دہشتگردی کا خطرہ دھمکیاں اسٹیبلشمنٹ اور عسکریت پسندوں کے ساتھ بیک وقت لڑائی اس کے باوجود مولانا فضل الرحمٰن نے چارسدہ جیسے شہر میں رات کو لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک بار پھر سب کو پیغام دے دیا کہ ان کو کسی صورت پاکستان کی سیاست سے مائنس نہیں کیا جا سکتا #مولانا@MoulanaOfficial
آپ کی تحریک ان شاءاللہ چلتی رہے گی، جاری رہے گی، بیٹھنا تو نہیں نا آپ لوگوں نے، سفر جاری رکھنا ہے۔ میں پشین گیا تھا وہاں تا حد نظر لوگوں نے بہت بڑا اجتماع کیا، اس کا اثر آپ کی صوبے پہ ہوا، آپ کے لوگ جاگ اٹھے، آج تا حد نظر یہاں انسانیت جمع ہے اور ان شاءاللہ گیارہ جولائی کو پنجاب کے شہر قصور میں اتنا ہی بڑا جلسہ ہوگا اور یہ سفر آگے بڑھتا جائے گا، یہ سلسلہ چلتا رہے گا، جب تک ہماری جان میں جان ہے ان شاءاللہ یہ جنگ جاری رہے گی اور آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کسی کی جان لے کر تحریک ختم کرسکیں گے، میں تو واضح اعلان کرتا ہوں کہ فضل الرحمٰن پر ہاتھ ڈالا گیا میں کسی کے خلاف مقدمہ نہیں کروں گا، میں پاکستان کے ریاست کو اپنے قتل کا ذمہ دار کہوں گا، اپنے کارکن کے قتل کا ذمہ دار کہوں گا، اس کے بعد پھر جو ہوگا اس کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہوگی ہمارے اوپر نہیں ہوگی۔
ہم اپنے صفیں صاف رکھنا چاہتے ہیں، ہم ایک صاف اور شفاف تحریک لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، ہم پاکستان کو بچا رہے ہیں، ہم نے یہاں فتنوں کا مقابلہ کیا ہے، ہم نے فتنوں کو شکست دی ہے۔ ہم لوگ ان حالات کے مقابلہ کر رہے ہیں، اپنی جانوں پر کھیل کر مقابلہ کر رہے ہیں اور ان شاءاللہ پر امن طریقے سے یہ تحریک آگے بڑھے گی، پر امن طریقے سے ہم ان شاءاللہ کامیابیاں حاصل کریں گے، یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے، یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے وفادار ہیں اور اس سرزمین پر وہ نظام لائیں گے جس میں ہمارے ہر شہری کو اس کے حقوق مل سکے، جس میں ہمارے بچوں کو آسان تعلیم مل سکے، آسان علاج مل سکے، آسان زندگی مل سکے اور اسی کے لیے آگے بڑھنا ہے۔ ہم جلسوں میں لاوڈ سپیکر اڑانے والے لوگ نہیں ہیں، چھ مہینے میں ٹھیک کر دوں گا، بابا آج تک ٹھیک نہیں ہوا، آپ خود خراب ہو گئے، ٹھیک تم نے کیا کرنا ہے، ملک کو ٹھیک کرتے کرتے خود خراب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرم فرمائے اور یہ جذبہ، یہ ہمت، یہ اخلاق یہ للہیت، یہ اللہ اور اس میں اضافہ کرے اور ان شاءاللہ ہم آگے بڑھتے رہیں گے، اگلا پڑاؤ پنجاب میں ہوگا اور پورے طاقت کے ساتھ پورا پنجاب وہاں اُمڈے گا اور بھرپور طریقے سے اس تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا، ہم پاکستان میں ناجائز حکمرانی کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
ان حکمرانوں سے جب کہا جائے کہ تم ملک نہیں چلا سکتے، تم انسانی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتےمیں نے آج ملکی معیشت پر بات کرنی تھی لیکن کیا وجہ ہے آج ہر پاکستانی امن و امان کی بات کررہا ہے، مولانا فضل الرحمان
اس سچ کو اتنا شئیر کریں کہ پوری دنیا تک پہنچ جائے
ہارے ہوئے کو جتوانا اور جیتنے والے کو ہروانا، اب ان کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
اس ملک میں کوئی نمائندہ حکومت نہیں ہے، جہاں حکومت بنتی ہے ہماری مقتدرہ انتخابات کو منیج کرتا ہے، ہارے ہوئے کو جتوانا، جیتے ہوئے کو ہروانا اب تو یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا ہے، اور پھر جب ٹرمپ ان کو پیٹھ پر تھپکی دیتے ہیں کہ بہت کام کے بندے ہو، ہم انصاف سے کام لے رہے ہیں، ہم جس بات کو جائز سمجھتے ہیں اس کو جائز کہا ہے اور جس کو غلط مانتے ہیں تو ان کو ببانگ دہل غلط کہتے ہیں۔ آپ نے انڈیا کے ساتھ جنگ کی تو سب سے پہلے ہم نے سپورٹ کیا، آپ نے ایران اور امریکہ کی ثالثی کی سب سے پہلے ہم نے سپورٹ کیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایک کامیاب حکومت ہے، آپ اپنے ملک میں عوام کو زندگی نہیں دے سکتے، امن نہیں دے سکتے تو یہ حکومت کوئی حکومت نہیں ہے۔
ہمارا بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے، ہم نہیں بنا رہے، لیکن میں آئی ایم ایف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب ہمارا بجٹ آپ بناتے ہیں تو ہماری حکومت کو آپ کہتے ہیں یہ ٹیکس لگاؤ یہ ٹیکس لگاؤ، یہاں ٹیکس لگاؤ یہاں ٹیکس لگاؤ، آئی ایم ایف والو کبھی تم نے میری حکومت کو یہ بھی کہا ہے کہ یہ کرپشن ختم کرو یہ کرپشن ختم کرو یہ کرپشن ختم کرو، کرپشن پروان چڑھ رہا ہے، ہر دفتر کرپشن کا مرکز بن گیا ہے، ہر افسر نے کرپشن کی دکانیں کھولی ہوئی ہیں اور پھر کہتے ہو ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہو رہی۔
تو اس لحاظ سے ہم نے آگے بڑھنا ہے، ہمیں کامیابیاں ملی ہیں اور ابھی میرے سامنے ذکر ہوا چھبیسویں آئینی ترمیم کا، تو آئینی ترمیم میں یہ طے ہوا ہے کہ یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے ملک کے اندر سود ختم ہو جائے گا، کہیں نظر نہیں آ رہا کسی محکمے میں اور کسی بینک میں کہ سود کے خاتمے کے انتظام ہو رہے ہوں، یہ ہے آئین کا وہ حلف جو تم نے اٹھایا ہے، آئین پر عمل درآمد کرنا اور آئین سے وفاداری کا یہ حلف جو تم نے اٹھایا ہے یہاں پر آپ جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں، آپ نے وفاقی شرعی عدالت کو مؤثر بنانے کے لئے آئینی ترمیم کی، وہاں علماء کے سیٹیں خالی ہیں ابھی تک خالی ہیں، آپ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر اسمبلی میں بحث کرنے کو آئین کا حصہ بنایا آج تک ایک بھی سفارش بحث کرنے کیلئے اسمبلی میں پیش نہیں ہوئی، یہ ہے آئین کا حلف، اسے کہتے ہیں آئین پر عمل درآمد، ایک دباؤ میں آ کر جب تم فیصلہ کر لیتے ہو، بات مان جاتے ہو، پھر جب وہ دن نکل جاتے ہیں پھر تمہیں یاد ہی نہیں رہتا۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام کی تاریخ ساز کانفرنس میں عوام کا سمندر امڈ آیا
سیٹھ میڈیا خیبرپختونخوا کی مقبول جماعت کی اس عوامی انقلاب اور پرامن کانفرنس کو ایک منٹ کی کوریج بھی نہیں دیتے
لاکھوں کا یہ مجمع میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہے مگر
حال اور ماضی قریب میں چند مخصوص جماعتوں کے سینکڑوں اور چند ہزار افراد کی جلسی کو لاکھوں کا اجتماع ظاہر کرکے ٹی وی سکرین پھاڑے جاتے رہے
پیمانہ سب کیلئے ایک ہونا چاہیئے
مولانا فضل الرحمان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اسلام کی بات کرتے ہیں۔ ان کی داڑھی اور سر پر امامہ ہے۔ اسی لئے بلوچستان میں تاریخ ساز جلسے کے باوجود نیشنل میڈیا نے ان کو کوریج نہیں دی۔
ایک جرم یہ بھی ہے کہ مولانا نے ہمیشہ پاکستان فرسٹ کا نعرہ لگایا ہے۔
ان سے ملیے
مولانا بھی، بائیک والا بھی…
پشاور سے تیمرگرہ پہنچا تو آگے دور دور تک گاڑی کا نام و نشان نہیں تھا۔
اتنے میں ایک بائیک والا قریب آ کر رُکا۔ بات ہوئی، کرایہ طے ہوا اور سفر شروع ہو گیا۔
راستے میں گفتگو چلی تو پوچھا: کہاں سے ہو؟
کہنے لگے: دیر اپر سے۔
حیرت سے پوچھا: اس وقت یہاں؟
مسکرا کر بولے: میں وڈیگرام ایک مدرسے میں رہتا ہوں، صبح وہاں کلاس ہوتی ہے۔ پھر بائیک پر مزدوری کرتا ہوں۔ عصر کے وقت تالاش کے ایک اور مدرسے میں پڑھاتا ہوں، وہاں سے فارغ ہو کر دوبارہ اسی بائیک پر محنت مزدوری۔
ایک ہی وجود میں دو زندگیاں…
دن کو مولانا، شام کو مزدور۔
علم بھی، محنت بھی اور شکر بھی۔
یہ ہیں ہمارے اصل ہیرو—خاموش، باوقار اور صابر۔
اللہ ایسے لوگوں کے رزق میں برکت دے اور محنت کو قبول فرمائے۔ 🤍
منقول