Abdullah ibn Mas'ud narrated from the Prophet (S A W) that he said:
"المرأة عورة، وإنها إذا خرجت استشرفها الشيطان، وإنها لا تكون إلى وجه الله أقرب منها في قعر بيتها."
"A woman is 'awrah. When she goes out, Shayṭān seeks to tempt through her, and she is never closer to Allah than when she is in the innermost part of her home."
-Reported by Tirmidhi and Ibn Khuzaymah. Graded sahih by Albany
It is attributed to Ibn Mas'ūd (radhiyaLlahu ʿanhu) that he said:
"ما تقربت امرأة إلى الله بأعظم من قعودها في بيتها."
"No woman draws closer to Allah with anything greater than remaining in her home."
-Ibn Hajar in Fath al-Bārī' and al-Haythamī in Majma' az-Zawā'id.
پاکستان میں قیام کے دوران ایک گھر میں چوری کے واقعے کا سیاق و سباق سمجھنے کے بعد چند سال قبل ایک تھریڈ لکھا، جو اب مکمل شئیر کر رہا ہوں:
کچھ عرصہ قبل جاننے والوں کے گھر 16 سالہ لڑکی (جو 15 ہزار ماہوار پر 24 گھنٹے ملازم تھی) نے گھر سے کچھ کپڑے و جوتیاں چوری کیں۔ مجھے خاتون خانہ نے شکایت و غصے بھرے لہجے میں بتایا کہ کیسے دن رات انکے گھر رہنے والی نے اپنی اصلیت دکھائی اور احسان فراموشی کی تو میں بھینچ کر رہ گیا۔
صرف اتنے الفاظ ادا ہوئے کہ ایک متمول خاندان کی ہم عمر لڑکیوں کو دن رات قیمتی ملبوسات میں دیکھ کر پتہ نہیں اس کے اندر کیا بیتتی ہو گی، لیکن ان خاتون کے دل و دماغ پر ایک دھیلے کا اثر نہ ہوا۔ چند دن بعد کوئی اور اس گھر میں انکی بیٹیوں و بیٹوں کی خدمت پر معمور ہوا۔
بچپن میں پورے محلے و خاندان میں ہمارا واحد گھر تھا جہاں کبھی کوئی کام کرنے والی نہیں آئی۔ کچن، کپڑے والدہ، جبکہ اپنا کمرہ، باتھ روم صاف کرنے کی ذمہ داری ہر ایک کی اپنی تھی۔ برآمدہ کوئی ایک دھو لیتا۔ میں دوستوں کے گھر صفائی کرنے والی دیکھتا تو اپنی قسمت کو کوستا۔
اس زمانے میں روز گھر آ کر صفائی کرنے والی کی تنخواہ بمشکل سو دو سو تھی جو ہم افورڈ کر سکتے تھے۔ ایک دفعہ شکایت کی تو جواب ملا کہ اتنی کم تنخواہ ظلم ہے اور جتنی ان کا حق ہے اتنی ہماری مالی حیثیت نہیں۔ یہ بات ساری زندگی کا سبق بن کر رہ گئی اور اپنا کام خود کرنے کی عادت ہو گئی۔
کام کے عوض پرانے کپڑے یا سالن نہیں بلکہ پوری اجرت دیں۔ ورنہ کسی ملازم کے چوری کرنے پر غصہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ اس سے پہلے آپ خود چوری کے ساتھ ظلم کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔ کوئی نماز کوئی صدقہ کسی مفلس کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے ظلم کا حساب نہیں چکا سکتا۔
سادہ سا اصول ہے۔ اتنا سوچیے کہ اپنے والدین یا اولاد کو کتنی تنخواہ کے عوض کسی کے گھر کام پر رکھوا سکتے ہیں، جتنی رقم ذہن میں آتی ہے اتنی ہی ملازمین کو دیں۔ دوسری صورت میں تمیز سیکھنے کے ساتھ، اپنے کام خود کریں اور اولاد کو بھی سکھائیں۔ کسی کی مدد مقصود ہے تو صرف اتنا کام کروائیں۔
زندگی سے باہمی تعلقات میں شکایت اور تکلف نکال کر دیکھیں۔ کوئی اونچ نیچ ہو جائے تو درگزر کریں، اگر معاملہ ناقابل برداشت ہو جائے تو خاموشی سے راستہ بدل لیں۔ رشتوں کے بارے میں خود کو منفی سوچ سے بچائیں، بہت ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔ آزمودہ نسخہ ہے ۔۔۔