🚨 پاکستانی انٹیلیجنس کا موساد کو تاریخی چکما: امریکہ ایران معاہدہ بچانے کے لیے انٹرنیٹ اور فون کا بائیکاٹ، ہاتھ سے لکھے خطوط اور انسانی قاصدوں کے ذریعے صدی کی سب سے بڑی ڈیل مکمل، خلیجی اخبار کا سنسنی خیز انکشاف.
امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی "اسلام آباد معاہدے" کو اسرائیلی اثر و رسوخ اور سبوتاژ سے بچانے کے لیے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی ایسی حیرت انگیز حکمتِ عملی سامنے آئی ہے جس نے دنیا کے بڑے بڑے تھنک ٹینکس کو حیران کر دیا ہے۔
ڈیجیٹل بلیک آؤٹ: اسرائیلی جاسوسوں کو کا��وں کان خبر نہ ہونے دینے کے لیے کسی بھی جدید ایپ، فون یا کمپیوٹر کا استعمال نہیں کیا گیا۔ تمام حساس پیغامات ہاتھ سے لکھے گئے خطوط کے ذریعے خصوصی قاصد لے کر تہران اور واشنگٹن جاتے اور اسی ��نداز میں جواب آتا تھا۔
خفیہ ترین مقامات پر مذاکرات: اسرائیل کے ہیکرز اور سیٹلائٹ سے بچنے کے لیے یہ خفیہ ملاقاتیں پاکستان، قطر، عمان، آذربائیجان اور سمندر کے بیچوں بیچ امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر منعقد کی جاتی رہیں۔
پاکستان الائنس کا ماسٹر پلان: پاکستان کی قیادت میں مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں نے بھی ڈیجیٹل رابطوں سے مکمل اجتناب کیا۔ اسرائیل کو الجھانے کے لیے جان بوجھ کر فیک میڈیا ٹرینڈز اور گمراہ کن معلومات پھیلائی گئیں تاکہ اصل مذاکرات کو خفیہ رکھا جا سکے
سیالکوٹ کے طارق نامی اس بچے کی تصویر نے کھیلوں کی اور خاص طور پر فٹبال کی دنیا ہلا کے رکھ دی تھی۔ حتیٰ کہ امریکی کانگریس میں اس پر بحث ہوئی۔ یہ ایک تصویر اتنی طاقتور ہوسکتی تھی یہ اس میگزین کو بھی شاید نہیں معلوم تھا جس نے یہ شائع کی۔
یہ بات ہے 1996 کی جب یورپ میں فٹبال کا بخار سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ یورپین چیمپئن شپ کا انعقاد ہونے والا تھا اور دنیا بھر میں کروڑوں شائقین اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی تصویریں جمع کر رہے تھے۔ انہی دنوں امریکہ کے مشہور رسالے لائف میگزین نے ایک مضمون شائع کیا جس میں طارق کی یہ تصویر بھی لگائی گئی۔
تصویر میں موجود سیالکوٹ کے رہائشی طارق کے ہاتھوں میں سوئی اور دھاگہ دکھائی دے رہا تھا۔ وہ ایک فٹبال پر کام کر رہے تھے جس پر 'نائکی' کا لوگو لگنے والا تھا۔
سو جب یہ تصویر میگزین میں شائع ہوئی تو اس وقت بڑی بڑی کمپنیاں لرز اٹھیں۔ نائکی، ایڈیڈاس، امبرو اور پیوما۔۔ ان سب پر تنقید شروع ہوئی۔۔ صارفین نے خریداری بند کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ حتیٰ کہ امریکی کانگریس میں اس پر بحث ہوئی۔
یوں 1997 میں امریکی شہر اٹلانٹا میں فیفا، آئی ایل او، یونیسیف اور سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے مل کر 'اٹلانٹا ��عاہدہ' کیا جس کے تحت تمام ٹھیکیداروں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی اور گھروں میں کام پر پابندی لگائی گئی۔
یہ سب اس لیے ہوا کہ فٹبال کی صنعت کے معاملے میں دنیا بھر کی نظریں ہمیشہ پاکستان اور بالخصوص سیالکوٹ پر جمی ہوتی ہیں۔ آپ حالیہ جاری فیفا ورلڈ کپ کو ہی دیکھ لیجیے۔ یہاں میڈ ان پاکستان فٹبال استعمال ہو رہا ہے۔ یہ سب کیسے ہوا؟
سیالومٹ کے خواجہ مسعود اختر نے سول انجینئرنگ کی ڈگری لینے کے بعد پاکستان ریلویز میں ملازمت اختیار کر لی۔ انہیں فٹبال سے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی کھیل کی صنعت سے کوئی شناسائی تھی۔ ان کے چچا کا سیالکوٹ میں سپورٹس کا کاروبار تھا جنہوں نے انہیں اس میدان میں آنے کی ترغیب دی۔ 1991 میں انہوں نے ایک کمرے میں 20 مزدورں کے ساتھ مل کر فارورڈ سپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کی بنیاد رکھی۔
اور پھر ایسا وقت آیا کہ ایڈیڈاس نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور شراکت داری کا معاہدہ ہوا۔ اس حوالے سے خواجہ مسعود بتاتے ہیں 'ایڈیڈاس کے ساتھ شراکت داری ایک بڑا موڑ تھا. اس کے بعد میں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
بتایا جاتا ہے کہ 2013 تک فارورڈ سپورٹس ایڈیڈاس کے لیے جرمن بنڈس لیگا، فرانسیسی لیگ اور یوئیفا چیمپئنز لیگ کی گیندیں بنا رہی تھی لیکن اب تہ ��رلڈ کپ کا کنٹریکٹ نہیں ملا تھا۔ اس وقت خواجہ مسعود اختر کو خبر ملی کہ 2014 کے برازیل ورلڈ کپ کے لیے ایڈیڈاس کا چینی سپلائر طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہو گیا ہے۔ خواجہ مسعود نے ایڈیڈاس کے ایگزیکٹوز کو اپنی فیکٹری میں بلایا اور انہیں اپنا کام دکھایا۔ یہ دعوت کارگر ثابت ہوئی۔ فارورڈ سپورٹس کو 2014 ورلڈ کپ کے لئے آفیشل فٹبال بنانے کا کنٹریکٹ مل گیا۔ اس کے بعد سے اب تک اس کمپنی نے چار ورلڈ کپس کے لئے آفیشل فٹبال بنائی۔
جاری فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والا آفیشل فٹبال 'ٹریونڈا' کہلاتا ہے یعنی تین لہریں، جو تین میزبان ممالک کے لئے استعارہ ہے۔ اب یہ فٹبال کوئی عام فٹبال نہیں ہے بلکہ یہ ایک چلتا پھرتامائیکرو کمپیوٹر ہے۔
اس گیند کے ایک پینل کے اندر ایک انرشیا میژرمنٹ یونٹ چپ نصب ہے جو فی سیکنڈ 500 بار گیند کی رفتار، گھماؤ اور ہر لمس کا ڈیٹا ریکارڈ کرتی ہے اور فوری طور پر وی کنٹرول روم کو بھیجتی ہے۔ باقی تینوں پینلوں میں توازن قائم رکھنے کے لیے ہم وزن مواد رکھا گیا ہے۔
یہ تمام معلومات پڑھ کر ��یک سوال ذہن میں آتا ہے کہ فٹبال کی صنعت میں پاکستان آگے کیوں اور دنیا پیچھے کیوں ہے؟
کئی سارے آرٹیکلز پڑھنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ دنیا میں حجم کے اعتبار سے چین سب سے زیادہ فٹبال بنا رہا ہے جو عالمی برآمد کا 44 فیصد ہے، جبکہ پاکستان کا حصہ 16فیصد ہے لیکن ہاتھ سے سلی ہوئی گیند پاکستان میں پاکستان کا 70فیصد حصہ ہے۔ اب یہ وہ میدان ہے جہاں پاکستان کا کوئی حریف نہیں۔
سیالکوٹ کے کاریگر 150 سال سے چمڑے پر ہاتھ آزما رہے ہیں۔ یہ ہنر نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ ایک روایتی گیند میں 32 پینل ہوتے ہیں اور تقریباً 690 ٹانکے لگتے ہیں۔ یہ ہر ٹانکا ہاتھ سے لگایا جاتا ہے۔ یہ مضبوطی اور باریک�� شاید مشین کے بس کا روگ نہیں۔
یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ 2021-22 میں سیالکوٹ سے 19 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کی 4 کروڑ 30 لاکھ گیندیں برآمد ہوئیں۔ ہر روز تقریباً 3 لاکھ گیندیں شہر سے باہر جاتی ہیں لیکن فیفا رینکنگ کے 211 ملکوں میں پاکستان کا نمبر 194پر رک جاتا ہے۔ یہ وہ ستم ظریفی ہے جو ایک باشعور فرد کو ذہن پر بھاری پڑتی ہے کہ کیسے جو ملک دنیا کی بہترین گیند بناتا ہے وہ خود دنیا کے بڑے ٹورنمنٹ میں اس گیند سےکھیلنےکے لائق نہیں سمجھا جاتا!
سی پیک کے پیسوں کی تقسیم میں بددیانتی کی گئی گئی ، سی پیک کے پیسوں سے اورینج لائن کراچی میں کیوں نہیں لائی گئی ؟ لاہور میں ہی کیوں ؟ کیا یہ پیسہ پنجاب کا ہے ؟
شبر زیدی نے پنجاب کی ترقی کا پول کھول دیا ۔
Visited the family of @Sabahyder1 to offer prayers for her health and to express my family’s and our party’s solidarity and support during this challenging period. We stand with them in hope and faith, and pray for her complete recovery. May Allah bless her with healing and a miracle.
Gilgit-Baltistan mein teeron ki barish. The Pakistan Peoples Party is emerging as the single largest party and we will be attempting to form government. I am grateful to the people for their trust and congratulations to Jiyalas on their victory.
سندھ کے شہر اوکاڑہ میں تحصیل ہیڈ کوارٹرز اسپتال کے سامنے ماں، بیٹی 15 فٹ گہرے کھلے گٹر میں گر گئیں۔
نہ پاکستانی میڈیا پہ ماتم نظر آرہا ہے اور نہ کوئی وزیر اعلی سندھ یا میئر کراچی استعفی مانگتے دکھ رہا ہے، آپا اندھیرا جونیجو بھی خاموش دکھائی دے رہی ہیں۔🙄
https://t.co/IseFzRhLIy
If this war has proved anything, there’s no such thing as a concept of a war being far off and not having implications for the countries that don’t fall within the region - Chairman PPP @BBhuttoZardari in and interview with @trtworld
At this moment, global media attention is focused on Pakistan, where Chairmen @BBhuttoZardari is powerfully representing the country and articulating its stance on the international stage. A true reflection of strong diplomacy and Pakistan��s growing global relevance.
#ALGHADTV
مین اسٹریم میڈیا کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آچکا ہے۔
سندھ حکومت کے خلاف ہفتوں تک میڈیا ٹرائل، جبکہ پنجاب حکومت کی ناکامیوں پر اٹھنے والی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے اور فیک نیوز قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ رویہ صحافت نہیں، منصوبہ بندی ہے۔
سینئر اینکر نصرت جاوید
شکریہ شکریہ شکریہ استاد محترم @javeednusrat صاحب صحافت کے نام پر دہائیوں پر مشتمل کردار کشی کی نا ختم ہونے والی کمپئن پر بات کرنے کے لئے ہم بطور #PPP کارکن آج بھی مہربانوں سے ملتمس ہیں کہ بس کردو یار ات خدا دا ویر اے 🙏💔🙏
ملک کے بازاروں میں بیچتے تھے، آج انکے پیروکار ان لڑکیوں کو غنیمت سمجھتے ہیں۔ اسلام کی آڑ میں سندھ کے اصل باشندوں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ سندھی بشمول سندھ سرکار اتنی بے بس کیوں دکھائی دیتے ہیں ان خارجیوں خصوصاً سرھندی افغانی پیروں کے آگے
کوئی بتائے گا کوئی سمجھائے گا
آپ بھی صاحب اولاد ہیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں یہ لڑکی لکشمی آپ کو 19 سال کی لگتی ہے ؟
سچ تو یہ ہے کہ سندھ آج بھی بیرونی حملوں کے دور سے گزر رہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ عرب ، ایرانی اور افغان حملہ آور پہلے سندھی لڑکیوں کو مال غنیمت سمجھ کر لے جاتا کرتے تھے اور اپنے
+2