پنجگور : پروم جہاں پندرہ سال بعد خوف کو مات دے کر عوام آج اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے ہیں اس علاقے میں کوئی ایسا گھر نہیں جہاں ریاستی دہشت گردی کے ایثار نہ ملتے ہوں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جہاں ریاست نے لاش نہیں بھیجیں ہو کوئی ایسا گھر نہیں جہاں لوگ جبری گمشدگی کے شکار نہیں بنائے گئے ہیں اس علاقے میں دس سال کے بچوں سے لے کر 70 سال کے بزرگ تک جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے ہیں ۔۔
مگر بلوچوں کی زندگی انکی اپنی سرزمین پر اجیرن بنانے والے سب لیں
بلوچ بے موت مارے جانے سے تمہاری خوف سے روز روز مرنے سے تمہارے جبر کے آگے سر تسلیم خم کرنے سے انکار انکار ۔۔۔۔انکار ۔۔۔۔انکار ۔۔۔۔انکار کرتے ہیں
#MarchAgainstBalochGenocide
کوئٹہ : مقتدرہ کو سمجھنا ہوگا کہ عوام مزید جبر تشدد جبری گمشدگیوں کو برداشت نہیں کریں گے
ایسا نہیں ہوسکتا آپ لوگوں کو جبری لاپتہ کرو انسانی حقوق کی پامالیاں کرتے جاؤ زیر حراست بلوچ نوجوانوں کی لاشیں پھینکتے جاؤ اپنے ہی ملک کے آئین اور قانون کو بوٹوں تلے روندتے جاؤ ڈیتھ اسکواڈ کے خاتمے کے بجائے انھیں اسمبلیوں میں ہمارے نمائندہ بتا کر ہم پر مسلط کرو ۔۔
گزشتہ 75 سالوں کے مظالم نے بلوچوں کو اس نہج پر پہنچایا ہے کہ اب تمہاری بربریت ظلم اور جبر اور مزید لاشیں اٹھانے سے ہم انکار کرتے ہیں
اب ہماری زندگیوں کا فیصلہ تم نہیں ہم خود کریں گے
مزاحمت ہی زندگی ہے مزاحمت ہی بقا ہے مزاحمت ہی شعور ہے
#MarchAgainstBalochGenocide
The state institutions and their backed death squads have rendered our Baloch mothers and their entire families forcibly “Helpless”.
From every corner of Balochistan, they have abducted, killed, and dumped our nation fellows . What else remains but 'Resistance' and a movement against the genocidal and brutal policies of the state? This is a people's resistance, and only the people themselves can resist to end such barbaric policies. #MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide