ہمیشہ یاد رکھیں!
دہشتگردی پاکستان میں واپس آنے کی سب سے بڑی وجہ وہ انسان تھا جس نے 40 ہزار دہشتگرد اپنے زیر نگرانی خیبر پختونخواہ میں اس نیت سے بسائے تھے کہ وہ اسکی سیاسی جماعت چھوڑ کر اسکے سیاسی مخالفین کی الیکشن مہم رکوا دیں گے۔
آج وہ وائرس پھیل چکا ہے۔
وہ خوبصورتی۔۔۔جو
روزگار ختم کر دے
ہمیں ایسی خوبصورتی نہیں چاہیے۔
احسن اقبال۔۔تہمینہ دولتانہ۔۔
یہ بارش کے پہلے قطرے ہیں۔
کالے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں
اپنی اصلاح کریں بیشتر اس کے کہ"موسلا دھار"بارش شروع ہو جائے اور پھر"سیلاب"آ جائے۔
تہمینہ صاحبہ نےپارٹی کیکئے سڑکوں پرپولیس سے ماریں کھائی ہیں۔ساری عمر نوازشریف کو سپورٹ کیامگر
آج وہ بھی بنت نواز کے شاہی شوق پورےہونے کے دوران لاکھوں لوگوں کو بیروزگار کرنے بارے پھٹ پڑیں۔
مگر نہیں مانیں گے تو شوشل میڈئے کےاندبھکت باجےاور باجیاں نہیں مانیں گے۔
سب سے کمزور اخلاقی پوزیشن یہ ہوتی ہے کہ حکومت پر کوئی الزام لگے تو وہ یہ کہیں کہ ان سے پہلے والے بھی تو یہ ہی کرتے تھے۔
جہاز خریداری اور اس کے زاتی استعمال پر اگر عمران خان کے ہیلی کاپٹر کے پھیروں کو"جواز"بنا کر پیش کرنا ہے تو
پھر"کہانی مک گئی ہے"۔
وہ تو تھا ہی"مجسم ابلیس"۔۔
4 سال ہو گئے اس کو کب تک ڈسکس کرو گے؟
اپنی پرفارمنس اور گورنس کو ایسا بناو کہ اپنی برائی کے بدلے
دوسرے کی بھی برائی دکھانے کی"کمزور دلیل"نا دینی پڑے۔
(اسد آر چوہدری)
إنَّ رِجَالاً يَتَخَوَّضُونَ في مَالِ اللَّهِ بغيرِ حَقٍّ، فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ القِيَامَةِ""بیشک کچھ لوگ اللہ کے مال (عوامی وسائل/بیت المال) میں ناحق تصرف (بے دریغ اور ناجائز استعمال) کرتے ہیں، پس قیامت کے دن ان کے لیے جہنم کی آگ ہے"(صحیح بخاری)
بدترین معاشی حالات میں 1000 کروڑ کا جہاز خریدا۔پھر اس پر بھونڈی
توجہات دیں۔پھر اس پر متکبرانہ رویہ اپنایا۔پھر زاتی استعمال کیا۔اور پھر اس طرح کہنا۔
خدارا۔۔عاجزی اختیار کریں۔
دنیا میں بڑے بڑے حکمران آئے اور گئے۔یہ چار دن کی چاندنی ہے۔آخرت کی نا ختم ہونے والی زندگی کے لیے حساب مشکل ترین مت کریں۔
سرکاری جہاز کے کرایہ اور اخراجات پر اعتراض ایک ثانوی اعتراض ہے، اصل جرم سرکاری جہاز کا ذاتی استعمال کرنا ہے، آج تک ماضی میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے جتنے بھی مقدمات بنے، وہ اسی نقطے پر بنے تھے اور آج بھی بننے چاہئیں۔ کرایہ اور اخراجات ادا کر کے وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ایک طرح سے اعتراف جرم کر لیا ہے۔
اگر پاکستان ایک مہذب ملک ہوتا اور یہاں آئین و قانون کی بالادستی ہوتی تو اب تک مریم نواز صاحبہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہوتا یا گرفتار کر لیا گیا ہوتا۔
رولا پڑنے کے بعد 3 کروڑ جمع کروانے کی جھنجلاہٹ کے باعث
یہ لہجہ/انداز/الفاظ ہیں؟؟؟؟
اچھی خاصی تقریر کے بعد اس انداز میں عوام کو یہ کہنا مناسب تھا کیا؟
ایشو زاتی کام کرنے سے بنا تھا
سرکاری کے لیے جہاں مرضی جائیں۔
ویسے۔۔ہو سکے تو غریب عوام کے حالات کا سوچتے کمرشل فلائیٹ میں بزنس کلاس بک کر لیا کریں۔
آپ ہی کا ووٹ بنک بڑھے گا۔
باقی مرضی آپ کی
پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر عوام کی تکالیف کو سمجھنے کے بجائے چند درباری جب یورپی ممالک کی مثالیں دیتے ہیں کہ وہاں پٹرول زیادہ مہنگا ہے تو وہ وارداتیے یہ بھی بتائیں کہ وہاں فی کس اوسط ماہانہ آمدنی 10 سے 15 لاکھ پاکستانی روپے ہے۔
تعلیم۔۔ہیلتھ۔۔فری ہے۔بیروزگاری الاوئنسز ہیں۔گاڑیاں،موبائل،گھر تک فنانس ہوتے ہیں۔
حکومتیں دوسری کئی چیزوں میں ریلیف دیتی ہیں۔
پاکستان میں اوسط فی کس ماہانہ آمدنی تقریبا 30 ہزار روپے ہیں۔جہاں بجلی سمیت بلز دینے کے علاوہ تعلیم،صحت پر پیسہ خود لگانا پڑتا ہے۔
کوئی گزارا الاوئنس نہیں۔کوئی حکومتی مدد نہیں ملتی
اپنے تنخواہ اور بچت سے گھر چلانا اور گاڑی،موٹرسائیکل،گھر بنانا پڑتا ہے۔
ویسے تو حکومت کا IMF سے عالمی تناظر میں بات کرنا بنتا ہے اور لیوی وقتی طور پر ختم
کی جا سکتی ہے
مگر اگر حکومت وقتی طور پر کچھ نہیں کر سکتی تو
یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ 4 سال سے کیا کر رہے تھے۔
کسی چیز کی تیاری تھی ان کی؟
(اسد آر چوہدری)
جن کو یہ غلط فہمی تھی کہ پی ٹی آئی میں موروثیت نہیں
وہ دیکھ لیں کہ غیر منتخب لیکن عمران خان کی بہن علیمہ خان کس طرح منتخب ایم این اے علی محمد خان کو مائیک سے سے پیچھے ہٹنے کا کہہ رہی ہیں! https://t.co/VbFm39adFb
I condemn in the strongest possible terms the dastardly and heinous attempted drone attack against the Holy Site of Makkah Al-Mukarramah.
The people of Pakistan are saddened and perturbed by this outrageous act. There can be no words strong enough to capture the depth of anguish and sorrow felt by us at this reprehensible and unforgivable act.
We salute the extraordinary vigilance, courage, and professionalism of the Royal Saudi Armed Forces, for their swift and heroic action.
I once again call upon all parties to exercise maximum restraint and to step back from the brink of further escalation. Our region has already suffered far too much from conflict. Dialogue and diplomacy remain the only sustainable path towards peace.
Pakistan stands unwaveringly, shoulder to shoulder with the brotherly Kingdom of Saudi Arabia, in the defence of its sovereignty, and territorial integrity, as well as for the security and sanctity of the Haramain Sharifain - a duty that every Pakistani carries close to their heart.
موجودہ چیئرمین @PTAofficialpk بتائے کہ اس زرخیز سیٹ پر رہتے ہوئے اس نے کونسی کامیابی حاصل کی ہے؟ موصوف کا تازہ کارنامہ نان پی ٹی اے موبائل کا وٹس ایپ سسٹم ختم کرنے کا منصوبہ ھے!
کوئی پوچھے کہ جناب سوشل میڈیا کا گند کتنا صاف کیا؟ اور اربوں کے پراجیکٹس کا کیا بنا؟
اسلامی تاریخ کے لازوال ہیرے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے بنو امیہ کے ایک خوش حال اور لاڈلے شہزادے اور مدینہ کے گورنر تھے۔ نفیس لباس، عمدہ خوشبو، بہترین سواری اور پُرتکلف طرزِ زندگی ان کی شخصیت کی پہچان تھے۔ ان کے لباس، وضع قطع اور چال ڈھال کی نفاست کا پورے مدینہ میں چرچا تھا۔
لیکن جب خلافت کی امانت ان کے کندھوں پر آئی تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔
جس شخص کو کبھی شاہانہ لباس اور خوشبوؤں سے پہچانا جاتا تھا، اس نے خلافت سنبھالتے ہی شاہی سواریاں، قیمتی سامان اور آسائشیں بیت المال کے حوالے کر دیں۔ لباس سادہ ہوگیا، خوراک معمولی ہوگئی اور ذاتی زندگی سے تکلف رخصت ہوگیا۔ انہوں نے اپنے گھر سے بھی قیمتی زیورات بیت المال میں جمع کرائے اور اپنے اہلِ خانہ کو سمجھایا کہ امت کی ذمہ داری اٹھانے کے بعد حکمران کا معیارِ زندگی رعایا کے حالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔
یہ تبدیلی محرومی یا مجبوری کا نتیجہ نہیں تھی؛ یہ اقتدار کے اخلاقی تقاضوں کا شعوری انتخاب تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جو آسائش ایک عام شہری کے لیے محض ذاتی معاملہ ہوسکتی ہے، وہی اہلِ اقتدار کے لیے عوامی اعتماد، احساس اور جواب دہی کا سوال بن جاتی ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی زندگی آج کے ہر صاحبِ اختیار کے لیے ایک آئینہ ہے۔ جب قوم مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریاتِ زندگی کے بوجھ تلے دبی ہو تو قومی قیادت کے لئے سادگی، اعتدال اور عوامی احساسات کا لحاظ محض پسندیدہ رویہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
نجی خوشیاں ہر انسان کا حق ہیں، مگر اقتدار سے وابستہ زندگی کبھی مکمل طور پر نجی نہیں رہتی۔ قیادت کی اصل شان نمائش میں نہیں، عوام کے حالات کے ساتھ ہم آہنگی میں ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ثابت کیا کہ اقتدار انسان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا نہیں، اس کے معیارِ ذمہ داری کو بلند کرنے کا نام ہے!
اللہ تعالیٰ ہمیں ان روایات کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین!
مودی جیسا"شودا"بندہ
شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔
(شودے تو خیر عمران اور ٹرمپ بھی ہیں لیکن اس کا اپنا ہی لیول ہے)
برکس اجلاس کی وجہ سے شی پنگ اور پیوٹن کا مجبورا بھارت جانا پڑا مگر دیکھیں یہ کیسے ان کو ان کمفرٹیبل کر رہا ہے۔
چول کسے تھاں دی۔
ایک طرف۔۔سوا کروڑ کے خرچے کی بات سامنے آ رہی ہے
دوسری طرف کہا جا رہا ہے۔خرچہ سارا خود کیا ہے۔
تیسری طرف کہا جا رہا ہے کہ
آنے کے بعد تخمینہ لگا کر سارا خرچہ ادا کیا جائے گا
(شور مچنے کے بعد)۔۔
ویسے۔۔صورتحال کوئی بھی ہو
مہنگائی،لوڈشیڈنگ،بیروزگاری کی ماری عوام کو یہ سب پسند نہیں آ رہا/آئے گا۔
خیال کریں۔۔
غریب ملک ہے،غریب عوام ہیں اوپر سے آجکل کے حالات۔۔
یا تو سیاست میں عوام جیسا بن کر دکھائیں
یا
میاں منشاء ٹائپ امیر خاندانوں کی طرح سیاست چھوڑ کر زندگی Enjoy کریں۔
کوئی ایک"پاسا"چن لیں۔
(اسد آر چوہدری)
ایک بندہ باہر سے کسی بدمعاش کو پھینٹی لگا کر گھر آیا
اور
گھر والوں کو فخر سے بتا رہا تھا کہ
اب مجھے کوئی بدمعاشی نہیں دکھا سکتا
مگر بیوی/بچوں نے خوشی کا اظہار کرنے کے بجائے بتایا
کہ
ہم بھوکے ہیں۔۔کھانا بھی نہیں پوری طرح مل رہا۔بل،سکول فیسیں بھی دینی ہیں۔
مگر۔۔وہ کہہ رہا تھا کہ چھوڑو یہ سب باتیں۔
فی الحال اسی پر خوش ہو جاو کہ اب میرے سامنے کسی کی بدمعاشی نہیں چلے گی۔
(اسد آر چوہدری)
البترول 13 روپے فی لیٹر جبکہ الڈیزل 3 روپے مزید مہنگا کردیا گیا حالانکہ آج اٹلی میں پٹرول 2.20 یورو فی لیٹر کا ہوچکا ہے لیکن یورپی قیمتوں کا موازنہ پاکستان سے کرنا جاہلیت کے علاوہ ککھ بھی نہیں کیونکہ فی کُس آمدن کا فرق واضح ہے
بہرحال عوام دی بنڈ مزید لیرولیر ہوگئی جے
Let’s see how the Indian media reacts when the Russian Embassy in Pakistan crops PM Modi out of the SCO family photo.
Surely this one deserves the same outrage? 🍿
تحریک لبیک کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کیاگیا مگر مجال ہے کسی ایک کارکن نے بھی وطن مخالف نعرہ لگایا ہو یا اداروں کی تضیک کی ہو سر التماس ہے ایسے محب وطن لوگوں پر اب دست شفقت رکھا جانا چاہیے
سعدحسین رضوی صاحب کو بھی عدالت پیش کیا جانا چاہیے اور دیگر کارکنان پر بھی نرمی کی جانی چاہیے تاکہ زخموں کو بھرا جاسکے
صحت کارڈ کرپشن پر 2018 سے 2021 تک آڈیٹر جنرل کی رپورٹ!
10 اضلاع میں صحت کارڈ پینل میں شامل کئے گئے 48 میں سے 17 ہسپتال رجسٹرڈ بھی نہیں تھے۔
بعض ہسپتال تو ہیلتھ کیئر کمشن کے پینل پر بھی نہیں ۔
صرف ایک ہی ضلع میں %70 اپینڈکس آپریشن ہوئے
بعض ہسپتالوں میں متعلقہ ڈاکٹر تک موجود نہیں لیکن آپریشن ہوئے
اکثریتی مریضوں کا ڈیٹا بھی دستیاب نہیں۔
دیر کے ایک نجی ہسپتال میں صرف ایک ہی سال میں 1800 سے زائد اپینڈکس کے "آپریشن " ہوئے۔
اسی ہسپتال میں خاندان کے تمام افراد کا اپینڈکس آپریشن بھی ہوا۔
29 ارب کرپشن کی نشاندہی بھی آڈیٹر جنرل کے رپورٹ میں سامنے آئی تھی !