میری قوم اس بات پر گواہ ہے کہ جب جولائی ۲۰۲۲ میں مالاکنڈ ڈویژن میں دہشتگردی کی نئی لہر کی بساط بچھائی جانے لگی تو میں نے اس سلسلے کے آغاز سے قبل اپنی قوم کو آگاہ کیا اور سوال اٹھائے۔ جواباً آئ ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے میڈیا ونگ کی جانب سے میرے خدشات کو پراپگینڈہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ میں بےجا خوف و ہراس پھیلا رہا ہوں۔ جب یہ عناصر مالاکنڈ میں داخل ہوگئے اور بھتہ خوری اور دھمکی آمیز کالز اور خطوط کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے حکومت اور سیکیوریٹی اداروں دونوں سے درخواست کی کہ ۸۰ ہزار شہدا بشمول ۱۰ ہزار سیکیوریٹی فورسز کے اہلکاروں کی قربانی دے کر ہم نے یہ امن حاصل کیا ہے خدارا اب مزید پاکستانیوں کو کسی اور کی جنگ کا ایندھن نہ بنایا جائے۔ جس پر اس وقت کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے بیان آیا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور میں شرپسند ہوں، پراپگینڈہ کر رہا ہوں۔ حکومت اور سیکیوریٹی اداروں کی نیت جان کر میں نے اپنی قوم سے رجوع کیا اور ان کے ساتھ مل کر ایک مسلسل تحریک چلائی اور ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک قطرہ خون بہائے بغیر مالاکنڈ ریجن سے دہشتگردوں کو واپس پلٹنا پڑا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس امن کے نام پر اربوں روپے ڈالر ہڑپے گئے اور ہزاروں جانیں گنوائیں گئیں اس کو صرف قوم کو یکجا کرکے بحال کرنے پر ریاست داد دیتی۔ یہ کاوش ایک کیس سٹڈی کے طور پر دیکھی جاتی الٹا ریاست نے مجھے مطلوب قرار دے دیا۔ مجھ پر مقدمے درج ہوئے، اداروں کی سرپرستی میں میرے گھر پر اسلحہ بردار افراد بھیجے گئے، خاندان کو ھمکیاں دیں گئیں، رستے سے ہٹانے کی کوششیں ہوئیں۔ میرے ہی ایم پی ایز کو بلا کر سمجھایا گیا کہ یہ نادان ہے ”ask him to stay out of it” معلومات بہت تھیں۔ ان کے منصوبوں کا بھی علم تھا لیکن الزام تراشی کے بجائے اپنے لوگوں کے امن کو ترجیح رکھا اور بار بار رکھا اگرچہ دھوکے اور چالبازیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا اور دھونس دھمکیاں بھی مگر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر امن کے لیے اپنی قوم کو یکجا ہونے کا پیغام دیا۔ ملاکنڈ سے مایوس ہو کر پلان کا رُخ جنوبی اضلاع کی جانب موڑ دیا گیا۔ اب واپسی کا راستہ وہ اپنانا تھا جہاں سے ماضی میں اس گھناؤنے کھیل کی شروعات کی گئیں تھیں۔ لہذا میں نے لکی مروت، وزیرستان، بنوں، اورکزئی، کُرم، ڈی آئی خان، ٹانک، کرک، ہنگو، کوہاٹ کے نوجوانوں کے ساتھ جرگے کیے اور ان کو موبالائیز کیا۔ تفصیل طویل ہے مگر مختصر یہ کہ جس سرحد کو محفوظ بنانے پر قوم کے اربوں روپے لگے، جس امن کو یقینی بنانے کے لیے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، جس جنگ کا ایندھن ہمارے ہزاروں شہری اور فوجی جوان بنے اُس سے قوم کو بچانا اتنا بڑا گناہ عظیم تھا کہ اگست ۲۰۲۲ سے اپریل ۲۰۲۳ تک بارہا مجھے قتل کرنے کے غرض سے پلان ترتیب دیے گئے۔ مجھ پر انگریز کے زمانے کے بغاوت اور غداری کے وہ مقدمے درج کیے گئے جن کی سزا موت ہے اور پھر مئی ۲۰۲۳ سے اس مقصد کے حصول کے لیے مزید نئے بہانے تراشے گئے۔ قانونی اور غیر قانونی ہر راستے کا انجام ایک ہی لکھ دیا؛ موت۔ میں جو پہلے سے ہی روپوش تھا مکمل طور پر رابطے سے باہر ہوگیا۔ اور یوں پوری قوم کو دہشتگرد قرار دے کر اصل دہشتگردوں کو کھل کر کھیلنے کے لیے زمین فراہم کردی گئی۔ نگران حکومت کے دور میں انہیں پوری طرح لکی مروت اور بنوں میں آباد ہونے کا موقع دیا گیا۔ اب سننے میں آرہا ہے کہ آپریشن کا اعلان کردیا گیا ہے تو مجھ پر جو شرپسندی اور پراپگینڈہ کی تہمت لگائی گئی اس کا کیا؟ بس یہی وجہ تھی نہ کہ حالات اس نہج پر لانا ضروری تھا؟ کیونکہ مقاصد کا حصول اس پر موقوف تھو؟ جب خیبر پختونخواہ میں ہماری حکومت بنی تب ہی یارانِ غار کو خبردار کردیا تھا کہ ناصرف اس خطے کے لیے نئے گیم پلان پر عملدرآمد جاری ہے بلکہ اگلے چند ماہ میں اسی عمل کو آپ کے خلاف بطور چارج شیٹ استعمال کیا جائیگا لہذا کھل کر اس مسئلے پر سامنے آئیں اور قوم کو آگاہ کریں۔ اور میں آج بھی اپنی قوم کو بتا رہا ہوں جو آگ ہماری دہلیز پر جلادی گئی ہے آپ جانتے ہیں کہ اُس کے شعلے نہ پہلے میری دیواروں پر رُکے تھے نا آگے اٹک کے پُل پر ٹہرنے ہیں۔ دریاؤں کا کے یا ریگستانوں کی خشکی سے نہیں رُکتی یہ قاتل لہریں۔ مہران بیس سے لے کر واہگہ بارڈر تک آپ اور میں بھی مریں گے اور وہ سیکیوریٹی جوان بھی جو ہمیشہ ریاست کی غلط پالیسیوں کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ پھر وہی کھیل رچایا جائیگا۔ سوال اٹھانا غداری۔ نشاندہی بغاوت۔مگر کل کا پراپگینڈہ آج کی حقیقت میں ڈھل رہا ہے، اب آپریشن ہوں گے، جنازے اٹھیں گے، بے گھری، بے سروسامانی، ذلت ہوگی اور پھر اپنی غلط پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ان مظلوموں کا خون بیچا جائیگا جو اپنے وطن کی محبت میں بلا چوں چراں میدان میں اترتے ہیں۔۔ میں اس ملک کے پالیسی سازوں سے بھی کہتا ہوں وہ جو خود کو ریاست کہلانے پر مصر ہیں؛ ۷۷ سال ہوگئے خدارہ قوم کے بچوں کو لکڑی کے ان ٹکڑوں برابر ہی سمجھ لو جن کو ایندھن بناتے ہیں، انہیں بھی کچھ سوچ سمجھ کر شعلوں میں پھینکا جاتا ہے۔ اتنے تن کٹیں تو جنگل بھی بنجر ہوجاتے ہیں جتنے سر ہم نے کٹا دیے۔ اگر آپ اپنے آقاؤں کے آگے اتنے ہی بے بس ہیں تو کچھ وقت کے لیے پیچھے ہٹ جائیں ہم کل کیطرح آج بھی بنا ایک قطرہ خون بہائے اپنا امن قائم رکھ سکتے ہیں۔ بس یہ اپنوں کے ہاتھ نہ شامل ہوں بربادئ گلشن میں تو دشمن سے نمٹنا تو ہماری تاریخ ہے۔
#ReleaseImranKhan
جیسے سقراط جان گیا تھا کہ زہر کا پیالہ اُسے مارنے والا نہیں ہے، یہ جو کہتے ہیں عمران خان جیل میں مزید خطرناک ہوگیا ہے درست کہتے ہیں۔ بہت خطرناک ہوتا ہے وہ آدمی جو اپنے انجام کی قید سے آزاد ہوجائے۔ جو جان جائے کہ اُس نے اپنی زندگی اُس کام میں لگا دی کہ جس کے لیے اُسے تخلیق کیا گیا تھا، جو اپنی پراگریس سے مطمئن ہوجائے۔ جسے اپنے خالق کے سامنے پیش ہونے میں کوئی عُذر نہ رہے۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ جو اپنے رب سے سننا چاہتا تھا کہ “you tried your best” تو کیا ہم ساری قوم اور دنیا کا ہر مظلوم اس بات پر گواہ نہیں کہ اُس نے کوئی کثر نہیں چھوڑی؟ شوکت خانم سے لے کر نمل تک اور احساس سے لے کر ایک پوری قوم کو گویا کرنے تک؟ افغانستان سے لے کر کشمیر اور فلسطین پر ہوتے جبر سے لے کر اسلاموفوبیہ تک؟ اُمت مسلمہ کی آواز بننے سے لے کر آزادی کی اس جنگ تک۔۔ ?Didn’t he try his best اُس کے ہاتھ میں تو نیت اور کوشش تھی وہ اُس نے کرلی، دل و جان سے۔ وہ کامیاب بھی ہوگیا۔ اُس نے وہ کر دکھایا جو تاریخ میں کسی کو کرنا نصیب نہیں ہوا تھا۔ اُس نے اس قوم کو شعور دے دیا جس کی غفلت کی نیند پر کئی سوں کے خوابوں کے محل کھڑے تھے۔پر میں سوچتا ہوں اس سے آگے کیا وہ واقعی ہماری تقدیر کی قید سے آزاد ہوگیا ہے؟ کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں عمران خان جیل میں خوش باش تھا۔ بشری بی بی کو اکلوتی تشویش یہ تھی کہ پیشیوں کے چکر میں ان کا اعتکاف نہ چھوٹ جائے۔ جب یہ کہتے ہیں کہ وہ سو سال بھی جیل میں رہنے کو تیار ہیں تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔ یہ جو چوبیس کروڑ کا ملک اپنے پنجوں پر چل رہا ہے اس خوف میں کہ کسی کی دُم پر پاؤں نہ پڑ جائے۔ یہ جو اپنے سانس لینے کے حق کے لیے دستِ سوال دراز کرتے ہوئے بھی “جل تو جلال تو” کا ورد کر رہا ہوتا ہے۔ یہ جو چہروں پر تفکر ہے۔ انداز میں بے بسی ہے۔ آنکھوں میں غصہ ہے۔ لہجوں میں حالات کی تلخی۔ یہ جو سجدوں میں اُسی کا تذکرہ ہے۔ یہ جو بے دلی آسیب کیطرح ہمارے شہروں میں منڈیروں سے لٹک رہی ہے۔ سڑک کنارے فٹ پاتھوں پر بے کسی کے مزاروں پر آنکھیں بجھتے دیوں سی ہوگئی ہیں۔ یہ جو اپنی ہی گلیاں اژدھے سی پھنک پھیلائے اپنے باسیوں کو نگلنے بیٹھی ہیں۔ لا قانونیت، مہنگائی، بے وقعتی، بے سروسامانی۔ یہ قوم تو اس شخص کے بغیر کسی قہرزدہ بستی کے باشندوں سی لگنے لگی ہے۔ وہ جو کچھ روز پہلے ایک شعر گردش کر رہا تھا۔۔ غریب شہر تیرا خیرخواہ قید میں ہے۔ یہ جو ہمیں اللہ کے بعد ایک اس بات کا آسرہ ہے کہ کوئی ہے جو ہمارا خیر خواہ ہے۔۔ کیا وہ واقعی یہ سوچتا ہے کہ اُس کی ہماری طرف حُجت تمام ہوگئی ہے؟ کہ بس اُس کی ضرورت یہیں تک تھی اور اِس سے آگے ہم اپنے والی آپ ہیں؟ چاہیں تو اُس کا پڑھایا سبق آنکھوں میں بسائیں عمل میں لائیں۔ چاہیں تو تاراج ہوجائیں۔ جئیں یا مریں۔ میں سوچتا ہوں، اپنے اردگرد دیکھتا ہوں، یہ جو چند “اپنے” ابھی سے بیٹھ کر وراثت کی تقسیم میں لگ گئے ہیں۔ یہ جو ایک ہی فکر ہے کہ کوئی اُس سے زیادہ نہ سمیٹ لے جائے۔ یہ جو لاکھوں کی جہد سے آنکھیں پھیر کر مقصد کے بجائے محض من مرضی کے صلے کی نیت سے قربانیاں ازبر کرائی جارہی ہیں۔ یہ جو اُس کو بھول کر ہر معاملے کی فکر طاری ہے۔ یہ جانتے بھی ہیں کہ جو وہ کہہ رہا ہے اُس کے معنی کیا ہیں؟ کسی کے ہاتھ ککھ نہ رہیگا۔ نہ طاقت والوں کے ہاتھ۔ نا طاقت کے متلاشیوں کے ہاتھ۔۔ وہ جو طاقت کا سرچشمہ ہیں کسی کی نسبت سے ہمارے، تمہارے ہیں۔ اور جس سے اُن کو نسبت ہے وہ سوچتا ہے اُس نے اپنی حُجت پوری کردی ہے۔ اس سے آگے اپنا انجام جانتے ہو؟ کون ہو تم؟ اپنی خوش قسمتی کو محض بدنصیبی میں بدلنے جتنے اہل ہو۔ کس گمان میں جیتے ہو؟ عمران خان جیل میں مطمئن ہوگا، اُس کا اطمینان صرف ہماری غیرت کے لیے تازیانہ بھی ہوتا تو بہت تھا مگر وہ جو اپنے انجام کی قید سے آزاد ہوگیا ہے، یوں جو ہماری تقدیر کی فکر سے بے اعتنا ہوگیا ہے، اُس کا اطمینان ہماری موت کا پروانہ بن جانا ہے۔
مینگورہ، سوات اور خیبر ایجنسی کے بعد عمران خان، بشری بی بی، قیادت اور کارکنان کی رہائی اور مینڈیٹ کی واپسی کےلیے آج چارسدہ، کل بریکوٹ اور باجوڑ میں احتجاج ہوگا۔ ہفتہ کے روز ہمارے ایم این اے شاہد خٹک کی قیادت میں کرک میں احتجاج ہوگا۔ یوتھ ونگ اور مقامی قیادت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی احتجاجی شیڈول جاری کرچکی ہے۔ ہم اپنی تنظیموں، ٹیموں اور ذیلی ونگز کو متحرک کررہے ہیں۔ کور کمیٹی خان صاحب کی اجازت سے جب بھی لانگ مارچ، دھرنے یا احتجاجی تحریک کی فائنل کال جاری کرتی ہے، ہم تیار ملیں گے۔ میری وکلاء قیادت سے درخواست ہے کہ اب تو اعلی عدلیہ کے جج صاحبان اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر حقائق سامنے لے آئے ہیں۔ عمران خان، بشری بی بی اور تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف فیصلے کس دباؤ کے تحت آئے، ۹ مئی کا گھناؤنہ منصوبہ کہ جس کو استعمال کرکے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے گئے، بے گناہ خواتین اور کارکنان کو کن کی ایما پر جیلوں میں رکھا گیا ہے قوم تو پہلے ہی جانتی تھی۔ اب اُس پر ملک کی اعلی عدالت کے جج صاحبان کی گواہی کی صورت مہر تصدیق بھی ثبت ہوگئی ہے۔ ہم میں سے بہت سے نوجوانوں کو سیاست میں شامل ہونے کی ترغیب عدلیہ بحالی تحریک سے ملی تھی، یہ وقت ہے کہ پارٹی اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر آئین اور قانون کی بحالی کے لیے متحرک ہوں۔ میں آپ کو باور کراتا ہوں کہ آئ ایس ایف، تحریک انصاف یوتھ ونگ اور پاکستانی قوم آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ قدرت بار بار آپ کو موقع دے رہی ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اُس کی خاموشی اُس کی بقا کی ضامن ہے تو یہ اُس کی خام خیالی ہے۔ جو عفریت اس ملک پر قابض ہے اُس کے منہ کو خون لگ چکا ہے، آج نہیں تو کل باری سب کی آئیگی۔ بلا تفریق آئے گی۔ خدارا اپنی وفاداریوں کا مرکز پاکستان کو رکھیں۔ ریاست کے نام پر پاکستان کی شہ رگ پر پنجے گاڑے بیٹھی عفریت کو نہیں۔
آج سوات سے عمران خان، بشری بی بی، تحریک انصاف کی قیادت و کارکنان کی رہائی اور پاکستان کی عوام کے مینڈیٹ کی واپسی کے لیے تحریک کا آغاز کردیا گیا ہے۔ آج ہی انشاء اللہ باقی اضلاع کے لیے بھی شیڈول جاری کرنے جارہا ہوں۔ جب بھی کور کمیٹی کی جانب سے دھرنے یا لانگ مارچ کا فیصلہ آیا ہماری تیاری انشاء اللہ مکمل ملے گی۔ پوری قوم پاکستان کے پرچم کے ساتھ اُسی طرح عمران خان کی رہائی اور اپنے مینڈیٹ کی واپسی کی تحریک کا بیڑہ اٹھائیگی جیسے انہوں نے ۸ فروری کو اٹھایا تھا۔ فیصلہ سازوں کو خبر ہو کہ پاکستانی قوم اب ناموں کی محتاج نہیں رہی۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہر عمل اور بات کو وطن دشمنی اور دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے لیکن عمران خان نے اس قوم کی سوچ کو بھی آپ کے بیانیوں سے آزاد کردیا ہے وہ جان چکی ہے کہ اُن کے فیصلے کی توہین ہی اصل وطن دشمنی ہے۔ اُن کے مینڈیٹ کی چوری ہی اصل دہشتگردی ہے۔ آپ اس آڑ میں خیبر پختونخواہ میں جن کاروائیوں کا ارادہ رکھتے ہیں اُن سے باز رہیں۔
JUST NOW: We need to ensure a credible investigation of election interference is conducted in Pakistan.
Democracy and the will of the people — not military interests — must be our priority.
عمران خان کے لیے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں جو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا تھا اُس سے ہمارا زندہ نکلنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ اللہ نے کیسے اس دن اپنے بندوں کو وسیلہ بنایا آج ایک سال گزرنے کے بعد بھی میں ۱۵ مارچ کی صبح کے واقعات اور ۱۸ مارچ کو فہم کی کھسوٹی پر پرکھنے سے قاصر ہوں۔ لیکن جب آپ کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہو اور آپ خود کو خدا سمجھنے لگیں اور زندگی موت کے فیصلے کرنے کے عادی ہوجائیں تو آپ اللہ کی حکمتوں پر بھی بندوں سے الجھنا شروع کردیتے ہیں۔ ۱۸ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس سے واپسی پر اطلاع ملی کہ عمران خان کے زندہ بچنے کی پاداش میں مجھ سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں پر مزید دو پرچے دہشتگردی کے درج ہوگئے ہیں۔ (دہشت گردی سے یاد آیا، ملک میں دہشت گردی کی واپسی کے خلاف عوام کو متحرک کرنے کے جرم میں بھی مجھ پر بغاوت اور غداری کے مقدمے درج ہوئے تھے۔ امن و امان کی صورتحال تو اس وقت مثالی ہوگی؟) آدھے راستے سے ہی اسلام آباد پلٹ آئے کہ اگلے دن ضمانت کرائیں۔مگر رات کو ہی جگہ جگہ چھاپے پڑنا شروع ہوگئے۔ تب رات گئے ایک محفوظ مقام منتقل ہوگیا۔ رجیم چینج آپریشن کے بعد اور خصوصا ارشد شریف کی شہادت کے بعد میں کئی کئی ہفتے اور مہینے گھر سے دور رہا ہوں لیکن اُس رات گھر سے نکلنے کے بعد ایک سال مکمل ہوگیا ہے کہ گھر واپسی نہیں ہوئی۔ (گھر بھی کیا جانا ہوتا کہ روز روز کی تھوڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے سبب میری غیر موجودگی میں ہی کرائے کا مکان خالی کرکے سامان سمیٹ کر کہیں رکھوا دیا گیا، اور باقی مکیں بھی میری طرح دربدر ہوگئے)۔ اگلی صبح جوڈیشل کمپلیکس جانے والے رستوں پر بھاری نفری تعینات تھی جوڈیشل کمپلیکس کو بھاری تعداد میں پولیس اہلکار گھیرے ہوئے تھے۔ کسی طور عدالت پہنچ تو گیا، ضمانت منظور ہوئی تو پتہ چلا کہ میری گاڑی سے گارڈ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ضمانت کراکر باہر نکلنے والے حسان نیازی کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ حسان نا صرف ضمانت پر تھا بلکہ وکیل تھا، لیکن اُس سے جو سلوک روا رکھا گیا وہ سب کے علم میں ہے۔ آج اس کے جذبات میں اٹھائے ایک قدم کو جواز بنا کر اُس کو تو فسادی بنا کر پیش کیا جارہا ہے لیکن اُس کا وہ تکلیف دہ جملہ کہ “ریاست ماں جیسی نہیں تھی” کے اسباب کا سوال کسی سے نہیں ہورہا۔ اگلے دو ہفتے بہت کچھ ہوا کہ جس کا تذکرہ کسی اور وقت مگر حالات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ میں زمان پارک ہی ٹہروں گا۔ خان صاحب نے اپنے بیٹوں کا کمرہ ٹھیک کرایا اور پابندی لگا دی کہ گھر کے گیٹ سے آگے نہیں جانا۔ خان صاحب اور بشری بی بی کی شادی کو کافی عرصہ ہونے اور چار سال خاتون اول رہنے کے باوجود کبھی ان سے سلام دعا سے زیادہ واقفیت نہیں رہی تھی لیکن زمان پارک میں اپنے قیام کے دوران میں نے اُن میں اپنی اُس ماں کا عکس دیکھا کہ جن کو میں نے پندرہ سال پہلے گنوایا تھا۔ اُن کی یہ شفقت صرف مجھ تک محدود نہیں تھی۔ زمان پارک کے باہر لگے کیمپوں میں مقیم کارکنان کو کوئی تکلیف نہ ہو، ان کے کھانے پینے کا مناسب انتظام ہو، افطار کے دوران خان صاحب سے ملنے آنے والے کسی فرد کی دل آزاری نہ ہو۔ہماری خیریت کے لیے دعائیں، قرانی وظائف، صدقہ خیرات (اُسی طرح جیسے ہم اپنے گھروں میں دیکھنے کے عادی ہیں) ایک ایسے شفیق طبیعت اور متقی انسان کے بارے میں جس قسم کی غلیظ باتیں پھیلائی گئیں جادو ٹونہ اور نجانے کیا کیا، یہ لوگ خودسے کیسے نظریں ملاتے ہوں گے۔ ایک پردہ دار خاتون کو صرف حق کے راستے میں اپنے شوہر کے ساتھ کھڑے ہونے پر جس سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سوچتا ہوں رمضان کی ان راتوں میں جب وہ اپنے اللہ کے روبرو کھڑی ہوتی ہوں گی۔۔ اگر کوئی شکایت زبان پر آگئی تو یہ زمین کے خدا اپنی خدائی لے کر کہاں جائینگے؟
Pakistan’s army may have gotten away with its latest election heist. But can it maintain control? There are two reasons to think the country’s generals might struggle https://t.co/P7WlOESTW6 👇
نومبر ۲۰۲۲ میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد بنی گالہ کے باہر لگے جانثاران کیمپ زمان پارک شفٹ ہوچکے تھے اس لیے ہمارا بھی زیادہ تر وقت لاہور گزرتا تھا۔ پنجاب میں انتخابی طبل بجا تو سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئیں، تحریک انصاف کی جانب سے پہلی ہی ریلی کے انقعاد پر دھاوا بول دیا گیا۔ درجنوں کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا۔ شام تک ظلِ شاہ کی تشدد زدہ لاش سڑک پر پھنکی ملی۔۔ یہ ۸ مارچ ۲۰۲۲ کا واقعہ ہے۔ مارچ سال کا تیسرا مہینہ ہے اور مئی پانچواں!
۱۴ مارچ کو خود پر درج ان گنت جعلی ایف آئی آرز میں سے ایک کی ضمانت کے لیے اسلام آباد آیا ہوا تھا، حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر، عدالت میں حاضری کے بعد لاہور واپسی کے لیے نکلا ہی تھا کہ ہمارے ایم این اے جنید اکبر نے اطلاع دی کہ بڑی تعداد میں پنجاب پولیس کے اہلکار عمران خان کی ۱۸ مارچ کی عدالتی پیشی کے وارنٹ پر عملدرآمد کرانے پہنچ گئے ہیں۔ دن کے وقت عموماً کیمپوں پر مقامی لوگ کم ہوتے تھے صرف دور دراز سے آئے کارکن موجود تھے۔ نہتے کارکن کسی مسلح جنگ کے لیے تو ٹرین ہوئے نہ تھے، نہ پولیس کی طرح ہتھیاروں سے لیس تھے، نہ ریاستی اہلکاروں کی طرح monopoly of violence کا گھمنڈ تھا۔ عمران خان کی محبت میں ڈنڈوں، آنسو گیس کے سامنے ڈٹے رہے لیکن کتنا کوئی وقت ڈٹے رہتے؟ اس لیے پبلک کال دی اور قریب کے علاقوں سے کارکنان کو فوراً زمان پارک پہنچنے کا کہا۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ چند گھنٹے سے زیادہ شاید ہی ہم اس معاملے کو کھینچ سکیں، مگر امید تھی کہ اس دوران وکلاء عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا کر اُس شتر بے مہار کو کوئی لگام ڈال سکیں کہ جو اپنی منشاء سے آئین و قانون کی ناک اور بازو مروڑ کر اپنے گھناؤنے عزائم پر عملدرآمد کراتے آرہے تھے۔ سچ کہوں تو ظلِ شاہ کی موت نے کسی کے دل میں ایسا کوئی گمان بھی نہ رہنے دیا تھا کہ سامنے والے یہ سمجھیں گے کہ ہم ایک ہی ملک کے باشندے فقط آئین و قانون کی عملداری کے لیے برسرِ احتجاج ہیں پھر بھی سب سر پر کفن باندھ کر کھڑے رہے کیونکہ سب جانتے تھے کہ ۴ نومبر پہلا موقع نہیں تھا جو عمران خان کی جان لینے کی کوشش کی گئی تھی۔ نومبر سال کا گیارواں مہینہ ضرور ہے مگر یہ نومبر بھی اُس مئی سے پہلے ہی آیا تھا۔
اگلے ۲۴ گھنٹے کیا کیا ہوا، عمران خان کی قوم نے کیسے عمران خان کی حفاظت کی وہ کہانی تو تاریخ کے لیے لکھی جانی ہے، تین مرتبہ عمران خان نے باہر نکل کر ہمیں سمجھانے کی کوشش کی کہ انہوں نے بہر صورت لندن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے۔ لیکن سب کی رائے یہی تھی کہ یہ تماشہ فقط گرفتاری کے لیے نہیں لگایا گیا۔
تمام رات اور اگلی صبح زمان پارک میں واقع ملک کے سابق وزیر اعظم، دنیا میں پاکستان کی پہچان، پچاس سال سے پاکستان کے سب سے قابلِ فخر بیٹے کے گھر پر سامنے سے اور ایچیسن کی جانب جانے والی سڑک سے فائیرنگ ہوتی رہی۔ ۳۶ خول تو اگلی صبح میں نے اپنے ہاتھوں اٹھائے۔ آنسو گیس کے شیلوں کی تعداد تو شاید گنتی سے ہی باہر تھی۔ گھر کے دروازوں اور دیواروں کو کرینوں اور بکتر بند گاڑیوں سے توڑنے کی کوششیں ہوئیں۔ اپنے لوگوں پر گولیاں چلائیں گئیں تشدد ہوا۔ یہ سب سال کی تیسرے مہینے میں ہورہا تھا، وہ مہینہ جو مئی سے پہلے آتا ہے!
۹ اپریل ۲۰۲۲ کی رات کو شروع ہونے والا تماشہ ۹ فروری ۲۰۲۴ کو ختم نہیں ہونا تھا اور نا یہ ایسے ختم ہوگا۔ عمران خان کو جن کی ایما پر ہٹایا گیا تھا انہیں اُس کی واپسی قبول نہیں ہے، چاہے اُس کے لیے ۲۴ کروڑ کے ملک کو آگ میں جھونک دیا جائے۔ اس بات کا ادراک ہمیں ۹ اپریل کی رات کو ہی تھا، ۹ فروری کے بعد صرف ہمارے خدشات پر ایک اور تصدیقی مہر ثبت ہوئ ہے۔ امریکہ کو ایبسلوٹلی ناٹ بولنا، یوکرائن جنگ میں یورپی یونین کی ہم نوائی نا کرنا، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار اور ہندوستان کی اجارہ داری کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا عمران خان کے وہ جرائم ہیں جو بیرونی طاقتوں کے لیے تو نا قابلِ قبول ہیں ہی مگر ان کے اندرونی مہروں کی بقا بھی اسی میں ہے کہ عمران خان نام کی کوئی تلوار اُن کی بیش بہا اور آئین و قانون سے مبرا طاقت پر نا لٹکتی رہے۔ دو سال کی بدترین فسطائیت اسی امید پر تھی کہ عمران خان پیچھے ہٹ جائے یا یہ عوام تھک جائے۔ اس دوران یہ کوشش بھی مستقل جاری رہی کہ عمران خان نام کا کانٹا ہی نکال دیا جائے، ایک بار نہیں کئی کئی بار عمران خان پر حملہ کیا گیا اور اب جب سے عمران خان کو پابندِ سلاسل کیا گیا ہے ہر ایک لمحہ اسی مقصد پر عملدرآمد کی منصوبہ بندی میں صرف ہورہا ہے۔ میں متعدد بار یہ اشارہ دے چکا ہوں اور اب مزید واضح کررہا ہوں اس ملک پر قابض خدائی کے دعویداروں کا فیصلہ ہے کہ عمران خان کو نومبر سے پہلے پہلے راستے سے ہٹانا ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے جس ذات نے آج تک عمران خان کی زندگی کی حفاظت کی ہے وہ انشاء اللہ آگے بھی کریگی مگر عین ممکن ہے کہ ۱۸ مارچ ۲۰۲۳ کی طرح اس مرتبہ بھی وسیلہ اللہ نے اُس کی قوم کو بنانا لکھا ہو اور یہ کوشش ہم پر فرض اس لیے بھی ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضرورت عمران خان کو نہیں ہے،عمران خان کی قوم کو ہے؛ ہمیں ہے۔ چنانچہ لازم ہے کہ ہم اپنی طاقتیں مجتمع کریں اور منظم ہو کر میدان میں اتریں۔ اُن کے پاس اگر ہتھیار اور اختیار ہے تو ہمارے پاس تقریر، تحریر اور قلبِ جرار ہے۔ حق پر ہونے کا اعزاز ہے۔
اس وقت مقتدرہ متعدد منصوبوں پر کاربند ہے۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہے، عمران خان کے سائے تک سے نجات پانا۔ اس کے لیے اڈیالہ پر دہشت گرد حملوں اور سیکیوریٹی رسک کا ڈرامہ بھی رچایا گیا، مذہبی جنونیت اور جیل میں قیدیوں کی لڑائی کے قصے بھی پھیلائے گئے، ُان کی صحت کے حوالے سے پہلے ہی بی بی کو دھمکی دی گئی تھی، عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کے بابت بھی غوروخوض ہوا۔ بنی گالہ میں بشری بی بی سے جو سلوک روا رکھا گیا ہے اور اُن کی منتقلی پر کیسی خبریں چلائی گئیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔ بہر صورت خان کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار وہی قوتیں ہوں گی کہ جو عدالتوں کے فیصلوں کو روند کر اُن سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کرنے پر قادر ہیں۔
ان تمام امکانات اور چند دیگر حقائق کہ جن کا ذکر فی الوقت مناسب نہیں ہے کی بنا پر درج ذیل نکات الیکشن کے فوراً بعد ہی قیادت اور اوور سیز نمائندگان تک پہنچا چکا ہوں اور اب چونکہ آپ کو حالات کی سنگینی کا درست اندازہ ہوچکا ہے اس لیے اپنی قوم کے لیے بھی لکھ رہا ہوں۔
ہمیں اس وقت مکمل فوکس اور یک جہتی سے عمران خان کی آواز بننا ہے۔ جہاں قومی اسمبلی میں مستقل عمران خان کی رہائی کی آواز کی گونج کم نہیں ہونی چاہئے وہیں اپنے مینڈیٹ کی واپسی کا علم عدالتوں، میڈیا اور سڑکوں پر اونچا لہرانا ہے۔
۱- عمران خان کی تصویر لیکر پروگراموں میں شرکت کریں جس چینل یا اینکر کو اس عمل پر اعتراض ہے اُس پروگرام میں ہی نا جائیں۔ عمران خان، بشری بی بی، شاہ محمود قریشی سمیت غیر قانونی طور پر پابندِ سلاسل کارکنان اور صحافیوں کی رہائی کے مطالبے سے بات کا آغاز کریں۔ میڈیا اپنی تمام تر مجبوریوں کی باوجود آپ کے وجود کی نفی نہیں کرسکتا کیونکہ آپ اس ملک کی سب سے بڑی حقیقت ہیں۔
دو سال سے جس فسطائیت کا سامنا یہ قوم کر رہی ہے اس پر “ہیلنگ ٹچ” صرف انصاف کی صورت میں لگ سکتا ہے۔ انصاف کا پہلا مرحلہ قوم کے مینڈیٹ کی واپسی ہے۔ اُس سے کم پر آمادگی کا اظہار کرکے اپنے مقصد کو کمزور نا کریں یہ قوم کی قربانیوں کی توہین ہے۔
۲- سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، تحریک کے کارکنان، آفیشل اکاؤنٹس روزمرہ کے معاملات کے ساتھ اپنا فوکس مینڈیٹ کی واپسی اور عمران خان، پارٹی لیڈران اور کارکنان کی رہائی پر ایسے رکھیں جیسے آپ کی زندگی اِس پر منحصر ہو۔ کوئی بھی ذاتی بیانات، اختلافات، بیان در بیان اور آراء آپ کو یہ نہ بُھلا پائیں کہ یہ جنگ آپ کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔ آپ کو شاید آج اندازہ نہ ہورہا ہو لیکن آپ کی زندگی واقعی ان دو عوامل پر منحصر ہے، یقین نہیں آتا تو اُن قوموں کو دیکھ لیں جن کی شہ رگ میں فسطائیت پنجے گاڑ چکی ہیں، آپ کو اُن کے چہروں پر زندگی کی شاذ ہی کوئی رمق دکھائی دے گی۔
۳۔ جہاں ظلم کے اندھیرے گہرے ہونے کے عندیے دیے جارہے ہیں لازم ہے کہ ہم اتنے ہی دیے روشن کریں۔ جو لکھ سکتا ہے لکھے۔ جو بول سکتا ہے بولے۔ جس کی احتجاج کی سکت ہے وہ اُن میں شرکت کرے۔ لیکن جس تحمل کے ساتھ یہ عمل آپ دو سال سے جاری رکھے ہیں اُس صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہئے۔ مدمقابل سفاک بھی ہے اور بے غیرت بھی۔ وہ اپنی کاروائیوں کا الزام آپ پر دھر کر آپ کے لیڈر کو نقصان پہنچا سکتا ہے اس لیے ہوش اور فوکس۔
۴- جو بیرون ملک ہیں وہ دنیا کو جگائیں۔ یاد رکھیں جمہوری معاشروں میں حکومتیں عوام کو جوبداہ ہوتی ہیں وہ ایک حد تک ہی اِن کے جبر اور غیر آئینی اقدامات سے چشم پوشی کرسکتی ہیں۔ آپ کے پروگرامز ، احتجاج، سوشل میڈیا پر آپ کی تحریکیں پرزور ہونی چاہئیے۔ یاد رکھیں عمران خان آپ کا وقار ہے۔ دنیا میں آپ کی عزت کا ضامن ہے۔ جن محفلوں میں آپ پر دہشت گردی کے لیبل لگتے رہے وہاں وہ آپ کا مقدمہ لڑا ہے۔ وہ جو کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکا تھا فقط آپ کے حق کے لیے سوالی بنا ہے۔
۵- سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری اس وقت وکلاء پر ہے۔ وکلاء قیادت بار کونسلز کے ذریعے عدلیہ کو جھنجھوڑیں ملک میں دو سال سے جو آئین و قانون کا مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے اُس پر شور مچائیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو اُن روگردانیوں سے آگاہ کریں کہ جن کے زریعے ۲۴ کروڑ کے ملک کو یرغمال بنایا گیا ہے۔
۶- قیادت کے مطابق وہ جلد ہی گذشتہ ہفتہ کی ملاقاتوں اور تنظیموں سے مشاورت کے مطابق لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔ میں اس تناظر میں اپنے یوتھ، آئ ایس ایف، ٹرانسپورٹرز اور ٹریڈرز تنظیموں اور وی سی تنظیموں جو کہ صرف پختونخواہ میں ۷۰،۰۰۰ عہدیدار بنتے ہیں سے اپیل کرتا ہوں کہ آج رات سے ہی اپنی تیاری کرلیں۔ کسی بھی اعلان اور پر امن تحریک کے آغاز میں آپ کا کلیدی کردار ہوگا۔
میں ایک مرتبہ پھر دہرا دوں مدمقابل سفاک بھی ہے اور بے غیرت بھی وہ آپ ہی کو آپ کے خلاف استعمال کریگا۔ ہمیں ہر قدم یہ سوچ کر اٹھانا ہے کہ ہمارے سامنے مقصد بہت بڑا ہے۔ ہمیں ان بیرونی طاقتوں کے آلہ کاروں، خدائی کے دعویداروں سے اپنے لیڈر کی زندگی، اپنا مینڈیٹ اور اپنا ملک تینوں بچانے ہیں۔
ان کی طاقت کا دار ومدار آپ کی خاموشی پر ہے۔ ان کی امید آپ کے حوصلے ٹوٹنے سے وابستہ ہے، آپ کے اونچے سر۔ آپ کی محکم آوازیں۔ آپ کی جمے قدم ان کے پیروں تلے سے زمیں سرکا رہے ہیں یاد رکھیں آپ وہی قوم ہیں جو ۱۵ اور ۱۸ مارچ کو عمران خان کی ڈھال بنی تھی آپ متحد تھے، فوکسڈ تھے تو قدرت نے بھی آپ کی مدد کی تھی۔ دل نہیں چھوڑنا آپ کے خدا کو آج بھی کوئ شراکت نہیں۔
بلکل پنجاب قیادت کو چاہے تھا مکمل احتجاج کرتے اور عوام کو لے کر نکلتے
خاص حماد اظہر کو اب پورا پنجاب بند کرو دینا چاہے تھا
مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے انکی غلطی پاليسيوں کی وجہ سے خان جیل کاٹ رہ ہے اب تک
دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے باوجود پی ٹی آئی کی اتنی ٹھنڈی حکمت عملی سمجھ سے بالاتر ہے کیا ہم صرف کے پی حکومت لیکر، پنجاب اور وفاق میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھ کر تقریریں ہی فرماتے رہیں گے یا پی ٹی آئی لیڈرشپ کے پاس کوئی حکمت عملی بھی ہے؟
@BarristerGohar@sherafzalmarwat@Hammad_Azhar@OmarAyubKhan
پی ٹی آئی قیادت نے مایوس کیا ہے۔
عوام نے اپنے لیڈر عمران خان کے لیے جس بھاری تعداد میں نکل کر ووٹ دیا تھا بدقسمتی سے کہنا پڑے گا کہ پی ٹی آئی قیادت اس کی حفاظت کا صحیح حق ادا نہیں کر رہی ہے۔
خیبر پختونخواہ کی عوام نے اپنا حق لیا، اور بلوچستان کے شیر بھی اپنے حق کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں، لیکن پنجاب اور سندھ کی قیادت نے انتہائی مایوس کیا ہے عوام پی ٹی آئی قیادت سے دھاندلی پر انتہائی سخت رویہ اپنانے کا تقاضا کرتے ہیں۔
خیبر پختونخواہ کو اپنا مورچہ بنائیں اور خاکی قاضی پر اتنی شدید تنقید کریں کہ اس کے اوسان خطا ہو جائیں کیونکہ اب جو کچھ بھی ہونا ہے سپریم کورٹ سے ہی ہونا ہے لہٰذا ججوں پر ویسے ہی تنقید شروع کریں جیسی مریم نوازا اور پی ڈی ایم بندیال پر کیا کرتے تھے۔