عمران خان قید تنہائی میں رہ کر بھی جیت گیا جبکہ نواز شریف، بلاول، آصفہ بھٹو گلگت بلتستان کے پہاڑوں پر ماتھے رگڑنے کے باوجود ہار گئے ہیں..
یہ ہوتا ہے غیور عوام۔۔
ہمیں فخر ہے کہ عمران خان ہمارا بھائی ہے۔ عمران خان نے تین سال جیل میں رہ کر پاکستانی قوم کو بتایا ہے کہ جب اپنی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا پڑے تو اسے عبادت سمجھ کر کریں۔ عمران خان نے کہا، یہ جدوجہد ایک عبادت ہے۔
علیمہ خانم
@Aleema_KhanPK
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
﴿ وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ﴾
Quran 17:81
And say: Truth has come, and falsehood has vanished.
Surely falsehood is ever bound to vanish.
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور#سائفر_ایک_حقیقت
آخر کار بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی….
یہ 22 دن پہلے لاہور سے اٹھا کر لائے، یہاں کسی کے گھر لے کر گئے، وہاں پہلے ہی منشیات چھپائی تھیں۔ ان لوگوں نے مجھے کہا آپ بنی گالہ کا بولیں، بنی گالہ کے شخص کا نام لیں۔ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کی چیخ و پکار
کل جنید جمشید کے ایک گانے کی دو چار لائنز لکھی تھی مشکل وقت کے بارے میں۔ آج کسی سوشل میڈیا ٹایگریس نے اسی گانے پر یہ IK Edit بنا کر بھیجی۔
کافی لوگ سامنے آکر اپنے نام سے پوسٹ نہیں کر سکتے آجکل مگر دل اب بھی عمران خان اور پاکستان کے لیے فکر مند ہے اور سب سوشل میڈیا کنزیوم کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ وڈیو ایڈٹ ان سب کے لیے جو خاموش کروا دیے گئے مگر جہاں موقعہ ملتا ہے وہاں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
#ReleaseImranKhan
نواز شریف کے دیرینہ ساتھی ابصار عالم نے محسن نقوی کو "قبضہ مافیا کا سب سے بڑا کارندہ" قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وزیر داخلہ کی اہلیہ کا نام دبئی لیکس میں شامل ہے اور کالے دھن کو ایمنسٹی کے پیچھے چھپایا گیا۔ انہوں نے براہ راست سوال کیا کہ "100 ارب روپے ہنڈی کے ذریعے باہر چلے گئے، امیگریشن آپ کے زیر انتظام ہے تو یہ سب کیسے ہوا؟" یہ تلخ حقیقت اب سامنے ہے کہ جو خود ڈالروں سے بھرے جہاز دبئی بھیج رہے ہوں، وہ ملک کا پیسہ واپس کبھی نہیں لائیں گے۔
نواز شریف کے قریبی ساتھی ابصار عالم کا یہ دعویٰ کہ "سندھ سے جہازوں کے ذریعے ڈالر دبئی جا رہے ہیں" اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ نظام کے محافظ ہی جب لوٹ مار میں شریک ہوں تو ملکی دولت کی واپسی ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اس ڈاکو ڈفر الائینس کی کارستانیوں اور عیاشیوں میں عوام پستی ہے اور نقصان ملک کا ہوتا ہے ۔
#نااہل_حکمران_عوام_پریشان
اپنا گھر پروگرام کا آغاز .
گھر کی خریداری کے لیے20 سال کی مدت کے ایک کروڑ روپے تک قرض حاصل کیا جا سکے گا۔ آن لائن پورٹل
So many people want to know the link of the portal. Bookmark this. 👇👇👇 https://t.co/6c2AuVmKuz