اور ناظرین ابصار عالم کو فرشی اور سرخ سلام ہے جنہوں نے بی بی سی جیسے ادارے کی اتما رول کر رکھ دی ہے اور ایک ہی مطالبہ کیا ہے کہ آپکا ادارہ غزہ میں جاری نسل کشی پر آواز کیوں نہیں اٹھاتا
بی بی سی والیو سناؤ فیر
خبر کے مطابق ایک برطانوی جریدہ جو کہ پاکستان میں ہر ہنگامے کو ہوا دینے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے اس نے اپنے ملازمین کو پچھلے دو ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کیں اور یہ ادارہ ٹی ٹی پی ، بی ایل اے ، کالعدم ایکشن کمیٹی جیسی پاکستان دشمن جماعتوں کا فرنٹ مین بھی ہے اور یہ صورتحال تب سے جاری ہے جب سے گولڈ سمتھوں کا پہنویا اندر ہے
کڑیاں ملاتے جائیں تو اس سازش کا کھرا بھی سسرائیل تک جاتا ہے
شہید شبیر بلوچ محض ایک باوردی اہلکار نہیں تھے بلکہ وہ کسی ماں کے لختِ جگر، کسی بہن بھائی کے سہارے اور اپنے دوستوں کے ایک مخلص و وفادار ساتھی تھے۔ انہیں جس بے رحمی اور سفاکیت کے ساتھ پتھر مار مار کر شہید کیا گیا، وہ ایسا دلخراش سانحہ ہے جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے ان کی معصوم ماں نے انصاف کے حصول کے لیے دو طویل برس صبر اور استقامت کے ساتھ انتظار کیا بالآخر قانون نے اپنا راستہ اختیار کیا عدالت نے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ سنایا اور قاتلوں کو سزا ہوئی یہ وہ لمحہ تھا جب ایک غمزدہ اور دکھی ماں کے دل کو برسوں بعد کسی حد تک سکون اور قرار نصیب ہوا اور اسے یہ احساس ملا کہ انصاف میں تاخیر ضرور ہوئی، مگر انصاف ملا ضرور۔
ایران کے سرحدی علاقوں سے پاک فوج کا انخلا یقینی بنایا جائے تاکہ ہم کھل کے کھیل سکیں جبکہ را کی پراکسیز کی اسی علاقہ میں تعیناتی خوش آئند ہے بی ایل اے
افغان سرحدی علاقوں میں سے پاک فوج کا انخلا یقینی بنایا جائے تاکہ ہم گاٹے اتار سکیں جبکہ افغان طالبان کی تعیناتی دل کو سکون پہنچاتی ہے ٹی ٹی پی
لائن آف کنٹرول سے پاک فوج کا انخلا یقینی بنایا جائے تاکہ ہم بدامنی پھیلا سکیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعیناتی خوش آئند ہے ایکشن کمیٹی
ناظرین اگر آپ کڑیاں ملاتے جائیں تو ہندوستان کا مطالبہ بھی یہی ہے
بجلی تین روپے فی یونٹ، آٹا 2100 روپے فی من ہوا لیکن تسلی نہیں ہوئی، معاملہ بارہ نشستوں پر بھی رکنے والا نہیں اور یہ بھی ایک بہانہ ہے، اصل مقصد کیا ہے؟ سردار امان کی تقریر سنیں، باور رہے کہ آپکی کوئی بھی قومیت ہے آپکو تحفظ اسلئے ہے آپکی تکریم اسلئے ہے کہ آپ پاکستان کا حصہ ہیں کوئی الگ سے آزادی نہیں لے کر آیا تھا پاکستان آزاد ملک بنا تھا آزادی کی قدر جاننا چاہتے ہو تو مقبوضہ کشمیر والوں سے پوچھو جہاں سے آئے ہوئے لوگوں کیلئے مختص نشستیں بھی آپ چھیننا چاہتے ہو، اسطرح کے لوگ عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور اسکا خمیازہ پھر آنے والی نسلیں ادا کرتی ہیں
“جب تک ایک بڑی پیمانے پر راولا کوٹ میں لڑائی شروع نہیں ہوتی اسوقت تک میر پور اور مظفر آباد کچھ نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ راولا کوٹ میچ لگ سی تے اگلی گل بن سی”
CT Operation in Miranshah North waziristan district : According to the Ground based sources, around 40-45 FAK/IMP Khawarij terrorists including 02x HVTs were liquidated in the operation...
Operation ongoing and the hunt continues....
المیہ دیکھیں کہ آزاد کشمیر کے مظاہرین کو جن نشستوں پر اعتراض ہے وہ ان مہاجرین کی نمائیندگی کیلئے مختص ہیں جو مقبوضہ کشمیر سے آئے ہیں اور یہ انکو کشمیری ماننے کو تیار نہیں، اور انکا آزاد کشمیر پر حق ماننے کو تیار نہیں، کہتے ہیں ہمارے کشمیر سے مقبوضہ سے آئے مہاجرین کو بھی نوکریاں ملتی ہیں جبکہ پاکستان میں مقبوضہ سے آئے مہاجرین اور آزاد کشمیر کے رہائشیوں کو بھی نوکریاں ملتی ہیں اس پر کسی کو اعتراض نہیں نہ صرف نوکریاں بلکہ جائیداد اور کاروبار بھی پاکستان میں ہیں (کبھی پاکستانیوں نے بھی اعتراض نہیں کہا بلکہ پاکستانیوں کو تو اب احساس دلایا جا رہا ہے کہ کشمیری ان سے الگ قوم ہیں ہم تو انکو پاکستانی سمجھتے آئے ہیں) جب پوچھا جائے کہ بھارت نے جب مقبوضہ کشمیر کو آئین کا حصہ بنایا تو آپ نے کتنے احتجاج کئے یہ بتائینگے کہ یہ تو پاکستان کی ڈیوٹی تھی، کشمیر کاز کیلئے کیا کر رہے ہیں تو بتائینگے کہ یہ پاکستان کی ڈیوٹی تھی، سارے فرائض پاکستان کے ہیں آپکے صرف حقوق ہیں؟
“امن پسند” مظاہرین نے راولا کوٹ میں تین پولیس اہلکار اور ایک ایف سی کا جوان شہید کیا ہے اور ایسا کرکے انہوں نے اپنے مستقبل کا تعین خود کر لیا ہے وقت نے ثابت کیا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں انکو ٹھنڈا کرنے کی تمام سیاسی کوششیں عارضی ثابت ہوئیں ہیں
بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا سنسنی خیز بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا: "ہمیں آزاد کشمیر حاصل کرنے کے لیے حملہ کرنے کی ضرورت نہیں، وہاں کے حالات ایسے ہیں کہ وہ خود بخود ہمارے پاس آ جائے گا۔"
راج ناتھ سنگھ کا یہ کھلا اشارہ شوکت میر کی سربراہی میں کام کرنے والی اب کالعدم جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ ہڑتالوں اور اندرونی انارکی کی طرف تھا، جس کا فائدہ اٹھا کر بھارت عالمی سطح پر پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ کالعدم کمیٹی ہر مقامی مسئلے پر دھرنے دیتی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم کے خلاف مکمل خاموش رہتی ہے۔
کشمیر اسمبلی کی بارہ نشستوں پر بہت سے لوگوں کے تبصرے پڑھنے کو ملے لیکن ابھی تک یہ کسی نے نہیں بتایا کہ پاکستان میں مقیم کشمیریوں کیلئے یہ نشستیں کیوں مختص ہوئی تھیں؟ کیا 53 کے ایوان میں محض 12 لوگ حکومت بنا/گرا سکتے ہیں؟ پاکستان سے منتخب ہونے والوں کو ترقیاتی بجٹ کی مد میں کتنے فنڈز ملتے ہیں اور کشمیر سے منتخب ہونے والوں کو کتنے فنڈز ملتے ہیں؟ آزاد کشمیر کے بجٹ کا کتنا حصہ آزاد کشمیر کی آمدنی سے بنتا ہے اور کتنا پاکستان ادا کرتا ہے؟ پاکستان کے جن علاقوں میں بجلی بنتی ہے آیا ادھر فی یونٹ اتنے میں مِل رہا ہے جتنا اہل کشمیر کو؟ پاکستان کے جن علاقوں میں گندم پیدا ہوتی ہے آیا ادھر لوگوں کو وہ سبسڈی مل رہی ہے جتنی اہل کشمیر کو؟ کتنے پاکستانی ہیں جو کشمیر میں جائیداد خرید سکتے ہیں لیکن ہر کشمیری پاکستان میں جائیداد خرید سکتا ہے؟ کتنے پاکستانی ہیں جو کشمیر میں نوکری لے سکتا ہے لیکن ہر کشمیری پاکستان میں لے سکتا ہے؟
اعزاز صاحب کوئ کسی کو غدار نہیں کہہ رہا۔ سیدھی سادی بات ھے مہاجر سیٹوں کا مسئلہ انتخابات کا ایشو بن سکتا ھے اور جمہوری عمل میں ایشو بیلٹ کے ذریعے یا مذاکراتی عمل کے ذریعے طے پاتے ھیں۔ متشدد سوچ اور بے لچک رویے سے نہیں ۔ کشمیر کے لئے کشمیریوں اور پاکستانیوں نے بے پناہ قربانیاں دی ھیں اور سب سے زیادہ مہاجروں نے، تاریخ گواہ ھے بھارت کے ساتھ جب بھی جنگ ھوئ کشمیر ایشو رہا ھے اور ھے۔ ھماری فوج سیاچین سے لیکر سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری تک78سال سے دن رات اپنی شاہ رگ کی حفاظت کررہی ھے اور یہ قائد اعظم کا کشمیریوں سے وعدہ ھے۔ ھم کشمیر کو سیاست کی نذر کرنا afford نہیں کر سکتے ۔ ھر مسئلے کا حل موجود ھوتا ھے اپروچ میں خلوص کی ضرورت ھے۔ شہیدوں کا خون لٹی ھوئی عصمتیں ہجرت کرنے والے مہاجر ھم سے دیانتداری اور کمٹمنٹ مانگ رہے ہیں سیاست نہیں ۔۔
برطانیہ میں میرپور (آزاد کشمیر) سے تعلق رکھنے والے تقریباً دس لاکھ کشمیری آباد ہیں۔یہ آزاد کشمیر میں ووٹ ہی نہیں نمائندگی کا حق بھی مانگتے ہیں مگر وہ کشمیری مہاجرین جو راولپنڈی ،سیالکوٹ اورلاہور سمیت پاکستان کے دیگر حصوں میں آباد ہیں ان کے لیئے مختص نشستیں قبول نہیں۔یہ کیسا تضاد ہے؟
27جولائ کو آزاد کشمیر کے الیکشن ھیں ۔ ایکشن کمیٹی ککا مطالبہ ھے کشمیر اسمبلی کی پاکستان سے منتخب ھونے والی 12 نشستیں ختم کی جائیں۔ الیکشن سے پہلے یہ مطالبہ انتخابی عمل کو سبو تاژ کرنے کے مترادف ھے۔ جمہوری سوچ کا تقاضا ھے کہ جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ھیں وہ اسکو 27جولائ کو عوام کے سامنے رکھیں اور خلق خدا کو یہ فیصلہ کرنے دیں اور نمائندگی کی شکل تشکیل کرنے دیں ۔ یہ جمہوری سوچ ھو گی ورنہ یہ بلیک میلنگ تصور ھو گی۔
سیالکوٹ شہر وتحصیل سے کشمیر اسمبلی کی ایک سالم سیٹ ھے ۔ اور پاکستان قومی اسمبلی کی دو نشستیں ھیں ۔ باقی پاکستان میں کشمیر اسمبلی کے حلقے پھیلے ھوۓ ھیں۔ یہاں کشمیری مہاجروں کی زیادہ تعداد جموں سے ھے۔ اکتوبر 1947 میں مہاجر دو لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دیکر سیالکوٹ شہر اور تحصیل میں آکر بسے ۔ لاکھوں عصمتیں لٹیں ھزاروں بیٹیاں اغوا ھوئیں ۔ آپ کسطرح ان مہاجروں انکے حق سے محروم کر سکتے ھیں ۔
کئی دہائیاں ان مہاجروں نےنہایت کسمپرسی کی حالت میں گزاری ۔ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رہے۔ ان لوگوں نے آزادی کی بہت مہنگی قیمت ادا کی ھوئی ھے۔
اپنی راۓ کو تسلیم کرانے کے لئے جمہوری رستہ اپنائیں ۔
فیلڈ مارشل نے عید بلوچستان میں جوانوں کے ساتھ گزاری
وہ کل چین سے آئے ہیں، اس سے پہلے وہ ایران میں تھے
یہ بندہ workholic ہے اور کسی کام کے پیچھے لگ جائے تو وہ کام ادھورا نہیں چھوڑتا
بہادر ہے اور اعصابی طور پر بہت مضبوط شخص ہے
@RShahzaddk@iAliQ_ جی مستحب ہیں۔ جس ملک میں آپ رہ رہے ہیں اس کا حل یہ عزیز واقارب والے حصہ دوستوں میں تقسیم کردیں جو حصہ مساکین اور غربا کا ہے اس کا آپ کھانا بنائیں HOMELESS لوگوں اور سٹوڈینٹس میں تقسیمِ کردیں