"
#یوم_وصال_جناب_خدیجتہ_الکبری
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: اے کعبہ! تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے
(سنن ابن ماجه، ک��اب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، رقم الحدیث:3932، ج: 2، ص: 1297، ط:داراحیاء التراث العربی)
تحریک انصاف نہتی سیاسی جماعت سی، نا کوئی عسکری ونگ نا ہی مشینری وچ کوئی اپنے عسکری دھڑے، نا ہی عدالتاں وچ اپنے جج نا ہی وکلا باراں وچ کھرباں دی انویسٹمنٹ ، تحریک انصاف دراصل پاکستانی عورت سی جنے اپنے مرد بار کڈے ۔
عورت مرداں دے نال لڑی۔
تحریک انصاف نے بلاشبہ پاکستان دی سیاسی حریت دی تاریخ بدل دتی جو ورقے نہی سڑک تے لکھی جاندی۔
نچن والیاں دے بچیاں نے کمال کر دتا۔۔
🕋 1. ان کی نماز کے سامنے تم اپنی نماز کو کم سمجھو گے
عربی:
يخرج فيكم قوم تحقرون صلاتكم مع صلاتهم، وصيامكم مع صيامهم، يقرأون القرآن لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية.
اردو ترجمہ:
تم میں ایک قوم ظاہر ہوگی، تم اپنی نماز ان کی نماز کے مقابلے میں کم سمجھو گے، اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانو گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔
حوالہ:
📘 صحیح بخاری – حدیث نمبر 5058
📘 صحیح مسلم – حدیث نمبر 1064
درجہ:
✅ متفق علیہ (سب سے اعلیٰ درجہ کی حدیث)
⸻
⚔️ 2. وہ قرآن کو دلی�� بنائیں گے مگر قرآن ان کے خلاف ہوگا
یہ جملہ اوپر والی حدیث کے مفہوم سے لیا گیا ہے، اصل الفاظ نہیں ہیں۔
محدثین نے “لا يجاوز تراقيهم” کی تشریح میں لکھا ہے کہ وہ قرآن صرف زبانی پڑھیں گے مگر اس کے معانی و روح سے دور ہوں گے، یعنی قرآن ان کے حق میں نہیں بلکہ ان کے خلاف ہوگا۔
ماخذ:
شرح النووی على مسلم، ابن حجر کی “فتح الباری” وغیرہ
⸻
🔪 3. وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور کفار کو چھوڑ دیں گے
عربی:
يقتلون أهل الإسلام ويَدَعون أهل الأوثان.
اردو ترجمہ:
وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔
حوالہ:
📘 صحیح بخاری – حدیث نمبر 3344
📘 صحیح مسلم – حدیث نمبر 1064
درجہ:
✅ متفق علیہ
⸻
📿 4. وہ نوعمر ہوں گے، دین کے معاملے میں شدت اختیار کریں گے
عربی:
سيماهم التحليق، حدثاء الأسنان، سفهاء الأحلام.
اردو ترجمہ:
ان کی نشانی سر منڈوانا ہوگی، وہ کم عمر ہوں گے اور عقل میں کمزور۔
حوالہ:
📘 صحیح بخاری – حدیث نمبر 5057
📘 صحیح مسلم – حدیث نمبر 1066
درجہ:
✅ صحیح
⸻
💀 5. وہ دوزخ کے کتے ہیں، ان کا قتل باعثِ اجر ہے
عربی:
شر قتلى تحت أديم السماء، خير قتيل من قتلوا، ك��اب النار.
اردو ترجمہ:
وہ زمین پر بدترین مقتول ہوں گے، اور جنہیں وہ قتل کریں گے وہ بہترین مقتول ہوں گے۔ وہ جہنم کے کتے ہیں۔
حوالہ:
📘 سنن ابنِ ماجہ – حدیث نمبر 176
📘 مسند احمد – حدیث نمبر 1063
درجہ:
✅ صحیح (امام البوصیری، شیخ البانی، اور دیگر محدثین کے مطابق)
⸻
⚠️ 6. “جہاں پاؤ قتل کر دو” — سیاق و سباق
یہ جملہ بھی احادیث میں خوارج سے قتال کے بارے میں آیا ہے، مگر نبی ﷺ نے یہ حکم حاکمِ وقت اور بااختیار لشکر کے لیے دیا تھا، عام عوام کے لیے نہیں۔
عربی:
فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
اردو ترجمہ:
جہاں تم ان سے ملو، ان کو قتل کرو، کیونکہ جو شخص انہیں قتل کرے گا، اسے قیامت کے دن اجر ملے گا۔
حوالہ:
📘 صحیح بخاری – حدیث نمبر 3611
📘 صحیح مسلم – حدیث نمبر 1064
درجہ:
✅ متفق علیہ
⸻
👁️🗨️ 7. “ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا”
یہ بھی ضعیف روایت کے طور پر بعض کتب میں موجود ہے۔
بعض محدثین نے اسے حسن یا ضعیف قرار دیا ہے، لیکن یہ بات مجموعی طور پر مانی جاتی ہے کہ خوارج جیسے گروہ آخر زمانے تک نکلتے رہیں گے۔
حوالہ:
📘 مسند احمد، طبرانی، المعجم الکبیر
درجہ:
⚠️ ضعیف (لیکن مفہوم کے لحاظ سے بعض علما نے قبول کیا ہے)
⸻
🧩 نتیجہ
جملہماخذدرجہ
تم اپنی نماز کم سمجھو گےبخاری و مسلم✅ صحیح
قرآن ان کے خلاف ہوگاتشریحی مفہوم🔸مفہوم
مسلمانوں کو قتل کریں گےبخاری و مسلم✅ صحیح
کم عمر، شدت پسندبخاری و مسلم✅ صحیح
جہنم کے کتےابنِ ماجہ✅ صحیح
جہاں پاؤ قتل کروبخاری و مسلم✅ صحیح
دجال کے ساتھ نکلیں گےطبرانی، احمد⚠️ ضعیف
" وہ مشرق سے ظہور پذیر ہونگے ۔
نوعمر لڑکے ہونگے اور دین کے معاملے میں متشدد ہونگے۔
وہ کثر�� سے نمازیں پڑھنے والے ہونگے۔
ان کی نمازوں کے سامنے تم اپنی نمازوں کو کم سمجھو گے۔
وہ قرآن کو دلیل بنائیں گے مگر قرآن ان کے خلاف دلیل ہوگا۔
وہ کفار کے لیے نازل ہونے والی آیات کو مسلمانوں پر فٹ کریں گے۔
وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور کفار کو چھوڑ دیں گے۔
وہ لوگوں کو حق کی طرف بلائیں گے مگر خود حق پر نہ ہونگے۔
انہیں جہاں پاؤ قتل کر دو وہ بدترین مقتول ہونگے
اور
جسے وہ شہید کر دیں وہ بہترین شہید ہوگا۔
ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔
بخاری اور ابنِ ماجہ میں خوارج کی یہ نشانیاں واضح کر دی گئی ہیں اور انہیں جہنم کے کتے کہہ کر پکارا گیا ہے۔
جہاں ملیں انہیں جہنم واصل کر دینے کا حکم ہے اور اس پر اجر رکھا گیا ہے۔
“میرے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کے ٹرائل بھی کسی قانون یا رول کے مطابق نہیں چلائے جاتے۔ گزشتہ دو سماعتوں سے، جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ کئی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں شفاف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے۔
نو مئی کے کیسز میں ان کے پاس دو ہی جھوٹے سرکاری گواہ ہیں جنہیں ہر کیس میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرگودھا کی دہشتگردی عدالت کے جج محمد عباس نے ان دونوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کی مضحکہ خیز گواہی بالکل ہی رد کر دی تھی، لیکن پھر بھی ہر جگہ انھیں جھوٹی گواہی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دی گئی درخواست کا “آئینی بینچ” کے سامنے ہی لگنا مضحکہ خیز ہے۔ جو بینچ خود اس ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے وہ اس کے خلاف کیا ہی فیصلہ دے گا؟
چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر غلام بن چکی ہے اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ادارے سے بڑھ کر نہیں رہی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
بوگ�� انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی فراڈ حکومت کے دور میں ہر جانب تباہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام معیشت سے مایوس ہو کر تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے مگر قابض حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
میں بار ہا کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہمارے دور میں افغانستان سے تعلقات بھی بہتر تھے اور قبائلی علاقوں میں امن بھی تھا۔ آپریشن سے جو collatoral damage کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اس سے دہشتگردی کو ہوا ملتی ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کرنے میں ہے۔ ملٹری آپریشنز کبھی عوام کا مفاد نہیں ہوتا۔
مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ میری صحت ماشأللہ ٹھیک ہے مگر 72 سال کی عمر میں میرے جو روٹین ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں وہ نہیں کروائے جاتے اور میرے ذاتی ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آخری مرتبہ میرے میڈیکل ٹیسٹ ایک سال قبل کروائے گئے تھے جو کہ جیل مینول کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ سے گفتگو (25 ستمبر، 2025)
“میں نے انتخابات سے قبل جب ہر جانب خوف کا ماحول تھا، پیشین گوئی کی تھی کہ تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی اور ایسا ہی ہوا۔ آج میں پھر ایک پیشین گوئی کر رہا ہوں کہ ملک میں جو ناانصافی، ظلم و فسطائیت ، لاقانونیت اور معاشی تباہی کا ماحول ہے پاکستان میں بہت تیزی سے حالات اسی جانب گامزن ہیں جو نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں ہوئے ہیں۔
میں اپنے تمام پارلیمنٹیرینز اور پارٹی ممبران کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب حقیقی اپوزیشن کرنے کا وقت ہے۔ اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنی سیاسی قبر کھودے گا کیونکہ عوام کی یہی آواز ہے۔ ہم نے مینڈیٹ چوری سمیت ہر ظلم پر قانونی راستے اختیار کر کے دیکھے مگر ہمیں انصاف نہیں ملا اس لیے اب ڈٹ کر اپوزیشن کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ ان کے ساتھ آپ جتنا تعاون کریں گے یہ اتنا ہی آپ کو کچلیں گے۔ جو بھی ڈٹ کر اس نظام کے خلاف کھڑا نہیں ہو گا وہ خود اپنی سیاسی قبر کھودے گا۔
پوری قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنی توجہ پشاور کے جلسے پر مرکوز رکھیں جو 27 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔ پورے ملک سے عوام اس جلسے میں شرکت کر کے ظلم کے خلاف اپنی آواز اٹھائے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
2/2
“Those who stole the people’s mandate are gripped by fear. It is because of this fear that oppression against us is intensifying. My wife and I are being held in solitary confinement. We are being subjected to mental torture in an attempt to break my resolve and make me abandon my ideology. The goal of these attempts to break me is nothing but to suppress the voice of the people.
Yahya Khan had adopted this very approach at the time of the Fall of Dhaka.Blinded by his lust to prolong his rule, he unleashed every form of fascism to suppress the people’s voice, and ultimately broke the country apart. All of this is documented in the Hamood-ur-Rehman Commission Report. Today, Asim Munir is also resorting to oppression to extend his rule, making the country weaker.
However, the difference between 1971 and the situation today is the awareness among the masses. Social media has unveiled all the truths before the nation, and the people have learned to rise for their rights against tyranny. That is why this oppressive system will soon crumble. It is time for the people’s voice to be heard.
The country is facing widespread devastation due to floods. Pakistan’s economy was already in shambles, and now,as a result of the extensive flooding, people’s crops and livestock have been destroyed. This has wiped out the agricultural economy and its effects will be felt across the entire nation. In such circumstances, it is essential that relief efforts in flood-affected areas be carried out without discrimination, with everyone playing their part. If I were not in prison, I would certainly have organized a telethon and fundraising campaign for this cause. Government institutions alone cannot tackle a disaster of this scale; every citizen must contribute so that we may confront it collectively as a nation. To prevent future destruction from floods, large-scale plantation of trees must be undertaken urgently.
I strongly condemn the attack on the death anniversary of Akhtar Mengal’s father in Balochistan and extend my condolences to him. The situation in Balochistan is deteriorating with each passing day because the people’s elected representatives are not allowed to govern. Pakistan Tehreek-e-Insaf must fully participate in Mehmood Achakzai’s call for strike on September 8th. The people of Balochistan deserve to be freed from terrorism and the hybrid system imposed upon them.
In Khyber Pakhtunkhwa, an operation has been launched to weaken the government of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The provincial government must immediately put an end to it. I give special instructions to Ali Amin Gandapur that since the people of the province are already suffering due to the floods, this operation must be firmly resisted and stopped. It is the responsibility of the Khyber Pakhtunkhwa government to halt the drone strikes occurring in the tribal districts. Safeguarding the lives and property of the people is the duty of our government.
The earthquake in Afghanistan has left my heart deeply grieved, and I am pained that at a time of such hardship, we are forcibly expelling our Muslim brothers from the country. In this difficult hour, we should be standing with them. The Khyber Pakhtunkhwa government must also extend help to our Afghan brothers.”
Former Prime Minister Imran Khan’s conversation with family members and lawyers in Adiala Jail (September 5, 2025)
احمد رضا خان بریلوی نے اپنے فرقے کے سوا سب کو کافر قرار دے دیا
علمائے دیوبند نے اپنے فرقے کے سوا سب کو بدعتی بنا دیا
عبد الوہاب نجدی نے اپنے فرقے کے علاؤہ سب کو مشرک مشہور کر دیا
مولوی الیاس عطاری نے اپنا پورا فرقہ ہی مسلمانوں سے الگ ڈیزائن کر لیا
خادم رضوی نے اپنی جماعت کے علاؤہ سب کو گستاخ کہہ دیا
ایک مولانا اسحاق صاحب تھے
کہ جنہوں نے اپنی پوری حیات میں کسی کلمہ گو مسلمان پر کفر و شرک کا فتویٰ نہیں دیا
انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے پر اعلان کر دینا کہ میں نے کسی کلمہ گو مسلمان کو کبھی کافر نہیں کہا
امت مسلمہ کو ایسے علماء کرام کی ضرورت ہے کہ جو اولیاء کرام کے طریقے پر لوگوں کو آپس میں جوڑ کر رکھیں
نا کہ مزید ٹکڑوں میں تقسیم کرتے پھریں
#مولانا_اسحاق
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
" درویش مولوی"
عرب و ایران میں مولوی اور معنوں میں مستعمل ہے مگر برصغیر پاک و ہند میں مولوی سے مراد وہ شخص ہے کہ جس نے ارادتاً مذہب اسلام کو پیشہ بنا رکھا ہو
جبکہ درویش سے مراد وہ شخص کہ جو دنیا و مافیہا سے بے پرواہ ہو کر بس یاد خدا میں مشغول رہے، عموماً کسی مولوی کا درویش ہونا ممکن نہیں ہے مگر مولانا اسحاق صاحب مرحوم ایک درویش مولوی تھے،
مولانا اسحاق صاحب چاہتے تو بنو امیہ کے قصیدے پڑھ کر احسان الٰہی ظہیر اور تقی عثمانی کی طرح کروڑ پتی بن سکتے تھے
چاہتے تو مولوی الیاس کادری کی طرح بنو امیہ کی حمایت کیلئے کوئی جماعت بنا کر اربوں روپے کے اثاثے بھی بنا سکتے تھے اور لگژری لائف سٹائل بھی اختیار کر سکتے تھے
مگر اس درویش مولوی نے حق کا مشکل ترین راستہ چنا اور اپنی پوری حیات بنو امیہ کے بیہمانہ مظالم اور اہل بیت رسول ﷺ کے فضائل بیان کرنے میں خرچ کر دی
ایک اہل حدیث مسلک کا مولوی بنو امیہ کی اسلام دشمنی کیخلاف کھل کر بولا ، یہ عجوبہ تھا ، امام نسائی اور مولانا مودودی کے بعد مولانا اسحاق صاحب تھے کہ جنہوں نے اس قدر جرات و بہادری سے محمد و آل محمد ﷺ کا دفاع کیا
سادہ لباس، سادہ شخصیت اور سادہ رہن سہن ، مولانا اسحاق مرحوم نے کوئی اثاثے بنائے
نہ مال و متاع جمع کیا
یعنی مولانا اسحاق مرحوم نے اہل بیت رسول ﷺ کے محض فضائل و مناقب ہی بیان نہیں کیے
اہل بیت رسول ﷺ کی پیروی بھی کر کے دکھائی
اختلافی مسائل پر بھی اخلاقیات کا دامن ہمیشہ تھام کر رکھا
اور کبھی کسی پر شخصی تنقید نہیں کی
بات کی بھی تو اس انداز سے کہ فریق مخالف کو بری نہ لگے
مولانا اسحاق مرحوم کی بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بغیر مستند حوالے اور تحقیق کے بات نہیں کرتے تھے، اپنا لیکچر تیار کر لاتے
اور حوالہ جات والی کتابیں ساتھ لے کر آتے
مولانا اسحاق صاحب تقریباً دو دہائیاں منبر رسول سے اولاد رسول ﷺ کا دفاع کرتے رہے
کسی وہابی ، دیوبندی اور بریلوی ملا کی مگر جرات نہ ہوئی کہ ان کو مناظرے کا چیلنج دے سکے، ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اور جاوید احمد غامدی نے تسلیم کیا کہ مولانا اسحاق ایک محقق عالم تھے
ان کو چیلینج کرنا ممکن ہی نہیں تھا
مولانا اسحاق مرحوم کو کتابیں خریدنے اور جمع کرنے کا بہت شوق تھا
خصوصاً نایاب کتابیں کہیں نہ کہیں سے ڈھونڈ کر نکال لاتے
سعودی عرب سے انہوں نے ایک کتاب کا کاپی نسخہ ایک ہزار ریال میں خریدا تھا
ان کے پاس اتنی زیادہ کتابیں جمع تھیں کہ کسی بڑے سے بڑے عالم نے دیکھی بھی نہ ہوں گی
مولانا اسحاق مرحوم نے اہل بیت رسول ﷺ کے بغض میں گھڑے گئے بنو امیہ و بنو عباس کے تمام باطل عقائد و روایات کو پختہ حوالوں سے غلط ثابت کیا
اور ایسا کیا کہ بنو امیہ اور بنو عباس کا پانچ سو سالہ پروپیگنڈہ خاک میں ملا دیا
مولانا اسحاق مرحوم کی قبر پہ رحمت ہو کہ وہ بریلویوں ، وہابیوں اور دیوبندیوں کیخلاف ون مین آرمی تھے
سارے ناصبی کل ملا کر مولانا اسحاق مرحوم کو بس رافضی کہہ سکتے ہیں
اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کر سکتے
جو کچھ مولانا اسحاق مرحوم نے اہل بیت رسول ﷺ کے حوالے سے بیان کیا
اسے رد کرنا کسی کے بس کی بات نہیں
اللہ نے مولانا اسحاق صاحب کی خدمت قبول کی اور ان کی زبان میں ��ہ اثر پیدا کر دیا کہ آج بھی ان کی تقریریں اسی ذوق و شوق سے سنی جاتی ہیں کہ جیسی ان کی حیات میں سنی جاتی تھیں
یزیدی مولوی تڑپتے تو بہت ہیں
مگر کچھ بگاڑ نہیں سکتے
کہ حق ہمیشہ باطل پر بھاری ہوتا ہے
#ربيع_الأول
علی امین گنڈا پور کو سپریم کورٹ جا کر مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگنی چاہیئے۔ اس سے پہلے بجٹ پر بھی مجھ سے مشاورت و ملاقات نہیں کی گئی۔ علی امین کو آ کر مجھے صوبے کی گورننس، امن و امان اور دیگر اہم امور پر بریفنگ دینی ہے جس کے لیے سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر بھرپور کوشش کرنی چاہیے-
میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے اپنے ہی ��ہریوں پر ہونے والے ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور سٹینڈ لے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہمارے دور میں امن آچکا تھا اور ہمارے دور میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ اب وہاں حالات جان بوجھ کر خراب کیے جا رہے ہیں تاکہ واحد عوامی مینڈیٹ والی پارٹی کو کمزور کیا جا سکے۔
خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے مسائل مقامی نمائندوں کی مدد سے بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ان آپریشنز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے، نہ ہی عوامی نمائندوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی تو ایسا آپریشن کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔
افغان مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس پر میں شرمندہ ہوں۔ وہ ہمارے مسلمان بھائی یہاں پناہ لیے ہوئے تھے انھیں ایسے دھکے مار کر ملک سے نکالنا اسلامی روایت اور انسانیت کے خلاف ہے-
فیصل آباد کی عدالت کی جانب سے ایک اور جھوٹے کیس میں ہمارے 75 ممبران اور کارکنان کو دی گئی سزائیں اس ظلم کے نظام کو مزید ننگا کر رہی ہیں۔ ہم سب کو اس ظلم کے خلاف اکٹھے کھڑے ہونا ہے جب ہم مل کر مقابلہ کریں گے تو فتح ہمارا مقدر بنے گی۔
میری رائے میں 9 مئی کیسز میں جھوٹے الزامات پر دی گئی سزاؤں کے ذریعے خالی کرائی گئی سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ان جھوٹی سزاؤں کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا- اسی لیے پارٹی اس معاملے پر غور کر کے حتمی فیصلے کے لیے کل دوبارہ اپنی تجاویز میرے پاس لے کر آئیں- حماد اظہر کا حلقہ میاں اظہر صاحب کی وفات کے بعد خالی ہوا ہے- اس سیٹ پر ہم الیکشن لڑیں گے۔
جو ظلم و فسطائیت اس وقت پورے ملک میں جاری ہے اس کے خلاف پشاور میں ایک گرینڈ جلسہ کیا جائے گا جس کی تاریخ ک�� اعلان پارٹی کرے گی۔
خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے اور سینکڑوں قیمتی جانوں کے نقصان کے ساتھ لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ میں نے اسی ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے Billion Tree جیسے منصوبے شروع کیے تھے۔ اس طرح کے منصوبے ہی ہمارا ماحول بچا سکتے ہیں ��رنہ ہم ہر سال تباہی ہی دیکھیں گے” -
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہم گفتگو
(26 اگست، 2025)
2/2
عمران خان نے 30 سال تحریک انصاف لئی انتھک محنت کیتی پر اپنی فیملی نو تحریک انص��ف وچ نہی لیایا۔
ایف اے پاس دلیاں دی بدولت اج اودھی فیملی وی نیشنل نہی بلکہ انٹرنیشنل سیاسی فیملی بن گئی۔
ایما فوجیاں دے منہ تے بوٹے دا ٹوپا
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام!!! (۲۲ جولائی ۲۰۲۵)
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی شخصیت کے سا��ھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف نے اربوں کی کرپشن کی مگر اسے ہر سہولت کے ساتھ جیل میں رکھا گیا۔کسی سیاسی رہنما کی بے گناہ غیر سیاسی اہلیہ کو کبھی ایسے جیل میں نہیں ڈالا گیا جیسے بشرٰی بیگم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ میں صرف اور صرف اپنی قوم اور آئین کی بالادستی کے لیے ملکی تاریخ کی مشکل ترین جیل کاٹ رہا ہوں۔ جبر و فسطائیت کا عالم یہ ہے کہ مجھے وضو کے لیے جو پانی دیا جاتا ہے وہ تک گندہ ہوتا ہے اور اس میں مٹی ملی ہوتی ہے، جس سے کوئی انسان وضو نہیں کر سکتا۔ میری کتابیں جو اہل خانہ کی جانب سے جیل حکام تک پہنچائی جاتی ہیں وہ بھی کئی ماہ سے نہیں دی گئیں، ٹی وی اور اخبار بھی بند ہے۔ بار بار پرانی کتب کا مطا��عہ کر کے میں وقت گزارتا رہا ہوں مگر اب وہ سب ختم ہو چکی ہیں۔ میرے تمام بنیادی انسانی حقوق پامال ہیں۔ قانون اور جیل مینول کے مطابق ایک عام قیدی والی سہولیات بھی مجھے میسر نہیں ہیں۔ بار بار درخواست کے باوجود میری میرے بچوں سے بات نہیں کروائی جا رہی۔ میری سیاسی ملاقاتوں پر بھی پابندی اور ہے صرف "اپنی مرضی" کے بندوں سے ملوا دیتے ہیں اور دیگر ملاقاتیں بند ہیں۔
میں واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ��س وقت پارٹی کا ہر فرد اپنے تمام اختلافات فوری طور پر بھلا کر صرف اور صرف پانچ اگست کی تحریک پر توجہ مرکوز رکھے۔ مجھے فلحال اس تحریک کا کوئی مومینٹم نظر نہیں آ رہا۔ میں 78 سالہ نظام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوں، جس میں میری کامیابی یہی ہے کہ عوام تمام تر ظلم کے باوجود میرے ساتھ کھڑی ہے۔ 8 فروری کو عوام نے بغیر نشان کے جس طرح تحریک انصاف پر اعتماد کر کے آپ لوگوں کو ووٹ دئیے اس کے بعد سب کا فرض بنتا ہے کہ عوام کی آواز بنیں۔ اگر اس وقت تحریک انصاف کے ارکان آپسی اختلافات میں پڑ کر وقت ضائع کریں گے تو یہ انتہائی افسوسناک اور قابل سرزنش عمل ہے۔ پارٹی میں جس نے بھی گروہ بندی کی اسے میں پارٹی سے نکال دوں گا۔ میں اپنی نسلوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہوں اور اس کے لیے قربانیاں دے رہا ہوں ایسے میں پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا میرے مقصد اور ویژن کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
فارم 47 کی حکومت نے چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے مفلوج کر دیا ہے۔ چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں سے ٹاوٹ ججوں کے ذریعے جیسے سیاہ فیصلے آ رہے ہیں وہ آپ سب کے سامن�� ہیں۔ ہمیں عدلیہ کو آزاد کروانے کے لیے اپنی بھر پور جدوجہد کرنی ہو گی کیونکہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر کسی ملک و قوم کی بقاء ممکن ہی نہیں ہے۔