رانا ثناءاللہ کی ٹویٹ میں پڑھ کر سنا رہا ہوں جس میں وہ جولائی 2022 میں TTP سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، ہم نے کہا جو کچھ عرصہ قبل KP اسمبلی میں جرگہ ہوا تھا جس میں تمام جماعتوں نے ملکر ایک فیصلہ کیا تھا، اس پر عمل کر لیں
جب رانا ثنالله اپنی پالی کالعدم تنظیموں کو بچانے کے لیے آرمی چیف کو طالبان کا بانی کہا کرتے تھے، فوج نے طالبان بنائے ہیں ایک جرنیل بناتا ہے دوسرا ان کے خلاف لڑتا ہے۔۔۔
رانا ثنالله
باڑہ ضلع خیبر میں گزشتہ روز سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد ٹی ایم اے آفس کی بلڈنگ سے گورنر راج کے خلاف احتجاج کرنے والے تحریکِ انصاف کے نہتے کارکنان پر سیدھی گولیاں برساتے رہے، کیا خیبر پختونخوا پولیس نے گورنر راج میں سنائیپرز بھرتی کر لیے ہیں؟
یہ کہنا غلط ہے کہ سہیل آفریدی مذاکرات میں رکاوٹ تھے۔ سہیل آفریدی نے ایک سال تک اپنی پارٹی کا پریشر برداشت کیا اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پوری کوشش کی، لیکن ایک سال تک انکی عمران خان سے ملاقات تک نہیں کروائی گئی، اسکے بعد انکے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا، وفاق کی سیکیورٹی پالیسی کی مخالفت اکیلے سہیل آفریدی نے نہیں کی، کے پی اسمبلی میں ہونے والے جرگے پر صوبے کی تمام جماعتوں کے دستخط موجود ہیں۔ جب سہیل آفریدی کو ہاں یا نہ کا آپشن دیا گیا تو انہوں نے کرسی کے ساتھ چپکے رہنے کے بجائے اپنے لوگوں کی امنگوں کو فوقیت دی اور حکومت قربان کی۔
میں درد سے بات کر رہا ہوں، میں اس وطن کا با وفا بیٹا ہوں، میں کیا کروں؟ چپ ہو جاؤں نا بولوں؟ عوام کے ووٹوں پر ڈاکا ڈال ڈال کر انہیں مایوس کر دیا گیا ہے کہ جمہوریت راستہ نہیں ہے پاکستان میں، نا نفرتیں پالوں نا نفرتیں بوؤں، خدا کا قانون ہے جو بوؤں گے وہی کاٹوں گے پھر، آپ کے اقدام سے دہشتگردی بڑھے گی، آپ نوجوانوں کو مایوس کر رہے ہو، نوجوان وزیر اعلیٰ یو دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت سے وزیر اعلیٰ بنا آپ نے اسے گرفتار کر لیا، ایم این ایز کو گرفتار کر رہے ہیں، صوبائی میمبران کو گرفتار کر رہے ہیں، آپ لوگوں کو نوجوانوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ راستہ ٹھیک نہیں ہے، تو کیا پھر منظور پشتیں کا راستہ ٹھیک ہے؟ کیوں نوجوانوں کو اس راستے پر لے کر جانے چاہتے ہیں آپ؟ علامہ راجہ ناصر عباس
1948ء میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر خان قیوم کے حکم پر پولیس نے بابڑہ میں مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلائیں اور ڈبل بیرل خان کا خطاب پایا 1948ءاور 2026ء کے حالات میں کافی فرق ہے لیکن آج بھی خیبر پختونخوا میں سیاسی جلسے جلوسوں کو روکنے کیلئے دفعہ 144 استعمال ہوتی ہے۔گورنر فیصل کریم کنڈی للکار رہے ہیں کہ آؤ گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرو میں تمہاری خاطر تواضع کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہوں۔ 1948ءمیں جو کچھ بابڑہ میں ہوا ویسے کچھ مناظر ہم نے پچھلے دنوں خیبر کے علاقے باڑہ میں دیکھے جہاں پولیس نے مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلائیں۔ سیدھی گولیاں چلانے کا حکم دینے والے اربابِ اختیار صرف اتنا یاد رکھیں کہ تاریخ میں انہیں ڈبل بیرل خان ثانی کے نام سے یاد کیا جائے گا۔
https://t.co/2bOy87v0Cl
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے غلط کیا۔۔انہوں نے اس ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچایا اور لانگ مارچ کا اعلان کیا۔۔
جناب، کیا سہیل آفریدی کو اپنی کرسی نہیں پسند؟؟ سہیل آفریدی ایک دلیر آدمی ہے۔۔ دلیر آدمی وہ ہوتا ہے جسکو اپنی کرسی کی فکر نہیں ہوتی۔۔۔ سہیل آفریدی نے اپنی جان کی بازی تو لگائ ہی لیکن جو سب سے زیادہ عزیز چیز ہوتی ہے ایک انسان کو سہیل آفریدی نے اسکی بھی پرواہ نہیں کی اور مارچ کے لیے روڈ پر نکلا۔۔
عمران خان صاحب کے انصاف کے لیے سہیل آفریدی روڈ پر نکلا لانگ مارچ کرنے۔۔ اگر فارم 47 والے چاہتے تو ایک منٹ کے اندر یہ مطالبہ قبول کرتے اور خان صاحب کو ان کی فیملی، ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کروا دیتے۔۔ ان کے وکلاء سے ملاقات کروا دیتے۔۔ اس میں کونسی غیر قانونی چیز ہے جس کا سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا تھا؟؟
اس وقت وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں وہ کہاں ہیں۔۔ یہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں بتایا جائے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، ہمارے صوبائی صدر جنید اکبر کس جگہ پر ہیں۔۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں فلفور رہا کیا جائے۔
سینیٹر ذیشان خانزادہ
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
#گورنر_راج_نامنظور
یہ مسلط کیا ہے🥴
خود پیپر سے پڑھ رہا ہے اپنا نام اور کہہ رہا ہے کہ گورنر کنڈی نے یہ فیصلہ کیا ...
پٹواری کی نشانی : نہ تو اتنے پڑھے لکھے ہیں نہ کوشش کرتے ہیں
In addition to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa and the Speaker of the Provincial Assembly, PTI’s provincial president and MNA Junaid Akbar Khan is also still missing. He was abducted by the regime on Sunday, and his whereabouts remain unknown.
#EndEnforcedDissapearences #PakistanUnderFascism
کپٹن صفدر نے مزار قائد کی بے حرمتی کی تھی اس لیے ہوٹل کے دروازہ توڑا گیا تھا لیکن یہاں پر صوبے کے الیکٹڈ وزیراعلی کو اغواہ کرنے کے لیے وزیراعلی ہاوس پر حملہ آور ہو کر کمرے کا درواز توڑا گیا ۔ جو غیر قانونی ہے ۔
اسطرح کا غیر قانونی عمل 9 مئی 2023 کو کیا گیا تھا جب ملک کےسابقہ وزیراعظم کو اغواہ کرنے کے لیے اسلاآباد ہائی کورٹ پر حملہ آور ہو کر کھڑکیاں دروازے توڑے گئے تھے جو جعلی کیس میں ضمانت لینے ہائی کورٹ کے کمرے میں بیٹھا تھا۔
سپریم کورٹ نے اس گرفتاری کو غیر قانونی کہا تھا ۔۔
وڑائچ صاحب، منافقت نہ کریں۔ صحافی کا کام موازنہ کرنے سے پہلے شواہد دیکھنا ہے۔
کیپٹن صفدر کا دروازہ 2020 میں ایک واقعے میں ٹوٹا تھا۔ اس پر شور اٹھا، بلاول نے انکوائری مانگی، خود آرمی چیف نے تحقیقات کا حکم دیا اور افسران عہدوں سے ہٹائے گئے۔ اس وقت جمہوریت کم از کم نام کی ضرور تھی، اور زیادتی پر جواب بھی دینا پڑا۔
2022 کے بعد کا منظر بالکل الگ ہے:
🔹 سابق وزیراعظم کے گھر پر دھاوا
🔹 سابق وزیراعلیٰ کے گھر کے دروازے توڑے گئے
🔹 اب ایک منتخب، حاضر وزیراعلیٰ کا کمرہ
🔹 اسپیکر کی گرفتاری، اغوا، چھاپے، گورنر راج
یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، ایک پوری پالیسی ہے۔ نہ کوئی انکوائری ہوئی، نہ کسی افسر سے جواب طلب کیا گیا۔ ایک طرف کم از کم جمہوریت کا لبادہ تھا، اور یہاں کھلی آمریت ہے۔
دونوں کو برابر کرنا صحافت نہیں، جانبداری ہے۔ 2022 سے جو ہو رہا ہے، وہ پاکستان کی تاریخ میں بے مثال ہے۔ آئین بھی یہی کہتا ہے: آرٹیکل 14 کے تحت گھر کی حرمت ہر شہری کا حق ہے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو۔
دروازہ کس کا ٹوٹا ہے قانونی اور آئینی حیثیت کا تعین بھی اسی حساب سے ہوگا
سہیل آفریدی کا دروازہ گھر کا نہیں بلکہ صوبے کے وزیراعلی کے گھر کا دروزہ وزیراعلی ہاؤس میں توڑا گیا ہے
آئین بڑا یا دروازہ ؟
🚨🇵🇰 Pakistan has SUSPENDED the elected government of jailed fmr PM Imran Khan's main political stronghold
Emergency rule has stripped Khan's party of control over Khyber Pakhtunkhwa's government and budget, with a political opponent installed in its place.
Authorities cite rising militant violence, but Khan's party calls the move a political TAKEOVER aimed at stopping protests demanding his release.
Hundreds of supporters and party officials have also been detained.
Meanwhile, Khan's family says his health is deteriorating while in prison...
His party is now challenging the emergency measures in court as the crackdown on his supporters intensifies.
Source: Reuters / Writer: Samuel
آئینی عدالت بنے بھی تو تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے
آج ایک عجیب منظر آئینی عدالت کے سامنے دیکھا ۔۔۔۔ بشری بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے جب آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی کو بتایا کہ " جیل میں قید میری کلائنٹ بشری بی بی سے میری آخری ملاقات دسمبر میں ہوئی تھی کلائنٹ سے مجھے ملاقات بھی نہیں کرنے دی جا رہی"
اس ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے ججز نے اس بات کو بالکل بھی محسوس نہیں کیا کہ یہ کون سی شفافیت ہے کہ 10 ماہ سے وکیل کو جیل میں قید کلائنٹ سے ملنے ہی نہیں دیا جا رہا ۔۔۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ کہتے اگر آپ ملنا چاہتے ہیں تو ہم آرڈر کرتے ہیں آج ہی ملیں کل آکر یہاں کیس پر دلائل دیں
لیکن میری رائے غلط ٹھہری آپ نے ٹھیک لکھا ہے ۔۔۔