گدائی عشق ہوں لیکن انا پرست بھی ھوں
کسی کی شان اگر ھے تو اپنی گھر کی ہو کی
اور عاجزی میں رہتاہوں تو کھیلتا ہوں مٹی سے
اگر ضد پہ آجاؤں تو چاند کو نظر انداز کردوں
”برف کو جب دیر تک ہاتھ میں پکڑا جائے تو وہ آگ کی طرح جلانے لگتی ہے، بعینہ خوشی حد سے بڑھ جائے تو مار ڈالتی ہے، اور غم عروج پر پہنچ جائے تو مزہ دیتا ہے، اور ہنسی بے تحاشا ہو تو آنکھیں چِھلک جاتی ہیں۔“
(طوق الحمامة لابن حزم : ١٠٦)
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ
احساسات ہونٹوں کے کنارے دھرے رہتے ہیں اور الفاظ نہیں پاتے
تو اے علیم بذات الصدور
ڈوبتے ابھرتے دل کی حالت تو ہم سے بہتر جانتا ہے
ان کہی سمجھتا ہے
تو مقلب القلوب ہے
ہمارے ڈوبتے ڈولتے دل کو تھام لے
یہ دل اور اس کے معاملات تو ہی سنبھال
یا رب
ہمیں کافی ہو جا