نئے مالی سال کے پہلے دو ماہ ،بڑی صنعتوں کی گروتھ اور بیرونی سرمایہ کاری کم ہو گئی جبکہ مہنگائی بڑھ گئی
رپورٹ ، تنویرہاشمی )رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ جولائی اور اگست میں مہنگائی بڑھ کر 10.2فیصد ہو گئی جوگزشتہ برس اس عرصے میں 3.6فیصد تھی ،بڑی صنعتوں کی گروتھ 8.93فیصد سے کم ہو کر 3.03فیصد ہو گئی، نیٹ غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی ہوئی ، درآمدات میں 11.1فیصد اضافہ ہوا جبکہ برآمدات میں 9.2فیصد اضافہ ریکارڈکیاگیا، بیرون ملک سے ترسیلات زر میں 14.7فیصد اضافہ ہوا ، کرنٹ اکاؤنٹ توازن میں بہتری آئی اور 54کروڑ30لاکھ ڈالر کا خسارہ ہے جو گزشتہ برس اس عرصے میں 85کروڑ30لاکھ ڈالر تھا، وزارت منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے مطابق دو ماہ کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس ریونیو گروتھ میں 3.7فیصد اضافہ ہوا ، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں میں 73فیصد کمی ہوئی ، ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنی عالمی کامیابیوں کو داخلی قوت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
سیٹ پر بیٹھا شخص اپنے آپ کو فرعون کیوں سمجھ بیٹھتا ہے
یونیورسٹی آف اوکاڑا کے غریب سیکیورٹی گارڈ کی تنخواہ تین ماہ سے روکی رکھی آواز اٹھائی تو اسے مارا گیا اور اسے جبری ریٹائر کردیا گیا
یہ ویڈیو ہر جگہ پہنچانا آپ پر فرض ہے کیونکہ غریب کی اگر کوئی سنتا تو وہ سوشل میڈیا ہی سنتا ہے
“میرا شکریہ ادا نہیں کرو، بلکہ اُن ٹرسٹیز کا کرو جنہوں نے میرے کہنے پر فنڈنگ دی”
(محمد شیراز)
گلگت بلتستان کا یہ ننھا سپوت محمد شیراز آج کل پھر سے سوشل میڈیا پر سب کا دل جیت رہا ہے۔ کم عمری میں اس نے وہ کارنامے سرانجام دیے جو بڑے بڑے رہنما بھی نہیں کر پاتے:
اپنے گاؤں میں سکول قائم کیا
مریضوں کے لیے ایمبولینس کا انتظام کیا
سیلابی کٹاؤ سے بچاؤ کے لیے حفاظتی بند بنایا
لیکن اصل کمال اس کی سوچ ہے _اپنی ویڈیو میں وہ کہتا ہے:
میرا شکریہ آدھا نہیں کرو، بلکہ زیادہ اُن ٹرسٹیز کا کرو جنہوں نے میرے کہنے پر فنڈنگ دی۔”
یہ جملہ صرف ایک بچہ نہیں کہہ رہا، یہ وہ سبق ہے جو بڑے بڑوں کے لیے بھی ہے۔
سوشل میڈیا سے جو پیسہ اور شہرت آتی ہے، اسے فضول خرچی یا برائی میں ضائع کرنے کے بجائے قوم اور انسانیت کے بھلے میں استعمال کرنا چاہیے۔
محمد شیراز کم عمر مگر بڑے خوابوں والا ہیرو، ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے