بریکنگ نیوز 🚨: یہ تاریخی شاندار کلپ۔ ترکیہ کے ایک شاعر نے عمران خان کے لیے انگلش میں ترانہ جاری کردیا۔ اس وقت پوری دُنیا عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے۔ ہر طرف سے خان پر ہونے والے اسٹبلیشمنٹ کے مظالم کے خلاف پوری دُنیا آواز بلند کر رہی ہے 🔥
@AsaddRattay بیچارے کو شوھر والی عزت ملی نہیں مگر بوٹ کو عزت دینے کے چکر میں خود ھی چکر میں ھے۔کبھی بغیر نکاح ھمبستری حلال قرار دیتا ھے تو کبھی گیراج میں تنظیم سازی کا اعتراف۔
Absolutely Not
@ImranKhanPTI
اڈیالہ کی خاموش دیواروں میں سے عمران خان کی آواز گونجی۔
میں بتاتا ہوں کہ یہ واقع کب پیش آیا۔
عمران خان نے دنیا کے سٹیج پر ایبسولیوٹلی ناٹ کہہ کر ٹرمپ اور بین الاقوامی گلوبل آرڈر کو چیلنج کر دیا تھا۔ مگر مجھ سے بھی ایک بڑے انکار کے لیے خان صاحب نے انہی الفاظ کا انتخاب کیا۔
گرفتاری کے چند ماہ بعد کی بات ہے۔ قیدی نمبر ۸۰۴ کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں ہو چکی تھیں۔ اُس وقت یہ امکان پیدا ہوا کہ خان صاحب کو جو سزائیں دھاندلی سے دی جا چکی ہیں، انہیں عوام اور عمران خان کے دیے ہوئے صدارتی آئینی اختیارات استعمال کر کے ایمنیسٹی یا معافی کا اعلان کر کے معطل کردوں۔
اُن حالات میں اسٹیبلشمنٹ کی رکاوٹوں کے باوجود میرا خان صاحب سے مسلسل رابطہ رہتا تھا۔ میری کئی بار استعفیٰ کی درخواست کو عمران خان یکسر مسترد کر چکے تھے۔ ہر معاملے میں مشاورت ہوتی تھی جس میں کچھ دوست بشمول محترم رؤف حسن اور سینیٹر علی ظفر معاونت کرتے رہتے تھے۔
میں نے اپنے لیڈر کو پیغام بھیجا کہ جن مقدمات میں انہیں سزا ہو چکی ہے، ان میں پارڈن یا معافی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ پیغام کے ساتھ اپنی رائے بھی ظاہر کی کہ
۱) میں چار مقدمات میں تو پارڈن کر سکتا ہوں، باقی ۱۹۶ جو چل رہے ہیں انکا کیا ہوگا؟
۲) خان صاحب نے جب کوئی جرم ہی نہیں کیا، تو کس بات کی معافی؟
۳) عدلیہ کو انصاف کرنا چاہیئے اور حکومت جھوٹے ایف آئی آر واپس لے۔
دوستوں سے گزارش کی کہ عمران خان کو میری رائے مت بتائیں جب تک وہ خود فیصلہ نہ کر لیں۔چنانچہ یہی ہوا۔ فیصلہ کرنے سے پہلے خان صاحب نے اپنے مخصوص محبت بھرے انداز میں پوچھا کہ علوی کیا کہتا ہے۔ رفقاء نے جواب دیا کہ پہلے آپ فیصلہ کریں۔ عمران خان نے کہا کہ
Absolutely Not
اور وہی منطق دی جو خاکسار نے پیش کی تھی کہ جب میں نے کوئی جرم کیا ہی نہیں ہے تو کس بات کی پارڈن۔
جو لوگ دنیا میں “لا إله إلا الله” سے بات شروع کریں اور فرعونوں کے آگے انکار اور نفی کی بساط بچھائیں، اُن سے اقتدار چھین لیا جاتا ہے۔ مگر یہی للکار ہے میرے نبیﷺ کی سنت پھر سونے پر سہاگہ کہ اکیسویں صدی میں عمران خان کا اسرار ہے کہ إياك نعبد وإياك نستعين۔
یہ اعلان جنگ ہے جھوٹے خداوں کے خلاف جو دنیا کے قوانین میں استثنٰی تلاش کر رہے ہیں۔ معصوم انبیاء کے علاوہ کسی کو بھی کوئی استثنٰی نہیں۔ صحابہؓ اور خلفاءِ راشدینؓ نے بھی دنیا میں استثنٰی نہیں لی۔
قیامت تو قیامت ہوگی۔ اس دن صرف اللہ کا رحم کام آئے گا، نبی ﷺ کی شفاعت ہوگی، ورنہ ہم اور آپ تو بے یار و مددگار ہوں گے۔ دنیا میں بھی اللہ کا قانون چلتا ہے اور قیامت میں تو کاینات اُس کا جلال دیکھے گی۔
ایک مرتبہ اور اڈیالہ سے آواز گونجے گی جب قیدی نمبر ۸۰۴ کو پتہ لے گا کہ آئین کی فاتحہ پڑھی جا چکی ہے۔
Absolutely Not
#ایسے_دستور_کو_میں_نہیں_مانتا
@Eman_Ansar___ ہاں ھم ہے فوج کے خلاف آج سے تین سال پہلے میں پرو آرمی تھا جو غلط تھا اور میں اس پر شرمندہ ہوں اللّٰہ مجھے معاف کرے، ان ظالم قاتلوں کا ساتھ دینے پر ، اب میرا بس چلے تو کوئی سٹار جنرل کو زندہ نہ چھوڑوں