@RShahzaddk بیرون ملک میڈیکل کی تعلیم ایک فراڈ ہے اور زرمبادلہ کا ضیاع بھی ہے
قریبا 80/85 بلین روپے پاکستان سے باہر جاتے ہیں ،جبکہ پاکستان میں پہلے سے ڈاکٹرز بے روزگار ہیں۔
بیرون ملک میڈیکل ایجوکیشن پر بین لگا کر قیمتی سرمایہ ضائع ہونے سے بچایا جائے
نیا قانون || اب پاکستانی ڈاکٹرز صرف معطل نہیں بلکہ گرفتار بھی ہوں گے
بڑے انکشافات || میٹرک/ایف ایس سی فیل کو بھی بیرون ملک پیسے کمانے کے لیے میڈیکل کالجز میں داخلے مل رہے ہیں۔ ہر سال پاکستان سے ہزاروں میڈیکل اسٹوڈنٹس بیرون ملک 800ملین ڈالرز میڈیکل تعلیم کے لیے باہر لے جاتے ہیں۔واپسی پر ان میں سے ایک فیصد بھی پاکستان کا امتحان پاس نہیں کر پاتے۔
پاکستان میں کچھ ایسے ڈاکٹرز کے بھی لائنسنس معطل کیے گئے ہیں جو محض ایم بی بی ایس کر کے سرجری کررہے تھے جس میں مائیں اور بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
پاکستانی میں ہر سال گیارہ ہزار مائیں ایسے ڈاکٹروں کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ اب ایسا کون سا قانون لایا جارہا ہے ایسے ڈاکٹرز اب گرفتار ہوں گے؟
وفاقی وزیر برائے صحت مصطفے کمال کے ہوش ربا انکشافات۔
👇
https://t.co/orFI87JiOf via @YouTube@NeoNewsUR@KamalMQM@fawadnb@NasrullahMalik1@RabeeaSK
فیصل آباد میں ایک صحافی نے صرف ایک سال میں 632 درخواستیں مختلف محکموں ، افسران کے خلاف اینٹی کرپشن سمیت مختلف فورمز پر دیں ، پھر کچھ دنوں بعد ہر درخواست کے ساتھ اسٹام پیپر دیا کہ یہ غلط فہمی کی بناء پر جمع کروائی گئیں میں درخواست واپس لیتا ہوں۔ ہر درخواست واپس لینے کا کم سے کم ریٹ بھی لگائیں تو بات کہاں تک جاتی ہے۔ صحافت کے نام پر یہ دھندہ ہر شہر میں کلبز ، یونین لیڈرز کی چھتر چھایا میں ہورہا ہے۔
صحافی وقار گھمن کی فیس بک وال سے
@WaqarGhumman
امریکہ جنگ جیتے یا ہارے‘ اسرائیل جائے بھاڑ میں۔۔۔۔
خوشی اس بات کی ہے لُبنان آزادی کی طرف گامزن ہو گیا ہے‘ وہ ایران اور حزب اللہ کے دہشت گردوں کا صفایا چاہتا ہے۔
سوچنے کی بات۔۔۔خمینی کے پاکستانی پرستاروں کیلئے یہ ہے۔۔۔۔جب لُبنان جیسا صلح کُل ملک ایران کے خلاف کھڑ ا ہو سکتا ہے تو خلیجی ممالک کیوں نہیں!
ایرانی بین الاقوامی دہشت گردی کو خاک چٹوائیں اور کاش پاکستانی علماء۔۔۔ خمینی کی اس گرتی دیوار کو آخری کاندھا دیں اور پاکستان کو صحابہ ؓ کرام کو گالیاں دینے‘ لکھنے اور سوچنے والوں سے پاک کرنے میں قوم کی مدد کریں۔
میرا سوال اس یوتھڑ نوسر باز سے ہیں جس نے سعودی میں غریبوں کے نام کے پیسے کھا کریہاں اُنہیں پیسوں سے کاروبار سٹارٹ کیا،
پہلی تو یہ جگہ ابوبکر نامی بندے کے نام پر لیز ہے اور اُس لیز کا الاٹمنٹ لیٹر میں CDA کی ڈائریکٹر DMA انعم فاطمہ صاحبہ سے کہونگا نکالیں،اور دیکھں کے ابوبکر نامی بندے کو کتنی جگہ لیز پر دی گئی ہے،اور پھر اُس کے بعد ایکسٹرا لینڈ کی پیمائش بھی کی جائے سب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا،
پھر کورڈ ایریا بھی پتہ چل جائے گی جس کی CDA کے کچھ افسران تردید کررہے ہیں،جہاں کچن بنا ہے آپ کا اور باقی ایریا کورڈ کیا ہے سب کچھ نکل آئے گا،
دوڑ گیا جے!!!
جب معلوم ہوا کہ ناں الیکشن ہاتھ انا ، ناں ہی بجٹ میں عوام کو بجٹ میں ریلیف ملنا تو یہ بوتھی لے کر غائب ہونا بہتر ہے۔۔۔۔
#جی_بی_کا_کپتان_عمران_خان
حکومت کی ٹیکس اصلاحات بارے ناکامی پھر عیاں!!
امیروں سے ٹیکس لینے کا کوئی طریقہ کار وضع نہ ہونے کے بعد ، چھوٹے دکانداروں سے ٹیکس وصولی کا نیا طریقہ کار۔
دکاندار اگر pos مشین نہیں لگاتا تو حکومت کو 25 ہزار روپے دے کر ٹیکس نیٹ ورک میں آئے ۔ت
ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس سکیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھاناہے۔ حکومت یہ سکیم تاجر اور دکاندار تنظیموں کے نمائندوں کی مشاورت اور ان کے مطالبے پر لائی ہے۔ 20 کروڑ یا اس سے کم سالانہ فروخت والے دکاندار اس سکیم کا حصہ بن سکتے ہیں جس کے تحت دکاندار اپنی آمدن پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کریں گے۔ دکاندار ودہولڈنگ ٹیکس بھی ایڈجسٹ کر اسکیں گے البتہ یہ شرط لاگو ہوگی کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانے ہوں گے۔ اُردو اور علاقائی زبانوں میں ایک صفحے کا فارم بنایا گیا ہے جو سادہ موبائل ایپ کے ذریعے بھی جمع کرایا جا سکے گا۔ سکیم کا حصہ بننے والے دکاندار کو ایف بی آر کی طرف سے رجسٹریشن پلیٹ ملے گی جو وہ اپنی دکان کے باہر آویزاں کرے گا۔ اس پلیٹ کی موجودگی میں کوئی ٹیکس اہلکار جانچ پڑتال کے لیے دکان میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ سکیم کا اُردو میں سادہ فارم، ایف بی آر کی پلیٹ اور اس سکیم کی دیگر تفصیلات ٹویٹ کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔
بھارتی پنجاب کے CM نے ایک بچی کی رینکنگ پر اعتراض سنا، فوراً نوٹس لیا اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے قوانین پر نظرثانی کا حکم دیا۔
ادھر پاکستانی پنجاب میں نہ @MaryamNSharif کو خبر، نہ @RanaSikandarH کو تعلیم کس چڑیا کا نام ہے۔
بس ٹھیکیداروں کے حوالے سکول کرو اور لوٹ مار کرو۔۔۔
اس وقت سوشل میڈیا پر راجا شہزاد اور وزہر تعلیم۔پنجاب رانا سکندر کے مابین محاذ گرم ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ حکومت محکمہ صحت کی طرح محکمہ تعلیم سے بھی جان چھڑانا چاہتی ہے اور وہ سکولوں کی بہتری کےلیے نہیں بلکہ انھیں ناکام بنانے کےلیے کام کر رہی ہے مثلا یہ کام ہی دیکھ لیں اور مجھے اس کی منطق بتائیں
👇👇👇
1 ۔ پچھلے سال حکومت نے پیکٹا کے تحت سرکاری سکولوں میں جماعت ہشتم یعنی 8th کلاس کا امتحان لیا جبکہ پرائیویٹ سکولوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا ۔ کیوں؟ کیا مقصد پرائیویٹ سکولوں میں تعلیمی ابتری کو چھپانا تھا؟ کیا پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا حکومت کی زمہ داری نہیں؟
2 ۔ موجودہ آٹھویں کلاس کا امتحان اگلے سال فروری یا مارچ میں ہونا ہے لیکن حکومت اس کی رجسٹریشن شروع کر دی کر دی ہے جو زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں بند ہو جائے گی، جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ رجسٹریشن بند ہونے کے بعد مزید طلبہ سرکاری سکولوں میں آٹھویں کلاس میں داخل نہیں ہو سکیں گے ۔ لہذا آٹھویں کلاس میں تعداد کم ہو جائے گی اور حکومت یہ ظاہر کرے گی کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہو رہی ہے ۔ جب امتحان اگلے سال فروری یا مارچ میں ہونا ہے تو ابھی سے رجسٹریشن کیوں شروع کی جا رہی ہے اور اگر کی جا رہی ہے تو اسے ایک آدھ ماہ میں بند کیوں کیا جائے گا؟ یہ کام چھٹیوں کے بعد بھی تو ہو سکتا تھا ۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں میں آٹھویں کلاس میں نئے آنے والے طلبہ کا راستہ بند کیا جائے ۔
3 ۔ اگر آٹھویں کلاس کا امتحان بورڈ نے ہی لینا تو پرائیوٹ سکولوں اس سے مسثنی کیوں ہیں؟ مقصد ان کی ناکامیوں کو چھپانا ہے یا پھر اس بات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے آہستہ آہستہ میٹرک کے امتحانات میں بھی انھیں استثناء دیا جائے ۔
4 ۔ یہی حال کلاس نہم کی رجسٹریشن کا ہے ۔ امتحانات اگلے سال مارچ اپریل میں ہونے ہیں لیکن بورڈز نے سکولوں کو اسی ماہ رجسٹریشن کا پابند کیا ہے ۔ ایسا کیوں؟
@RShahzaddk@RanaSikandarH
قوم کے لئے نیا خرچہ تیار ھے
اسلام آباد میں باقی صوبوں کی طرح حکومت بنے گی 27 رکنی اسمبلی ھو گی اور وزیر اعلیٰ بھی ھو گا یا پھر اسلام آباد کے لیے مئیر کا سسٹم لایا جائے گا
پنجاب کا اس سال کا تعلیم کا بجٹ 811.8 ارب روپے تھا اس میں سے ڈویلپمنٹ کا بجٹ 148 ارب ہے جبکہ 661 ارب غیر ترقیاتی بجٹ ہے جو بنیادی طور پر تنخواہوں، پنشن، انتظامی اخراجات اور وزارت کے آپریشنل اخراجات پر خرچ ہوتا ہے
اب جبکہ وزیر تعلیم پنجاب صاحب خود تسلیم کر رہے کہ سرکاری سکول سسٹم مکمل ناکام ہے اس لیے ہمیں سکول بیچنے پڑ رہے اور پرائیویٹ سکول کو خرچے دے کر نام بدلنے پڑ رہے تو یہ تعلیم کی وزارت مکمل بند کر دیں کیوں غریب ملک کا 811ارب کا ہر سال نقصان کرتے ہیں سیدھا سیدھا پرائیوٹ سکولوں ٹھیکیداروں کو پیسے دے دیں یہ وزارت اس کے افسران پالنے کی کیا ضرورت ہے 600ارب کی سیدھی سیدھی بچت ہے
مسلہ یہ کہ ہمارے افسر شاہی جیسے وزیروں کو بے وقوف بناتی وہ بن جاتے ہیں وزیر تعلیم جس PPP ٹرم کو استعمال کر رہے وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہے اب اس کا ایک ماڈل وہ جو شہزاد رائے نے سندھ میں دیا ہے کہ سرکاری سکول میں پرائیویٹ سیکٹر اپنا پیسہ لگا کر اسے بہتر کرتا ہے یہ sustainableہے سرکار کی بچت ہے اور سکول بہتر ہو جاتے ہیں
ایک ماڈل یہ پنجاب والا ہے جس میں سرکاری سکول ایک ٹھیکیدار کو PPPکے نام پر دے کر سرکار پیسہ دے رہی ہوتی ہے تو اس سے تو آپ نے الٹا سرکاری وسائل اور سکول دونوں دے ڈالے ہیں اور اس انتہائی بے ہودہ ماڈل کو وزیر موصوف اپنی بہترین کارکردگی بھی بتا رہے ہیں خود لکھ رہے کہ سرکاری سکول بہتر نہی تھے اس لئے ہم نے بیچ دیے کہ بہتر پرفارمنس دیں
اب کون ان کو سمجھائے کہ یہ شرمندگی کی بات ہے فخر کی نہی ہے اگر سکول بیچنا کمال تو چھ سو ارب وزارت کے بجٹ کی کیا ضرورت ہے سیدھا پرائیویٹ سکولوں کی فیس حکومت دے دے اور بچت کر لے
پنجاب میں تعلیم کا بجٹ آٹھ سو ارب ہے پی آر کمپین کے لئے کچھ فینسی سکول اور ویڈیو بھی موجود مگر ٹھیکے پر دیے گئے سکولوں کا یہ حال ہے
اب ہم منسٹر کی بات مانیں یا یہ گراونڈ سے ملی اصل معلومات جو مجھے ٹیچرز نے دیں وہ درست تسلیم کریں ؟