آج اندرونی بیرونی غداروں کو آگ لگ چکی ہے اب یہ سب غدار ملُکر کوشش کریں گے کہ علیمہ خان کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے
عمران خان کی رہائی کے لیے علیمہ خان کا ایسے عوام میں جانا نہایت ضروری تھا
9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج آج تک کسی کو نہیں ملی اور یہ والی ساری ہی مل گئیں شریفوں کیلئے اس میں بڑی نشانیاں ہیں اگر وہ سمجھیں انکے گناہوں پہ پردے ڈالنے والے ہی اب پردے ہٹا رہے ہیں
Shame on #APPNA
We demand an immediate and public apology without delay.
Any attempt to erase or deface the image of Imran Khan is not a “mistake” that can be brushed aside. It is a deliberate and deeply concerning act that reflects clear political bias and raises serious questions about neutrality, integrity, and respect for public sentiment.
Imran Khan is not just a political figure—he is a national leader with a significant historical and democratic mandate. Actions that seek to diminish or erase his presence do not change history; they only expose the intent behind them.
Calling this incident an error does not satisfy public concern, nor does it address the seriousness of the act. What is required is full accountability, a transparent explanation, and a formal public apology.
Until such steps are taken, APPNA’s credibility remains in question.
I call upon all members of the organization to demand accountability or publicly distance themselves from this unacceptable and damaging conduct.
#ReleaseImranKhan
اوورسیز پاکستانی ڈاکٹروں کا بزدلانہ عمل!!
امریکہ کینیڈا میں رہنے والے اوورسیز ڈاکٹروں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے, یہ بیغرت بزدل لوگ ہے, اِنہوں نے عمران خان کی تصویر کو ڈی فیس کرکے اپنا بزدلانہ فعل کو ظاہر کیا نا صرف بزدلانہ بلکہ 25 کروڑ پاکستانیوں کے دِلوں زخمی کیا ہے!!
1992 کے ورلڈ کپ کی یادگار تصویر میں صرف عمران خان کا چہرہ حذف کرنا محض ایک تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کی کرکٹ تاریخ کے ایک اہم باب کو متنازع بنانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پوری ٹیم کی تصویر برقرار رکھی گئی، مگر اس کپتان کو الگ کر دیا گیا جس کی قیادت میں پاکستان نے پہلی مرتبہ ون ڈے ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔
تاریخ کو پسند یا ناپسند کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ 1992 کی فتح ایک ریکارڈ شدہ حقیقت ہے، اور اس حقیقت میں عمران خان کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ تین دہائیوں سے زیادہ گزرنے کے باوجود پاکستان دوبارہ ون ڈے ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، اس لیے اس تاریخی کامیابی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اگر اختلافِ رائے موجود بھی ہو، تب بھی قومی تاریخ اور کھیلوں کی میراث کو سیاسی عینک سے دیکھنا مناسب نہیں۔ تصویروں سے چہرے ہٹائے جا سکتے ہیں، مگر تاریخ کے صفحات اور عوام کی یادداشت سے کردار نہیں مٹائے جا سکتے۔
#ReleaseImranKhan
#خان_کی_قید_پر_خاموشی_توڑو
اج اپ سب لوگوں کے ٹائم لائن پر یہ تصویر نظر انی چاہیے جن کو خان صاحب کی کامیابیوں سے ۔۔۔ان کے چہرے سے تکلیف ہے۔۔ ان کو ان کی اوقات دکھائیں
#FreeImranKhan
Erasing Imran Khan’s image from a historic 1992 World Cup photograph during APPNA’s Orlando Convention is deeply disappointing and unacceptable. What makes this even more disturbing is that every other photograph was left untouched only Imran Khan’s image was deliberately erased. APPNA is a respected platform of Pakistani-American physicians, and its leadership must take serious notice of this act. Political differences should never justify censorship, intolerance, or disrespect toward Pakistan’s national history. You may hide a photograph, but you cannot erase Imran Khan from the hearts of millions who admire and respect him. History cannot be rewritten by covering a face. I urge APPNA’s doctors and administration to investigate this matter and take appropriate action. You can cover a photograph, but you cannot erase history. 🇵🇰
"جس شخص نے پاکستان کو ایٹم بم دیا، آج اسی کی بیٹی عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے!" محسنِ پاکستان کی بیٹی کے رلا دینے والے انکشافات!
ڈاکٹر عبدالقدیر خان... وہ نام جس کی وجہ سے آج ہم سکون کی نیند سوتے ہیں، جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس عظیم ہیرو کے مرنے کے بعد ان کے نام اور ان کی فیملی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟
محسنِ پاکستان کی صاحبزادی، ڈاکٹر دینا خان نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک ایسا لرزہ خیز انکشاف کیا ہے جس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔
"جب میں اپنے باپ کا آخری خواب بچانے کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی تھی، تو میں سوچتی تھی کہ کیا میرے والد نے اپنی پوری زندگی، اپنا سب کچھ اس ملک پر لٹا کر کوئی غلطی تو نہیں کر دی؟ آج اس ملک میں ان کے نام کو مٹایا جا رہا ہے اور ان کی بیٹی کو رلایا جا رہا ہے!"
ہوا کچھ یوں کہ 2013 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غریبوں کے مفت علاج کے لیے لاہور میں 500 بیڈز کے ایک عظیم 'ٹرسٹ ہسپتال' کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کے انتقال کے فوراً بعد، ان کے اپنے قریبی ساتھیوں اور نام نہاد 'دوستوں' کی نیتیں بدل گئیں۔ انہوں نے جعلی کاغذات بنائے، ڈاکٹر دینا کو ٹرسٹ سے دھکے دے کر نکال دیا اور محسنِ پاکستان کے نام پر لوگوں سے کروڑوں روپے بٹورتے رہے۔
ڈاکٹر دینا نے ہمت نہیں ہاری! اس اکیلی بیٹی نے ایک طویل قانونی جنگ لڑی، ان آستین کے سانپوں کو بے نقاب کیا اور اپنا ٹرسٹ بڑی حد تک واپس لیا۔ لیکن آج بھی مافیا ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
انتہائی دکھی دل کے ساتھ ڈاکٹر دینا نے سوال کیا: "کیا باوقار قوموں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو بھول جائیں اور ان کی اولاد کو ذلیل کریں؟" انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں ان کے والد کا آخری خواب (غریبوں کا ہسپتال) پورا کرنے کے لیے آسانیاں فراہم کی جائیں۔
جس عظیم انسان نے دن رات ایک کر کے ہمیں ایٹم بم دیا اور دشمنوں سے محفوظ کیا، آج اس کی بیٹی اپنوں سے ہی انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے۔