وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چین میں ہواوے حکام سے ملاقات کی، جہاں پنجاب کے 1000 نوجوانوں اور 300 خواتین ٹرینرز کو AI کی تربیت دینے پر اتفاق ہوا۔ اس کے علاوہ، نواز شریف آئی ٹی سٹی میں سرمایہ کاری اور 6 ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسٹریٹجک شراکت داری کا مقصد پنجاب کو مصنوعی ذہانت سے لیس صوبہ بنانا ہے، جس میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی شامل ہیں۔ علی ڈار نے بتایا کہ پنجاب AI کو تعلیم، صحت اور گورننس میں استعمال کر رہا ہے، اور 2029 تک جنوبی ایشیا میں AI سے مربوط نظام والا پہلا صوبہ بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اسد اللہ خان! تم جو اسکرین پر بیٹھ کر صحافت کا چوغہ اوڑھے بیٹھے ہو تم کوئی صحافی نہیں بلکہ اسی ڈکیتی کے کوٹھے پر بیٹھے ہوئے ایک بدبودار دلال ہو جو ہر شام اپنے گاہک کی دلالی کے لیے سچ کا گلا گھونٹتا ہے
سیاست اور صحافت جب ایک ہی بستر پر سو جائیں تو شرافت کا جنازہ نکل جاتا ہے ہیلتھ کارڈ کے نام پر غریب کے خون کا جو عطیہ اکٹھا ہوا اسے تیمور جھگڑا اور نوشیروان برکی جیسے سرعام ڈکیتی کرنے والوں نے آپس میں بانٹ کر کھا لیا جو ہسپتال کبھی زمین پر بنا ہی نہیں اس کے کاغذات پر پنپنے والے ڈیڑھ سو بھوت ہر مہینے غریب کی جیب سے تنخواہ کی ڈکیتی مارتے رہے
وزیراعلی پنجاُب مریم نواز کا اچھا اقدام
اگر آپ سے کوئی پٹواری ، گردآور ، تحصیلدار ، پولیس کا سپاہی ، منشی ، محرر ، اے آیس آئی یا ایس ایچ او یا کوئی اور ملازم رشوت مانگتا ہے تو اپنے موبائل فون سے ہیلپ لائن 1350 پر کال کریں ، انشاللہ وہ سرکاری کرپٹ ملازم اپنے انجام کو پہنچے گا.
1350 پر کال کر کے کرپٹ عناصر پکڑوائیں پٹواری ہو یا جو بھی ہو جنھوں نے رشوت لی ان کا بھی بتائیں یہ ہیلپ لائن فری ہے 1122 کی طرح۔
1950 کے اندر اتفاق فاؤنڈری
میاں صاحب کے والد صاحب نے بنائی میں سمجھتا ہوں میاں صاحب کے والد انڈسٹریل تھے
اور میں اس وقت ہوٹل کے برتن دھوتا تھا ۔
سنیئے عمران خائن کی زبانی
گولڈ اسمتھ خاندان اور جمائما نے جس شخص پر اندھا اعتماد کر کے بھاری سرمایہ کاری کی، وہ مکمل طور پر نااہل اور ناکام ثابت ہوا۔ اب پی ٹی آئی کی قیادت اپنے ہی پھیلائے ہوئے جھوٹے بیانیے کے شکنجے میں آ چکی ہے۔ عالمی میڈیا پر قاسم اور سلمان کے ویزوں اور نائیکوپ کارڈز کو لے کر جو مظلومیت کا ڈھونگ رچایا جا رہا تھا، حکومت نے تمام متعلقہ ریکارڈ اور تاریخوں کی تفصیلات سامنے لا کر اس کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں بیٹوں کے شناختی کارڈز مکمل طور پر کارآمد ہیں اور ان کی پاکستان آمد پر کسی قسم کی کوئی رکاوٹ یا پابندی نہیں ہے۔
پاکستانیو جاگو!
یہ کراچی کے ناتھا خان سے ملنے والی ایک بچے کی لاش ہے ہاتھ پیچھے باندھے گئے ہیں۔ حلق میں اندر تک سرخ رنگ کی پلاسٹک کی تھیلی ٹھونس کر ناک منہ اور جبڑوں پر سرخ رنگ کا ٹیپ تہہ در تہہ سختی سے لپیٹا گیا ہے۔اور یقینا اس معصوم کو اس طرح جان سے مارا گیا ہے۔
ہری پور کی آیت نور کی لاش بھی بالکل اسی طرح ملی ہے یعنی اس کو روندا گیا تو اس کے بھی ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے تھے حلق میں اندر تک سرخ پلاسٹک کی تھیلی ٹھونسی گئی تھی جبڑوں اور ناک کے گرد پلاسٹک کی تھیلی اور ٹیپ لپیٹا گیا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے چھوٹے بچوں پر اتنا تشدد کرکے اور پھر حلق تک لال تھیلی( دونوں کیسز میں لال رنگ کی تھیلی اور سرخ ٹیپ کی یکسانیت یہ صرف اتفاق نہیں ہوسکتا اور جبڑوں اور ناک پر لال ٹیپ لپیٹا گیا ہے لگتا ایسا ہے کہ زندہ بچے کے حلق میں تھیلی ٹھونس کر ٹیپ لپیٹ کر دم گھوٹ کر مارا گیا ہے اس دوران بچے کو کس قدر شدید اذیت ہوئی ہوگی اور کیسے اس کا دام نکلا ہوگا یہ دیکھ کر تسکین حآصل کرنے والے ڈارک ویب پر بے شمار موجود ہیں جو لائیو اپنی فرمائش کرتے ہیں کہ اب ایسا کرو اور اب ایسا کرو اور اغوا کنندگان اس کی ہدایات پر من و عن عمل کرتے ہیں
مان لیجئے کہ یہ سارا ڈارک ویب سے پیسہ کمانے کا گیم ہے جو یہاں کے اوباش شیطان صفت نوجوانوں کے ھاتھ لگ چکا ہے۔ مگر شدید حیرت اس بات کی ہے کہ پولیس اس پر کوئ تحقیق و تفتیش نہیں کرتی۔ آیت نور کے مجرم تو پکڑے گئے ہیں تو کیا پولیس نے ان سے اس بارے میں۔ تفتیش کی کہ انہوں نے اس گڑیا جیسی زرا سی بچی پر اتنا تشدد کیوں کیا؟
اور پھر اس کا دم گھوٹ کر قتل کیا انکے فون کی فرانزک کی ہے؟
رہی بات سزا کی تو ہم ان معاملات میں جیل بیل اور مائنر وغیرہ کی سزا نہیں مانتے۔ قانون سازی کی جائے۔ ان تخم خنزیروں کو بلاتفریق اور بغیر عمر کے خیال کے اسی طرح موت دی جائے۔
آخر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومت اس پہلو پر تفتیش کیوں نہیں کررہے؟ کیونکہ اگر اس شیطانی دھندے پر فوری سخت کارروائ اور اس کی روک تھام کے لئےسخت اور موثر اقدامات نہ کئے گئے تو پھر خدا نہ کرے آئے دن یہ روح فرسا مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔
خدارا جاگو پلیز جاگو۔۔۔۔۔
خیبر پختونخواہ کی آیت کیساتھ جنسی زیادتی سے قبل اسکے منہ میں بھی سرخ کپڑا ٹھونسا گیا اور سرخ ٹیپ سے اسکا منہ بند کیا گیا اور اس پر شدید غیر انسانی تشدد کیا گیا!
آیت نور کو جو لڑکا اسے گھر سے لے جاتا ہے، وہ کباڑ کا کام کرتا ہے۔ وہ پہچان والا تھا، وہ بچی کو بتاتا ہے کہ تمہارا باپ فلاں جگہ موجود ہے، تمہیں بلا رہا ہے۔ بقول اس کے، جب سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس کی شناخت ہوگئی تو اس نے پولیس کو بتایا کہ اس بچی کو کسی اور کے حوالے کیا۔ آگے والا شامل تفتیش ہوا، تو اس نے پولیس کو ہوٹل میں کام کرنے والے ایک کک کو پولیس سے پکڑوادیا اور کہا کہ بچی کو اس نے اس کک کے حوالے کردیا ہے۔ پولیس کک کو انٹاروگیٹ کرتی ہے، اور وہ اپنی بیگناہی کی قسمیں کھاتا ہے۔ دوسرے دن وہ مجرم جس نے کک کی نشاندھی کی تھی، پولیس کو دوبارہ بتاتا ہے، کہ کک تو بیگناہ ہے، وہ تو میں اس کے ساتھ اپنا سکور برابر کر رہا تھا، اس نے ایک دن مجھے سالن کم دی تھی، اور آنکھیں بھی نکال کر بات کی تھی۔
آپ خود سوچیں قتل کے جرم میں گرفتار فرد اتنا ریلکس ہے، کہ وہ تھانے میں بھی اپنے بدلے لے رہا ہے۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کی دونوں رانیں ٹوٹی ہوئیں تھیں💔 اس لیے میں کہتا ہوں کہ یہ ر یپ کا عام کیس نہیں ہے۔ تشد د اور د رندگی دکھانے کا کیس ہے۔ بچی کو مردہ حالت میں کنویں میں پھینکا گیا تھا۔ مجرمان سے پوچھا جائے، کہ کنویں میں پھینکنے کا پروگرام کب بنا تھا، ما رنے سے پہلے یا بعد میں؟ شاپر اور ٹیپ ایک رنگ کے کیوں ہیں؟ دونوں چیزیں قت ل سے پہلے لائی گئی تھیں یا بعد میں؟ بچی کے ہاتھ کیوں باندھے ہوئے تھے، وہ تو کوئی مزاحمت کر نہیں سکتی تھی، نہ کسی پر حملہ آور ہوسکتی تھی؟ اس کے حلق میں شاپر کیوں اور کس کے مشورے پر ٹھونسا گیا تھا؟ ر یپ سے پہلے، ری پ کے دوران یا مر نے کے بعد ایسا کیا گیا؟ شاپر ٹھونسا تو پھر اس کے منہ پر ٹیپ کیوں لگایا گیا؟ اس کی دونوں ر انیں ٹوٹی ہوئیں کیوں ہیں؟
مجرمان اتنے حوصلہ مند کیوں ہیں، کہ انٹاروگیٹ ہو رہے ہیں، قت ل مان رہے ہیں، لیکن لا ش کہاں پھینکی، اس کی نشاندھی نہیں کرتے؟ کیوں کہ لا ش تو تب دی گئی جب ایک پولیس آفسر صدیق شاہ نے پہلے بچے (جو گھر سے بچی لیکر گیا تھا) کو رقم دی اور گھر جانے کی لالچ دی۔
مجرمان عام لوگ اور پہلا جرم کرنے والے نہیں لگتے، اس لیے تو وہ تھانے میں تفتیش کے دوران کسی ہوٹل کے باورچی کے ساتھ اپنا سکور برابر کرتے ہیں۔
پولیس نے ابتداء میں وہی سستی دکھائی جو اس کی عادت ہے، لیکن جب کیس افسران کے علم میں آیا، تو ایس ایس پی، میڈم ثمینہ ظفر نے، آیت نور کو دن رات اس طرح تلاش کیا، جیسی وہ آیت نور کی والدہ ہو، اور اپنی گمشدہ بچی کو تلاش کر رہی ہو۔ انہوں نے مجرمان کی غلط نشاندھی پر جگہ جگہ جنگل میں اپنے ہاتھوں سے زمین کھود کر بچی کو برآمد کرنے میں مدد کی۔ وہ سانپوں اور جنگلی جانوروں کے خطرے کو نظر انداز کرتی ہوئی، پولیس فورس سے دس قدم آگے چلتی رہی۔ (ان کے پیروں کے نیچے ایک سانپ آیا)۔ میں ایس ایس پی ثمینہ ظفر جیسے افسران کو کسی معاشرے اور ادارے کی شان سمجھتا ہوں، اور خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔
میڈم ثمینہ ظفر صاحبہ سے درخواست ہے، کہ وہ بیسشک ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کریں، لیکن مجرمان کو اس زاویئے سے تفتیش سے گذاریں، جس کے بارے میں، میں نے سوالات اٹھائے ہیں۔
کنواں، ٹیپ، شاپر، ٹوٹی ہوئیں رانیں، بچی کو پارسل بنانا، اور چار پانچ مجرمان کا ملکر اس جرم میں شریک ہونا، اس پورے سانحہ کو کوئی اضطراری اور وقتی جرم ثابت نہیں کرتا۔ اس کے اردگرد گہرے اسرار موجود ہوسکتے ہیں، جو آگے جاکر دوسری بچیوں کی جان بچا سکتی ہے
رمیز راجہ عمرانی حکومت میں چئیرمین کرکٹ بورڈ رہا ہے لیکن اس نے سوائے خوشامد اور جوتا چاٹنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا سٹیڈیمز کی وہی پرانی حالت رہی ان پرانے حرامیوں نے کرکٹ پاکستان اور سٹیڈیمز کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
تین قوانین بنائیں،حکومت سے تنخواہ لینے والا شخص،اسکے بچے اور والدین سرکاری ہسپتال میں علاج کروائیں گے،پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریگا اور سرکاری سکولز میں اسکے بچے پڑھیں گے،پھر آپ دیکھیں سرکاری ہسپتال،سرکاری سکولز اور پبلک ٹرانسپورٹ سب ٹھیک ہوجائیں گے:پرویز رشید کی تجویز
عمران ریاض صاحب کے لئے خبر 👇🏻👇🏻
خان سب سے زیادہ جنرل فیض حمید اور جنرل آصف غفور پر انحصار کرتے تھے۔ حکومتی پالیسیاں بھی یہی دونوں افراد بناتے تھے اور یہی خان کی آنکھ اور کان تھے، خان کے سابق معاون خصوصی ندیم افضل چن 2022
Will Sky News oblige the viewers and interview the children of the thousands of Palestinian prisoners from Gaza and the West Bank who are sodomized, tortured and held without trial in Israeli prisons?
پمزُکے ای ڈی رانا عمران سکندر کا آج شاید عہدے پر آخری دن تھا کیونکہ اعلی حکام کے مطابق وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے انکی برطرفی کی سفارش کر دی ہے۔
مگر اب سے کچھ دیر قبل ملاقات ہوئی تو دھڑا دھڑا فائلز سائن لررہے تھے اور غصے میں کہہ رہے تھے کہ سب میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ان کا ماسئلہ چودہ بچے نہیں ای ڈی ہے۔
انہیں لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ان کو کوئی ہٹا سکتا ہے اور ان کا کوئی قصور ہے۔۔
اللہ تعالی ہمارے ہسپتالوں میں ایسے افرادکو لائے جو درد دل رکھتے ہوں اور احساس زمہ داری بھی۔۔
فتنہ خان کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال نکلے، ریکارڈ اور تاریخوں سمیت حقائق سامنے آ گئے۔ اب کبھی ویزے کا بہانہ، کبھی نائیکوپ گم ہونے کی کہانی۔ اگر دستاویز گم ہے تو دوبارہ حاصل کرنے کا قانونی راستہ موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمدردی سمیٹنے کے لیے گھڑا گیا بیانیہ حقائق کی دیوار سے ٹکرا کر بکھر چکا ہے۔👇👇
پمز آتشزدگی سانحے کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو پیش کر دی، جس میں ای ڈی پمز پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 8 افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے فوری معطلی اور فوجداری کارروائی کا حکم دے دیا۔
عبوری رپورٹ سے ایک بات واضح ہے کہ نام نہاد “untouchables “ کو بھی نہیں بخشا گیا اور معطلی کے ساتھ ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری مقدمات کا حکم دیا گیا ہے۔ تمام شکوک شبہات کے برعکس وزیراعظم شہباز شریف نے درست فیصلہ کیا۔
بانی پی ٹی آئی پاکستان کی عدالتوں سے سزا یافتہ مجرم ہیں۔ ان کے خلاف فیصلے موجود ہیں، اپیلیں عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں اور یہ فیصلہ پاکستان کی عدالتوں نے کرنا ہے کہ سزا برقرار رہتی ہے یا ختم ہوتی ہے۔
مگر لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کا ٹیسٹ چل رہا تھا اور اچانک Sky Sports نے بانی کے بیٹوں کو تقریباً 18 منٹ کا سیاسی پلیٹ فارم دے دیا۔
انٹرویو کرنے والے بھی کوئی غیر متعلق صحافی نہیں بلکہ سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن تھے، جو خود بانی پی ٹی آئی کے حق میں لکھے گئے خطوط پر دستخط کر چکے ہیں۔
قاسم اور سلیمان کو اپنے والد کے علاج، ملاقات اور جیل کی صورتحال پر سوال اٹھانے کا پورا حق ہے۔
لیکن سوال دوسری طرف بھی بنتا ہے۔
جب ایک بین الاقوامی کرکٹ براڈکاسٹ میں پاکستان کے خلاف یہ سنگین الزام نشر کیا جائے کہ حکومت ایک قیدی کو جیل میں “مارنا چاہتی ہے”، تو کیا اسی نشریات میں پاکستان کی حکومت کا مؤقف بھی اسی شدت اور وقت کے ساتھ دکھایا گیا؟
کیا کھیلوں کی نشریات اب سیاسی مہم کیلئے استعمال ہوں گی؟
اور اگر برطانیہ کے کسی سزا یافتہ سابق حکمران کے بچوں کو پاکستان کا اسپورٹس چینل کسی ٹیسٹ میچ کے دوران اٹھارہ منٹ دے کر اس برطانیہ کی حکومت پر ایسے الزامات لگواتا تو برطانیہ اسے محض “آزادیٔ اظہار” سمجھتا؟
یہ بھی یاد رہے کہ جن عالمی کرکٹرز کے خطوط کو بانی کی “رہائی کی عالمی مہم” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، ان کا اصل مطالبہ رہائی نہیں بلکہ طبی سہولت، آزاد میڈیکل معائنہ اور خاندانی ملاقاتیں ہے۔
اور جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے، اس کی اپنی حکومت کہتی ہے کہ عمران خان کے مقدمات پاکستان کا داخلی عدالتی معاملہ ہیں۔
لہٰذا بحث علاج کے حق پر نہیں ہونی چاہیے۔
علاج ہر قیدی کا حق ہے۔
بحث یہ ہونی چاہیے کہ کرکٹ کے عالمی پلیٹ فارم کو پاکستان کے ایک داخلی سیاسی مقدمے میں یکطرفہ بیانیہ بنانے کیلئے کیوں استعمال کیا گیا؟
اختلاف بانی پی ٹی آئی سے ہو یا حکومت سے، فیصلہ سوشل میڈیا، Sky Sports یا سابق کرکٹرز نے نہیں کرنا۔
فیصلہ عدالتوں نے ہی کرنا ہے۔
کراچی کی بااثر خاتون SSP فدا حسین کی رشتہ دار ہے پولیس والوں کو بلا کر تشدد کرواتی ہے اور پھر انہی پر FIR درج کروا دیتی ہے پولیس والے CCTV کیمرے تک توڑتے نظر آ رہے ہیں
محترمہ اتنی بااثر ہے کہ بلڈنگ کی لفٹ تک کسی کو استعمال کرنے نہیں دیتی واہ
عمران خان کا اہم بیان
شوکت خانم ہسپتال کی لاگت 70 کروڑ جس میں سے 50 کروڑ
نواز شریف نے دیئے تھے
10کروڑ اسحق ڈار
2کروڑ خواجہ آصف
اور زمین بھی نواز شریف نے دی تھی
8 اگست آیت نور اچانک لاپتہ ہو جاتی ہے۔ پریشان حال والدین ر تلاش کرتے ہیں اور جب ہارے تھکے تھانے پہنچتے ہیں، تو قانون کے رکھوالے ایف آئی آر درج کرنے سے صاف انکار کر دیتے ہیں۔ پولیس کی اس بے حسی کی وجہ کوئی غفلت نہیں، بلکہ وہ "حکمِ حاکم" تھا جو تھانے پہنچنے سے پہلے ہی یوسف ایوب خان کے فون کی صورت میں آ چکا تھا کہ "اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے"۔
باوثوق ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ ہری پور میں ڈی پی او سے لے کر عام سپاہی تک کی تعیناتی اسی سیاسی اثر و رسوخ اور یوسف ایوب خان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔
مایوس والد محمد شفیق جب خالی ہاتھ لوٹ گئے، تو اس کے تین گھنٹے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچتی ہے۔ وہاں صرف خانہ پُری کی جاتی ہے اور ایک پڑوسی کے گھر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج اپنے قبضے میں لے لی جاتی ہے۔ یہ فوٹیج مقتولہ کے والد تک کو نہیں دکھائی جاتی، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس پہلے ہی دن سے حقائق کو سامنے لانے کے بجائے ثبوت مٹانے کے مشن پر کاربند تھی۔
مجبور باپ نے اپنے طور پر تفتیش شروع کی۔ انہوں نے پڑوسی کے موبائل سے اس فوٹیج کا ایک اسکرین شاٹ دیکھا، جس میں آیت نور کو لے جانے والے لڑکے کی واضح شناخت ہو رہی تھی۔ والد نے فوراً پولیس کو مطلع کیا، لیکن پولیس روایتی سستی دکھا کر واپس چلی گئی۔ بعد ازاں، جب دباؤ بڑھا تو اس نامزد لڑکے کے بڑے بھائی کو حراست میں لیا گیا، لیکن صرف ایک رات حوالات میں رکھنے کے بعد مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر اسے رہا کر دیا گیا۔
اس پورے دورانیے میں یوسف ایوب خان مسلسل ڈی پی او اور متعلقہ ایس ایچ اوز سے رابطے میں رہا۔ اگر اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی ہیں تو یوسف ایوب خان کا کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) نکلوایا جائے یہ شخص اس مخصوص جگہ پر بھی موجود پایا گیا جہاں سے بعد میں بچی کی لاش برآمد ہوئی۔
جب یہ معاملہ سوشل میڈیا اور میڈیا پر بری طرح ہائی لائٹ ہوا، تو مجبوری میں پولیس متحرک ہوئی اور واقعے کے پورے 16 روز بعد معصوم آیت نور کی لاش بازیاب ہو سکی۔ لاش کی حالت ایک ہولناک سچائی بیان کر رہی تھی بچی کے پاؤں میں جوتے موجود تھے، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ اغوا کے بعد کئی روز تک زندہ رہی۔ لیکن افسوس! پولیس یوسف ایوب خان کی پشت پناہی کے باعث ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی اور معصوم بچی تڑپ تڑپ کر جان دے گئی۔
پولیس نے اب جن تین ملزمان کی گرفتاری ظاہر کی ہے، وہ کم عمر (نابالغ) ہیں تاکہ انہیں قانون کی گرفت سے بچایا جا سکے اور سزاؤں سے مبرا رکھا جائے۔ یہ اصل ملزمان ہو ہی نہیں سکتے، کیونکہ اگر یہ اصل مجرم ہوتے تو بچی بہت پہلے مل چکی ہوتی۔
یا پھر یہ محض مہرے ہیں اور ان کے پیچھے اصل چہرے کوئی اور ہیں۔ پولیس نے اب تک ان ملزمان کو پبلک کے سامنے پیش (Show) تک نہیں کیا، لوگ صرف ان کے ناموں سے واقف ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اغوا کے بعد اتنے دن تک بچی کس کی تحویل میں تھی؟ اور ملزمان کی گرفتاری کے وقت بھی اگر بچی زندہ تھی، تو وہ اصل طاقتور کون ہے جسے بچانے کے لیے یہ سارا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے؟
یہاں صوبائی حکومت کا کردار بھی شدید شکوک و شبہات کی زد میں ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اگر سچے ہیں تو حلفاً یہ بتائیں کہ کیا انہیں عمر ایوب خان نے فون کر کے اس معاملے پر زبان بند رکھنے کی ہدایت نہیں کی تھی؟ یہی وجہ تھی کہ پی ٹی آئی کے اپنے کارکنان سوشل میڈیا پر آواز اٹھاتے رہے، لیکن صوبائی حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔
پھر جب لاش مل گئی اور عوامی غیظ و غضب عروج پر پہنچا، تو روایتی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان داغ دیا گیا کہ "وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا ہے"۔ اس دوران ہری پور سے پی ٹی آئی کے تینوں ارکانِ صوبائی اسمبلی (MPAs) کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مجرمانہ خاموشی چھائی رہی۔ دھرنے ہوئے، احتجاج ہوئے، لیکن چور کی داڑھی میں تنکے کے مصداق یہ عوامی نمائندے غائب رہے کیونکہ ان میں مظلوم عوام کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
حد تو یہ ہے کہ یہ بااثر سیاسی نمائندے بچی کے جنازے تک میں شریک نہیں ہوئے اور عمر ایوب خان نے آج تک اس غریب کے گھر جا کر تعزیت کرنے کی زحمت نہیں کی۔ ہری پور کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایوب خاندان اپنے ہی حلقے میں اتنے بڑے لرزہ خیز واقعے پر اس حد تک لاتعلق اور بیگانہ رہا کہ جنازے اور تعزیت تک کا بائیکاٹ کر دیا۔
چونکہ مقامی پولیس پہلے دن سے لے کر اب تک اس کیس کو خراب کرنے، ثبوت مٹانے اور اصل مجرموں کو تحفظ دینے میں مصروف ہے، اس لیے اس کٹھ پتلی پولیس سے انصاف کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ہماری عدالتِ عالیہ سے پرزور اپیل ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے معزز جج کی سربراہی میں ایک بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ ننھی آیت نور کے خون سے ہولی کھیلنے والے اصل کردار بے نقاب ہو سکیں اور انہیں عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔
#JusticeForAyatNoor
آیت نور کیس کا مرکزی مجرم اور عمر ایوب خان کا قریبی رشتہ دار یہی سفید کپڑوں والا شخص ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اس کی اصل عمر 23 سال ہے، لیکن پولیس کی پوری طاقت اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ کسی طرح دستاویزات میں ہیر پھیر کر کے اسے 18 سال سے کم عمر (نابالغ) ثابت کیا جا سکے تاکہ وہ سخت سزا سے بچ جائے۔
اس کی باڈی لینگویج اور بیٹھنے کا انداز ملاحظہ کریں۔ چہرے پر نہ کوئی پچھتاوا ہے اور نہ ہی قانون کا کوئی خوف۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کوئی ملزم نہیں، بلکہ کوئی اسسٹنٹ کمشنر (AC) صاحب ہیں جو پولیس کے پروٹوکول اور شاہی مہمان نوازی میں کسی سرکاری دورے پر آئے ہوئے ہوں۔
بہترین
ان گوروں کو کچھ بھی غلط کرنے کا لائسنس نہیں دیا ھوا،کوئی ان کو دو لاکھ پاؤنڈز دے گا تو کچھ بھی چلوادے گا،اچھا کیا حکومت پاکستان نے ان سے یہ سب ان کے ھی چینل پر چلوایا۔