@DerArschloch@captain_paknxt Key constraints are limited night identification of Ts from air , and blocked ground access, which can slow responses. It’s not an excuse, just context, and decisions should balance that with civilian safety and reliable intelligence.
@i_baghi قطع نظر کہ آپ کا عقیدہ کیا ہے
میری صرف اتنی گزارش ہے کہ اگر یہ واقعہ تاریخی حقیقت ہے تو براہِ کرم اس شخص کا نام، مباہلے کا وقت، مقام، اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کا مستند حوالہ بھی فراہم کر دیں۔ بغیر معتبر ثبوت کے کسی تاریخی دعوے کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ شکریہ
@KiyyaBaloch آپ لوگوں کے لیے امید کی کرن ثابت قدم رہیں اور اپنی مثبت جدوجہد جاری رکھیں ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب عوام دشمن کی چالوں کو پہچان لیں گے،محبتیں پھر سے فروغ پائیں گی، امن قائم ہوگا، خوشحالی آئے گی، شعور بیدار ہوگا اور ملک دشمن عناصر بے نقاب ہوں گے۔ بلوچستان پاکستان ہماری جان ہے
@BurakDigital55 اگرڈاکٹر ماہ رنگ لانگو بلوچ صاحبہ قانون کے داہرے کے اندر رہ کر اور پاکستان کی سالمیت کو مضبوط کرنے کو تیار ہے تو وہ بلوچوں کے حقوق کے لیے ایک بہترین انتخاب ہو گا۔ گو کہ بگٹی صاحب بھی ایک محب وطن پاکستانی ہیں . دونوں قابل قدر ہیں شرط صرف حب پاکستان اور حب بلوچستان ہے ۔
@Balo66394@BalochistanPost دنیا آپکے عمل کو جس میں بے گناہ لوگوں کو مارا جاتا ہے ناجاہز سمجھتی ہے ۔ فیصلے وہاں بلوچوں کی گواہیوں پہ ہوتے ہیں آپ پنجاب اور اسلام آباد میں بیٹھ کم از کم پرپیگنڈا تو نہ کریں ۔ حقوق اور وسائل کی جنگ میں ہم آپکے ساتھ ہیں لیکن قتل و غارت اور بغاوت میں نہیں
@pras135790@BalochistanPost دلچسپ بات یہ ہے کہ خانِ قلات کے صاحبزادے نے ایک انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا کہ ان کے والد نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی، جس کے بعد انہوں نے اپنی رضا و رغبت سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ اس روایت کو بعض لوگ الحاقِ قلات کے حق میں بطور دلیل پیش کرتے ہیں،
@Baloch1free@BalochistanPost اس لیے اگر سوال یہ ہو کہ “پہلے بندوق کس نے اٹھائی؟” تو دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق پہلی مسلح بغاوت آغا عبد الکریم اور ان کے ساتھیوں نے شروع کی، جبکہ پاکستانی فوج کی کارروائی اس بغاوت کے جواب میں ہوئی۔
@Baloch1free@BalochistanPost ریاستِ قلات نے 27 مارچ 1948 کو پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔خانِ قلات کے چھوٹے بھائی شہزادہ آغا عبد الکریم نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور جولائی 1948 میں مسلح بغاوت شروع کانہوں نے اپنے حامیوں کے ساتھ گوریلا کارروائیاں کیں، جس کے بعد پاکستانی فوج نے اس بغاوت کے خلاف آپریشن کیا
@Baloch1free@BalochistanPost مختصر تاریخی جواب یہ ہے کہ اگر صرف واقعات کی زمانی ترتیب (chronology) دیکھی جائے، تو پاکستان بننے کے بعد بلوچستان میں پہلی مسلح کارروائی ریاستِ پاکستان کی طرف سے نہیں بلکہ ریاستِ قلات کے حکمران خاندان کے ایک حصے کی جانب سے شروع ہوئی
اس لیے اگر سوال یہ ہو کہ “پہلے بندوق کس نے اٹھائی؟” تو دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق پہلی مسلح بغاوت آغا عبد الکریم اور ان کے ساتھیوں نے شروع کی، جبکہ پاکستانی فوج کی کارروائی اس بغاوت کے جواب میں ہوئی۔
اگر صرف واقعات کی زمانی ترتیب (chronology) دیکھی جائے، تو پاکستان بننے کے بعد بلوچستان میں پہلی مسلح کارروائی ریاستِ پاکستان کی طرف سے نہیں بلکہ ریاستِ قلات کے حکمران خاندان کے ایک حصے کی جانب سے شروع ہوئی۔
ریاستِ قلات نے 27 مارچ 1948 کو پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ خانِ قلات کے چھوٹے بھائی شہزادہ آغا عبد الکریم نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور جولائی 1948میں مسلح بغاوت شروع کی۔ انہوں نے اپنے حامیوں کے ساتھ گوریلا کارروائیاں کیں، جس کے بعد پاکستانی فوج نے اس بغاوت کے خلاف آپریشن کیا
@MemonaMushtaq https://t.co/wJX9aFUEb8.
اگر کوئی شخص کہے کہ یہ جمہور اہل سنت کا عقیدہ ہے تو اس بارے میں آپکی رائے یقینا منفی ہو گی ۔ اسطرح دوسروں کے بارے بھی گمان رکھیے ۔ بجاے گالیاں دینے کے اور کفر و مشرک کا سرٹیفکیٹ باٹنے کے ۔ براہ مہربانی اتحاد کی بات کریں شکریہ
@MemonaMushtaq معیار سب پر یکساں ہونا چاہیے۔ بعض کتب میں حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے بارے میں بھی ایسے مبالغہ آمیز واقعات منسوب کیے گئے ہیں، مثلاً “دستگیر” کی غیر معمولی توجیہات یا دیگر کرامات کے غیر ثابت قصے۔ ایسی روایات کو دین کا معیار بنانے کے بجائے، دعوے کو قرآن، سنت اور مستند علمی تحقیق
@MemonaMushtaq تشیع کے نام پر نظر آنے والی بعض رسومات،مبالغہ،غلو انقلابی اور علمی تشیع کی اصل نمائندگی نہیں کرتے۔خود اہلِ تشیع کے اندر سنجیدہ علمی تنقید اور اصلاح کی کوششیں جاری ہیں، اور بہت سے اہلِ علم و بصیرت علماء قرآن، سنت اور عقل کی روشنی میں اعتدال اور صحیح فہم کو فروغ دینے میں مصروف ہیں