بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو
1
اس وقت ملک میں یحیی خان پارٹ ٹو ہے،
یحیی خان نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن کیا۔ یحییٰ خان پارٹ ٹو بھی یہی کام کر رہا ہے اور ملک کے ادارے تباہ کر رہا ہے، اس وقت جو ہورہا ہے اس سے پولیس اور ماتحت عدلیہ سے لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔
یحییٰ خان پارٹ ٹو کی ٹاؤٹ نگران حکومت نے مجھے جیل میں ڈالنے اور سزا دینے کے عوض، نگران حکومت نے جج ہمایوں دلاور کو اربوں کی زمین کے غیر قانونی این او سیز دیئے۔ گزشتہ روز بھی جج نے تین گھنٹے ہدایات لے کر بشری بی بی کے خلاف فیصلہ دیا۔
قاضی فائز عیسی کو توسیع اس لیے دی جا رہی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتخابی دھاندلیوں کو تحفظ دے رہا ہے۔
نواز شریف نے پہلے ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کیا اب قاضی فائز عیسی کو توسیع دیکر حملہ آور ہونے جا رہے ہیں۔ جب مافیا اور ڈاکو عدلیہ پر حاوی ہوں گے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔
قاضی فائز عیسی نے پورے عدالتی نظام کو یرغمال بنوانے میں پوری سہولتکاری کی ہے۔
قاضی فائز عیسی کو مدت ملازمت میں توسیع دی گئی تو زبردست احتجاج کیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمن کا کسی بھی عہدے پر توسیع نہ دینے کا بیان خوش آئند ہے۔
2
سنگاپور جیسے چھوٹے سے ملک جسکی آبادی کراچی سے بھی کم ہے ، وہاڻ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جبکہ آبادی کے لحاظ سے پانچویں بڑے ملک پاکستان میں ایک ارب ڈالر سے بھی کم سرمایہ کاری آئی، جو کہ پاکستان کی تاریخ کی کم ترین سرمایہ کاری ہے، سرمایہ کاری وہاں آتی ہے، جہاں قانون کی بالادستی ہوتی ہے۔
یہاں ججز کو دھمکیاں مل رہی ہیں،، انکے رشتے دار اغوا ہو رہے ہیں، عدالتی فیصلوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، ایسے میں یہاں کون سرمایہ کاری کرے گا؟
آئی ایم ایف سے تب آزاد ہوں گے، جب بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔
1 کروڑ پاکستانی بیرون ملک آباد ہیں جو حقیقت میں پاکستان کو بچا سکتے ہیں۔
اس وقت اوورسیز پاکستانی دبئی اور دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری پر مجبور ہیں کیونکہ انکا سرمایہ محفوظ نہیں ہے۔ 1 کروڑ میں سے چند لاکھ اوورسیز پاکستانیوں نے بھی پاکستان میں سرمایہ کی تو پاکستان کے مسائل حل ہوجائیں گے، لیکن وہ سرمایہ کاری تب کریں گے جب ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہوگی۔ پاکستان کا مستقبل، رول آف لاء سے مشروط ہے جو یحییٰ خان پارٹ ٹو اور قاضی فائز عیسی کی جوڑی نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
3
علی امین گنڈاپور اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہی تھا، وہ انکا لحاظ رکھ کر مکمل بات نہیں بول نہیں رہا تاکہ ملک کا مذاق نہ بنے۔
خیبر پختونخوا میں پولیس جب خود کو بچانے لگ جائے گی تو لوگوں کو کون بچائے گا- پولیس والے جو باتیں کر رہے ہیں اگر وہ سچ ہیں تو خوفناک ہیں۔
اگر کوئی کوشش کر رہا ہے بات چیت کی تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو تو علی امین کے پاؤں پڑ جانا چاہئے کہ مذاکرات سے دہشتگردی کا مسئلہ حل کراؤ۔
جتنے ملٹری آپریشن پاکستان میں ہوئے اور کہیں نہیں ہوئے۔ مگر امن نہیں ہوا، کیونکہ یہ پالیسی ہی ناقابل عمل اورناقص ہے۔
اگر میں وزیراعظم ہوتا تو میں ضرور وزیراعلی خیبر پختونخواہ کو افغانستان سے بات چیت کی اجازت دیتا۔
نواز شریف کے دور حکومت میں پرویز خٹک کو افغانستان بھیجا گیا تھا۔ اشرف غنی کی حکومت، پاکستان مخالف تھی اس کے باوجود میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو بھی پاکستان بلایا۔
امن اور انصاف نہیں ہوگا تو سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟
علی امین گنڈاپور نے ہرگز خیبر پختون خواہ کو آزاد کروانے کی بات نہیں کی ، یہ جھوٹ اور پراپگینڈا ہے۔
تحریک انصاف واحد وفاقی پارٹی ہیں جو ملک کو اکٹھا رکھ سکتی ہے-
شہباز شریف کو وزیراعظم کہنے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ ایک ٹاؤٹ ہے جو ہر چیز کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے این او سی لیتا ہے، کیا پتہ کل اس ٹاؤٹ کو بھی غائب کر دیں۔
4
سکندر سلطان گیند پھینکتا ہے، ایک سلپ میں قاضی فائز عیسیٰ کھڑا ہے تو دوسری سلپ میں عامر فاروق
یہ سارا فکس میچ ہے جو لندن پلان میں فکس ہوا جسکے سب کردار بےایمان ہیں۔
الیکشن کمیشن کے کیسز تو فورا سماعت کے لیے مقرر کر دئیے جاتے ہیں جبکہ ڈیڑھ سال سے توشہ خانہ کا کیس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو رہا، تین مرتبہ جلد سماعت کی درخواست دے چکے ہیں مگر اس کے باوجود سماعت نہیں ہوئی کیونکہ قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کو یرغمال بنایا ہوا ہے-
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ - بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان
#غدار_کون_تھا