ڈاکٹر سرفراز علی میتلو (ڈین فیکلٹی آف لا، جامعہ کراچی) کی کراچی دشمن اور آمرانہ سوچ نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ بغیر کسی اکیڈمک کونسل کی منظوری اور قانونی تقاضوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے جامعہ کے فیکلٹی آف لا (شعبہ قانون) کے ایل ایل بی (LLB) پروگرام کے داخلوں کے لیے چپکے سے “No KSP” (Karachi Student Priority) کا ظالمانہ نوٹیفکیشن جاری کر کے کراچی کے طلبہ سے ان کا دہائیوں پرانا پہلا حق چھین لیا گیا ہے۔
تاکہ شہرِ قائد کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے دروازے بند کر کے ان کے مستقبل کو تاریک کیا جا سکے؟ یہ کوئی معمولی انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ کراچی کے طلبہ کے حقوق پر کھلا ڈاکہ اور صریح ظلم ہے۔ جامعہ کی اعلیٰ ترین باڈی یعنی اکیڈمک کونسل کو بائی پاس کر کے اس طرح کے من مانے فیصلے مسلط کرنا اختیارات کا انتہائی خطرناک اور غیر قانونی استعمال ہے۔
سندھ کی حکمران جماعت (پیپلز پارٹی) کی آشیرباد اور سیاسی پشت پناہی سے مسلط کیے گئے ڈاکٹر سرفراز علی میتلو جیسے یہ کردار ہمیشہ سے اس شہر کے حقوق کے دشمن رہے ہیں۔
جامعہ کے فیکلٹی آف لا میں ایل ایل بی کے داخلوں سے متعلق یہ اقدام محض کوئی عام پالیسی تبدیلی نہیں بلکہ کراچی کے نوجوانوں کے خلاف باقاعدہ تعلیمی دہشتگردی ہے، جس کا واحد مقصد اس شہر کی نسلوں کو علم اور ترقی سے محروم کرنا ہے۔
روزنامہ جسارت - جامعہ کراچی: ایل ایل بی میں داخلوں کے لیے کراچی کے طلبہ کا پہلا حق ختم۔
https://t.co/zcbiQvQATQ)
نوشہرہ میں ایک غریب رکشہ ڈرائیور کی بیٹی کو لاپتہ ہوئے 45 دن گزر گئے، مگر باپ آج بھی اپنی بیٹی کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خاندان پولیس سے مدد کا مطالبہ کر رہا ہے اور پولیس کے کردار سے متعلق بھی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
سوال صرف ایک بچی کا نہیں، ریاست کی ذمہ داری کا ہے۔ اگر ایک غریب باپ کی بیٹی 45 دن تک لاپتہ رہے اور اسے انصاف کے لیے بھی دروازے کھٹکھٹانے پڑیں، تو پھر عام شہری آخر کس کے پاس جائے؟
حکام فوری نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کریں اور بچی کو بحفاظت بازیاب کرائیں ۔۔۔۔۔۔
نہ مدعی نہ شہادت۔ حساب پاک ہوا
یہ خون خان نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا
ساڑھے آٹھ سال بعد۔۔ اس مقتول کے قاتلان بری کردیئے گئے۔
یہ میرا 8 سال پہلے لکھا کالم ہے جب یہ افسوسناک قتل ہوا۔۔ لیکن ہم انصاف نہ دلاسکے۔
ہمارے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب شروع ہوتے ہی متعدد ممالک کے سفارتکاروں نے جب جنرل اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کیا تو صاحب نے سٹیج سے ان سب کو Moral Cowards یعنی اخلاقی طور پر بزدل قرار دیا جس پر آئس لینڈ کی وزیر خارجہ نے جوابا کہا کہ ہم نے سنا کہ سٹیج سے ہمیں اخلاقی بزدل کہا گیا، میرے لیے بزدل وہ ہیں جو امن کے لیے بیٹھنے سے مزاکرات سے انکار کرتے ہیں، وہ لیڈر بزدل ہیں جو لوگوں کو اشد ضرورت ہونے کے باوجود ان تک انسانی امداد نہیں پہنچنے دیتے، اخلاقی بزدل وہ ہیں جو مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔۔۔
ہمارے دوست طارق حبیب نے یہ ویڈیو فیس بک پر شیئر کی ہے خدا جانے کس نے یہ ویڈیو بنائی مگر یقین کریں کراچی کے لوگ کس طرح زندگی گزارتے ہیں اس ویڈیو میں اس کی مکمل درست عکاسی کی گئی
اس شہر میں رہنا کتنا مشکل ہوگیا ہے اس ویڈیو میں دیکھ لیں
اب یہ ناقابل یقین لگتا ہے کہ 1984 میں پاکستانی پاسپورٹ پہ لوگ بغیر ویزا کے برطانیہ سفر کرتے تھے۔
میرے والد پاکستانی بنکوں کی یوکے برانچز کا آڈٹ کررہے تھے۔ انہوں نے میرا اور والدہ کا لندن کا ٹکٹ بھیج دیا۔ بس ہم لوگ جہاز میں سوار ہوئے اور لندن ہیتھرو اترے۔ وہاں پہ کافی لمبی لائن میں انتظار کرنا پڑا۔ پھر امیگریشن آفیسر نے پوچھا آپ یہاں کیوں آئے؟ ہم نے بتادیا کہ والد صاحب یہاں آڈٹ کیلیے آئے ہوئے ہیں اور انہوں نے بلایا ہے۔ اس نے ایک دو فون ملائے شاید ایک پاکستانی ایمبیسی اور ایک کسی بینک کے لندن آفس میں۔۔۔ اور بس ویزا لگادیا۔
کتنی آسان زندگی تھی، سنہرا دور۔ مگر افسوس اب سب کچھ بدل چکا ہے۔
Please DO NOT associate fake and fabricated statements with my father Dr. Israr Ahmed (Rahimhullah).
May guide us all to the truth and keep us away lies. Aameen
Yes. The man shown is Sean Sammit, who in Dec 2019 stabbed himself at Temple Kol Ami in West Bloomfield, MI, then falsely claimed an antisemitic attack. Police found the knife and blood inside the building; his Apple Watch data disproved his story. He admitted staging it and was charged with falsely reporting a felony.
🚨 URGENT APPEAL TO THE GOVERNMENT OF PAKISTAN
DO NOT GIVE BILL GATES CONTROL OF PAKISTAN'S AGRICULTURE.
DO NOT GIVE BILL GATES CONTROL OF PAKISTAN'S AGRICULTURE.
DO NOT GIVE BILL GATES CONTROL OF PAKISTAN'S AGRICULTURE.
اور ان سب باتوں کو برداشت کرنے کے باوجود ہمارا مطالبہ انتظامی بنیادوں پہ تقسیم کا ہے لِسانی نہیں کیونکہ ہم کو پاکستان سے پیار ہے یہ وطن ہمارے بزرگوں نے اَن گنت قربانیاں دیکر بنایا ہے ِ
Netanyahu walked into the United Nations expecting a global audience—and instead got rows of empty seats.
As he took the podium, diplomats from more than 50 countries walked out. An Israeli tally later counted 77 delegations left the chamber when he entered to speak.
Nothing says “greatest ally” quite like delivering a speech to a half-empty room.
Whatever Netanyahu came to say, a significant number of governments had already decided they had no interest in hearing it.
I love that for him.
A case has been registered in Karachi over an alleged altercation between an online taxi driver and occupants of a black double-cabin vehicle on Shahrah-e-Bhutto. The driver, Hamid Sultan, alleged that he was stopped and assaulted, claiming that a security guard struck his hand with a firearm butt and that the occupants also opened fire.
A female passenger was reportedly inside the taxi at the time. Police have obtained videos of the incident, which went viral on social media, and have launched an investigation based on the available evidence.