Life and Death, Success and Failure are according to destiny from ALLAH but effort is in our hands | Proud Muslim 🕋 | RTs ≠ Endorsement ⚠ | Pak Warrior 🇵🇰 |
Crown Prince Mohammad bin Salman won the hearts of the people of Pakistan when he said “consider me Pakistan's ambassador to Saudi Arabia" in response to my asking him to treat the 2.5 mn Pakistani's working in KSA as his own.
#CrownPrinceinPakistan
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
اسد طور نے پاک بھارت جنگ کے دوران ایک لیفٹیننٹ جنرل کی عمران خان سے ملاقات کی خبر دی، جھوٹی نکلی۔
ہفتہ قبل علیمہ خان اور سہیل آفریدی کی محسن نقوی سے ملاقات کی خبر دی، وہ بھی جھوٹی نکلی۔
آج عمران خان کو اڈیالہ سے کہیں اور منتقل کرکے بیرسٹر گوہر سے ملاقات کروانے کی خبر دی، یہ خبر بھی جھوٹی نکلی۔
مزے کی بات یہی اسد طور صابر شاکر، صدیق جان اور عمران ریاض کی صحافت کا مذاق اڑاتا رہا ہے، مگر آج خود ان تینوں کا "الٹرا پرو میکس" ورژن بنا ہوا ہے۔
نوٹ: بیرسٹر گوہر نے نام لیے بغیر اسد طور کو یوٹیوبر کہا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
تھائی لینڈ کی کمپنی GPX پاکستان میں لانچ کردی گئی ہے، یونٹ کی قیمت 325K سے شروع ہوتی ہے، مارکیٹ میں مقابلہ اچھا ہے ورنہ ہونڈا اور سوزوکی دن بہ دن قیمتیں بڑھا رہی تھیں جبکہ معیار گرتا ہی جا رہا تھا۔۔
ابو ذر ہو یا کوئی بھی تحریک سے جڑا دوست، ان کی باتوں سے اتفاق کرنا یا نہ کرنا ہر کسی کی ذاتی رائے اور استحقاق ہے لیکن یہ کون سا طریقہ ہے کہ جو سوال کرے اسے bully کرنا شروع کر دیا جائے؟
یہ بدمعاشی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ پارٹی کسی کے باپ کی۔میراث نہیں۔
ایک ایک شخص جوابدہ ہے اور جواب چاہئیے
سی سی ڈی کا سربراہ ، ہزاروں لوگوں کو ٹرائل کے بغیر ماردینے کا براہ راست ذمہ دار ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی بقایا زندگی کینیڈا گزارے گا۔ اسکا بال بچہ بھی وہاں رہے گا۔ آئین و قانون کی بالادستی والے معاشرے میں رہے گا۔ آپ کے لیے قتل عام ہے۔ کولیٹرل ڈیمج ہے۔ پولیس مقابلے ہیں اور وغیرہ وغیرہ ہے۔
میرے پیارے حوالدار بھائی، میجر صاحب نے آپکو پھر نہیں بتایا کہ سردیوں کے آخر پر مئں امریکہ آ گیا تھا۔
پھر اصل مسلے کی طرف آتے ہیں۔ جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا :
1- آپ نے سر پلس بجٹ نہیں کروانا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ پورا پاس نہیں کروانا
سانحہ ساہیوال آئی ایس آئی کا انٹیلی جنس فیلئیر تھا۔ عاصم منیر اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی تھا۔ تب بھی آئی ایس آئی کی پالیسی یہی دیکھے بغیر بھون دو تھی۔ سی سی ڈی بھی اسی ذہنیت اور شہباز شریف کے پولیس مقابلوں والی سوچ کا تسلسل ہے۔ نیفے میں پستول چلنے کی خوشیاں منانے والے بھی چکوال میں معصوم بچی کے شہادت میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ کسی کا جرم کتنا ہی گھناونا کیوں نہ ہو ، بغیر ٹرائل کے سزا دینا اس سے بڑا جرم ہے اور معاشرے میں تباہی کا سبب ہے۔
@MuzzammilAslam3 تم جیسے گندے انڈے جو عمران خان کے نام پر حکومت میں مزے کررہے ہو، ساری عیاشیاں اور عہدے انجوائے کررہے ہو تم لوگوں سے وہ لوگ بہتر ہیں جن کم از کم آواز تو اٹھا رہے ہیں اور تم لوگ بس کمپنی کے ٹ اٹھاکر دوسروں کو طعنے دے رہے۔۔
عمران خان کے دور میں سانحہ ساہیوال ہوا، بہت شور مچا، میڈیا نے بڑھ چڑھ کر مہم چلائی جو کہ اچھی بات تھی۔
ن لیگ کے دور میں چکوال میں اسی طرح کی صورتحال میں ایک گاڑی پر گولیوں کی بارش کی گئی، ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی اور باقی زخمی ہونے کے باوجود خوش قسمتی سے بچ گئے مگر اس پر ہر طرف مکمل خاموشی ہے۔ میڈیا کو اب انصاف دلوانے میں دلچسپی کیوں نہیں ہے؟
اہم ترین 🚨
اوورسیز پاکستانیوں نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے پوچھنا شروع کر دیا ہے کہ Where is Imran Khan اس ویڈیو کو ہر طرف پھیلا دیں
#EndKhansIsolationNow
ایک ہی کہانی آخر بدل بدل کر کتنی ہی بار کی جاسکتی ہے؟ فوج کو عمران خان سے جس تابعداری کی امید ہے وہ انہیں شریف و زرداری خاندان سے مل رہی ہے۔ فوج کو آج بھی لگتا ہے معاشی تباہی ایک دو وزیر بدلنے سے رک جائے گی اور داخلی بدامنی کو رینجرز کی کچھ مزید گاڑیاں روک سکتی ہیں۔ عمران خان کیساتھ نا تو فوج مذاکرات کررہی ہے نا کرے گی ، نا ہی عمران خان رہا ہونے والا ہے۔ جس دن عوامی ، معاشی ، عالمی یا سیاسی دباؤ میں سے ایک فوج پر حاوی ہوا اس روز عمران خان رہا ہوجائے گا۔
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
سہیل آفریدی ایک ناکام وزیراعلی ہیں، کل آپ وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ میں کیا لینے گئے تھے کہ آج آپکو 26 نمبر سے آگے ہی نہیں آنے دیا جارہا، عمران خان نے آپکو شہباز شریف سے ملاقاتوں کے لیے نہیں بلکہ مزاحمت کی تحریک کے لیے وزیراعلی بنایا تھا، خیبر پختونخوا کی عوام نے بھی آپکو اسی لیے ووٹ دیا تھا، جو عمران خان کی رہائی کے لیے کردار ادا نہیں کریگا وہ بھول جائے کہ عوام اسکو اگلی دفعہ ووٹ دے گی، سہیل آفریدی کو اب اپنی ناکامی تسلیم کرنی چاہیے کہ وہ عمران خان سے ایک ملاقات بھی نہیں کرسکے، براہ مہربانی اپنی نااہلی سے بچنے کے لیے سہولتکاری بند کریں، مزاحمت کی تحریک کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے پیچھے چھپنا بند کردیں، بہت ہوگیا !!