ایمرجنسی کے نفاذ اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری نے خیبر پختونخوا کے حالات کو انتہائی قابل تشویش بنا دیا ہے— حکومت کا بیانیہ یہ ہے کہ ایمرجنسی اس لیے لگائی گئی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔ جو شاید ایک حد تک درست بھی ہو۔ لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ایمرجنسی لگانے کا بنیادی مقصد پی ٹی ائی کے لانگ مارچ کو روکنا ہے۔ پُرامن غیر مسلح احتجاج کرنے کا حق آئینِ پاکستان ہر شہری کو دیتا ہے۔ اگر احتجاج میں شر پسندی ہو تو صرف مصدقہ شر پسند افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔ مگر افراد اور جماعتوں کے آئینی حقوق پامال کرنا درست نہیں اور یہ فیصلہ جمہوری طرز عمل کی روح کے بھی خلاف ہے۔ پھر یہ کہ ایمرجنسی لگانے سے ملک میں جبر کی فضا بڑھے گی۔ وفاق اور صوبہ آمنے سامنے آئیں گے تو نقصان پاکستان صرف کا ہوگا۔ ابلیسی اتحاد ثلاثہ یعنی اسرائیل، امریکہ اور بھارت پہلے ہی پاکستان کے امن وامان کو خراب کرنے پر تلاُ ہوے ہیں۔اور اب تو بلوچستان میں دہشت گردی بہت بڑھ گئی ہے۔ تنظیم اسلامی وفاقی حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ ایمرجنسی کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ پی ٹی ائی کے قائدین بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ماضی میں خیبر پختونخوا میں کیے گئے آپریشنز نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کے بے جا استعمال سےدہشت گردی، بد انتظامی اور لوگوں کی ناراضگی بڑھتی ہے؛ ختم نہیں ہوتی۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، اس کا کام ناراض لوگوں کو منانا ہے۔
فریقین سے اپیل ہے کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے افہام و تفہیم سے حل کیا جائے.
#ایمرجنسی
#گورنرراج
#خیبرپختونخوا
#تحریک_انصاف
#سہیل_آفریدی
#احتجاج
#آئین
#حقوق
#دہشتگردی
#مذاکرات
#پاکستان
#Emergency #GovernorRule
#KPK
#Protest
#PTI
#Constitution
ایران کے جنوب مشرقی صوبوں سیستان و بلوچستان اور کرمان میں 24 گھنٹوں کے دوران چار مختلف حملوں میں ایرانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایک درجن سے زائد اہلکار مردار اور اتنے ہی زخمی
ہوگئے۔
ایران جو دوسروں کے گھروں میں آگ لگاتا تھا وہ اپنے گھر ہی شروع ہوگی
بریکنگ نیوز: حضرت علیؓ سے منسوب ایک قول ہے.... 'جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو...... انقلابیوں نے احسان فراموشی کی انتہا کرتے ہوئے یہ قول سچ ثابت کر دیا ہے.
انقلابیوں نے احسان فراموشی کی انتہا کر دی ہے. ایرانی صدر پاکستان کا شکریہ ادا کرنے پاکستان آیا تھا اور ایرانی اراکین اسمبلی نے 'تشکر پاکستان' کے نعرے لگائے تھے.... آج انہی انقلابیوں کا رہنما محسن زنگنہ پاکستان کا مذاق اڑا رہا ہے.
ان احسان فراموشوں کو پاکستان لانے کیلئے ہم نے تاریخی پروٹوکول دیا تھا لیکن یہ وہی آستین کے سانپ نکلے جنہوں نے بھارت کے ساتھ مل کر کلبھوشن کو پاکستان بھیجا تھا اور پاکستان پر میزائل حملہ بھی کیا تھا.
اس محسن زنخے کو اپنی اوقات یاد رکھنی چاہئے کہ امریکہ اور اسرائیل نے مار مار کر ان کا بھرکس نکال دیا ہے اور یہ بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں اور انکی جرآت نہیں ہے کہ یہ امریکی بحری جہازوں پر حملہ کر سکیں.....
محسن زنخے یاد رکھنا کہ تمھاری آخری پراکسی حوثیوں کی ٹھکائی تو ہونی ہی ہے لیکن اب تمھارے اقتدار کے دن بھی بہت تھوڑے بچے ہیں..... بہت جلد ایرانی عوام اور اس خطے کے لوگ ان ذہنی مریضوں سے آزاد ہو جائیں گے اور اس خطے میں امن بحال ہو گا.