خان صاحب کی آنکھیں نم ہوگئیں قوم کا درد رکھنے والا لیڈر😢
عمران خان تو کرکٹ سپرسٹار تھاکروڑوں کما سکتا تھاکیا پڑی تھی ہاسپٹل بنانے کی چندےکیلیے مارا مارا پھرنے کی اور گندے گندے لوگوں سے گالیاں کھانے کی.
@ImranKhan
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں عمران خان کی جیل میں حالتِ زار اور ملاقاتوں پر پابندی کا شکوہ کیا۔ انہوں نے تقریر کے اختتام پر جب یہ کہا کہ "جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے"، تو ویڈیو کے 9ویں سیکنڈ پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی اس بات پر تالیاں بجا رہی ہیں۔ سہیل آفریدی کے خطاب کے بعد پورے 17 سیکنڈز تک ہال تالیوں سے گونجتا رہا، اور یہ سلسلہ تب رکا جب اسٹیج سیکریٹری نے تالیوں کی گونج میں ہی اگلے مقرر کا نام اناؤنس کیا۔
🚨🚨🚨اہم ترین
وزیراعلی سہیل آفریدی نے آج چیف جسٹس کے سامنے بھرپور انداز میں عمران خان کا مقدمہ لڑا، انہوں نے کہا کہ جیل اصلاحات اچھی بات ہے مگر اسکا آغاز اڈیالہ جیل کے ہونا چاہیے جہاں عمران خان کو ناحق قید کیا ہوا ہے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے!!!
تقریر کے اختتام پر اتنی تالیاں بجائی گئی کہ سہیل آفریدی سے اسٹیج سے اتر کر کرسی پر بیٹھ گئے پھر بھی تالیاں بجتی رہی!!!
مطیع اللہ جان اور ذوالقرنین نے اندرونی کہانی بتا دی!!!👏🔥
👇👇👇
صوبے میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ ر ی پ , جن سی تشدد , جسم کے نازک حصوں کو کانچ سے کاٹنا اور ان میں گن داخل کرنا اس پر سی ایم یا کسی وزیر نے کوئی نوٹس لیا
مریم صفدر کی بیٹی جیل میں ان سے ملنے جاتی تھی یعنی فیملی کو ایکسس حاصل تھی آپ اور کچھ بھی نہ کریں جیل مینوئل پر عمل کروا دیں تاکہ ان کا بیانیہ تقویت نہ پکڑے ! علینہ شگری ۔۔
فراہینگ پین سے کپڑے استری کرتی تھی
واش روم صاف کرتی تھی
دوپٹہ بھگو کر پھیلا لیتی تھی
نائٹ ڈریس میں تصویریں بنائی گئیں
کانچ والا گڑ کھا لیا
چوبیس گھنٹے قید تنہائی۔۔
میری ایک ٹانگ نقلی ہے، میں ہاکی کا بہت بڑا پلیئر تھا۔ ایک دن ادے بھائی کو میری کسی بات پر غصہ آ گیا تو میری ہی ہاکی اسٹک سے میری ٹانگ کے چار ٹکڑے کر دیے۔
لیکن دل کے بہت اچھے ہیں، فوراً ہاسپٹل لے کے گئے، آپریشن کروایا، نئی ٹانگ لگوا دی!
"جیل میں ایک روز میری شوگر ڈراپ ہو گئی، ہاتھ کانپ رہے تھے، گُڑ والی بوتل گر کر ٹوٹ گئی، مجھے وہی کانچ ملا گرا ہوا گُڑ اٹھا کر کھانا پڑا" مریم نواز کا جیل اصلاحات کانفرنس میں خطاب
جیل میں کانچ یا لوہے کی کسی چیز کو رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تاکہ قیدی اس سے خود کو نقصان نا پہنچاسکے۔ تمام اشیاء ضرورت و برتن پلاسٹک کے ہوتے۔ موصوفہ کبھی فرائنگ پین کی کہانیاں سناتی کبھی کانچ کے بوتل کی۔
میری ایک ٹانگ نقلی ہے، میں ہاکی کا بہت بڑا پلیئر تھا۔ ایک دن ادے بھائی کو میری کسی بات پر غصہ آ گیا تو میری ہی ہاکی اسٹک سے میری ٹانگ کے چار ٹکڑے کر دیے۔
لیکن دل کے بہت اچھے ہیں، فوراً ہاسپٹل لے کے گئے، آپریشن کروایا، نئی ٹانگ لگوا دی!
جیل میں مجھے احساس ہوا کہ بےبسی کسے کہتے ہیں، ایک روز میری شوگر ڈاؤن ہو گئی، مدد کیلئے پکارا کوئی نہ آیا، ہاتھ کانپ رہے تھے، گڑ والی بوتل بھی گر کر ٹوٹ گئی، گرا ہوا گڑ اٹھا کر کھانا پڑا، اب جیل میں اصلاحات کی ہیں، ایمرجنسی پینک بٹن متعارف کروایا ہے تاکہ کوئی اور ایسی صورتحال سے نہ گزرے، مریم نواز شریف کا جیل اصلاحات پر قومی کانفرنس سے خطاب
اس بچارے نے کیا کھڑا ہونا ہے۔ اس کے جھکتے شانے دیکھیں۔ اس کی درباری مسکراہٹ دیکھیں۔ ایسے تو اعلی نوکر بھی دربار میں میں پیش نہی ہوتے۔ یہ ملک شلک بس نام کے ہیں۔ ان کی خاندانی وراثت ہے اقتدار میں رہنا۔ چاہے اس کے لئے کسی کے جوتے بھی اٹھانے پڑیں۔ پشتوں سے یہ ہی سلسلہ جاری ہے۔ معاف کیجیے گا ہمارے جیسے کچھ لوگوں کو جن ان سے اصولوں کے لیے لڑنے کی کچھ امید لگا بیٹھے تھے۔ نو میڈم نو۔ پشتوں کے نوکر کبھی سر نہی آتھا سکتے۔
ڈڈو چارجر اسمبلی میں کھڑے ہو کر بڑے فخریہ اور طنزیہ انداز میں کہتی ھے "ہاں بھئی، خریدا ہے جہاز، کر لو جو کرنا ہے"....
سائرہ بانو نے ڈڈو چارجر کو تن دیا
کیوں تمھارے باپ کے پیسوں سے خریدا ہے
یا آپنی ماں کے گردے بھیج کر تم نے جہاز خریدا ہے ؟ 😂😂